कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دل وہیں رہ گیا جہاں میرا گاؤں ہے

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

زندگی انسان کو نہ جانے کتنے راستوں سے گزارتی ہے۔ کبھی حالات اپنے لوگوں کے درمیان رکھ دیتے ہیں اور کبھی ایسے سفر پر روانہ کر دیتے ہیں جہاں اپنے شہر، اپنے گھر اور اپنی بستی کی خوشبو صرف یادوں میں رہ جاتی ہے۔ انسان دنیا کے کسی بھی گوشے میں چلا جائے، کتنی ہی مصروف زندگی گزارنے لگے، کتنی ہی نئی بستیاں دیکھ لے، اس کے دل کے نہاں خانے میں ایک جگہ ہمیشہ آباد رہتی ہے، جہاں اس کی پہلی مسکراہٹ گونجی تھی، جہاں اس نے بچپن کی بے فکری دیکھی، جہاں بزرگوں کی شفقت نصیب ہوئی، جہاں دوستوں کے ساتھ ہنسی کے قہقہے بلند ہوئے، اور جہاں ہر گلی، ہر راستہ، ہر درخت اور ہر چہرہ اپنی سی پہچان رکھتا ہے۔ یہی وہ سر زمین ہوتی ہے جسے انسان اپنا گاؤں کہتا ہے، اور یہی وہ رشتہ ہے جسے نہ فاصلے کمزور کر سکتے ہیں اور نہ زمانے کی گردش مٹا سکتی ہے۔
میرے دل میں بھی اپنے پیارے گاؤں *”بھیرہ”* کی محبت اسی طرح زندہ ہے۔ یہ محبت کسی تعارف کی محتاج نہیں، یہ تو میری سانسوں کے ساتھ چلتی ہے۔ جب بھی تنہائی نصیب ہوتی ہے، ذہن بے اختیار بھیرہ کی گلیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہاں کی مٹی کی خوشبو، مسجدوں کی اذانیں، بزرگوں کی دعائیں، دوستوں کی مجلسیں، بچپن کی یادیں اور اپنے لوگوں کے مسکراتے ہوئے چہرے نگاہوں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دل آج بھی وہیں رہ گیا ہو اور صرف جسم علم کے سفر پر نکل آیا ہو۔
طالبِ علمی کی زندگی ایک عظیم نعمت ہے۔ علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے دور رہنا، راحتوں کو چھوڑنا، اپنے آرام پر صبر کرنا اور وقت کو کتابوں کے سپرد کر دینا آسان کام نہیں۔ اس راستے میں ایک ایسی خاموش قربانی بھی شامل ہوتی ہے جسے زیادہ تر لوگ محسوس نہیں کر پاتے۔ ہم طالبِ علم اپنے گاؤں اور اپنے گھر میں کم رہتے ہیں اور مدرسے میں زیادہ۔ پورا سال درس، تکرار، امتحانات اور تعلیمی ذمہ داریوں میں گزر جاتا ہے۔ اپنے گاؤں آنے کا موقع بھی گنتی کے چند ایام میں نصیب ہوتا ہے؛ عید الاضحی کی تعطیلات، ششماہی کی رخصت یا سالانہ چھٹیاں۔ انہی مختصر دنوں میں والدین سے ملاقات، بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ وقت، رشتہ داروں کی خیریت، اساتذۂ کرام کی خدمت میں حاضری، دوستوں سے ملاقات اور محبین کی محبتوں کا جواب دینا ہوتا ہے۔ وقت اتنی تیزی سے گزر جاتا ہے کہ دل کی بہت سی خواہشیں دل ہی میں رہ جاتی ہیں۔
کئی مرتبہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تو گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تھا اور واپسی کی تیاری شروع ہو گئی۔ دل چاہتا ہے کہ کچھ دن اور رک جائیں، بزرگوں کی دعاؤں سے پھر فیض یاب ہوں، دوستوں کے ساتھ دیر تک بیٹھیں، گاؤں کی فضاؤں میں سانس لیں، ہر عزیز کے گھر جائیں، ہر شناسا سے ملیں، مسجد میں سکون سے نماز ادا کریں، گاؤں کی گلیوں میں پیدل چلیں، مگر طالبِ علمی کی ذمہ داریاں آواز دیتی ہیں اور پھر ایک بار سفر کی تیاری کرنا پڑتی ہے۔
بھیرہ میرے لیے صرف ایک گاؤں نہیں، یہ میری شناخت کا عنوان ہے۔ میری پہلی پہچان، میری ابتدائی تربیت، میری یادوں کا سب سے خوبصورت خزانہ اور میری دعاؤں کا مرکز ہے۔ اس بستی کا ہر راستہ میرے لیے مانوس ہے، ہر چہرہ اپنائیت کا احساس دلاتا ہے، ہر بزرگ اپنی شفقت سے نوازتا ہے اور ہر بچہ مستقبل کی امید دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی رہوں، دل کی ایک دنیا ہمیشہ بھیرہ میں آباد رہتی ہے۔ جب ہم اپنے گاؤں سے دور ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے تعلق کم ہو جاتا ہے۔ جسم اگرچہ دور رہتا ہے، دل ہر روز اپنے گاؤں کی خیریت پوچھتا ہے۔ جب خبر ملتی ہے کہ کسی کے گھر خوشی آئی ہے تو دل خوش ہو جاتا ہے، اور اگر کسی آزمائش کی اطلاع ملے تو دل بے چین ہو اٹھتا ہے۔ دوری نے محبت کو کم نہیں کیا، اس میں اور گہرائی پیدا کر دی ہے۔
اکثر نماز کے بعد ہاتھ اٹھتے ہیں تو اپنے والدین کے ساتھ اپنے پورے گاؤں کے لوگ بھی دعاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھیرہ کو ہمیشہ امن و سکون کا گہوارہ بنائے، ہر گھر میں خیر و برکت عطا فرمائے، بیماروں کو شفا دے، مرحومین کی مغفرت فرمائے، نوجوانوں کو دین اور اخلاق کی دولت عطا کرے، بزرگوں کا سایہ سلامت رکھے، بچوں کے مستقبل کو روشن فرمائے، ہمارے کھیتوں، کاروباروں اور روزگار میں فراوانی عطا کرے، آپس کی محبتوں کو ہمیشہ قائم رکھے، حسد، نفرت، اختلاف اور کینہ سے سب کی حفاظت فرمائے، اور اس بستی کو اپنی خاص رحمتوں کا مرکز بنا دے۔ اگرچہ ہم سب سے دور رہتے ہیں، ہر تقریب میں شریک نہیں ہو پاتے، ہر غم میں ساتھ نہیں بیٹھ سکتے اور ہر خوشی میں موجود نہیں رہ سکتے، مگر ہماری دعائیں ہمیشہ اپنے گاؤں کے ساتھ رہتی ہیں۔ یہ دعا ہی ہمارا وہ تحفہ ہے جو فاصلے بھی نہیں روک سکتے۔
خداوندِ متعال میرے پیارے گاؤں بھیرہ کو قیامت تک آباد رکھے، اس کی عزت، وقار اور خوشحالی میں ہمیشہ اضافہ فرمائے، یہاں کے ہر فرد کو ایمان، صحت، رزقِ حلال، اتفاق اور عافیت عطا فرمائے، ہمارے بزرگوں کی دعاؤں کو قبول فرمائے، نوجوانوں کو دین و علم کا چراغ بنائے، بچوں کو نیک، بااخلاق اور کامیاب فرمائے، اور ہمیں بار بار اپنے گاؤں کی مٹی کو چومنے، اپنے لوگوں سے ملنے اور ان کی دعائیں لینے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے