कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صدیقی ممتاز شاہین:ایک باصلاحیت معلمہ، ایک مضبوط کردار اور ایک یادگار رفاقت

از: شیخ اعجاز
مدینۃ العلوم ہائی اسکول،ناندیڑ

کچھ لوگ زندگی میں آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، اور کچھ لوگ زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ گزرے ہوئے برس صرف وقت کا ایک حصہ نہیں ہوتے، وہ ہماری یادوں، تجربات اور احساسات میں اس طرح جذب ہوجاتے ہیں کہ ان کی جدائی کے بعدبھی ان کی موجودگی کسی نہ کسی صورت محسوس ہوتی رہتی ہے۔محترمہ صدیقی ممتاز شاہین بنت عبدالرؤف صاحب بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھیں۔
ان کے انتقال کی خبر نے مدینۃ العلوم ہائی اسکول و جونیئر کالج کے اساتذہ اور اسٹاف کو ایک ایسے رفیقِ کار سے محروم کردیا جس نے اپنی زندگی کے تقریباً چوبیس قیمتی سال اسی ادارے کی خدمت میں گزارے۔ 19 مارچ 1977 کو پیدا ہونے والی ممتاز شاہین صاحبہ نے 6 ستمبر 2002 کو مدینۃ العلوم ہائی اسکول سے اپنے تدریسی سفر کا آغاز کیا اور 19 ستمبر 2026 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
ایک انسان کی زندگی کو محض تاریخِ پیدائش، تقرری اور تاریخِ وفات کے درمیان محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اصل زندگی تو ان دونوں تاریخوں کے درمیان کیے گئے کام، قائم کیے گئے تعلقات، نبھائی گئی ذمہ داریوں اور چھوڑے گئے اچھے اثرات کا نام ہے۔ ممتاز شاہین صاحبہ کی زندگی اسی اعتبار سے قابلِ ذکر تھی۔
ممتاز شاہین صاحبہ کا تقرر شروع ہی سے شعبہ? ذکور میں ہوا۔ ہائی اسکول کی سطح پر ایک خاتون کا شعبۂ ذکور میں اس طرح مسلسل اور فعال انداز میں کام کرنا اس وقت ہم سب کے لیے ایک قدرے غیر روایتی بات تھی۔ ابتدا میں شاید کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا ہو کہ وہ اس ماحول میں کس طرح کام کرپائیں گی، یہاں کس طرح سروائیو کریں گی اور کیا اس ذمہ داری کو طویل عرصے تک نبھا سکیں گی۔لیکن ہم ان کے حوصلے، خود اعتمادی اور اندرونی قوت سے واقف نہیں تھے۔
انہوں نے اپنی نسوانیت کو کبھی اپنی مجبوری یا کمزوری نہیں سمجھا۔ مردوں کے اس ماحول میں انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ شانہ بہ شانہ کام کیا۔ نہ کسی خصوصی رعایت کی طلب کی اور نہ اپنے لیے کسی آسان راستے کا انتخاب کیا۔ جو ذمہ داری سامنے آئی اسے قبول کیا اور اسے نبھانے کی پوری کوشش کی۔
جلد ہی شعبہ ذکور کی اجنبیت ختم ہوگئی اور ان کی موجودگی وہاں بالکل فطری محسوس ہونے لگی۔ وقت نے ثابت کیا کہ ابتدا میں جو خدشہ تھا وہ بے بنیاد تھا۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے نہ صرف خود کو منوایا بلکہ اپنے کام سے یہ ثابت کردیا کہ قابلیت اور کردار کے سامنے صنفی فرق کوئی رکاوٹ نہیں بنتا۔
ممتاز شاہین صاحبہ نے مراٹھی میڈیم سے D.Ed. کیا تھا اور دورانِ ملازمت اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے B.Sc. اور B.Ed. بھی مکمل کیا۔ وہ سائنس کی معلمہ تھیں، لیکن ریاضی پر بھی ان کی اچھی گرفت تھی۔ پنجم تا ہشتم کے طلبہ کو ریاضی پڑھاتیں اور ضرورت کے مطابق مراٹھی بھی پڑھایا کرتی تھیں۔
ان کی ذہانت بلند تھی اور اپنی صلاحیتوں سے وہ خود بھی بخوبی واقف تھیں۔ ان میں خود اعتمادی تھی، مگر خود نمائی نہیں۔ وہ جانتی تھیں کہ انہیں کیا کرنا ہے، کس طرح کرنا ہے اور کسی ذمہ داری کو کہاں تک پہنچانا ہے۔
ان کی شخصیت میں سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کا جذبہ ہمیشہ موجود رہا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ دورانِ ملازمت اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے عملی زندگی میں بھی مسلسل نئی ذمہ داریاں قبول کیں۔ممتاز شاہین صاحبہ کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی انتظامی صلاحیت تھی۔ وہ صرف کام کرنے والی نہیں تھیں بلکہ کام کو منظم کرنے اور دوسروں سے کام کروانے دونوں سے واقف تھیں۔
ایک وقت تک وہ شفٹ انچارج رہیں۔ امتحان کمیٹی کی سیکریٹری کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی۔ ثقافتی پروگراموں میں ان کا قائدانہ کردار رہا۔ مشکل مرحلوں کو نسبتاً آسانی سے طے کرنا، کام کی تقسیم کرنا، ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا اور دیے گئے ٹاسک کو انجام تک پہنچانا ان کی نمایاں صلاحیتوں میں شامل تھا۔
وہ کام کو محض شروع کرنے پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ کوشش کرتیں کہ اسے اس طرح مکمل کیا جائے کہ اس کا نتیجہ بھی سامنے آئے۔ ان کی اسی عملی اور انتظامی صلاحیت نے انہیں ادارے میں ایک معتبر اور باصلاحیت رکن کا مقام دیا۔
ممتاز شاہین صاحبہ کی ایک منفرد حیثیت یہ بھی تھی کہ وہ شعبہ ذکور اور شعبہ نسواں کے درمیان ایک طرح کاپُل(Bridge)تھیں۔وہ واحد معلمہ تھیں جو دونوں شعبوں کے مزاج، ضروریات اور عملی تقاضوں سے واقف تھیں۔ جب کبھی مشترکہ رہنمائی یا باہمی رابطے کی ضرورت پیش آتی تو ان کا کردار اہم ہوجاتا۔یہ محض انتظامی ضرورت پوری کرنا نہیں تھا۔ اس کے لیے دونوں جانب کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا، معاملات کو سمجھنا اور مناسب انداز میں بات کو آگے بڑھانا ضروری تھا، اور وہ یہ کام خوش اسلوبی سے کرتی تھیں۔
ان کے تقریباً چوبیس سالہ سفر میں اسکول کے نظام نے کئی تبدیلیاں دیکھیں۔ اسکالرشپ کے امتحانات، ذہنی آزمائش کی تدریس، آن لائن پورٹلز، ڈیٹا انٹری، روزانہ طلبہ اور اساتذہ کی معلومات جمع کرنا اور محکمہ تعلیم کو فراہم کرنا، یہ سب ایسے کام تھے جن سے ایک روایتی معلمہ باآسانی خود کو الگ رکھ سکتی تھی۔مگر ممتاز شاہین صاحبہ نئی چیزوں سے گھبرانے والی نہیں تھیں۔وہ کمپیوٹر سے واقف تھیں۔ خود کام کرنا بھی جانتی تھیں اور ضرورت کے مطابق دوسروں سے کام کروانا بھی۔ آفس اسٹاف کے ساتھ تعاون ہو، صدر مدرسہ کی ہدایات کی تکمیل ہو یا ساتھیوں کے ساتھ مل کر کسی کام کو پا یہتکمیل تک پہنچانا، وہ پیش پیش رہتیں۔طلبہ میں کتابوں کی تقسیم، یونیفارم کی تقسیم اور اسکول کے روزمرہ کے دیگر انتظامی کام بھی وہ پوری ذمہ داری سے انجام دیتی تھیں۔
ٍ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ بڑے اور چھوٹے کام میں غیر ضروری فرق نہیں کرتیں۔ وہ جانتی تھیں کہ کسی ادارے کا نظام صرف بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے بے شمار چھوٹے کاموں کے درست انجام پانے سے قائم رہتا ہے۔
ممتاز شاہین صاحبہ ایک co-operative natureکی خاتون تھیں۔ ان کا دل درد سے بھرا ہوا تھا۔ دوسروں کا کام اس طرح انجام دیتی تھیں جیسے وہ کام کسی اور کا نہیں بلکہ خود ان کا اپنا ہو۔ان کی شفٹ میں برسوں سے کام کرنے والے بعض اساتذہ اپنی تقرری اور ملازمت سے متعلق مشکلات کا دکھ ان سے بیان کرتے۔ وہ ان کے مسائل کو محض سن کر بھول نہیں جاتیں بلکہ ان کے لیے فکر مند رہتیں اور ان کے حق میں دعا کرتیں کہ اللہ انہیں اس مشکل سے نکالے۔وقت کے ساتھ ان کی شفٹ میں معلمات کی تعداد بڑھتی گئی۔ بدلتے ہوئے حالات اور ذمہ داریوں کے اس توازن کو انہوں نے اپنی حکمت اور معاملہ فہمی سے اس طرح برقرار رکھا کہ ادارے کا نظم، وقار اور باہمی اعتماد متاثر نہیں ہوا۔یہ ان کی انتظامی صلاحیت سے زیادہ ان کی انسانی بصیرت کی علامت تھی۔
ان کی یادوں کا ایک باب ایسا بھی ہے جو رسمی تعارف، عہدوں اور ذمہ داریوں سے بالکل مختلف ہے۔ ادارے میں ہم تین ہم خیال ساتھی تھے۔ ادارے کے بارے میں ہماری فکر اور سوچ میں ایک خاص مماثلت تھی۔ ہم نے مل کر ادارے کی بہبود کے کاموں میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا۔ کوشش یہ رہی کہ کام ذاتی شہرت یا خود نمائی کا ذریعہ نہ بنے۔
ازراہِ مذاق کبھی ہم خود کو ”ایڈیٹ” کہہ دیا کرتے تھے۔ پھر ہم تین افراد نے اپنا ایک گروپ بنایا اور ایک فلمی نام سے متاثر ہوکر گروپ کا نام Three Idiotsرکھ دیا۔
نام میں مذاق تھا، مگر گروپ کے اندر ہونے والی گفتگو اور منصوبہ بندی خاصی سنجیدہ ہوتی تھی۔ ہم اپنے کاموں کی تنظیم کرتے، آئندہ کے ٹاسک طے کرتے، نئے کام تلاش کرتے، اپنی خامیوں کا جائزہ لیتے اور انہیں بہتر کرنے کی کوشش کرتے۔
شاید اس ”تھری ایڈیٹس” کی اصل خوبصورتی یہی تھی کہ ہم خود کو کامل سمجھنے کے بجائے اپنی کمزوریوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دوسرے کو ٹوکتے بھی تھے، سمجھاتے بھی اور حوصلہ بھی بڑھاتے تھے۔آج اس نام کو یاد کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کی کچھ یادیں اس وقت محض مذاق محسوس ہوتی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے بعد وہی یادیں دل کے بہت قریب ہوجاتی ہیں۔
ممتاز شاہین صاحبہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور جس خاندان میں بیاہی گئیں وہ بھی تعلیم، شرافت اور تدریسی روایت کے اعتبار سے معروف خاندان تھا۔ ان کے شوہر جناب محمد اسحاق المعروف)ساجد سر(اردھاپور، ضلع ناندیڑ کے علامہ اقبال اردو ہائی اسکول میں سائنس کے کامیاب استاد ہیں۔ وہ معیار پسند ہیں، جمالیاتی ذوق رکھتے ہیں، طلبہ کے لیے اخلاص اور devotion کا جذبہ رکھتے ہیں اور تعلیمی ماحول میں مثبت تبدیلی کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ان کے والد مرحوم جناب ولی احمد سر بھی تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے اور اس خاندان میں تدریسی پیشے سے وابستہ افراد کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔
ممتاز شاہین صاحبہ اپنے شوہر کا ذکر بڑے اپنائیت سے کیا کرتی تھیں۔ ان کے الفاظ میں ساجد سر کا دل ”بچے کی طرح معصوم” تھا۔ وہ انہیں مخلص سمجھتی تھیں اور کہتی تھیں کہ وہ رشتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔یہ جملے ایک بیوی کی طرف سے اپنے شریکِ حیات کے بارے میں محض تعریف نہیں تھے، بلکہ اس تعلق کی ایک اندرونی تصویر پیش کرتے تھے۔ممتاز شاہین اور ساجد سر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، جو اس وقت شادی شدہ ہے۔ گھر میں ممتاز شاہین صاحبہ ایک مضبوط ماں، مونس و غمخوار اور باہمت شریکِ حیات تھیں۔ممتاز شاہین صاحبہ نے اپنے بیٹے اور بیٹی میں کبھی فرق نہیں کیا۔ دونوں کی تعلیم و تربیت اور مستقبل کو یکساں اہمیت دی۔
اولاد کی کامیابی کے حوالے سے ان کی زندگی کا ایک مرحلہ خاص طور پر کٹھن رہا۔ ہم اکثر اپنے بچوں کے نتائج اور کامیابیوں کو لے کر اس قدر حساس ہوجاتے ہیں کہ ایک امتحان کے نتیجے کو بچے کی پوری صلاحیت کا پیمانہ سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ مسلسل کامیاب رہنے والا بچہ بھی کبھی ٹھوکر کھا سکتا ہے۔ ایسے وقت میں اسے تنقید سے زیادہ سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ممتاز شاہین صاحبہ نے اس حقیقت کو اپنی زندگی میں محسوس کیا۔
ان کی بیٹی، جو اُن کے لیے ہمیشہ ایک مثالی اور قابلِ فخر بچی رہی، دسویں جماعت میں توقع کے مطابق نتیجہ حاصل نہ کرسکی۔ اس صورتحال نے اس کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا اور وہ شدید ذہنی اذیت کے دور سے گزرنے لگی۔ممتاز شاہین صاحبہ نے اسے اس مشکل میں تنہا نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو اس کیفیت سے نکالنے کے لیے جان توڑ محنت کی، اسے سنبھالا، اس کا حوصلہ بڑھایا اور اس کے ساتھ کھڑی رہیں۔ اس جدوجہد نے ان کی اپنی صحت پر بھی اثر ڈالا۔ ایک ماں شاید اپنی اولاد کے دکھ کے سامنے اپنی ذات کی تکلیف بھول جاتی ہے۔ممتاز شاہین بھی ایسی ہی ماں تھیں۔بیٹی کے مستقبل اور شادی کی فکر، نئے گھر کی تعمیر، ایک خوب صورت باغیچے کی خواہش اور ایک مثالی خاندان کی تشکیل، یہ سب ان کے خوابوں کا حصہ تھے۔
وہ مسلسل اپنے متعین کاموں پر کام کرتی رہیں۔ ایک ایک کرکے ان کی بہت سی خواہشیں حقیقت کا روپ دھارتی گئیں۔ گھر بنا، باغیچہ سنورا، بچوں کے مستقبل کے خواب آگے بڑھے اور زندگی ان کے تصور کے مطابق ایک خوب صورت شکل اختیار کرنے لگی۔لیکن شاید ان سب کی ایک قیمت تھی۔وہ قیمت ان کی اپنی صحت تھی۔دوسروں کی زندگی سنوارنے، گھر کو سنوارنے، بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور ادارے کی ذمہ داریاں نبھانے کی مسلسل مصروفیت میں آرام کے لمحات کم ہوتے گئے۔ اپنی صحت اور علاج کے لیے وہ وقت کم نکال سکیں جس کی انہیں ضرورت تھی۔پھر کینسر نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی بھر دوسروں کے لیے جگہ بنائی، مگر اپنی ذات کے لیے شاید سب سے کم جگہ چھوڑی۔
ایک عجیب اور دل کو چھو لینے والی مماثلت بھی ان کی زندگی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ 6 ستمبر 2002 کو انہوں نے اسی ادارے میں اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا اور 19 ستمبر 2026 کو اسی ادارے سے اپنی طویل رفاقت کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر گئیں۔ یوں ستمبر کا مہینہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے آغاز اور اختتام، دونوں کا گواہ بنا۔اور ایک اور اتفاق دیکھیے کہ ان کی پیدائش بھی 19 مارچ کو ہوئی تھی اور وفات بھی 19 ستمبر کو۔ زندگی کا سفر جس تاریخِ 19 سے ایک مرحلے پر شروع ہوا، اسی عدد سے جڑی ایک تاریخ پر اختتام پذیر ہوا۔ یہ محض ایک اتفاق ہے، مگر اپنے اندر ایسی مماثلت رکھتا ہے جو ان کی یاد کو مزید منفرد بنا دیتا ہے۔
ان کے انتقال سے تقریباً دو دن قبل ہم چند اساتذہ ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے تھے۔وہ شدید تکلیف میں تھیں۔انہیں دیکھ کر محسوس ہورہا تھا کہ زندگی کا یہ مرحلہ ان کے لیے آسان نہیں بلکہ بہت دشوار تر ہوچکا ہے۔ بیماری نے ان کے جسم کو کمزور کردیا تھا اور اس ملاقات میں ایک عجیب سی بے بسی محسوس ہورہی تھی۔ہم شاید یہ جانتے تھے کہ بیماری سنگین ہے، لیکن انسان کا دل آخری حقیقت کو قبول کرنے سے گریز کرتا ہے۔کون جانتا تھا کہ یہ ملاقات ہماری آخری ملاقات بن جائے گی۔
صرف دو دن بعد ان کے انتقال کی خبر آگئی۔
19 ستمبر 2026 کی رات ان کے انتقال کے بعد جب رات گیارہ بجے کے بعد ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کا موقع ملا تو ایک اور منظر دل پر نقش ہوگیا۔اتنی رات گئے بھی گنجِ شہیداں کربلا، ناندیڑ میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ نمازِ جنازہ ادا ہوئی اور پھر انہیں متصل قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔رات کی خاموشی، لوگوں کا ہجوم اور ایک ایسی ساتھی کی رخصتی جس کے ساتھ برسوں کام کیا ہو، یہ سب کچھ اپنے اندر ایک عجیب کیفیت رکھتا تھا۔اس اجتماع کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ انسان اپنے پیچھے صرف عہدے یا سرکاری ریکارڈ نہیں چھوڑتا۔ وہ لوگوں کے دلوں میں اپنے تعلقات، اپنے رویے، اپنی مدد، اپنی محبت اور اپنی خدمات کی صورت میں بھی کچھ چھوڑ جاتا ہے۔ممتاز شاہین صاحبہ نے بھی بہت کچھ چھوڑا ہے۔
اپنے شاگردوں کے لیے ایک معلمہ کی یاد، ساتھیوں کے لیے ایک باصلاحیت رفیقہ کی یاد، ادارے کے لیے ایک ذمہ دار کارکن کی یاد، خاندان کے لیے ایک مضبوط ماں اور مونس و غمخوار کی یاد، اور چند قریبی ساتھیوں کے لیے ”Three Idiots” کی وہ بے تکلف رفاقت جسے وقت بھی مٹا نہیں سکتا۔کچھ لوگ چلے جاتے ہیں، مگر ان کے ساتھ گزرے ہوئے دن نہیں جاتے۔
ممتاز شاہین صاحبہ بھی اب ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، لیکن ان کی محنت، ان کی ذمہ داری، ان کا اعتماد، ان کی انتظامی صلاحیت، دوسروں کے لیے ان کا درد اور ان کی رفاقت کی بے شمار یادیں ہمارے ساتھ رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں جو صلاحیتیں عطا کی تھیں، انہوں نے انہیں اپنی استطاعت کے مطابق بروئے کار لایا۔ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، دوسروں کے کام آئیں، اپنے ادارے کے لیے کام کیا، اپنی اولاد کے لیے جدو جہد کی اور اپنی زندگی کے سفر کو حتی المقدور معنی خیز بنانے کی کوشش کی۔
یا اللہ! صدیقی ممتاز شاہین صاحبہ کی مغفرت فرما۔ ان کی خطاؤں سے درگزر فرما۔ ان کی قبر کو نور، وسعت اور سکون عطا فرما۔ ان کی خدمات، محنتوں اور نیکیوں کو شرفِ قبول عطا فرما۔ ان کے درجات بلند فرما اور انہیں اپنی رحمتِ کاملہ میں جگہ عطا فرما۔
یا اللہ! ان کے شوہر، اولاد، خاندان، عزیز و اقارب، شاگردوں اور تمام ساتھیوں کو صبرِ جمیل عطا فرما۔اور یا رب العالمین! ہماری اس ساتھی کی زندگی کی اچھی یادوں کو ہمارے لیے سبق، ان کی خدمات کو ان کے لیے اجر اور ان کی رفاقت کو ہمارے لیے ایک قیمتی امانت بنا دے۔آمین یا رب العالمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے