कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صہیونی عقوبت خانیدامون میں فلسطینی اسیرات کی ہراسانی اور توہین آمیز برہنہ تلاشی کا انکشاف

تل ابیب:24؍مئی:فلسطینی اسیران میڈیا آفس نے قابض اسرائیل کے دامون حراستی کیمپ میں پابند سلاسل مظلوم فلسطینی اسیرات کے خلاف غاصب صیہونی انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی وحشیانہ خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قابض اسرائیل کی جیل انتظامیہ سے وابستہ سرکوب گر فورسز نے گذشتہ تین ماہ کے دوران اسیرات کے خلاف 30 سے زائد مرتبہ پرتشدد کارروائیاں کی ہیں۔میڈیا آفس کے بیان کے مطابق غاصب صہیونی عقوبت خانے کے اندر اسیرات کو انتہائی سنگین اور ابتر انسانی حالات کا سامنا ہے، جن میں ناقص ترین کھانا، بیرکوں میں نمی کا خطرناک حد تک بڑھ جانا اور صفائی ستھرائی کے سامان کی شدید قلت شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسیرات کو شدید زبانی ہراساں کیے جانے اور غسل خانوں کے اندر توہین آمیز تلاشی کے عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں غاصب دشمن کے مسلح فوجی دروازوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جیل انتظامیہ نے بیرکوں کے اندر نگرانی کے کیمرے مستقل طور پر آن رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بے بس اسیرات چوبیس گھنٹے حجاب پہن کر سونے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف حاملہ اور علیل اسیرات کو دانستہ طور پر بدترین طبی غفلت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دشمن ان کے ضروری طبی معائنے کروانے سے بھی صاف انکار کر رہا ہے۔میڈیا آفس نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی وحشی فورسز نے رواں ماہ تیرہ مئی کو ڈامون جیل میں اسیرات کی بیرکوں پر دھاوا بولا، اور ان پر تشدد کرتے ہوئے و تذلیل کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر جیل کے صحن میں لا کھڑا کیا۔رواں ماہ کے اوائل میں کلب برائے اسیران نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ قابض اسرائیل کی ظالم فورسز نے گذشتہ مہینوں مارچ اور اپریل کے دوران اسی جیل کے اندر اسیرات کے خلاف کم از کم 10 وحشیانہ کارروائیاں انجام دیں۔کلب برائے اسیران نے حال ہی میں رہا ہونے والی اسیرات کے چشم دید بیانات کے حوالے سے واضح کیا کہ ان سرکوب گر کارروائیوں میں خواتین کو شدید زدوکوب کرنا، انہیں باندھنا، زمین پر لیٹنے پر مجبور کرنا، تنہائی کی کوٹھڑیوں میں بند کرنا، برہنہ کر کے تلاشی لینا اور بھوکا رکھنا شامل ہے۔فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کے اداروں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت قابض اسرائیل کے بدنام زمانہ عقوبت خانوں میں 9400 سے زائد مظلوم فلسطینی قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں، جن میں 350 معصوم بچے اور 73 بے گناہ خواتین شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قابض اسرائیل پر اسیران کو بدترین تشدد، طبی غفلت اور دانستہ بھوکا رکھ کر نسل کشی کرنے کے مسلسل الزامات عائد ہو رہے ہیں۔انسانی حقوق کی فلسطینی تنظیموں کے مطابق تشرین الاول یعنی اکتوبر سنہ 2023 میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی سفاکانہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی قابض دشمن کے عقوبت خانوں کے اندر انسانیت سوز مظالم میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک درجنوں فلسطینی اسیران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے