कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان اور مائنڈ پروگرامنگ

تحریر:سید معز الرحمن، ناندیڑ

رمضان صرف بھوک اور پیاس کا سبق نہیں دیتا، بلکہ یہ ہمارے مائنڈ کی اصل طاقت سے روشناس بھی کراتا ہے۔
سوچئے… عام دنوں میں عشاء کی چار رکعت بھی بھاری محسوس ہوتی ہیں، لیکن رمضان میں ہم بیس رکعت تراویح آسانی سے پڑھ لیتے ہیں۔ عام حالات میں اگر ایک وقت کا کھانا یا چائے نہ ملے تو طبیعت بے چین ہو جاتی ہے، مگر رمضان میں ہم دن بھر بھوکے پیاسے رہ کر بھی مطمئن رہتے ہیں۔ سحری کے لیے رات کو اٹھنا عام دنوں میں مشکل لگتا ہے، لیکن رمضان میں یہی کام آسان ہو جاتا ہے۔
آخر ایسا کیوں؟
اس کی ایک بڑی وجہ مائنڈ کی پروگرامنگ ہے۔
ہم اپنے ذہن کو واضح ہدایت یا انڈیکیشن دیتے ہیں:
آج سحری کے لیے اٹھنا ہے۔
آج دن بھر روزہ رکھنا ہے۔
آج افطار 6:26کو کرنا ہے۔
جب ہم اپنے مائنڈ کو’کلئیر کٹ انڈیکیشن’ دیتے ہیں تو مائنڈ اور جسم اسی کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افطار کے وقت کے قریب ہمیں اچانک پیاس یا بھوک محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ ہماری بایولوجیکل کلاک اور مائنڈ انڈیکیشن کا نتیجہ ہے۔
سوچئے…اگر آج شام 6:26 پر افطاری نا ملے اور 6:40 ہوجائیں تو کیا ہوگا، ہماری حالت غیر ہوجائے گی…
لیکن اگر ہم اپنے مائنڈ کو ایسا انڈیکیشن دیں کہ:
اگر 6:26 کو افطار مل جائے تو ٹھیک ورنہ کوئی بات نہیں 8 بجے افطار کرلوں گا. ” تو کیا ہوگا؟؟
توآپ کو حیرت انگیز طور پر آٹھ بجے تک بھوک پیاس کچھ بھی محسوس نہیں ہوگی.
اس کا مطلب کیا ہے؟؟
اس کا مطلب یہ ہیکہ ہم اپنے مائنڈ کو انڈیکیشن دے سکتے ہیں اور ان انڈیکیشن کے ذریعے سے مائنڈ کو ری-پروگرام بھی کر سکتے ہیں.
اس طرح ہم نئے امکانات اور اہداف آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں.یہی ہمارے سب کانشس مائنڈ کی طاقت ہے ۔
رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی سوچ سے اپنے جسم پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
صاف اور واضح مائنڈ انڈیکیشن سے مشکل کام آسان ہوجاتے ہیں.
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اندر بے پناہ امکانات اور صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ دراصل ہم خود کو بچا بچا کر رکھنے کے عادی ہوجاتے ہیں، پوری قوت سے اپنے آپ کو نہیں لگاتے… ہماری تنگ نظری ہی ہمارے راستے محدود کر دیتی ہے.
اقبال نے کہا تھا:.
تو بچا بچا کے نا رکھ اسے کہ یہ آئینہ ہےوہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
رمضان دراصل اپنے مائنڈ کو ری- پروگرام کرنے، نئے اہداف مقرر کرنے اور اپنی پوشیدہ طاقتوں کو جلا بخشنے کا مہینہ ہے۔
اگر ہم رمضان میں اپنے ذہن کو نظم و ضبط سکھا سکتے ہیں، تو رمضان کے بعد بھی زندگی کے ہر میدان میں اس اصول کو لاگو کر سکتے ہیں ۔ بس ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے مائنڈ کو کیا ہدایات دے رہے ہیں؟
رمضان صرف رسمی طور پر سرگرمیاں انجام دینے کا مہینہ نہیں بلکہ اپنے اندرون میں چھپے نایاب گوہر کو تلاش کرکے باہر نکالنے اور ایک نئی زندگی کی بنیاد بنانے کا مہینہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے