कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

منٹو کی دنیا، امام غزالی کی فکر اور انسان کے باطن کی جنگ

ظاہری نیکی، خوفِ خدا، تصوف اور روزمرہ زندگی میں مفادات کی کشمکش کا ایک سماجی و نفسیاتی مطالعہ

تحریر: شیخ محمود علی، لیکچرر

سعادت حسن منٹو کی تحریریں انسانی زندگی کے ان گوشوں کو بے نقاب کرتی ہیں جنہیں معاشرہ اکثر اپنی تہذیب، اخلاق اور شرافت کے پردوں میں چھپا دینا چاہتا ہے۔ منٹو کا فن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان جو دکھائی دیتا ہے، کیا حقیقت میں بھی وہی ہوتا ہے؟ کیا ظاہری نیکی، مذہبی شناخت اور اخلاقی گفتگو اس بات کی ضمانت ہیں کہ انسان کا باطن بھی پاکیزہ ہے؟
منٹو سے منسوب ایک جملہ اس سوال کو بڑی شدت سے ہمارے سامنے لاتا ہے:
”جس نیت سے طوائف برقعہ پہنتی ہے، بالکل اسی نیت سے کچھ لوگ داڑھی بھی رکھ لیتے ہیں۔“
اس جملے کو محض مذہبی وضع قطع پر طنز سمجھنا اس کے بنیادی سماجی سوال کو محدود کر دینا ہوگا۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کیا انسان کبھی نیکی، مذہب، اخلاق اور شرافت کی علامتوں کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اصل مسئلہ لباس یا ظاہری شناخت نہیں، بلکہ وہ نیت ہے جو انسان کے عمل کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے۔
یہاں سے منٹو کی سماجی بصیرت، امام غزالی کی اخلاقی فکر اور تصوف کے باطنی تصور کے درمیان ایک معنی خیز مکالمہ شروع ہوتا ہے۔
امام غزالی: انسان کے باطن کی اصلاح:
امام ابو حامد غزالی کی فکر میں انسان کی اخلاقی زندگی کا ایک بنیادی پہلو دل کی اصلاح، نیت کی پاکیزگی اور نفس کی تربیت ہے۔ ان کی معروف تصنیف احیاء علوم الدین میں عبادات، اخلاق، قلبی امراض، ریاکاری، تکبر، حرص اور دنیا کی محبت جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث ملتی ہے۔
امام غزالی کی فکر کی روشنی میں دیکھا جائے تو انسان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ کیا کرتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کیوں کرتا ہے۔ ایک ہی عمل مختلف نیتوں کے تحت مختلف اخلاقی معنی اختیار کر سکتا ہے۔ کوئی شخص خدمت اس لیے کرتا ہے کہ کسی ضرورت مند کی مشکل آسان ہو، اور کوئی اسی خدمت کے ذریعے شہرت، عزت، اثر و رسوخ یا مالی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ظاہری طور پر دونوں کے اعمال یکساں دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن ان کے باطنی محرکات مختلف ہوتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاص اور ریاکاری کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ اخلاص میں انسان کی توجہ اپنے عمل کی اخلاقی اور روحانی قدر پر ہوتی ہے، جب کہ ریاکاری میں نیکی کا اظہار دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر بڑھانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
تاہم کسی دوسرے انسان کی نیت کا قطعی فیصلہ کرنا ہمارے لیے آسان نہیں۔ اس لیے امام غزالی کی فکر سے اخذ کیا جانے والا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ دوسروں پر حکم لگانے سے پہلے انسان اپنے دل، خواہشات اور محرکات کا جائزہ لے۔
خوفِ خدا: نگرانی کے بغیر بھی دیانت:
خوفِ خدا کا تصور محض سزا کے اندیشے تک محدود نہیں۔ اسلامی اخلاقی روایت میں اس کے ساتھ تقویٰ، جواب دہی، اللہ کی ناراضی سے بچنے اور اپنے اعمال کو درست رکھنے کا شعور وابستہ ہے۔
اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب انسان کے سامنے لوگ موجود ہوں، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے یقین ہو کہ اس کے عمل کو کوئی انسان نہیں دیکھ رہا، پھر بھی وہ غلط کام سے اجتناب کرے۔
ایک دکاندار اگر گاہک کی غیر موجودگی میں بھی ناپ تول درست رکھتا ہے، ایک تاجر اگر موقع ملنے کے باوجود دھوکا نہیں دیتا، ایک عہدے دار اگر اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرتا، اور ایک شخص اگر کسی کمزور انسان کے اعتماد کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہیں کرتا، تو اس کے کردار میں اخلاقی جواب دہی کا عملی اظہار ہوتا ہے۔
اس کے برعکس اگر انسان صرف لوگوں کے سامنے نیک دکھائی دینے کے لیے دیانت داری کا مظاہرہ کرے اور تنہائی میں اس کے برعکس عمل کرے، تو اس کی اخلاقی زندگی میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔
خوفِ خدا کا حقیقی اخلاقی اثر اسی وقت سامنے آتا ہے جب وہ انسان کو محض مذہبی اظہار سے آگے لے جا کر حقوق العباد، امانت، انصاف، سچائی اور اپنے وعدوں کی پابندی کی طرف متوجہ کرے۔
خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس انسان کو اس مقام تک پہنچاتا ہے جہاں وہ صرف پکڑے جانے کے خوف سے نہیں، بلکہ غلط ہونے کے احساس سے بھی برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
تصوف: ظاہر سے باطن تک کا سفر:
تصوف کی بنیادی اخلاقی جہات میں تزکیۂ نفس، اخلاص، تواضع، صبر، شکر، محبت اور خود احتسابی کو اہم مقام حاصل ہے۔ اس سفر کا مقصد محض مخصوص لباس، الفاظ یا رسوم اختیار کرنا نہیں، بلکہ انسان کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرنا ہے جو اس کے رویوں اور معاملات میں ظاہر ہو۔
اگر کوئی شخص عبادت کرتا ہے لیکن دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، ذکر کرتا ہے لیکن زبان سے لوگوں کی تذلیل کرتا ہے، روحانیت کی بات کرتا ہے لیکن کسی کا حق ادا نہیں کرتا، تو اس کے سامنے اپنے باطن کی اصلاح کا سوال موجود رہتا ہے۔
روحانی تربیت انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ اپنے نفس کی خواہشات کو پہچانے۔ کبھی شہرت کی خواہش، کبھی دولت کی حرص، کبھی دوسروں پر برتری کا احساس، کبھی انتقام اور کبھی اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے کی ضد انسان کے اخلاقی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
انسان دوسروں کی خامیاں دیکھنے میں بہت تیز ہوتا ہے، لیکن اپنی خواہشات کے لیے جواز تلاش کرنے میں بھی غیر معمولی مہارت رکھتا ہے۔ وہ اپنے مفاد کو ضرورت، اپنی خود غرضی کو مجبوری اور اپنی سختی کو اصول پسندی کا نام دے سکتا ہے۔
تصوف کی خود احتسابی اسی داخلی فریب کو پہچاننے کی دعوت دیتی ہے۔
باطن کی اصلاح کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا سے کنارہ کش ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے ضمیر کو دنیاوی مفادات کا غلام نہ بننے دے۔
مادی زندگی اور مفادات کی جنگ:
جدید معاشرے میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے مفادات سے گھری ہوئی ہے۔ دولت، عہدہ، شہرت، کاروبار، خاندانی برتری، سماجی مرتبہ اور سیاسی یا ادارہ جاتی اثر و رسوخ یہ سب انسانی زندگی کے اہم پہلو ہیں۔ مسئلہ ان چیزوں کے وجود میں نہیں، بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان کے حصول کے لیے اخلاقی اصول قربان کر دیے جائیں۔
روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیے:
ایک بھائی جائیداد کی تقسیم میں اپنے دوسرے بھائی کا حق روک لیتا ہے، لیکن خاندان میں اپنی دینداری کا چرچا بھی چاہتا ہے۔ ایک کاروباری شخص منافع کے لیے ناقص مال فروخت کرتا ہے، لیکن اپنی شہرت ایک ایماندار تاجر کے طور پر قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ایک ملازم ترقی کے لیے اپنے ساتھی کی کردار کشی کرتا ہے، لیکن خود کو اصول پسند کہتا ہے۔ کوئی شخص تعلقات اس وقت تک نبھاتا ہے جب تک اسے ان سے فائدہ ملتا رہے، اور فائدہ ختم ہوتے ہی اس کے رویے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔
یہ مثالیں ہر فرد یا ہر طبقے کی نمائندگی نہیں کرتیں، لیکن معاشرتی زندگی میں موجود اس کشمکش کو ضرور واضح کرتی ہیں جس میں ذاتی مفاد اور اجتماعی اخلاق ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوتے ہیں۔
سماجی نقطۂ نظر سے مفادات کی کشمکش انسانی تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہر انسان کی ضروریات اور خواہشات ہوتی ہیں، اور معاشرے میں وسائل، مواقع اور اختیارات یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوتے۔ اسی لیے مقابلہ، اختلاف اور اپنے مفاد کے تحفظ کی کوششیں پیدا ہوتی ہیں۔
لیکن ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ اس کے افراد کے مفادات نہ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ ان مفادات کے حصول کے لیے انصاف، قانون اور دوسروں کے حقوق کی حدود قائم رہیں۔
جب دولت کو کردار سے، کامیابی کو دیانت سے، اور سماجی مرتبے کو انسانیت سے زیادہ اہم سمجھا جانے لگے تو انسان اپنے ضمیر کے ساتھ سمجھوتا کرنے لگتا ہے۔
اس صورت حال میں مذہبی یا اخلاقی زبان کبھی کبھی خود فریبی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ انسان اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیلیں تلاش کرتا ہے جن سے اس کے مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔ یوں مفاد صرف معاشی سرگرمی نہیں رہتا، بلکہ انسان کی اخلاقی سوچ پر بھی اثر انداز ہونے لگتا ہے۔
روزمرہ تعلقات میں مفاد اور مخلصی:
مفاد کی جنگ صرف بازار، دفتر یا سیاست تک محدود نہیں۔ یہ خاندان، دوستی، محبت اور سماجی تعلقات میں بھی مختلف صورتوں میں سامنے آتی ہے۔
بعض تعلقات خلوص کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں، جہاں لوگ ایک دوسرے کی خوشی، تکلیف اور ضرورت کو اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن بعض تعلقات میں انسان دوسرے کو ایک ذریعہ سمجھنے لگتا ہے ایسا ذریعہ جس سے عزت، مالی مدد، سماجی مقام یا جذباتی سہارا حاصل کیا جا سکے۔
جب تک فائدہ موجود رہتا ہے، تعلق بھی قائم رہتا ہے؛ فائدہ ختم ہونے پر خلوص کی حقیقت سامنے آتی ہے۔
اس کے باوجود ہر مفید تعلق کو خود غرضی قرار دینا درست نہیں۔ انسانوں کے تعلقات میں باہمی ضرورت، تعاون اور فائدہ فطری ہیں۔ فرق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تعلق میں دوسرے انسان کی عزت، رضامندی اور حقوق کو نظرانداز کر کے اسے صرف اپنے مقصد کے حصول کا وسیلہ بنا لیا جائے۔
یہاں خوفِ خدا، اخلاقی تربیت اور تصوف کا تصور ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ ان کا مشترک پیغام یہ ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ ایسا معاملہ کرے جس میں انصاف، احترام اور دیانت باقی رہیں، خواہ اس سے اس کے فوری مفاد میں کمی ہی کیوں نہ آ جائے۔
منٹو اور امام غزالی: دو زاویے، ایک بنیادی سوال:
منٹو اپنے افسانوی مشاہدے کے ذریعے معاشرے کے تضادات کو سامنے لاتے ہیں۔ وہ انسان کے ظاہر اور باطن کے درمیان فاصلے کو کرداروں، واقعات اور تلخ حقیقتوں کے ذریعے نمایاں کرتے ہیں۔
امام غزالی کی اخلاقی و روحانی فکر انسان کو اپنے اندر جھانکنے، نفس کی خواہشات کو سمجھنے اور نیت کی اصلاح کی دعوت دیتی ہے۔
دونوں کے طریقۂ اظہار اور فکری پس منظر میں فرق ہے۔ منٹو بنیادی طور پر ادیب اور افسانہ نگار تھے، جب کہ امام غزالی ایک بڑے اسلامی عالم، متکلم اور صوفی مفکر تھے۔ اس لیے ان دونوں کو ایک ہی فکری روایت کا نمائندہ قرار دینا درست نہیں۔ تاہم ان کے مطالعے سے ایک مشترک سوال اخذ کیا جا سکتا ہے: انسان کے دعووں اور اس کے حقیقی کردار کے درمیان پیدا ہونے والے تضاد کو کیسے سمجھا جائے؟
منٹو اس تضاد پر سے پردہ اٹھاتے ہیں، جبکہ امام غزالی کی فکر ہمیں اپنے باطن کی اصلاح کا راستہ دکھاتی ہے۔ ایک معاشرے کے رویوں کا آئینہ پیش کرتا ہے، دوسرا انسان کو اپنی اخلاقی کمزوریوں کا جائزہ لینے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
یہ تقابل اسی وقت بامعنی رہتا ہے جب ہم منٹو کے ادبی طنز کو امام غزالی کی روحانی تعلیمات کے برابر قرار دینے کے بجائے دونوں سے اپنے اپنے دائرے میں استفادہ کریں۔
خود احتسابی: تبدیلی کا آغاز کہاں سے ہو؟:
معاشرے کی اصلاح کا مطالبہ کرنا آسان ہے، لیکن اپنی اصلاح کے لیے تیار ہونا نسبتاً مشکل کام ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے سچ بولیں، وعدے پورے کریں، دھوکا نہ دیں اور اپنے مفادات کے لیے ہمارے حقوق پامال نہ کریں۔ لیکن کیا ہم خود بھی انہی اصولوں پر قائم رہتے ہیں؟
کیا ہم کسی کمزور شخص کے ساتھ اس وقت بھی انصاف کرتے ہیں جب اس کے پاس ہمارے خلاف آواز اٹھانے کی طاقت نہ ہو؟ کیا ہم اپنے مالی معاملات میں دیانت دار رہتے ہیں؟ کیا ہم کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کر سکتے ہیں، یا ہر مرتبہ اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی جواز تلاش کرتے ہیں؟
یہ سوالات محض مذہبی یا فلسفیانہ گفتگو نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کی اخلاقی بنیاد ہیں۔
امام غزالی کی فکر سے رہنمائی لیتے ہوئے انسان اپنے نفس کا محاسبہ کر سکتا ہے، تصوف سے اخلاص اور تواضع کا سبق حاصل کر سکتا ہے، اور منٹو کے ادبی مشاہدے سے معاشرتی منافقت کو سمجھ سکتا ہے۔
ان تینوں زاویوں کو سامنے رکھ کر ہم ایک ایسے اخلاقی شعور کی تشکیل کر سکتے ہیں جو انسان کو صرف دوسروں کے کردار پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے عمل کی ذمہ داری قبول کرنے کی طرف لے جائے۔
اختتامیہ: چہرہ نہیں، کردار اصل پہچان ہے:
دنیا کی مادی زندگی میں دولت، عزت، کامیابی اور مفادات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جب ان چیزوں کی خاطر انسان اپنا ضمیر، انصاف اور دوسروں کے حقوق قربان کر دے تو کامیابی کی ظاہری چمک کے پیچھے ایک اخلاقی شکست چھپی ہو سکتی ہے۔
خوفِ خدا انسان کو جواب دہی کا احساس دیتا ہے، تصوف اسے اپنے نفس کی اصلاح کی طرف بلاتا ہے، امام غزالی کی فکر نیت اور کردار کی اہمیت واضح کرتی ہے، اور منٹو کی تحریریں ہمیں معاشرے کے ان تضادات سے روشناس کراتی ہیں جنہیں ہم اکثر دیکھ کر بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔
انسان کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اس کے سامنے مفاد اور اصول، دولت اور دیانت، شہرت اور اخلاص، یا ذاتی فائدے اور کسی دوسرے کے حق میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا موقع آتا ہے۔
اس لمحے اس کی ظاہری شناخت نہیں، بلکہ اس کا فیصلہ اس کے کردار کی گواہی دیتا ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہم دنیا کے سامنے کتنے نیک دکھائی دیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ تنہائی میں، مفاد کے دباؤ میں اور اختیار کے استعمال کے وقت ہم کتنے دیانت دار رہتے ہیں۔
کیونکہ معاشرے کی حقیقی اصلاح اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان دوسروں کے باطن پر فیصلے صادر کرنے سے پہلے اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑا ہونے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
کیا ہم واقعی اپنے ضمیر کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، یا اپنے مفادات کے مطابق ضمیر کی تشریح کرتے ہیں؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے