कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خواہشوں کے ہجوم میں زندگی کا مقصد

ابوالعلاء المعری کے ایک فکر انگیز شعر کی روشنی میں انسان، خواہش اور مقصدِ حیات کا چشم کشا بصیرت افروز مطالعہ

تحریر: ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج اورنگ آباد
موبائل نمبر 9325217306

عربی زبان وادب کا اپنے زمانے کا مشہور ومعروف شاعر ابوالعلاء المعری کے ایک فکر انگیز شعر کی روشنی میں زندگی اور خواہشوں کے ہجوم پر سیر حاصل گفتگو پیش خدمت ہے
> تَعِبٌ كُلُّهَا الْحَيَاةُ فَمَا أَعْجَبُ
إِلَّا مِنْ رَاغِبٍ فِي ازْدِيَادِ
زندگی سراسر مشقت ہے، پھر اس شخص پر تعجب ہے جو اس میں مزید اضافے کا خواہش مند ہے۔
انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ساتھ خواہشوں کا ایک طویل سفر بھی شروع ہوجاتا ہے۔ بچپن میں کھلونوں کی خواہش، جوانی میں تعلیم اور کامیابی کی خواہش، عملی زندگی میں دولت، منصب اور شہرت کی خواہش، پھر خاندان، اولاد، جائیداد، آسائش اور سماجی مقام کی طلب۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لیتی ہے اور دوسری پوری ہوتی ہے تو تیسری انسان کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے۔ یوں زندگی بسا اوقات خواہشوں کے ایک ایسے ہجوم میں تبدیل ہوجاتی ہے جس میں انسان کو اپنی اصل منزل دکھائی دینا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
ابوالعلاء المعری کا مذکورہ شعر اسی انسانی نفسیات کے ایک نہایت گہرے پہلو کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ شاعر زندگی کی مشقت، اس کی ناپائیداری اور انسان کی مسلسل طلبِ مزید کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسا سوال اٹھاتا ہے جو آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا صدیوں پہلے تھا: جب زندگی خود اپنے اندر اتنی مشقتیں، آزمائشیں اور پریشانیاں لیے ہوئے ہے تو انسان اس میں مزید کی طلب میں کیوں مبتلا ہے؟
یہ سوال صرف زندگی سے بیزاری کا اظہار نہیں، بلکہ انسانی خواہشات، حرص، عدمِ اطمینان اور مقصدِ حیات پر غور کرنے کی دعوت بھی ہے۔
خواہش: انسان کی قوت بھی، آزمائش بھی:
خواہش انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اگر انسان میں آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہوتی تو علم ترقی نہ کرتا، تہذیبیں وجود میں نہ آتیں، علوم و فنون پروان نہ چڑھتے اور انسانی معاشرہ مسلسل ترقی کی منازل طے نہ کرتا۔
ایک طالب علم کے دل میں علم حاصل کرنے کی خواہش، ایک محقق کے اندر نئی دریافت کی جستجو، ایک استاد کے اندر نئی نسل کی تربیت کا جذبہ، ایک تاجر کے اندر حلال تجارت کو وسعت دینے کی کوشش اور ایک صاحبِ خیر کے دل میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ—یہ سب ایسی خواہشیں ہیں جو انسان کو تعمیر و ترقی کی طرف لے جاتی ہیں۔
لہٰذا مسئلہ خواہش کا ہونا نہیں، بلکہ خواہش کا بے قابو ہوجانا ہے۔
جب خواہش ضرورت سے تجاوز کرکے حرص بن جائے، جب حصول مقصد پر غالب آجائے، جب انسان کے لیے "کافی” کا تصور ختم ہوجائے اور ہر کامیابی کے بعد صرف "مزید” کی طلب باقی رہ جائے، تو یہی خواہش انسان کے سکون کو نگلنے لگتی ہے۔
ایک خواہش پوری ہوتی ہے، دوسری پیدا ہوجاتی ہے۔
انسانی زندگی کا عجیب المیہ یہ ہے کہ جس چیز کو وہ اپنی خوشی کا آخری مقام سمجھتا ہے، اسے حاصل کرنے کے بعد بھی اس کا دل زیادہ دیر مطمئن نہیں رہتا۔
جس شخص کو معمولی گھر اپنی منزل معلوم ہوتا ہے، اسے بڑا گھر ملنے کے بعد اس سے بھی بڑا گھر مطلوب ہوجاتا ہے۔ جسے ایک گاڑی کافی محسوس ہوتی ہے، وہ بہتر گاڑی کا خواہش مند ہوجاتا ہے۔ جس مقام کو کبھی کامیابی کی انتہا سمجھا تھا، وہاں پہنچ کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔
یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔
پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری خوشی حصول میں ہے یا صرف حصول کی امید میں؟
اگر ہر منزل کے بعد ایک نئی منزل، ہر کامیابی کے بعد ایک نئی کامیابی اور ہر خواہش کے بعد ایک نئی خواہش ہمارا مقدر ہے، تو پھر انسان کو کبھی حقیقی اطمینان کہاں نصیب ہوگا؟
اسی لیے زندگی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ قناعت کی کمی بن جاتا ہے۔
آج کا انسان: سہولتوں میں اضافہ، سکون میں کمی:
ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جس میں انسان نے بے مثال مادی ترقی حاصل کی ہے۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کے بے شمار کام آسان کردیے ہیں۔ دنیا ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ معلومات چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہیں۔ سفر، رابطے، علاج، تعلیم اور تجارت کے ذرائع میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے۔
لیکن ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے:
کیا انسان اتنا ہی مطمئن بھی ہوا ہے جتنا وہ سہولت یافتہ ہوا ہے؟
بظاہر ہمارے پاس بہت کچھ ہے، مگر اندرونی بے چینی بھی کم نہیں۔ ہماری ضروریات کے ساتھ ہماری توقعات بڑھتی جارہی ہیں، اور توقعات کے ساتھ مقابلہ بھی بڑھ رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے دوسروں کی زندگیوں کو ہمارے سامنے اس طرح پیش کردیا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو مسلسل دوسروں سے موازنہ کرنے لگا ہے۔ کسی کا گھر، کسی کی گاڑی، کسی کی کامیابی، کسی کا سفر، کسی کی شہرت—یہ سب دیکھ کر انسان اپنی نعمتوں کو بھی کم سمجھنے لگتا ہے۔
یوں خواہش صرف ہماری اپنی نہیں رہتی؛ معاشرہ بھی ہماری خواہشیں تشکیل دینے لگتا ہے۔
اصل سوال: ہمیں کتنا چاہیے؟
انسان کے لیے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ:
مجھے کتنا چاہیے؟
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے:
مجھے کیوں چاہیے؟
اگر انسان اپنے اس سوال کا جواب تلاش کرلے تو اس کی زندگی کی بہت سی الجھنیں خود بخود سلجھ سکتی ہیں۔
دولت چاہیےمگر کیوں؟
شہرت چاہیےمگر کیوں؟
منصب چاہیےمگر کیوں؟
علم چاہیےمگر کیوں؟
اگر جواب یہ ہو کہ تاکہ میں اپنی ذات کو دوسروں سے برتر ثابت کرسکوں، تو شاید ہمیں اپنے مقصد پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
لیکن اگر جواب یہ ہو کہ میں اپنے خاندان کی بہتر کفالت کرسکوں، معاشرے کے لیے مفید بن سکوں، علم کو آگے پہنچا سکوں، ضرورت مندوں کی مدد کرسکوں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو صحیح مقصد میں استعمال کرسکوں، تو یہی خواہش ایک مثبت قوت بن جاتی ہے۔
لہٰذا اصل مسئلہ چاہنے کا نہیں، مقصد کے ساتھ چاہنے کا ہے۔
اسلام دنیا سے فرار نہیں، دنیا میں توازن سکھاتا ہے
اسلام انسان کو دنیا چھوڑنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ انسان ترقی نہ کرے، دولت نہ کمائے، گھر نہ بنائے، کاروبار نہ کرے یا اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش نہ کرے۔
اسلام کا مطالبہ اس سے زیادہ گہرا ہے:
دنیا ہاتھ میں ہو، دل میں نہ ہو۔
مال انسان کے پاس ہو، لیکن انسان مال کا غلام نہ بنے۔
منصب انسان کے پاس ہو، لیکن منصب اس کے کردار کا مالک نہ بنے۔
شہرت ملے، مگر انسان اپنی حقیقت نہ بھولے۔
علم بڑھے، مگر اس کے ساتھ عاجزی بھی بڑھے۔
اختیار بڑھے، مگر ذمہ داری کا احساس بھی بڑھے۔
قرآن مجید دنیاوی زندگی کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے انسان کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ دنیا عارضی ہے اور آخرت دائمی۔ یہی شعور انسان کی خواہشات کو ایک صحیح سمت فراہم کرتا ہے۔
کامیابی کا معیار بدلنے کی ضرورت ہے:
آج ہم کامیابی کو اکثر چند ظاہری پیمانوں سے ناپتے ہیں:
کتنا کمایا؟
کتنی جائیداد بنائی؟
کتنی شہرت حاصل کی؟
کتنے لوگ ہمیں جانتے ہیں؟
کتنا بڑا منصب حاصل کیا؟
لیکن ایک صاحبِ بصیرت انسان ان سوالات کے ساتھ کچھ اور سوال بھی کرتا ہے:
میں نے کتنے انسانوں کو فائدہ پہنچایا؟
میں نے اپنے علم سے کیا دیا؟
میں نے اپنی صلاحیتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا؟
میں نے اپنے والدین، خاندان اور معاشرے کے حقوق کس حد تک ادا کیے؟
میرے کردار میں کتنا اضافہ ہوا؟
اور اگر آج مجھے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا پڑے تو میرے پاس کیا ہے؟
یہ سوالات کامیابی کے پورے تصور کو بدل دیتے ہیں۔
حقیقی کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کتنا اوپر پہنچا؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ اوپر پہنچ کر وہ کتنا انسان باقی رہا۔
ہر اضافہ ترقی نہیں ہوتا:
ہم لفظ "اضافہ” کو ہمیشہ مثبت سمجھتے ہیں، حالاں کہ ہر اضافہ ترقی نہیں ہوتا۔
دولت میں اضافہ اگر سخاوت کے بغیر ہو تو وہ صرف مال کا اضافہ ہے، انسان کا نہیں۔
علم میں اضافہ اگر تکبر پیدا کردے تو وہ بصیرت نہیں، وبال بن سکتا ہے۔
منصب میں اضافہ اگر ظلم بڑھادے تو وہ ترقی نہیں، زوال ہے۔
شہرت میں اضافہ اگر اخلاص چھین لے تو وہ کامیابی نہیں، آزمائش ہے۔
اسی لیے ہمیں اپنی زندگی میں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کیا بڑھ رہا ہے؟ بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا کم ہورہا ہے؟
اگر مال بڑھ رہا ہے مگر سکون کم ہورہا ہے، اگر روابط بڑھ رہے ہیں مگر اخلاص کم ہورہا ہے، اگر شہرت بڑھ رہی ہے مگر تنہائی بڑھ رہی ہے، تو ہمیں رک کر اپنے سفر کا جائزہ لینا چاہیے۔
زندگی کی تھکن کو مقصد عطا کرنا ہوگا:
زندگی سے مشقت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ہر انسان کو اپنے حصے کی آزمائش سے گزرنا ہے۔ کوئی مالی مشکلات سے دوچار ہے، کوئی صحت کے مسائل سے، کوئی گھریلو ذمہ داریوں سے، کوئی مستقبل کی فکر سے، کوئی تنہائی سے اور کوئی اپنے اندر کی کشمکش سے۔
لیکن ایک ہی مشقت دو انسانوں کے لیے مختلف معنی رکھ سکتی ہے۔
ایک شخص محنت کرکے صرف دولت جمع کرتا ہے، دوسرا اسی محنت کے ذریعے اپنے خاندان کو حلال رزق فراہم کرتا ہے اور اسے عبادت سمجھتا ہے۔
ایک شخص تعلیم حاصل کرکے صرف منصب چاہتا ہے، دوسرا علم کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بناتا ہے۔
ایک شخص اپنی مصروفیت میں صرف تھکتا ہے، دوسرا اسی مصروفیت میں اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرلیتا ہے۔
فرق مشقت میں نہیں، مشقت کے مقصد میں ہے۔
جب مقصد واضح ہوجاتا ہے تو قربانی بوجھ نہیں رہتی، محنت تھکن نہیں رہتی اور مشکلات انسان کو توڑنے کے بجائے اسے سنوارنے لگتی ہیں۔
ہمیں طویل زندگی نہیں، بامقصد زندگی چاہیے:
انسان ہمیشہ لمبی عمر کی خواہش کرتا ہے، لیکن صرف لمبی عمر کامیابی کی ضمانت نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ عمر میں کیا اضافہ ہوا؟
اگر سال بڑھتے گئے مگر کردار نہ بڑھا تو کیا حاصل؟
اگر عمر بڑھتی گئی مگر علم، عمل اور اخلاص میں اضافہ نہ ہوا تو کیا فائدہ؟
اگر انسان نے طویل زندگی پائی مگر کسی کے لیے آسانی پیدا نہ کی، کسی کا دکھ نہ بانٹا، کسی کو علم نہ دیا اور اپنے رب سے تعلق مضبوط نہ کیا تو صرف عمر کی طوالت اس کی کامیابی کیسے بن سکتی ہے؟
زندگی کی قدر اس کے سالوں سے نہیں، اس کے ثمرات سے ہوتی ہے۔
اپنے بچوں کو صرف کامیاب نہیں، بامقصد بنائیں:
آج ہمارے معاشرے کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو کامیابی کی دوڑ میں شامل تو کررہے ہیں، مگر یہ بتانا بھول رہے ہیں کہ دوڑنا کس سمت میں ہے۔
ہم بچوں سے کہتے ہیں:
اچھے نمبر لاؤ۔
اچھی تعلیم حاصل کرو۔
اچھی نوکری حاصل کرو۔
بڑا مقام حاصل کرو۔
لیکن کیا ہم انہیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ اچھا انسان کیسے بننا ہے؟
کیا ہم انہیں بتاتے ہیں کہ کامیابی کا مطلب صرف دوسروں سے آگے نکلنا نہیں بلکہ اپنے آپ کو بہتر بنانا بھی ہے؟
کیا ہم انہیں قناعت، شکر، خدمت، دیانت، اخلاق اور ذمہ داری کی تعلیم دیتے ہیں؟
اگر نئی نسل کے پاس بہترین ڈگریاں ہوں لیکن مقصدِ زندگی کا شعور نہ ہو تو ہماری تعلیمی کامیابی بھی ادھوری ہے۔
زندگی کے ہجوم میں خود کو تلاش کرنا ہوگا:
انسان دن بھر مصروف رہتا ہے، مگر کبھی کبھی اسے اپنے آپ سے ملنے کے لیے خاموش ہونا پڑتا ہے۔
کچھ دیر رک کر سوچنا پڑتا ہے:
میں کہاں سے آیا ہوں؟
مجھے کہاں جانا ہے؟
میں جو کچھ حاصل کررہا ہوں، اس کا انجام کیا ہوگا؟
میرے پاس وقت کتنا ہے؟
اور میری زندگی کا سب سے قیمتی مصرف کیا ہوسکتا ہے؟
یہ سوال انسان کو خواہشوں کے ہجوم سے نکال کر مقصد کی طرف لے جاتے ہیں۔
زندگی کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ نہیں کہ انسان نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیا؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے دل کو صحیح سمت متوجہ کرسکا۔
خواہشوں سے اوپر اٹھ کر مقصد تک:
ابوالعلاء المعری کا شعر ہمیں زندگی سے فرار کی دعوت نہیں دیتا؛ بلکہ زندگی کو گہرائی سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
زندگی میں مشقت ہے، مگر اس مشقت کو مقصد دیا جاسکتا ہے۔
زندگی میں خواہش ہے، مگر خواہش کو سمت دی جاسکتی ہے۔
زندگی میں دنیا ہے، مگر دنیا کو منزل کے بجائے ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔
انسان کے پاس مال ہو، مگر مال اس کے دل پر قابض نہ ہو۔
اس کے پاس شہرت ہو، مگر شہرت اس کی حقیقت نہ بن جائے۔
اس کے پاس علم ہو، مگر علم اسے متکبر نہ بنائے۔
اس کے پاس اختیار ہو، مگر اختیار اسے جواب دہی سے غافل نہ کرے۔
ہمیں مزید چاہیے تو ضرور چاہیے، مگر یہ سوچ کر کہ مزید کیا، کیوں اور کس مقصد کے لیے؟
دولت بڑھے تو سخاوت بڑھے۔
علم بڑھے تو تواضع بڑھے۔
عمر بڑھے تو عمل بڑھے۔
اختیار بڑھے تو ذمہ داری بڑھے۔
اور کامیابی بڑھے تو شکر بڑھے۔
تب زندگی کی مشقت محض تھکن نہیں رہتی؛ وہ کردار سازی، انسان سازی اور آخرت کی تیاری کا سفر بن جاتی ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ انسان نے دنیا سے کتنا حاصل کیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ دنیا کو کیا دے کر گیا۔
اور شاید زندگی کی سب سے بڑی دانائی یہی ہے کہ انسان خواہشوں کے ہجوم میں بھی اپنے مقصدِ حیات کو نہ کھوئے۔
زندگی کا حسن یہ نہیں کہ اس میں تھکن نہ ہو؛ زندگی کا حسن یہ ہے کہ ہماری تھکن کسی بامقصد منزل کی طرف بڑھ رہی ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے