कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دنیا احتجاج کی لپیٹ میں…بڑے انقلاب کی آہٹ!

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

دنیا احتجاج کی لپیٹ میں ہے اور نوجوان نسل تبدیلی کے لیے سڑکوں پر ہے۔ یہ کوئی ایک ملک یا ایک خطہ کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی منظر ہے جہاں تقریباً ہر براعظم میں کہیں نہ کہیں لوگ اپنے اپنے مسائل لے کر باہر نکلے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ فرانس پر ہے جہاں سے یہ لہر شروع ہوئی اور پھر تیزی سے پھیل گئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ہفتے اور گزشتہ چند ہفتوں میں دنیا کے کئی کونے احتجاج کی آوازوں سے گونج رہے ہیں۔ فرانس میں یہ سب کچھ ستمبر کے آخر میں شروع ہوا جب اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی، خراب عمارتیں اور تعلیمی معیار کی گراوٹ کے خلاف ہائی اسکول کے طلبہ نے احتجاج کا آغاز کیا۔ ابتدا میں یہ صرف تعلیمی مسائل تک محدود لگ رہا تھا مگر جلد ہی اس میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، عوامی خدمات کی کمزوری اور نوجوانوں کے مستقبل کی بے یقینی شامل ہو گئی۔ 17 اکتوبر کو یہ تحریک قومی سطح پر پہنچ گئی جب لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ کچھ جگہوں پر تشدد بھی ہوا مگر بنیادی طور پر یہ ایک نئی نسل کا ردعمل تھا جو محسوس کر رہی ہے کہ نظام ان کے حق میں کام نہیں کر رہا۔ایک ہفتہ بعد 24 اکتوبر کو دوبارہ بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ وزارت داخلہ کے مطابق پورے ملک میں تقریباً چار لاکھ دس ہزار لوگ سڑکوں پر نکلے جن میں پیرس میں ایک لاکھ دس ہزار شامل تھے، جبکہ یونینوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد 8 لاکھ کے قریب تھی۔ دن بھر مظاہرے زیادہ تر پرامن رہے مگر شام ہوتے ہی پیرس، مارسے، لیون اور کچھ دیگر شہروں میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا اور تقریباً ایک ہزار افراد گرفتار ہوئے۔ حکومت نے اس بار ستر ہزار پولیس تعینات کیے تھے تاکہ گزشتہ ہفتہ جیسی لوٹ مار نہ ہو۔ تشدد گزشتہ ہفتہ سے کم رہا مگر احتجاج کی شدت برقرار رہی۔ یلو ویسٹس نے اگلا بڑا احتجاج 31 اکتوبر کو کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
فرانس کے بعد یہ لہر اٹلی، اسپین، پرتگال، البانیہ، بیلجیم اور یونان تک پھیل گئی جہاں لوگ رہائش کے بحران، مہنگائی، تعلیم اور روزگار کے مسائل پر سڑکوں پر ہیں۔ سربیا میں انتخابات سے پہلے طلبہ کی قیادت میں بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ پولینڈ میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ لیکن یہ صرف یورپ کی کہانی نہیں۔ ایشیا میں ہندوستان میں ووٹر لسٹوں میں مبینہ تبدیلیوں اور معاشی مسائل کے خلاف نوجوانوں کی تحریکیں جاری ہیں جبکہ انڈونیشیا میں بھی مختلف شہروں میں احتجاج دیکھنے میں آئے۔ افریقہ میں جنوبی افریقہ میں تارکین وطن کے خلاف مظاہرے ہوئے جن میں تشدد بھی دیکھا گیا، تیونس میں معاشی اور سیاسی بحران کے باعث بے چینی پھیل رہی ہے اور مراکش میں اساتذہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ارجنٹائن میں یونیورسٹی فنڈنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے، چلی میں 2019 کے احتجاج کی سالگرہ پر لوگ دوبارہ سڑکوں پر نکلے، کولمبیا اور وینزویلا میں بھی سیاسی اور معاشی مطالبات کے ساتھ لوگ باہر آئے۔ امریکہ میں بھی مختلف ریلیاں دیکھنے میں آئیں جبکہ دنیا کے کئی چھوٹے ممالک میں مقامی مسائل پر لوگ اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا کے تقریباً 50 سے زائد ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں احتجاج رپورٹ ہو رہے ہیں، چاہے وہ بڑے پیمانے پر ہوں یا چھوٹے، پرامن ہوں یا تشدد آمیز۔ یہ ایک عالمی بے چینی کی علامت ہے جہاں لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے روزمرہ کے مسائل حل نہیں ہو رہے اور مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ان احتجاجوں کی اہم وجوہات تقریباً ایک جیسی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ مہنگائی اور رہن سہن کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں جنہوں نے عام گھرانوں کو تنگ کر دیا ہے۔ خوراک، ایندھن، بجلی اور کرائے کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں جبکہ اجرتوں میں حقیقی اضافہ نہیں ہو رہا۔ دوسری بڑی وجہ رہائش کا بحران ہے، خاص طور پر یورپ کے بڑے شہروں میں جہاں نوجوان اپنے والدین کے گھر چھوڑ کر الگ رہائش نہیں لے سکتے۔ تیسری اہم وجہ تعلیم کا نظام ہے جو بہت سے ممالک میں ناکافی فنڈنگ، اساتذہ کی کمی اور پرانی عمارتوں کا شکار ہے۔ چوتھی وجہ روزگار کی غیر یقینی صورتحال ہے جہاں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مستحکم نوکریاں نہیں پا رہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی قرضوں کا بوجھ، پنشن سسٹم پر زیادہ خرچ اور دفاعی اخراجات نے عوامی خدمات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
بہت سے ماہرین اس سب کو سماجی معاہدے کے ٹوٹنے سے جوڑتے ہیں جس میںمملکت اپنے شہریوں کو بہتر زندگی کا وعدہ کرتی ہے مگر پورا نہیں کر پاتی۔احتجاج کی تاریخ بھی اس موجودہ لہر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ فرانس میں 2018 میں یلو ویسٹس کی تحریک نے مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ملک ہلا کر رکھ دیا تھا اور اسی روایت کا تسلسل آج نظر آ رہا ہے۔ چلی میں 2019 کا بڑا سماجی احتجاج اب بھی یاد کیا جاتا ہے اور اس کی سالگرہ پر لوگ دوبارہ سڑکوں پر نکلے۔ اسی طرح عرب اسپرنگ کا حوالہ بھی اکثر دیا جاتا ہے جو 2010 کے آخر اور 2011 میں عرب دنیا میں شروع ہونے والی بڑی احتجاجی تحریکوں کا سلسلہ تھا۔ اس کا آغاز تیونس سے ہوا تھا جب ایک نوجوان محمد بو عزیزی نے بے روزگاری، کرپشن اور پولیس کے ظلم کے خلاف خود کو آگ لگا لی۔ اس واقعہ نے پورے ملک میں احتجاج بھڑکا دیے اور بالآخر صدر زین العابدین بن علی کی حکومت ختم ہو گئی۔ اس کے بعد احتجاج تیزی سے مصر، لیبیا، شام، یمن، بحرین اور دیگر عرب ممالک میں پھیل گئے۔ ان احتجاجوں کی بنیادی وجوہات بھی مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، آمرانہ حکمرانی اور نوجوان نسل کی مایوسی تھیں۔ سوشل میڈیا نے ان تحریکوں کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نتائج مخلوط رہے کچھ ممالک میں حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر کئی جگہوں پر خانہ جنگی اور عدم استحکام بھی سامنے آیا۔
یورپ میں گزشتہ دہائیوں کے دوران بھی طلبہ کی تحریکیں اور مزدوروں کے احتجاج ہوتے رہے ہیں مگر موجودہ لہر اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں نوجوان نسل مرکزی کردار ادا کر رہی ہے اور ان کے مطالبات صرف فوری ریلیف تک محدود نہیں بلکہ نظام کی بنیادی تبدیلی تک پہنچتے ہیں۔نوجوان نسل حکومت کے خلاف کیوں ہے اس کی وجوہات گہری ہیں۔ وہ نسل جو آج سڑکوں پر ہے وہ اپنے والدین اور دادا دادی کی نسل سے مختلف دنیا میں پیدا ہوئی ہے۔ ان کے والدین کو نسبتاً مستحکم نوکریاں، سستے مکانات اور بہتر تعلیمی مواقع ملے تھے مگر آج کے نوجوان کو یہ سب کچھ بہت مہنگا اور مشکل نظر آ رہا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ سرکاری بجٹ کا بڑا حصہ پرانی نسل کی پنشن اور سوشل سیکیورٹی پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ ان کے لیے تعلیم، رہائش اور روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی عارضی نوکریوں یا بے روزگاری کا شکار ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ نظام ان کے مستقبل کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا نے انہیں دنیا بھر کی صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ عدم مساوات بڑھ رہی ہے، امیر لوگ مزید امیر ہو رہے ہیں جبکہ ان کا حصہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ حکومتوں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ فوری سیاسی مفاد کے لیے طویل المدتی مسائل کو نظر انداز کر رہی ہیں اور نوجوان نسل کو صرف ووٹ بینک سمجھتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ پورے سیاسی نظام پر سے اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔
ماہرین اس صورتحال کو صرف عارضی احتجاج نہیں بلکہ ایک گہرے ساختی بحران کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے صدر مائیکل فرو مین کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک میں سماجی معاہدہ ٹوٹ چکا ہے۔ معاشی ماہرین اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ رہائش کے بحران، توانائی کی مہنگائی اور اجرتوں میں حقیقی اضافے کی کمی نے عام شہریوں کو تنگ کر دیا ہے۔ یوروفاؤنڈ کی محقق ماری ہائلینڈ کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نسلوں کے درمیان سماجی معاہدے کو کمزور کر رہی ہے کیونکہ آج کے نوجوان اپنے والدین جتنی خوشحالی حاصل کرنے کے قابل نہیں محسوس کر رہے۔
حکومتوں اور مملکتوں کو کیا کرنا چاہیے تاکہ احتجاج پیدا ہی نہ ہوں اور مسائل حقیقتاً حل ہوں، یہ سوال آج بہت اہم ہو گیا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کار بار بار یہ بات دہرا رہے ہیں کہ صرف پولیس فورس بڑھانے یا عارضی ریلیف دینے سے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ اصل حل ساختی تبدیلیوں میں چھپا ہے۔ مائیکل فرو مین اور کئی یورپی معاشی ماہرین نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک حکومتیں نوجوان نسل کے مستقبل پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری نہیں کریں گی، احتجاج کی لہر بار بار آتی رہے گی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ سماجی معاہدے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا جس میں تعلیم، رہائش اور روزگار کو ترجیح دی جائے۔ سب سے پہلے حکومتوں کو تعلیم کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ بجٹ میں تعلیم کا حصہ بڑھایا جائے، اساتذہ کی بھرتی کو تیز کیا جائے اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔ رہائش کا بحران بھی اتنا ہی سنگین ہے۔ اسپین اور پرتگال جیسے ممالک میں کرائے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ نوجوان الگ گھر نہیں لے سکتے۔ حکومتوں کو سستی رہائش کے منصوبے بنانے چاہیے، کرایہ کنٹرول کے قوانین سخت کرنے چاہیے اور نوجوانوں کے لیے آسان رہن کی سہولتیں فراہم کرنی چاہیے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف خرچ بڑھانا کافی نہیں۔ معاشی ترقی کو تیز کرنا ضروری ہے تاکہ نوکریاں پیدا ہوں اور قرضوں کا بوجھ کم ہو۔ اس کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، ٹیکنالوجی اور مہارت کی تربیت پر سرمایہ کاری کرنا اور نوجوانوں کو خود روزگار کے مواقع دینا ضروری ہے۔ کئی تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ پنشن اور سماجی تحفظ کے نظام کو نسلوں کے درمیان منصفانہ بنانا ہوگا تاکہ نوجوان محسوس نہ کریں کہ وہ صرف پرانی نسل کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ حکومتوں کو احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔ صرف طاقت کا استعمال مسائل کو دباتا ہے مگر حل نہیں کرتا۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ باضابطہ مذاکرات کے فورم بنائے جائیں جہاں طلبہ، مزدور اور نوجوان براہ راست اپنی بات رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ شفافیت بہت ضروری ہے۔ جب لوگ محسوس کریں کہ بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے اور فیصلے کیسے ہو رہے ہیں تو عدم اعتماد کم ہوتا ہے۔ کچھ عملی تجاویز یہ ہو سکتی ہیں کہ قلیل مدتی ریلیف کے ساتھ طویل مدتی منصوبے بھی بیک وقت چلائے جائیں۔ مثلاً ایندھن پر عارضی سبسڈی دے کر لوگوں کو سانس لینے کا موقع دیا جائے مگر ساتھ ہی رہائش اور تعلیم پر پانچ سے دس سال کے منصوبے شروع کر دیے جائیں۔ نوجوانوں کے لیے مہارت کی تربیت اور انٹرن شپ کے بڑے پروگرام چلائے جائیں تاکہ وہ محض ڈگری رکھنے والے بے روزگار نہ رہیں۔ حکومتی قرضوں کو کنٹرول کرتے ہوئے عوامی خدمات کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور سب سے اہم بات یہ کہ سیاستدانوں کو فوری سیاسی مفاد سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا کیونکہ نوجوان نسل اب صرف وعدوں پر یقین نہیں کرتی بلکہ نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔اگر حکومتیں ان راستوں پر چلیں تو احتجاج کی ضرورت ہی کم پڑ جائے گی۔ ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب نظام اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتا تو لوگ خود سڑکوں پر آ کر نظام کو یاد دلاتے رہتے ہیں۔ ماہرین کا پیغام واضح ہے کہ حل طاقت میں نہیں بلکہ دور اندیشی، انصاف اور نوجوان نسل کے مستقبل میں حقیقی سرمایہ کاری میں ہے۔ یہ احتجاج محض چند ممالک کی اندرونی بے چینی نہیں بلکہ ایک عالمی رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں نوجوان نسل محسوس کر رہی ہے کہ نظام یا مملکت ان کے حق میں کام نہیں کر رہا۔ اگر حکومتیں ان آوازوں کو سنجیدگی سے سنیں، ساختی اصلاحات لائیں اور نوجوانوں کو مستقبل کا کوئی قابل یقین راستہ دکھائیں تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ ورنہ یہ لہر مزید پھیل سکتی ہے اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ دنیا بھر میں لوگ ایک ہی پیغام دے رہے ہیں کہ وہ سنے جانا چاہتے ہیں اور ان کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکمران اس پیغام کو کتنا سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے