कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خدمت، علم، فرض شناسی اور انسانیت کا تین دہائیوں پر محیط ایک تابناک سفر

(پروفیسر ڈاکٹر سریش وٹھل راؤ دھنواڑے)
شری ایس۔ ایم۔ بی۔ پی۔ مہا ودّیالیہ، شنکر نگر
مترجم : محمد صلاح الدّین محمد بدیع الدّین
]بی۔ایس۔سی، بی۔ایڈ، ایم۔اے (انگلش، اُردو،تاریخ) [
اَسسٹنٹ ٹیچر، گاندھی ودّیالیہ ہائی اسکول، پربھنی

جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی یونیورسٹی کی خدمت میں گزرنے والی تین دہائیوں کی داستان، علم و آگہی، فرض شناسی، دیانت داری اور اخلاصِ عمل سے عبارت ایک قابلِ فخر اور قابلِ تقلید سفر ہے۔انسان کی زندگی کی حقیقی عظمت محض اس بات میں مضمر نہیں کہ اس نے کتنے برس دنیا میں گزارے، بلکہ اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے ان برسوں کو کس قدر بامقصد بنایا، اپنے علم و صلاحیت کو کس طرح خدمت کے لیے وقف کیا، اپنے فرائض کو کس حد تک دیانت، ذمہ داری اور استقامت کے ساتھ نبھایا اور اپنے تعلقات میں انسانیت، خلوص اور محبت کی قدروں کو کس طرح زندہ رکھا۔ درحقیقت انسان کی زندگی صرف گزرے ہوئے ایام کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس کے کارناموں، اصولوں، اقدار اور اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نقوشِ عمل کی ایک طویل اور معنی خیز داستان ہوتی ہے۔دنیا میں بعض لوگ اپنے عہدے کی بدولت پہچانے جاتے ہیں، کچھ اپنی دولت و ثروت کے باعث ممتاز سمجھے جاتے ہیں؛ لیکن کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی عہدے کی محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے کردار، قابلیت، محنت اور حسنِ کارکردگی سے جس منصب پر فائز ہوتی ہیں، اسی منصب کی عزت، وقار اور وقعت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔جناب شیخ سکندر علی ہمت علیکا شمار بلاشبہ انہی باوقار اور قابلِ احترام شخصیات میں ہوتا ہے۔انہوں نے یکم جنوری 1996ء کو سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی، ناندیڑ کی خدمت میں جونیئر کلرک-کم-ٹائپسٹ کی حیثیت سے اپنے عملی سفر کا آغاز کیا۔ تقریباً تین دہائیوں اور آٹھ ماہ پر محیط ایک طویل، مسلسل اور قابلِ تحسین عرصۂ خدمت کے بعد وہ 31 اگست 2026ء کو مقررہ عمرِ ملازمت کی تکمیل پر سپرنٹنڈنٹ کے منصب سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ان کے اس شاندار سفرِ خدمت کو محض ایک ملازم کی سبکدوشی کے تناظر میں دیکھنا ان کی خدمات کے حقیقی دائرۂ کار اور اہمیت کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے کہ ان کا یہ سفر اگرچہ ایک فرد کی پیشہ ورانہ زندگی کا سفر ہے، لیکن اس میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یونیورسٹی کے انتظامی نظام میں آنے والی تبدیلیوں، تیز رفتار کمپیوٹرائزیشن، تعلیمی شعبے کے فروغ و توسیع، امتحانی نظام میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں اور طلبہ مرکز انتظامی نظام کی جانب پیش رفت کی ایک مکمل جھلک بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ایک ابتدائی اور نسبتاً جونیئر عہدے سے عملی زندگی کا آغاز کرکے سینئر کلرک، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور بالآخر سپرنٹنڈنٹ جیسے اہم منصب تک پہنچنا محض عہدوں کی ترقی نہیں، بلکہ یہ عزم و حوصلے، مسلسل محنت، وسیع تجربے، علم و مطالعے، نظم و ضبط، ذمہ داری اور فرض شناسی کی مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ان کی یہ کامیاب پیشہ ورانہ زندگی اس حقیقت کی روشن اور عملی مثال ہے کہ خلوصِ نیت کے ساتھ کی جانے والی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ علم انسان کو راستہ دکھاتا ہے، تجربہ اسے پختگی عطا کرتا ہے، نظم و ضبط اسے استحکام بخشتا ہے اور فرض شناسی اسے عزت و وقار کی منزل تک پہنچاتی ہے۔جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کا یہ سفر صرف ایک ملازمت کی تکمیل نہیں، بلکہ تین دہائیوں تک یونیورسٹی کے لیے وقف خلوص، ذمہ داری اور خدمتِ خلق کی ایک ایسی یادگار داستان ہے، جس کے نقوش ان کے سبکدوش ہونے کے بعد بھی دیر تک باقی رہیں گے۔ ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے اس بات کا پیغام ہیں کہ منصب انسان کو بڑا نہیں بناتا،بلکہ انسان اپنے حسنِ کردار اور کمالِ عمل سے منصب کو بڑا بناتا ہے۔
علم کی لازوال جستجو: حالات سے نبرد آزما ہو کر شعور و آگہی کی منزلوں کی جانب ایک تابناک سفر:
جناب شیخ سکندر علی ہمت علیکی شخصیت کا تذکرہ ان کے طویل اور قابلِ فخر سفرِ خدمت کے بغیر نامکمل ہے، لیکن ان کی شخصیت کا ایک اور نہایت روشن اور قابلِ تحسین پہلو اُنکی مسلسل علمی جستجو، حصولِ علم کی غیر معمولی لگن اور خود کو ہر مرحلے پر مزید نکھارنے کی جدوجہد ہے۔ ملازمت کی ذمّہ داریاں ہوں، گھریلو مصروفیات ہوں یا دفتری امور کا بے پناہ بوجھ، انہوں نے علم کی شمع کو کبھی مدھم نہیں ہونے دیا۔ زندگی کے ہر مرحلے پر آگے بڑھنے، کچھ نیا سیکھنے اور اپنے علمی افق کو وسیع تر کرنے کی ان کی لگن نمایاں رہی۔ان کا تعلیمی سفر اس حقیقت کی ایک روشن مثال ہے کہ علم حاصل کرنے کی نہ کوئی عمر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی آخری منزل۔ انسان اگر عزم و حوصلے کے ساتھ سیکھنے کا سفر جاری رکھے تو زندگی کا ہر مرحلہ اس کے لیے ایک نئی درس گاہ بن جاتا ہے۔ان کی باقاعدہ تعلیمی زندگی کا آغاز پربھنی کے بال وِدّیامندر اور بعد ازاں نوتن وِدّیالیہ، سیلو، ضلع پربھنی سے ہوا۔ اسی ابتدائی تعلیمی دور میں ان کے اندر علم سے شغف اور آگے بڑھنے کی بنیاد مضبوط ہوئی۔ بعد ازاں 1986ء میں این۔ وی۔ ایس مراٹھواڑہ ہائی اسکول، پربھنی سے انہوں نے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ان کے علمی سفر نے ایک مضبوط بنیاد حاصل کی اور مستقبل کی تعلیمی کامیابیوں کے لیے راستہ ہموار ہوا۔تعلیم کی اسی لگن کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے شری شیواجی کالج، پربھنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1994ء میں بی۔اے۔ کی ڈگری حاصل کی۔ لیکن ان کے لیے ایک ڈگری منزل نہیں بلکہ اگلی منزل کی طرف بڑھنے کا وسیلہ تھی۔ حصولِ علم کی تشنگی برقرار رہی اور 1996ء میں ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی سے انہوں نے ایم۔اے۔ (انگریزی) کی پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کی۔یہ امر خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے کہ ان کے تعلیمی سفر کا یہ مرحلہ ان کی عملی زندگی کے آغاز کے ساتھ ساتھ جاری رہا۔ ایک طرف ملازمت کی ذمّہ داریاں، دوسری طرف اعلیٰ تعلیم کا حصول، اور ساتھ ہی گھریلو زندگی کے تقاضے۔ ان تمام ذمہ داریوں کے درمیان تعلیم کے لیے وقت نکالنا اور مسلسل آگے بڑھتے رہنا معمولی بات نہیں۔ یہ ان کے غیر متزلزل عزم، مضبوط ارادے، نظم و ضبط اور خود کو بہتر بنانے کے جذبے کا واضح ثبوت ہے۔علم کے سفر کو مزید وسعت دیتے ہوئے انہوں نے سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی، ناندیڑ سے سمر 2011ء میں ایل۔ایل۔بی کی ڈگری حاصل کی۔ قانون کی باقاعدہ تعلیم نے ان کے عملی اور انتظامی تجربے کو ایک نئی علمی جہت عطا کی۔ یونیورسٹی کے انتظامی امور، قوانین و ضوابط، امتحانی نظام اور طلبہ سے متعلق معاملات کو سمجھنے میں ان کی بصیرت مزید گہری اور ہمہ گیر ہوگئی۔ یوں عملی تجربہ اور قانونی علم ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث بنے۔مگر ان کی علمی پیاس یہاں بھی ختم نہ ہوئی۔ سمر 2013ء میں انہوں نے ایل۔ایل۔ایم کی پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کرکے قانونی علم میں مزید تخصص حاصل کیا۔ ملازمت کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں، دفتری مصروفیات اور گھریلو زندگی کے تقاضے اپنی جگہ موجود تھے، لیکن انہوں نے ان میں سے کسی کو بھی اپنی علمی پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔حصولِ علم سے تحقیق کی جانب ان کا اگلا قدم مزید قابلِ تحسین ہے۔ اپریل 2023ء میں انہوں نے قانون کے شعبے میں پی۔ایچ۔ڈی۔ کے لیے اپنا اندراج کرایا۔ آج ان کا تحقیقی سفر اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ یہ بات اپنے آپ میں غیر معمولی ہے کہ تقریباً تین دہائیوں کی یونیورسٹی خدمت مکمل کرکے سبکدوشی کی دہلیز پر پہنچنے کے باوجود ان کے اندر کا طالبِ علم، علم کا متلاشی اور محقق آج بھی پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہے۔
ملازمت نے انہیں تجربہ دیا،
تجربے نے انہیں بصیرت اور پختگی عطا کی،
اور تعلیم نے ان کی سوچ کو وسعت اور شخصیت کو ہمہ گیری بخشی۔
ان کا یہ سفر محض اسناد اور ڈگریاں جمع کرنے کا سفر نہیں، بلکہ اپنی ذات کو مسلسل سنوارنے، اپنی فکری صلاحیتوں کو جِلا بخشنے، علم کے نئے دریچے کھولنے اور زندگی کے ہر مرحلے میں خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ ملازمت انسان کو مصروف رکھ سکتی ہے، لیکن علم انسان کو زندہ اور متحرک رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ عہدے بدل سکتے ہیں، ذمہ داریاں ختم ہوسکتی ہیں اور ملازمت سے سبکدوشی ہوسکتی ہے، لیکن علم کی جستجو انسان کے ساتھ ہمیشہ سفر کرتی ہے۔اسی لیے ریٹائرمنٹ کی اس دہلیز پر کھڑے ہوکرجناب شیخ سکندر علی ہمت علیکے علمی سفر کو دیکھیں تو یہ احساس مزید گہرا ہوجاتا ہے کہ 31 اگست 2026ء کو ان کی ملازمت کا ایک باب ضرور مکمل ہوگا، لیکن ان کا سفرِ علم ہرگز ختم نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ مرحلہ ان کے لیے ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہے جہاں دفتری ذمہ داریوں کی جگہ علم، تحقیق، مطالعہ اور فکری خدمت مزید نمایاں حیثیت اختیار کرسکتی ہے۔ان کی زندگی کا یہ سفر آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن پیغام ہے:
علم کی راہ میں نہ عمر رکاوٹ ہے، نہ مصروفیات؛
اگر ارادہ مضبوط ہو تو انسان زندگی کے آخری پڑاؤ تک سیکھ سکتا ہے،
آگے بڑھ سکتا ہے اور دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔
پربھنی کی مردم خیز مٹی سے ناندیڑ کی سرزمینِ عمل تک:
جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی ولادت 3 اگست 1968ء کو ہوئی۔ ان کا آبائی تعلق پربھنی سے ہے۔ پربھنی کی مردم خیز مٹی نے ان کے بچپن کو اپنی آغوش میں پروان چڑھایا، وہیں ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت کی بنیاد پڑی اور وہیں ان کی شخصیت کے ابتدائی خدوخال تشکیل پانے لگے۔ وقت کے ساتھ زندگی نے انہیں ناندیڑ پہنچایا، جہاں ناندیڑ ان کی سرزمینِ عمل، میدانِ خدمت اور عملی زندگی کا مرکز بن گیا۔ان کے والد محترم شیخ ہمت علی عبدالقادراور والدہ محترمہ کنیز افضلکی تربیت، دعاؤں اور حسنِ اخلاق نے ان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ والدین سے ورثے میں ملنے والی سادگی، محنت، دیانت داری، تعلیم سے محبت، ذمہ داری کا احساس اور دوسروں کے احترام جیسی اعلیٰ اقدار ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن گئیں۔ ان کے طویل عملی سفر پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خاندانی تربیت کی یہی روشن اقدار قدم قدم پر ان کے لیے رہنما اصول ثابت ہوتی رہی ہیں۔ان کی شخصیت کا ایک نہایت نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو کثیر لسانی صلاحیت بھی ہے۔ انہوں نے مراٹھی، ہندی، انگریزی، اردو اور عربی جیسی اہم زبانوں کا علم حاصل کیا۔ ان کے لیے زبان محض الفاظ کے تبادلے یا اظہارِ خیال کا وسیلہ نہیں، بلکہ فکر و شعور کی وسعت، علم کے نئے دروازے کھولنے اور مختلف طبقات و معاشروں کو سمجھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔مختلف زبانوں پر عبور نے ان کے علمی اور فکری افق کو وسعت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی اور انتظامی زندگی میں بھی غیر معمولی معاونت کی۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں، ساتھی ملازمین، اساتذہ، طلبہ اور سماج کے مختلف طبقات سے تعلق اور رابطے کے دوران ان کی کثیر لسانی صلاحیت یقیناً ایک اہم اثاثہ ثابت ہوئی۔ مختلف زبان بولنے والے افراد کے ساتھ مؤثر انداز میں گفتگو کرنا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور مناسب انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنا ان کی شخصیت کی ہمہ گیری کو ظاہر کرتا ہے۔یوں دیکھا جائے تو ان کی زندگی کا سفر صرف ایک شہر سے دوسرے شہر تک منتقل ہونے کا سفر نہیں، بلکہ تربیت سے کردار تک، تعلیم سے شعور تک اور تجربے سے خدمت تک پہنچنے کی ایک خوب صورت داستان ہے۔پربھنی نے انہیں اپنی مٹی سے وابستگی، خاندان نے انہیں اقدار، تعلیم نے انہیں شعور، اور ناندیڑ نے انہیں خدمت و عمل کا وسیع میدان عطا کیا۔ انہی عناصر کے حسین امتزاج نے جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی شخصیت کو ایک تعلیم یافتہ، بااصول، ذمہ دار، وسیع النظر اور ہمہ جہت شخصیت کے طور پر پروان چڑھایا۔آج جب ان کی تقریباً تین دہائیوں پر محیط خدمات کے سفر کو دیکھا جاتا ہے تو یہ بات نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے کہ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، وہ جگہ اس کی شناخت کا حصہ بنتی ہے؛ لیکن وہ اپنی محنت، کردار اور خدمت سے جہاں اپنی عملی زندگی گزارتا ہے، وہاں بھی اپنی ایک مستقل پہچان اور یادگار چھوڑ جاتا ہے۔جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی زندگی اسی حقیقت کی ایک خوب صورت مثال ہے۔
یکم جنوری 1996ء: ایک طویل، تابناک اور قابلِ فخر سفرِ خدمت کا نقطۂ آغاز:
نئے سال کا پہلا دن، یکم جنوری 1996ء۔ بظاہر یہ ایک عام دن تھا، لیکن جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی زندگی اور ناندیڑ کیسوامی رامانندتیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی کی تاریخِ خدمت میں یہ دن ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی روز انہوں نے یونیورسٹی کی خدمت میں جونیئر کلرک-کم-ٹائپسٹ کی حیثیت سے قدم رکھا اور ایک ایسے طویل سفرِ خدمت کا آغاز کیا، جو مسلسل محنت، فرض شناسی، دیانت داری اور ادارے سے وفاداری کی ایک روشن داستان بن گیا۔اس دن روشن ہونے والی خدمت کی شمع آج 31 اگست 2026ء کو تقریباً تین دہائیوں کی تابناک رفاقت کے بعد ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس دوران وقت بدلا، انتظامی نظام میں تبدیلیاں آئیں، ٹیکنالوجی نے دفتری کام کے انداز کو بدل دیا، لیکن ان کی محنت، ذمہ داری اور خدمت کے جذبے میں کبھی کمی نہیں آئی۔ملازمت کے ابتدائی دور میں اس وقت کے اسسٹنٹ رجسٹرار جناب صدیقی صاحب اور جناب مالی صاحب نے انہیں دفتری امور کی انجام دہی میں رہنمائی اور ضروری تربیت فراہم کی۔ انہی بزرگوں کی رہنمائی میں انہوں نے یونیورسٹی کے انتظامی نظام کی باریکیوں کو سمجھا اور دفتری ذمہ داریوں کے بنیادی اصولوں کو عملی طور پر سیکھا۔28اپریل 1997ء سے انہیں سینئر کلرک کے عہدے پر دوسری تقرری حاصل ہوئی۔ یہ ان کے سفرِ خدمت کا ایک اہم سنگِ میل تھا، جس کے ساتھ ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا اور انتظامی امور میں ان کا تجربہ مزید پختہ ہوتا گیا۔یونیورسٹی کے پہلے اور بانی معزز وائس چانسلر ڈاکٹر جناردن واگھمارے صاحب کے دور میں ستمبر 1998ء میں یونیورسٹی کا پہلا کانووکیشن منعقد ہوا۔ یونیورسٹی کے اس ابتدائی اور تاریخی دور کے مختلف انتظامی و دفتری امور میں کام کرتے ہوئے انہیں ایک نئے ادارے کی تشکیل اور اس کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے عمل کو قریب سے دیکھنے اور اس کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ یہی تجربات آگے چل کر ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوئے۔فائلوں کی ترتیب و نگہداشت، دفتری خط و کتابت، رجسٹروں کی تیاری و دیکھ بھال، ٹائپنگ، سرکاری ریکارڈ کی حفاظت، دستاویزات کا نظم، دفتری کارروائی اور اعلیٰ افسران کی رہنمائی میں انتظامی امور کی انجام دہی جیسے متعدد شعبوں میں انہوں نے عملی مہارت حاصل کی۔ رفتہ رفتہ دفتری کام کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی نظم و ضبط اور انتظامی ذمہ داریوں کی گہری سمجھ بھی ان کی شخصیت کا حصہ بنتی گئی۔ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف ابتدا ہی سے یہ رہا کہ وہ صرف دفتری اوقات کے پابند ملازم نہیں، بلکہ کام کی ضرورت اور ادارے کی ذمہ داری کو ترجیح دینے والے کارکن رہے۔ ان کے نزدیک کام اس وقت ختم نہیں ہوتا تھا جب دفتری اوقات ختم ہوجائیں، بلکہ ضرورت باقی ہو تو ذمہ داری بھی باقی رہتی تھی۔اسی جذبے کے تحت سرکاری تعطیلات میں بھی دفتری امور انجام دینا، ضرورت کے وقت اضافی وقت دینا اور بعض مواقع پر رات گئے تک کام کرتے رہنا ان کی عملی زندگی کا حصہ رہا۔ یہ واقعات محض اضافی کام کے واقعات نہیں، بلکہ ان کی فرض شناسی، احساسِ ذمہ داری، ادارے سے وفاداری اور کام کے تئیں غیر معمولی سنجیدگی کی روشن مثالیں ہیں۔ان کے سفرِ خدمت کے ابتدائی برسوں پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ یکم جنوری 1996ء کو شروع ہونے والا سفر محض ملازمت کا آغاز نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی شخصیت کے عملی سفر کی بنیاد تھی جس نے اپنے کردار اور کارکردگی سے ہر مرحلے پر اپنی ذمہ داری کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ایک جونیئر کلرک-کم-ٹائپسٹ سے شروع ہونے والا یہ سفر آگے چل کر سینئر کلرک، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور بالآخر سپرنٹنڈنٹ کے منصب تک پہنچا۔ اس پوری داستان کے پیچھے کسی شارٹ کٹ کا نہیں، بلکہ محنت، تجربے، مسلسل سیکھنے، نظم و ضبط اور فرض شناسی کا وہ راستہ ہے جس پر وہ تقریباً تین دہائیوں تک ثابت قدمی سے چلتے رہے۔آج جب 31 اگست 2026ء کو ان کا سفرِ خدمت ایک نئے موڑ پر پہنچ رہا ہے تو یکم جنوری 1996ء کی وہ صبح ایک یادگار نقطۂ آغاز کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس دن ایک ملازمت شروع ہوئی تھی، لیکن وقت کے ساتھ وہ ملازمت ایک ایسی خدمت میں تبدیل ہوگئی جس نے ان کی شخصیت، ان کے تجربے اور یونیورسٹی کی یادوں میں ایک مستقل باب رقم کردیا۔
ملازمت سے بڑھ کر ذمہ داری کو مقدم رکھنے والا ایک فرض شناس اور بااصول ملازم:
دفتری زندگی میں کچھ لوگ گھڑی کی سوئیوں کے مطابق کام کرتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے کام کی تکمیل گھڑی کے وقت سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی طرزِ کار میں اسی دوسری سوچ کی جھلک ابتدا ہی سے نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کے لیے ملازمت محض ایک پیشہ یا ذریعۂ معاش نہیں تھی، بلکہ ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ادارے کی خدمت کا ایک مقدس فریضہ تھی۔ان کے نزدیک دفتر صرف تنخواہ حاصل کرنے کی جگہ نہیں، بلکہ وہ مقام تھا جہاں سپرد کی گئی ذمہ داری کو دیانت، اخلاص، محنت اور پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا ضروری تھا۔ اسی سوچ نے ان کی پوری پیشہ ورانہ زندگی کے مزاج کو تشکیل دیا اور انہیں اپنے کام کے تئیں ہمیشہ سنجیدہ، مستعد اور جواب دہ بنائے رکھا۔ملازمت کے ابتدائی دور میں انہوں نے اپنے وقت کے اعلیٰ افسران کی رہنمائی کو نہایت احترام کے ساتھ قبول کیا اور دفتری کام کی باریکیوں کو سیکھنے میں کبھی تساہل سے کام نہیں لیا۔ ہر نئے کام کو سمجھنا، اس کے تقاضوں کو جاننا اور اسے درست طریقے سے انجام دینا ان کی عادتِ کار بن گئی۔ وہ تجربہ کار افراد سے سیکھنے کو اپنی کمزوری نہیں، بلکہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ان کی کارکردگی کا ایک نمایاں اصول یہ تھا کہ جو ذمہ داری ان کے سپرد کی جائے، اسے محض مکمل کرنا کافی نہیں؛ بلکہ اسے اس انداز سے انجام دینا ضروری ہے کہ اس میں حتی الامکان کوئی کمی، کوتاہی یا خامی باقی نہ رہے۔ اسی لیے وہ کام کو عجلت میں نمٹانے کے بجائے اسے پوری توجہ، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔یہی احساسِ فرض، کام سے وفاداری اور ذمہ داری کے تئیں ان کی سنجیدگی تھی جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پر مزید اہم، حساس اور بھروسے کے قابل ذمہ داریاں عائد کی جاتی رہیں۔ ادارے میں کسی شخص کو اضافی ذمہ داری اسی وقت سونپی جاتی ہے جب اس کی صلاحیت، دیانت اور قابلِ اعتماد ہونے پر یقین ہو، اور جناب شیخ سکندر علی ہمت علیکی پیشہ ورانہ زندگی اسی اعتماد کی مسلسل گواہی دیتی ہے۔
ملازمت وقت کی پابندی کا نام نہیں،
ذمہ داری کی پاسداری کا نام ہے۔
اور شاید یہی وہ وصف ہے جس نے ان کے طویل سفرِ خدمت کو محض ملازمت کے برسوں سے نکال کر اعتماد، فرض شناسی اور ادارے سے وفاداری کی ایک قابلِ احترام داستان بنا دیا۔انہوں نے عہدے کو صرف نبھایا نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داری کے حسنِ ادائیگی سے اسے وقار بخشا۔ یہی ان کی پیشہ ورانہ شخصیت کی سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین خصوصیت ہے۔
لائبریری کی دنیا سے کمپیوٹرائزیشن کے دور تک: ایک اہم تجرباتی سفر:
1999ء سے 2003ء کے دوران جناب شیخ سکندر علی ہمت علینے یونیورسٹی کی لائبریریمیں نہایت ذمہ داری اور مستعدی کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل کا اندراج، ISBN/ISSN نمبروں کی ریکارڈنگ، طلبہ و قارئین کی خدمت، نئی کتابوں اور جرائد کی پروسیسنگ اور بلوں سے متعلق دفتری کارروائی جیسے مختلف اہم امور ان کی ذمہ داریوں میں شامل رہے۔ یہ وہ دور تھا جب یونیورسٹی میں کمپیوٹرائزیشن کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں تھا؛ ایسے وقت میں انہوں نے کمپیوٹر سافٹ ویئر کے استعمال کے ذریعے بلوں اور متعلقہ ریکارڈ کو زیادہ درست، منظم اور تیز رفتار بنانے کی کوشش کی، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوئی بلکہ انسانی غلطیوں کے امکانات بھی کم ہوئے۔ آج ہم آٹومیشن، ڈیجیٹل ریکارڈ اور ڈیٹا مینجمنٹ کو معمول کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن اس دور میں ان جدید تصورات کو عملی دفتری نظام سے ہم آہنگ کرنے کی ابتدائی کوششوں میں جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کا کردار یقیناً قابلِ ذکر ہے۔ اسی دوران انہوں نے آئی۔پی۔آر۔ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں بھی شرکت کی اور اس وقت کے لائبریرین ڈاکٹر ستارکر صاحب، اس وقت کے اسسٹنٹ لائبریرین اور موجودہ نالج ریسورس سینٹر کے معزز ڈائریکٹر ڈاکٹر جے۔ این۔ کلکرنی صاحباور دیگر عملے کا قیمتی تعاون حاصل کیا۔لائبریری میں گزارا گیا یہ دور ، ان کے سفرِ خدمت کا ایک اہم باب ثابت ہوا، جس نے انہیںروایتی دفتری نظام سے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کی جانب منتقلی کا عملی تجربہ عطا کیا اور بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی ان کی صلاحیت کو مزید نکھارا۔
شعبۂ املاک :قواعد، طریقۂ کار اور ذمّہ داری کا احساس:
2003ء سے 2006ء تک جناب شیخ سکندر علی ہمت علی نے یونیورسٹی کے شعبۂ املاک میں خدمات انجام دیتے ہوئے سامان کی خریداری، اندراج، بلوں کی جانچ و ادائیگی اور مختلف انتظامی کارروائیوں کا عملی تجربہ حاصل کیا۔ 2006ء میں یونیورسٹی کیمپس میں منعقد ہونے والے بین الجامعاتی کھیلوں کے مقابلے’’اشومیدھ‘‘کے سلسلے میں مختلف ٹینڈرز، خریداری اور متعلقہ انتظامی امور کی ذمہ داری بھی انہوں نے نہایت ذمہ داری اور مستعدی سے نبھائی۔ کمپیوٹر، پرنٹر، اے سی، کولر، یو پی ایس، انورٹر، بیٹری اور دیگر ضروری سامان سے متعلق بلوں کی کارروائی کرتے ہوئے اور خریداری کمیٹی کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے انہوں نے ہمیشہ قواعد و ضوابط اور مقررہ طریقۂ کار کو مقدم رکھا۔ اس تجربے نے ان کے اندر یہ انتظامی شعور مزید پختہ کیا کہ کسی بھی دفتری کام میں صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ ’’کیا کرنا ہے؟‘‘ بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ ’’کس طرح کرنا ہے؟‘‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ’’قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے کس طرح کرنا ہے؟‘‘۔ شعبۂ املاک میں حاصل ہونے والے اس عملی تجربے نے ان کی انتظامی بصیرت، قواعد کی پاسداری، ذمہ داری کے احساس اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مزید نکھارا اور آگے چل کر ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اہم انتظامی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
شعبۂ تعلیم: یونیورسٹی کی توسیع اور تعلیمی ارتقا کا عینی شاہد:
2006ء کے بعد اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے منصب پر فائز رہتے ہوئےجناب شیخ سکندر علی ہمت علینے یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم میں الحاق اور بورڈ آف اسٹڈیز سے متعلق مختلف اہم امور میں عملی تجربہ حاصل کیا۔ نئے کالجوں کے قیام کی تجاویز، نئے مضامین اور نصابات، نئی جماعتوں اور شعبہ جات کے آغاز، تعلیمی منظوری اور دیگر متعلقہ کارروائیوں میں ان کی شمولیت رہی، جس کے باعث انہیں یونیورسٹی کی تعلیمی توسیع اور بدلتے ہوئے اعلیٰ تعلیمی منظرنامے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس دور میں اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے ساتھ نئے کالجوں، نئے کورسز اور تعلیمی شعبہ جات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور اس پورے عمل میں انتظامی نظام کا کردار نہایت اہم تھا۔ اس دوران کالج و یونیورسٹی ڈیولپمنٹ بورڈ کے اُس وقت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹینگسے صاحباور جناب سرنائک صاحب کی قیمتی رہنمائی انہیں حاصل رہی۔ خصوصاً جناب سرنائک صاحب کے دور میں 2008ء تا 2009ء کے دوران یونیورسٹی کی NAAC کے تحت ازسرِنو جانچ کے عمل سے متعلق امور میں کام کرنے کا بھی انہیں عملی تجربہ ملا، اور یونیورسٹی کو ’A‘ گریڈ کے حصول کی جانب لے جانے والی اس اہم کارروائی کا حصہ بننا ان کے طویل سفرِ خدمت کا ایک نمایاں اور یادگار مرحلہ ثابت ہوا۔ یہ تجربہ محض دفتری ذمہ داریوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے انہیں تعلیمی منصوبہ بندی، ادارہ جاتی معیار، انتظامی نظم و ضبط اور ایک یونیورسٹی کی مسلسل ترقی کے عمل کو قریب سے سمجھنے کا قیمتی موقع فراہم کیا۔
شعبۂ امتحانات: جہاں ایک معمولی سی غلطی بھی طالب علم کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتی ہے:
دسمبر 2010ء میں شعبۂ امتحانات میں تبادلے کے بعد جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی پیشہ ورانہ زندگی نے ایک نئے اور نہایت حساس مرحلے میں قدم رکھا۔ شعبۂ امتحانات یونیورسٹی کے انتظامی نظام کے سب سے اہم اور حساس شعبوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہاں موجود ہر فائل محض ایک دفتری دستاویز نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے کسی طالب علم کی پورے سال کی محنت، امیدیں اور مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ امتحانی پرچے میں ایک معمولی سی غلطی بھی سینکڑوں طلبہ کو متاثر کرسکتی ہے، نتائج میں ایک چھوٹی سی کوتاہی کسی طالب علم کے آئندہ داخلے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے، جبکہ نمبروں میں معمولی سی بے قاعدگی بھی اس کے تعلیمی مستقبل اور کیریئر پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعبۂ امتحانات میں کام کرنے والے فرد کے لیے درستگی، رازداری، وقت کی پابندی، قواعد و ضوابط سے واقفیت اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوری اور مناسب فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہایت ضروری ہوتی ہے۔ جناب شیخ سکندر علی ہمت علینے ان تمام کڑی آزمائشوں اور ذمہ داریوں کا سامنا کرتے ہوئے طویل عرصے تک شعبۂ امتحانات میں خدمات انجام دیں اور اپنی مستعدی، احتیاط، ذمہ داری اور فرض شناسی سے اس حساس شعبے میں اپنی خدمات کا ایک قابلِ قدر باب رقم کیا۔
اصلاحِ امتحانات: بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی:
امتحان صرف طلبہ کی علمی صلاحیت جانچنے کا ایک مرحلہ نہیں، بلکہ اس سے طلبہ کی امیدیں، والدین کی تشویش، اساتذہ کی ذمہ داریاں اور یونیورسٹی کی ساکھ جیسے متعدد حساس پہلو وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے امتحانی اصلاحات محض ایک دفتری یا انتظامی کارروائی نہیں، بلکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل اور امتحانی نظام کی شفافیت و انصاف سے براہِ راست جڑا ہوا ایک اہم عمل ہے۔ امتحانی پرچے میں سوالات کی تعداد میں کمی بیشی، نصاب سے باہر سوالات کی شمولیت، سوالات کی تکرار، سوالات کے نمبروں میں عدم مطابقت، کیلکولیٹر یا گراف پیپر کے استعمال سے متعلق مسائل، دو لسانی سوالیہ پرچوں کی تیاری، سوالیہ پرچے کے فارمیٹ میں تبدیلی یا امتحان کے مقررہ وقت میں ردوبدل جیسے مختلف اور بعض اوقات اچانک پیش آنے والے معاملات میں فوری، محتاط اور متوازن فیصلہ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ایسے مواقع پر فیصلہ صرف قواعد و ضوابط کی بنیاد پر نہیں، بلکہ طلبہ کے تعلیمی مفاد، مساوات، انصاف اور امتحانی عمل کی ساکھ کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا پڑتا ہے۔ شعبۂ امتحانات میں جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کے طویل عملی تجربے نے ایسے ہی حساس اور پیچیدہ معاملات میں انہیں حالات کی نزاکت کو سمجھنے، مسئلے کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور مناسب وقت پر موزوں کارروائی کرنے میں نمایاں مدد دی۔ مختلف ادوار میں امتحانی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں اور اصلاحات کو قریب سے دیکھتے اور ان کے نفاذ سے وابستہ رہتے ہوئے انہوں نے یہ تجربہ حاصل کیا کہ امتحانی نظام کی بہتری صرف نئے اصول وضع کرنے سے نہیں ہوتی، بلکہ ان اصولوں کو طلبہ کے مفاد، انصاف اور عملی ضرورتوں کے ساتھ متوازن انداز میں نافذ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یہی تجربہ ان کے سفرِ خدمت میں ایک اہم علمی و انتظامی سرمایہ ثابت ہوا اور شعبۂ امتحانات میں ان کی طویل خدمات کو مزید معنی خیز بناتا ہے۔
نتیجہ: طالب علم کے مستقبل کی ایک اہم دستاویز:
مہاراشٹر پبلک یونیورسٹیز ایکٹ 2016ء کے یکم مارچ 2017ء سے نافذالعمل ہونے کے بعد کنٹرولر آف ایگزامینیشنز کے عہدے کا نام تبدیل کرکے ڈائریکٹر، بورڈ آف ایگزامینیشن اینڈ ایویلیوایشن کردیا گیا۔ اس انتظامی تبدیلی کے دور میں جناب شیخ سکندر علی ہمت علیکو ڈاکٹر روی سروڈے صاحب اور موجودہ جناب ایچ۔ ایس۔ سابلے صاحب کی مخلصانہ رہنمائی اور بھرپور تعاون حاصل رہا، جو انتظامیہ، ملازمین، مختلف مجاز اداروں اور ارکان کو ساتھ لے کر چلنے والی متوازن اور شفیق انتظامی شخصیت کے حامل ہیں۔ امتحانات ختم ہونے کے بعد طالب علم کی نظریں جس مرحلے پر سب سے زیادہ مرکوز ہوتی ہیں، وہ نتیجے کا انتظار ہے۔ نتیجہ طالب علم کے لیے محض نمبروں کی ایک فہرست یا مارک شیٹ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کی آئندہ تعلیم کے دروازے کھولنے والی کنجی، اعلیٰ تعلیم میں داخلے اور روزگار کے مواقع کے لیے ایک اہم دستاویز، اور کبھی کبھی پورے خاندان کی امیدوں اور توقعات کا جواب بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے نتائج کی تیاری میں درستگی، شفافیت، رازداری اور بروقت کارروائی انتہائی ضروری ہے۔ جوابی پرچوں کی جانچ، نمبروں کا اندراج، ریکارڈ کی تصدیق، نتائج کی تیاری اور نتیجہ جاری ہونے کے بعد کی ضروری کارروائی ہر مرحلے میں غیر معمولی احتیاط، باریک بینی اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔ شعبۂ امتحانات میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیتے ہوئے جناب سکندر علی نے نتائج کی تیاری کے اس حساس اور پیچیدہ نظام کے مختلف مراحل کو قریب سے سمجھا اور عملی طور پر اس کے تقاضوں سے وابستہ رہے؛ ان کے اس طویل تجربے نے انہیں امتحانی نظام کی باریکیوں، نتائج کی درستگی کی اہمیت اور ہر فیصلے کے طلبہ کے مستقبل پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا گہرا ادراک عطا کیا۔ یوں ان کا یہ دورِ خدمت محض دفتری ذمہ داریوں کی ادائیگی نہیں، بلکہ طلبہ کے مستقبل سے وابستہ ایک نہایت حساس امانت کی ذمہ دارانہ نگہداشت کی ایک قابلِ قدر مثال بن گیا۔
منصبِ سپرنٹنڈنٹ: طویل تجربے اور کارکردگی کا باوقار اعتراف:
جولائی 2017ء سے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹکے منصب پر فائز رہتے ہوئے جنابشیخ سکندر علی ہمت علینے اپنی مقررہ ذمہ داریوں سے کہیں بڑھ کر کام کیا اور سپرنٹنڈنٹ کے منصب سے وابستہ متعدد اہم ذمہ داریوں کو بھی اپنی صلاحیت، تجربے اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ نبھایا۔ بالآخریکم ستمبر 2021ءکو انہیں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر باقاعدہ ترقی دی گئی، جو ان کیطویل اور بے داغ خدمات، مسلسل کارکردگی، انتظامی صلاحیت، تجربے اور ادارے کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کا باقاعدہ اعترافتھی۔ سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ان کے لیے عہدے کے اختیارات سے زیادہاس منصب سے وابستہ اعتماد، جواب دہی اور ذمہ داریاہم رہی۔ شعبۂ امتحانات کے افسران و ملازمین، مختلف مجاز اداروں اور ارکان، الحاق شدہ کالجوں، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطہ، مؤثر تال میل اور باہمی تعاون کے ذریعے متعدد حساس اور اہم امور کو انجام دینا ان کی روزمرہ ذمہ داریوں کا حصہ تھا۔ مختلف مزاج، مختلف آراء اور مختلف انتظامی تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے کام کرنے کے لیےتحمل و بردباری، معاملہ فہمی، خوش گفتاری، مؤثر ابلاغ اور حسنِ تدبیرناگزیر تھے، اور انہوں نے اپنے طویل تجربے سے ان اوصاف کو اپنی انتظامی شخصیت کا حصہ بنایا۔ ان کی ترقی محض عہدے میں اضافہ نہیں تھی، بلکہ یہ اس حقیقت کیواضح سند تھی کہ مسلسل محنت، دیانت دارانہ خدمت، تجربہ اور ذمہ داری بالآخر اپنے مقام تک ضرور پہنچتے ہیں۔یوں سپرنٹنڈنٹ کا منصب ان کے تقریباً تین دہائیوں پر محیط سفرِ خدمت میںتجربے، اعتماد اور کارکردگی کے ایک اہم اور باوقار سنگِ میلکی حیثیت رکھتا ہے۔
عوامی اطلاعاتی افسر((जन माहिती अधिकारीکی حیثیت سے ایک اہم قانونی ذمّہ داری:
اکتوبر 2024ء سےجنابشیخ سکندر علی ہمت علینے امتحانات سے متعلق امور میںعوامی اطلاعاتی افسرکی اہم ذمہ داری بھی سنبھالی۔ حقِ معلومات کے قانون نے انتظامی نظام میںشفافیت، جواب دہی اور معلومات تک رسائیکو یقینی بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم معلومات فراہم کرنا محض ایک معمول کی دفتری کارروائی نہیں، بلکہ ایک حساس اور باقاعدہقانونی ذمہ داریہے، جس کی انجام دہی میں متعلقہ قانونی دفعات، دستیاب سرکاری ریکارڈ، رازداری سے متعلق امور اور مقررہ مدت کا مکمل خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس ذمہ داری کے لیے جنابشیخ سکندر علی ہمت علیکیایل۔ایل۔بی۔ اور ایل۔ایل۔ایم۔ کی قانونی تعلیمکے ساتھ شعبۂ امتحانات میں حاصل کیا ہوا ان کا طویل عملی تجربہ بھی نہایت کارآمد ثابت ہوا۔ قانونی علم اور انتظامی تجربے کے اس حسین امتزاج نے انہیں حقِ معلومات سے متعلق درخواستوں کوقانونی تقاضوں، ادارہ جاتی اصولوں اور رازداری کی حدودکو ملحوظ رکھتے ہوئے ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ نمٹانے میں معاونت فراہم کی۔ یوں عوامیاطلاعاتی افسرکی حیثیت سے ان کی خدمات ان کے سفرِ خدمت کا ایک ایسا اہم باب بنیں جس میںقانونی بصیرت، انتظامی تجربہ، شفافیت اور احساسِ ذمہ داریایک ساتھ نمایاں نظر آتے ہیں۔
سمیتیوں کے ذریعے ادارہ جاتی خدمات اور نمایاں تعاون:
یونیورسٹی میں خدمات انجام دینا محض اپنی میز یا اپنے شعبے کی ذمہ داریوں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ ادارے کی مجموعی ترقی اور انتظامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مختلفسمیتیوں، پروگراموں اور ادارہ جاتی سرگرمیوںمیں فعال شرکت بھی ضروری ہوتی ہے۔ جنابشیخ سکندر علی ہمت علینے اپنی طویل ملازمت کے دوران یونیورسٹی کی متعدد اہم سمیتیوں اور سرگرمیوں میں ذمہ داریاں نبھا کر اپنے وسیع تر ادارہ جاتی کردار کا ثبوت دیا۔ مختلفکانووکیشن تقریبات میں ڈگری تقسیم سمیتی کے سربراہاورگولڈ میڈل سمیتی کے رکنکی حیثیت سے انہوں نے نہایت اہم ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہردی فروخت سمیتیمیں رکن کی حیثیت سے شرکت، ملازمین کے تربیتی پروگراموں میں فعال شمولیت، کتب خانے کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق امور میں تعاون اور مختلفتعلیمی و سماجی سرگرمیوںمیں شرکت کے ذریعے ان کی ادارہ جاتی خدمات کا دائرہ مزید وسیع ہوتا گیا۔ ان تمام ذمہ داریوں سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ ان کی وابستگی صرف اپنے عہدے یا شعبے تک محدود نہیں رہی، بلکہ انہوں نےادارے کے اجتماعی مفاد، انتظامی بہتری، علمی ماحول کے فروغ اور مختلف ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی کامیاب تکمیلکو بھی اپنی پیشہ ورانہ خدمت کا لازمی حصہ سمجھا۔ یوں مختلف سمیتیوں میں ان کی فعال شرکت ان کےوسیع انتظامی تجربے، تعاون پر مبنی مزاج، احساسِ ذمہ داری اور ادارے سے گہری وابستگی کی ایک روشن مثال بن گئی۔
طلبہ کے ساتھ ایک حساس، ہمدردانہ اور ذمّہ دارانہ رشتہ:
انتظامی نظام میں آفیسر اور طالب علم کے درمیان بعض اوقات فائلوں، درخواستوں اور دفتری ضابطوں کا ایک رسمی فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے، لیکن ایک حساس اور فرض شناس امتحانی اہلکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر کاغذ اور ہر درخواست کے پیچھے موجود ایک طالب علم، اس کی محنت، اس کی امید اور اس کے مستقبل کو بھی محسوس کرے۔ جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی طویل پیشہ ورانہ زندگی میں طلبہ کے مفاد کو مقدم رکھنے کا یہ جذبہ ان کی شخصیت کا ایک نمایاں اور قابلِ تحسین وصف رہا ہے۔
امتحانی نظام میں طلبہ کو قواعد کے مطابق حاصل ہونے والے مختلف فوائد، کھیلوں، طلبہ بہبود اور این۔ایس۔ایس۔ جیسی سرگرمیوں میں شرکت کے حاصل کردہ نمبروں، نتائج سے متعلق مشکلات، شکایات اور جائز حقوق کے حصول سے وابستہ معاملات میں انہوں نے ہمیشہ ذمّہ داری، احتیاط، انصاف اور انسانی ہمدردی کو پیشِ نظر رکھا۔ ان کے لیے قواعد و ضوابط کی پابندی اپنی جگہ بنیادی اہمیت رکھتی تھی، لیکن انہی ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور اس کا جائز حق محفوظ رہے، یہ احساس بھی ان کے طرزِ عمل کا اہم حصہ تھا۔
طلبہ سے متعلق معاملات کو محض فائلوں اور کاغذات کے ذریعے نہیں، بلکہ انسانی حساسیت اور تعلیمی مستقبل کے تناظر میں دیکھنے کی یہی صلاحیت ان کی خدمات کو ایک منفرد وقار عطا کرتی ہے۔ یوں ان کا طلبہ کے ساتھ تعلق صرف ایک انتظامی ذمّہ داری تک محدود نہیں رہا، بلکہ انصاف، رہنمائی، ہمدردی اور طلبہ کے روشن مستقبل کے تئیں احساسِ ذمّہ داری پر قائم ایک قابلِ احترام پیشہ ورانہ رشتہ بن گیا۔
’افسر‘ بننے سے پہلے ’انسان‘ رہنے کا ہنر:
طویل عرصے تک انتظامی منصب پر فائز رہتے ہوئے انسان کے پاس اختیار، عہدہ اور فیصلے کی طاقت ضرور آتی ہے، لیکن ان اختیارات کے باوجود انسانیت، انکساری اور خوش اخلاقی کو زندہ رکھنا ہی حقیقی عظمت ہے۔ دفتری نظام میں قواعد و ضوابط کی پابندی ناگزیر ہے، مگر کسی اصول کو نافذ کرتے ہوئے لہجے کی نرمی، گفتگو کا سلیقہ، دوسروں کے نقطۂ نظر کا احترام اور معاملہ فہمی بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ اعلیٰ افسران کے ساتھ باہمی اعتماد پر مبنی ہم آہنگی، ساتھیوں کے ساتھ خوش گوار اور مخلصانہ تعلق، اور ماتحت عملے کی حوصلہ افزائی و رہنمائی وہ اوصاف ہیں جو کسی شخص کو محض ایک عہدے دار نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے اپنے ساتھیوں کے دلوں میں اعتماد، احترام اور اپنائیت کا مقام عطا کرتے ہیں۔ جناب شیخ سکندر علی ہمت علیکے تقریباً تین دہائیوں پر محیط سفرِ خدمت میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے مواقع نے انہیں مختلف مزاج اور صلاحیتوں کے حامل افراد کے ساتھ کام کرنے، مختلف دفتری طریقۂ کار کو سمجھنے اور انتظامی نظام کے گوناگوں چیلنجز کا سامنا کرنے کا وسیع تجربہ عطا کیا۔ انہی تجربات نے ان کی شخصیت میں تحمل، بردباری، معاملہ فہمی، حسنِ سلوک، مؤثر ابلاغ اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت کو مزید نکھارا۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی اس حقیقت کی خوب صورت ترجمانی کرتی ہے کہ عہدہ انسان کو اختیار دے سکتا ہے، مگر انسانیت ہی اسے عزت دیتی ہے؛ منصب اسے پہچان دے سکتا ہے، مگر اس کا کردار ہی اسے دلوں میں جگہ دلاتا ہے۔ یہی وصف ان کی شخصیت کو ایک اچھے افسر سے آگے بڑھا کر ایک قابلِ احترام، شفیق اور باوقار انسان کی حیثیت عطا کرتا ہے۔
اعزازات:حسن خدمات پر عوامی اعتراف کی روشن مہر:
کسی شخص کو ملنے والا اعزاز صرف ایک سند، شیلڈ یا رسمی تمغہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کی طویل محنت، مسلسل جدوجہد، فرض شناسی اور قابلِ قدر خدمات پر معاشرے کی جانب سے ثبت کی جانے والی اعتراف و تحسین کی مہر ہوتا ہے۔ جناب شیخ سکندر علی ہمت علی کی تقریباً تین دہائیوں پر محیط ذمہ دارانہ اور قابلِ قدر خدمات کو بھی وقتاً فوقتاً مختلف اداروں کی جانب سے سراہا گیا۔ ستمبر 2025ء میں مرحوم گنگادھر راؤ جی پاٹل میڈیکل کوآپریٹو سوسائٹی کے زیرِ انتظام ٹیچرز کلب ہسپتال کے ساتویں یومِ تاسیس کے موقع پر انہیں ’خصوصی اعزاز‘سے نوازا گیا، جبکہ فروری 2026ء میں روزنامہ لوک مت کی جانب سے انہیں ’خصوصی کارکردگی اعزاز‘عطا کرکے ان کی خدمات کا باقاعدہ اعتراف کیا گیا۔ سبکدوشی کے اس اہم مرحلے سے عین قبل حاصل ہونے والے یہ اعزازات ان کے لیے محض خوشی کے لمحات نہیں، بلکہ برسوں کی محنت، دیانت دارانہ خدمت اور ادارے کے تئیں غیر معمولی وابستگی کی اجتماعی سطح پر تسلیم شدہ گواہی ہیں۔ ان اعزازات کی اصل اہمیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ یہ ان کی کارکردگی کو محض دفتری ریکارڈ تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ ان کی خدمات کو وسیع تر سماجی سطح پر بھی نمایاں کرتے ہیں۔ یوں یہ اعزازات ان کے سفرِ خدمت کے روشن ابواب، ان کی کارکردگی کے معتبر شواہد اور ان کی شخصیت و خدمات پر معاشرتی اعتماد کی خوب صورت علامت بن کر سامنے آتے ہیں۔
خاندان: کامیابی کے سفر کا خاموش اور مخلص ہم سفر:
کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے صرف اس کی اپنی محنت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے خاندان کیخاموش قربانیاں، مسلسل تعاون، دعائیں اور حوصلہ افزائیبھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ طویل دفتری اوقات، اضافی ذمہ داریاں، امتحانی ایام کا دباؤ، ضرورت کے وقت رات گئے تک جاری رہنے والا کام اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث خاندانی وقت میں ہونے والی کمی کا اثر براہِ راست خاندان پر پڑتا ہے، لیکن ایک مضبوط اور باہمی تعاون پر قائم خاندان ان تمام حالات کو خوش دلی سے برداشت کرتے ہوئے کامیابی کے سفر کو سہارا دیتا ہے۔ جنابشیخ سکندر علی ہمت علیکی زندگی میں بھی ان کے خاندان نے بالخصوص ان کی شریک حیات نے ایک ایسے ہیخاموش مگر مضبوط رفیقِ سفرکا کردار ادا کیا ہے۔ ان کے تینوں صاحبزادوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے خاندان میں قائمعلم دوستی، محنت اور تعلیم کو ترجیح دینے کی روایتکو آگے بڑھایا ہے۔ ان کے بڑے صاحبزادےشیخ اریب علینےبی۔ٹیک اور پی۔جی۔آئی۔ٹیکی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پونے میںسینئر سافٹ ویئر انجینئرکی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں؛ دوسرے صاحبزادےشیخ عفّان علینے پونے سےبی۔ڈی۔ایسکی تعلیم مکمل کی ہے اورایم۔ڈی۔ایسمیں داخلے کے لیے تیاری کررہے ہیں، جبکہ سب سے چھوٹے صاحبزادےشیخ سعد علیاس وقتایم۔بی۔بی۔ایسکی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ تینوں بچوں کی تعلیمی کامیابیاں محض ان کی ذاتی قابلیت اور محنت کا نتیجہ نہیں، بلکہوالدین کی تربیت، گھر کے علمی ماحول اور تعلیم کے تئیں مضبوط شعورکی بھی خوب صورت عکاسی کرتی ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ جنابشیخ سکندر علی ہمت علینے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں علم، محنت اور ترقی کو جو اہمیت دی، وہی اقدار انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت میں بھی منتقل کیں۔ یوں ان کے بچوں کی تعلیمی پیش رفت ان کےسفرِ زندگی اور سفرِ خدمت کی ایک قابلِ فخر میراثہے اور اس حقیقت کی دل نشین گواہی بھی کہایک باکردار انسان کی سب سے بڑی کامیابی صرف اس کے اپنے کارنامے نہیں، بلکہ وہ اعلیٰ اقدار بھی ہیں جو وہ اپنی اگلی نسل کے حوالے کرتا ہے۔
تین دہائیوں کا روشن سفر: یونیورسٹی کے ارتقائی سفر کے عینی شاہد:
1996ء میں یونیورسٹی کی خدمت میں قدم رکھنے سے لے کر 2026ء میں سبکدوشی تک جناب شیخ سکندر علی ہمت علی نے نہ صرف تقریباً تین دہائیوں پر محیط ایک باوقار سفرِ خدمت مکمل کیا، بلکہ اس دوران یونیورسٹی کو ایک پورے انتظامی، تعلیمی اور تکنیکی انقلاب سے گزرتے ہوئے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ ان کی ملازمت کے ابتدائی دور میں دفتری نظام کاغذی فائلوں، رجسٹروں، ٹائپ رائٹر، دستی اندراجات، روایتی خط و کتابت اور طویل کاغذی کارروائی پر قائم تھا، جہاں ایک معمولی کام کے لیے بھی وقت، محنت اور صبر درکار ہوتا تھا؛ آج اسی نظام کی جگہ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ، ڈیجیٹل دستاویزات، آن لائن کارروائی، جدید سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی پر مبنی امتحانی و انتظامی نظام نے لے لی ہے۔
یوں ان کی تقریباً تین دہائیوں کی پیشہ ورانہ زندگی دراصل کاغذ سے کمپیوٹر، رجسٹر سے ڈیجیٹل ریکارڈ، دستی کارروائی سے آن لائن نظام اور روایتی انتظامیہ سے جدید ڈیجیٹل انتظامیہ تک کے پورے سفر کی عکاس ہے۔ اس تبدیلی کے ہر مرحلے میں انہوں نے نئے تقاضوں کو سمجھا، خود کو بدلتے ہوئے نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور اپنے تجربے کو جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے جوڑتے ہوئے ذمّہ داریاں انجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خدمت کا یہ طویل دور محض گزرتے ہوئے وقت کی داستان نہیں، بلکہ ایک بدلتی ہوئی یونیورسٹی، بدلتے ہوئے انتظامی نظام اور بدلتے ہوئے دور کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والے ایک باصلاحیت، سیکھنے والے اور وقت کے تقاضوں کو قبول کرنے والے ملازم کی زندہ داستان بن گیا ہے۔
ان کا سفر اس حقیقت کی بہترین ترجمانی کرتا ہے کہ زمانہ بدلتا ہے، نظام بدلتے ہیں، ٹیکنالوجی بدلتی ہے، لیکن جو شخص سیکھنے کا جذبہ، کام سے وفاداری اور ذمّہ داری کا احساس برقرار رکھتا ہے، وہ ہر نئے دور میں اپنی افادیت ثابت کرتا رہتا ہے۔
سبکدوشی: اختتام نہیں، ایک نئے اور بامقصد سفر کا آغاز:
31 اگست 2026ء کو جناب شیخ سکندر علی ہمت علی تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنی باوقار دفتری خدمات سے سبکدوش ہوں گے۔ اس دن دفتر کی فائلیں، ریکارڈ اور انتظامی ذمّہ داریاں کسی اور کے سپرد ہو جائیں گی، میز بدل جائے گی، روزمرہ کے معمولات بدل جائیں گے اور برسوں سے جاری دفتری مصروفیات کی دوڑ دھوپ بھی تھم جائے گی، لیکن ان کے طویل سفرِ خدمت سے حاصل ہونے والا علم، تجربہ، انتظامی بصیرت اور یادوں کا قیمتی سرمایہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ سبکدوشی کسی شخص کے سفر کا اختتام نہیں، بلکہ زندگی کے ایک نئے اور زیادہ آزاد و بامقصد مرحلے کا آغاز ہوتی ہے۔
ملازمت سے سبکدوشی ہوتی ہے، علم سے نہیں؛
منصب سے ہوتی ہے، تجربے سے نہیں؛
دفتری ذمّہ داریوں سے ہوتی ہے، خدمت کے جذبے سے نہیں۔
اور دفتر کے اوقات ختم ہوتے ہیں، لیکن انسان کا علم، کردار اور کارنامے اپنی معنویت کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔
اب ان کے سامنے اپنی پی۔ایچ۔ڈی۔ تحقیق کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے، مطالعہ و تحریر کو مزید وقت دینے، علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو وسعت دینے، طلبہ کی رہنمائی کرنے اور تقریباً تین دہائیوں میں حاصل کیے گئے اپنے وسیع انتظامی و عملی تجربے کو نئی نسل اور معاشرے کے فائدے کے لیے بروئے کار لانے کے نئے مواقع موجود ہیں۔ اس اعتبار سے 31 اگست 2026ء ان کی زندگی کا اختتامی دن نہیں، بلکہ ایک نئے باب کی ابتدا ہے، جہاں دفتری ذمّہ داریوں کی جگہ علمی جستجو، تحقیق، مطالعہ، رہنمائی اور سماجی خدمت لے گی؛ یوں ان کا سفرِ خدمت اختتام پذیر نہیں ہوگا، بلکہ ایک نئی سمت، نئی توانائی اور نئے مقصد کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
ہم جماعت کی حیثیت سے ایک منفرد اور قلبی احساس:
جناب شیخ سکندر علی ہمت علیکے بارے میں لکھتے ہوئے میرے لیے یہ تحریر محض کسی سبکدوش ہونے والے ملازم کی خدمات کا رسمی اعتراف یا خراجِ تحسین نہیں، بلکہ اس میںایک ہم جماعت کی حیثیت سے جڑی ہوئی یادیں، اپنائیت اور قلبی جذباتبھی شامل ہیں، کیونکہ ہم نے طالب علمی کے دور میں ایک ہی جماعت میں ساتھ پڑھا، ساتھ وقت گزارا اور زندگی کے ابتدائی خوابوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ طالب علمی کے دنوں میں ایک ہی کلاس میں بیٹھنے والے ساتھی وقت کے ساتھ اپنی اپنی منزلوں کی طرف بڑھ جاتے ہیں؛ کوئی تدریس سے وابستہ ہوتا ہے، کوئی انتظامی میدان میں قدم رکھتا ہے، کوئی تحقیق کی راہ اختیار کرتا ہے اور کوئی تجارت یا دیگر شعبۂ زندگی میں اپنی شناخت بناتا ہے، پھر وقت گزرتا ہے، زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی ہے اور مصروفیات کے ہجوم میں وہ پرانی رفاقتیں اور کلاس روم کی یادیں کہیں پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں؛ لیکن زندگی کے کسی موڑ پر جب ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہیں تووہی کلاس، وہی ساتھی، وہی بے تکلفی اور طالب علمی کے وہ سنہرے ایاماچانک دل کے دریچوں میں پھر سے روشن ہوجاتے ہیں۔ آج جب میرا وہی ہم جماعت تقریباًتین دہائیوں پر محیط علم، محنت، دیانت، فرض شناسی اور انتظامی خدمات کا ایک شاندار سفرمکمل کرکے سبکدوشی کی دہلیز پر کھڑا ہے تو دل میں خوشی، مسرت اور فخر کے ساتھ ایک گہری جذباتی کیفیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ کبھی کلاس میں ہمارے ساتھ بیٹھنے والا ایک طالب علم آج ایک عظیم یونیورسٹی کی طویل اور باوقار خدمت انجام دے کرسپرنٹنڈنٹ کے منصب سے عزت و وقار کے ساتھ سبکدوشہورہا ہے، یہ منظر ایک ہم جماعت کے لیے یقیناً غیر معمولی مسرت اور باعثِ فخر ہے۔ اس کی کامیابی میں مجھے صرف ایک دوست کی کامیابی نظر نہیں آتی، بلکہاپنے طالب علمی کے ساتھی کی برسوں کی محنت، جدوجہد، علم دوستی اور کردار کی ایک خوب صورت تکمیلدکھائی دیتی ہے۔ وقت نے ہماری راہیں ضرور جدا کیں، مگر آج اس مقام پر کھڑے ہوکر محسوس ہوتا ہے کہسچی رفاقت وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، بلکہ یادوں میں محفوظ رہ کر کامیابی کے ایسے لمحات میں پہلے سے زیادہ معنی خیز ہوجاتی ہے۔
دوستی کی مضبوط ڈور اور یادوں کا انمول سرمایہ:
دوستی کا رشتہ وقت کے گزرنے یا برسوں کی تعداد سے نہیں ناپا جاسکتا؛ اس کی اصل خوب صورتی تو اس بات میں پوشیدہ ہوتی ہے کہہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں کتنی سچی خوشی محسوس کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی کامیابی کو کس قدر دل سے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔اسی لیے جنابشیخ سکندر علی ہمت علیکی سبکدوشی میرے لیے محض ایک عزیز دوست کی ملازمت کے اختتام کا نام نہیں، بلکہایک طویل، باوقار اور کامیاب سفرِ خدمت کی تکمیل کا ایک یادگار اور قابلِ فخر لمحہہے۔ ایک ہم جماعت اور دوست کی حیثیت سے میں نے ان کے سفر کو قریب سے دیکھا ہے؛ انہوں نے زندگی میں جو ذمّہ داریاں ان کے حصے میں آئیں، انہیں محض رسمی طور پر ادا نہیں کیا بلکہمحنت، دیانت، لگن اور احساسِ ذمہ داریکے ساتھ نبھایا، اپنی صلاحیت اور تجربے کے بل پر ترقی کی منازل طے کیں، ملازمت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، نئی ذمہ داریوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور شعبۂ امتحانات جیسے نہایت حساس اور ذمہ دارانہ میدان میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ انہوں نے انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھطلبہ کے تعلیمی مفاد، ان کے مسائل کے منصفانہ حل اور ادارے کی نیک نامیکو بھی ہمیشہ اہمیت دی، مختلف ادارہ جاتی ذمہ داریاں سنبھالیں، اپنی خدمات کے اعتراف میں اعزازات حاصل کیے اور اب تقریباً تین دہائیوں کی مسلسل خدمات مکمل کرکےعزت، وقار اور سربلندی کے ساتھ سبکدوشیکی منزل پر پہنچ رہے ہیں۔ ان کا یہ سفر اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہعہدہ انسان کو عظمت نہیں دیتا، بلکہ انسان اپنی محنت، علم، کردار اور خدمت سے اپنے عہدے کو وقار عطا کرتا ہے۔آج ان کی کامیاب سبکدوشی کے موقع پر طالب علمی کے زمانے سے آج تک کی رفاقت، بیتے ہوئے دنوں کی یادیں اور ان کے سفر کی ایک ایک کامیابی میرے لیے کسی قیمتی خزانے سے کم نہیں۔ ایک دوست کی حیثیت سے ان کی کامیابی پر فخر کرنا میرے لیے فطری بھی ہے اور باعثِ مسرت بھی، کیونکہکسی اپنے دوست کو برسوں کی محنت کے بعد عزت و وقار کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچتے دیکھنا خود ایک ایسی خوشی ہے جسے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کرسکتے۔
نئے سفر کے لیے دل کی گہرائیوں سے نیک تمنائیں:
اب جنابشیخ سکندر علی ہمت علیکی زندگی ایک نئے، پُرسکون، بامقصد اور امکانات سے بھرپور دور میں داخل ہونے جارہی ہے۔ تقریباً تین دہائیوں تک دفتر کی مصروفیات، انتظامی ذمہ داریوں، اجلاسوں، فائلوں اور شعبۂ امتحانات کے دباؤ میں شب و روز مصروف رہنے کے بعد اب زندگی انہیںمطالعہ، تحقیق، تحریر اور فکری یکسوئیکے لیے ایک نیا وقت اور نئی آزادی فراہم کررہی ہے۔ دفتری دوڑ دھوپ کی جگہ کتابوں کی رفاقت، اجلاسوں کی جگہ قلم و قرطاس، فائلوں کی جگہ علمی و تحقیقی مواد اور امتحانی مصروفیات کی جگہ تحقیق و فکر کی پرسکون دنیا ان کی منتظر ہے۔ یہ مرحلہ ان کے لیے صرف آرام کا نہیں، بلکہاپنے علم، تجربے اور صلاحیتوں کو ایک نئی سمت دینے کا سنہری موقعہے۔ ہماری دلی خواہش اور نیک دعا ہے کہ ان کیپی۔ایچ۔ڈی۔ کا تحقیقی کام جلد اور کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچے، تحقیق و تصنیف کے میدان میں ان کے لیے نئی راہیں کھلیں، یونیورسٹی میں گزاری ہوئی تقریباً تین دہائیوں کے وسیع انتظامی تجربات اور مشاہدات کو وہ قلم بند کریں تاکہ یہ تجربات آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی رہنما دستاویز ثابت ہوں، اور ان کی علمی بصیرت، عملی تجربہ اور زندگی بھر کی حاصل کردہ دانائی طلبہ، نوجوانوں اور نئی نسل کی رہنمائی کا ذریعہ بنے۔دعا ہے کہ سبکدوشی کے بعد کا یہ نیا دور انہیں صحت، سکون، اطمینان، علمی مسرت اور مقصدیت سے بھرپور زندگی عطا کرے اورملازمت سے سبکدوشی کے باوجود ان کا سفرِ علم، سفرِ قلم اور سفرِ خدمت نئی توانائی کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتا رہے۔
سبکدوشی اختتام نہیں، ایک نئے عہدِ علم و ترغیب کا آغاز:
جناب شیخ سکندر علی ہمت علیکی تقریباً تین دہائیوں پر محیط خدمات پر نظر ڈالیں تو یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ انسان سبکدوش ہوتا ہے، اس کا کردار اور اس کی خدمات نہیں؛ منصب سے فراغت ہوتی ہے، مگر تجربے اور علم سے نہیں۔ یکم جنوری 1996ء کو جونیئر کلرک کم ٹائپسٹ کی حیثیت سے شروع ہونے والا ان کا سفر سینئر کلرک، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور بالآخر سپرنٹنڈنٹ کے باوقار منصب تک پہنچا اور آج عزت و وقار کے ساتھ ایک اہم مرحلے کی تکمیل کررہا ہے۔ مختلف شعبہ جات میں حاصل کیا ہوا وسیع تجربہ، شعبۂ امتحانات میں طویل اور حساس خدمات، قانون کی اعلیٰ تعلیم، پی۔ایچ۔ڈی۔ کی جاری علمی و تحقیقی کاوش، طلبہ مرکز سوچ، مختلف سمیتیوں میں فعال شرکت اور خدمات کے اعتراف میں حاصل ہونے والے اعزازات ان کے سفرِ حیات کے وہ روشن ابواب ہیں جو انہیں محض ایک سرکاری ملازم نہیں، بلکہ علم، عمل، فرض شناسی اور خدمت کے ایک باوقار نمائندے کے طور پر نمایاں کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے زیرِ استعمال دفتر، میز اور فائلیں کسی اور کے حوالے ہوجائیں، ان کے تیار کردہ ریکارڈ پرانی دستاویزات کا حصہ بن جائیں اور روزمرہ دفتری نظام میں ان کی جگہ کوئی دوسرا ذمّہ دار سنبھال لے، لیکن ان کی محنت، دیانت، انتظامی بصیرت، ساتھیوں کے ساتھ قائم تعلقات اور طلبہ کے لیے انجام دی گئی خدمات کے نقوش کبھی مٹ نہیں سکتے۔
خدمت کو سلام، کردار کو خراجِ تحسین،
تین دہائیوں کی محنت کو سلامِ دل نشین۔
اے میرے عزیز ہم جماعت، شیخ سکندر علی ہمت علی،
تمہاری وفا، تمہاری جستجو، تمہاری خدمت کو سلام!
فرض کی راہ میں جوعمر گزاری تم نے،
اس عزم، اس حوصلے، اس عظمت کو سلام!
آپ نے جس ثابت قدمی سے ذمّہداریاں نبھائیں، جس جستجو کے ساتھ علم حاصل کیا اور جس حساسیت کے ساتھ طلبہ و یونیورسٹی کے مفاد کو مقدم رکھا، وہ آپ کے کردار کی حقیقی پہچان ہے۔ آج دفتری خدمت کا باب ضرور مکمل ہورہا ہے، مگر آپ کے علم، تجربے، تحقیق اور خدمت کا سفر ابھی باقی ہے؛ بلکہ اب اسے ایک نئی آزادی، نئی سمت اور نئے مقصد کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ دعا ہے کہ آپ کی پی۔ایچ۔ڈی۔ تحقیق کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچے، مطالعہ و تحریر اور تحقیق و تصنیف کا سلسلہ مزید مضبوط ہو، آپ کے تین دہائیوں کے انتظامی تجربات قلم بند ہوکر آنے والی نسلوں کے لیے رہنما ثابت ہوں، طلبہ اور نوجوان آپ کی علمی و عملی بصیرت سے استفادہ کریں اور خاندان کی محبت و رفاقت میں زندگی کا یہ نیا مرحلہ صحت، سکون، اطمینان، خوشی اور تخلیقی توانائی سے معمور رہے۔
رخصتی صرف دفتر سے ہے،
رفاقت اور دوستی سے نہیں۔
سبکدوشی صرف ملازمت سے ہے،
کارناموںاور خدمات سے نہیں۔
تھم گئی دفتری دوڑ دھوپ،
علم کی راہ مگر یونہی جاری رہے گی۔
اور اسی لیے،
تین دہائیوں کی خدمات کو سُریش کا سلام،
فرض شناس مردِ عمل کو دل سے سلام،
اور زندگی کے نئے پُرنور سفر کے لیے
دل کی گہرائیوں سے ہدیۂ نیک تمنائیں!

آپ کا ہم جماعت
(پروفیسر ڈاکٹر سریش وٹھل راؤ دھنواڑے)
شری ایس۔ ایم۔ بی۔ پی۔ مہا ودّیالیہ، شنکر نگر
ای میل : sureshdhanwade@gmail.com

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم:
میرے عزیز دوست محترم جناب شیخ سکندر علی ہمت علی صاحب کی خصوصی خواہش پر ان کے دیرینہ اور قریبی دوست و ہم جماعت پروفیسر ڈاکٹر سریش وٹھل راؤ دھنواڑے کی محبت، خلوص اور قلبی وابستگی سے لکھی گئی اس خوب صورت تحریر کو مراٹھی سے اُردو کے قالب میں ڈھالنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ محض ایک ترجمہ نہیں، بلکہ ایک مخلص دوست کی جانب سے اپنے عزیز ساتھی کی تین دہائیوں پر محیط باوقار خدمات، علم دوستی، فرض شناسی، دیانت اور بلند کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔ جناب شیخ سکندر علی ہمت علی نے اپنی پوری ملازمت کے دوران جس محنت، لگن، ذمہ داری اور خود داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ وہ اپنے محلے اور اطراف کے لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی، حسنِ سلوک اور خلوص سے پیش آنے والے ایک ملنسار انسان بھی ہیں، جبکہ صوم و صلوٰۃ کے پابند اور دینی و اخلاقی اقدار سے وابستہ رہنا ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ جونیئر کلرک کم ٹائپسٹ سے سپرنٹنڈنٹ کے منصب تک ان کا سفر ان کی صلاحیت، مسلسل جدوجہد، علم سے وابستگی اور فرض سے وفاداری کی روشن مثال ہے۔ یہ تمام کامیابیاں محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، والدین کی دعاؤں، اہلِ خانہ کے تعاون اور ان کی اپنی مسلسل محنت، دیانت اور عزم کا ثمر ہیں۔ آج جب وہ تقریباً تین دہائیوں کی کامیاب اور باوقار خدمات مکمل کرکے سبکدوش ہورہے ہیں تو میں انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ زندگی کا یہ نیا مرحلہ ان کے لیے صحت، سکون، خوشی، عزت اور مزید کامیابیوں کا باعث بنے؛ ان کی پی۔ایچ۔ڈی۔ تحقیق بخیر و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچے، علم و تحقیق اور قلم کا سفر مزید تابندہ ہو اور ان کا وسیع تجربہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو۔ تین دہائیوں کی شاندار خدمات کو سلام، ان کی باوقار شخصیت کو خراجِ تحسین، اور سبکدوشی کے اس یادگار موقع پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور مستقبل کے لیے بے شمار نیک تمنائیں!
مترجم : محمد صلاح الدّین محمد بدیع الدّین
]بی۔ایس۔سی، بی۔ایڈ، ایم۔اے (انگلش، اُردو،تاریخ) [
اَسسٹنٹ ٹیچر، گاندھی ودّیالیہ ہائی اسکول، پربھنی

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے