कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی: تدریس سے قیادت تک ایک درخشاں اور قابل تقلید سفر

31 اگست 2026 بروز پیر کو حسن خدمات سے سبکدوشی پر خصوصی تحریر

تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ عربی، مولانا آزاد کالج،اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

کسی انسان کی حقیقی عظمت صرف اس عہدے سے متعین نہیں ہوتی جس پر وہ فائز ہو، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ اس نے اپنے عہدے کو کس قدر وقار، دیانت، قابلیت اور احساس ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔ کچھ لوگ منصب کو اپنے لیے عزت کا ذریعہ بناتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنی شخصیت، کردار اور خدمات سے منصب کو عزت بخشتے ہیں۔ ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کا شمار باشخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے تدریس، تحقیق، انتظام و انصرام اور تعلیمی قیادت کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے ایک ایسا قابل رشک سفر طے کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے۔
شعبۂ کیمیا میں اپنی غیر معمولی قابلیت کا لوہا منوانے والے ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی محض ایک کامیاب استاد نہیں رہے، بلکہ انہوں نے اپنے علمی مقام، تدریسی اسلوب، خوش اخلاقی، محنت، منصوبہ بندی اور طلبہ کے ساتھ خصوصی تعلق کے ذریعے ایک ایسی شناخت قائم کی جس نے انہیں اپنے رفقائے کار اور طلبہ دونوں میں ممتاز مقام عطا کیا۔ ان کی شخصیت میں علم کے ساتھ تعلق، قابلیت کے ساتھ کردار، منصب کے ساتھ ذمہ داری اور اختیار کے ساتھ انصاف کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
ان کا تدریسی سفر مختلف تعلیمی اداروں اور معروف کوچنگ کلاس سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے اپنی مضمون پر گہری گرفت اور مؤثر تدریسی صلاحیت کے ذریعے طلبہ کے دلوں میں جگہ بنائی۔ حالیہ معروف کالج سے لے کر اورنگ آباد کے ممتاز تعلیمی اداروں، بالخصوص ڈاکٹر رفیق زکریا کالج آف ویمن، ہولنڈ تک ان کی خدمات کے نقوش نمایاں رہے۔ انہوں نے جہاں بھی تدریسی ذمہ داری سنبھالی، وہاں محض اپنا فرض ادا کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ادارے، طلبہ اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔ یہی وجہ تھی کہ انتظامیہ میں ان کی قدر و منزلت مسلسل بڑھتی گئی اور بالآخر انہیں پرنسپل کی اہم ذمہ داری سونپی گئی۔
ان کی علمی و انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف اس وقت بھی ہوا جب انہیں ڈاکٹر صاحب ایڈمنسٹریٹر کے شعبہ سائنس و انجینئرنگ میں ڈین کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یونیورسٹی کے ایک اہم منصب تک رسائی اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ان کی قابلیت محض تدریس تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ وسیع تر تعلیمی و انتظامی امور کو سمجھنے، انہیں منظم کرنے اور مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔
ان کے سفر کا ایک اہم اور قابل ذکر باب 2 مئی 2019 سے مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد کے فل ٹائم پرنسپل کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہے۔ ایک بڑے اور ممتاز تعلیمی ادارے کی قیادت کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ اس کے لیے علمی بصیرت، انتظامی تجربہ، دوراندیشی، فیصلہ سازی کی صلاحیت، انسانی نفسیات کا فہم اور سب سے بڑھ کر احساس ذمہ داری درکار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی نے اپنے دور پرنسپل شپ میں ان اوصاف کو عملی طور پر بروئے کار لاکر اپنی انتظامی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔
ان کی کامیابی کے پس منظر میں اگر غور کیا جائے تو چند بنیادی اصول نمایاں طور پر نظر آتے ہیں: عزم محکم عمل، بہترین منصوبہ بندی، وقت کی قدر، ذمہ داری کا احساس اور کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنا۔ وہ جانتے تھے کہ کسی ادارے کی ترقی محض ایک فرد کی محنت سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ چنانچہ اپنے ماتحت عملے کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ، معاملات میں عدل و انصاف اور ہر فرد کو اس کی ذمہ داری کے حوالے سے جواب دہ بنانا ان کے انتظامی مزاج کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک نہایت قابل تحسین پہلو ان کا وسیع النظر اور انسان دوست رویہ بھی ہے۔ مولانا آزاد کالج چونکہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم، ممتاز دانشور اور عظیم قومی رہنما مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے موسوم ہے، اس لیے اس ادارے کی شناخت میں قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور سیکولر اقدار کی ایک خاص اہمیت ہے۔ ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی نے ان اصولوں کو محض تقریروں اور تحریروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے عملی رویے میں ان کی ترجمانی کی۔ ان کا طرز عمل مذہبی رواداری کی تعریف سے بالاتر ہو کر طلبہ، اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے ساتھ یکساں احترام، سلوک اور حسن سلوک پر قائم رہا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد میں ان کی مقبولیت قائم ہوئی۔ ایک تعلیمی ادارے کا سربراہ اگر اپنے رویے سے اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ ادارے کے ماحول کو بھی مثبت سمت دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر فاروقی نے اسی اعتماد کو اپنی انتظامی قوت بنایا اور لوگوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں تفویض کرنے اور ان سے بہتر کام لینے کا بھرپور استعمال کیا۔
حلم، بردباری، عفو و درگزر، خوش اخلاقی، وقت کی پابندی، قابلیت کی قدر اور اہل افراد کو قریب رکھنے کی عادت کے وہ اوصاف ہیں جو انہیں ایک کامیاب منتظم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان بھی بناتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ادارے افراد سے بنتے ہیں اور افراد کی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کیا جائے تو معمولی وسائل کے باوجود بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہی انتظامی بصیرت کسی بھی ادارے کے سربراہ کو ایک حقیقی قائد بناتی ہے۔
ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کے سفر کو صرف ایک شخص کی ترقی کی داستان سمجھنا شاید اس کی حقیقی معنویت کو کم کردینا ہوگا۔ یہ دراصل اس بات کی مثال ہے کہ مسلسل محنت، علمی استعداد، نظم و ضبط، منصوبہ بندی اور اپنے فرائض کے ساتھ خلوص انسان کو تدریس کے میدان سے تعلیمی قیادت کی بلند منزلوں تک پہنچا سکتی ہے۔ پروفیسر ڈین اور پھر ایک بڑے کالج کے پرنسپل تک کا یہ سفر ان نوجوان اساتذہ اور تعلیمی کارکنوں کے لیے ایک عملی سبق ہے جو اپنے شعبے میں آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں۔
آج جب تعلیمی اداروں کو مختلف چیلنجز، نصاب اور امتحانات کے بجائے مضبوط انتظام، باصلاحیت قیادت اور مثبت تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے، ایسے میں ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کی خدمات کا جائزہ لینا خاصا اہم ہوجاتا ہے۔ ان کے دور قیادت کے روشن نقوش اس بات کے متقاضی ہیں کہ ادارے میں قائم کیے گئے اچھے نظام کو افراد کے ساتھ ختم نہ ہونے دیا جائے بلکہ اسے ایک مستقل ادارہ جاتی روایت میں تبدیل کیا جائے۔
حقیقی خراج تحسین یہی ہوگا کہ ان کی محنت، منصوبہ بندی، نظم و نسق، عدل و انصاف اور انسان دوستی کے ان اصولوں کو آگے بڑھایا جائے جنہیں انہوں نے اپنے عملی کردار سے مضبوط کیا۔ کیونکہ شخصیات وقت کے ساتھ رخصت ہوجاتی ہیں، مگر ان کے قائم کیے ہوئے اچھے نظام، ان کی تربیت یافتہ افراد اور ان کے کردار کے روشن نقوش مدتوں باقی رہتے ہیں۔
ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کا تعلیمی و انتظامی سفر اسی حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ منصب انسان کو بڑا نہیں بناتا، بلکہ انسان اپنے کردار، قابلیت اور خدمت سے منصب کو بڑا بناتا ہے۔ ان کی تدریسی خدمات، انتظامی بصیرت، وسیع القلبی اور ادارے کے لیے مسلسل جدوجہد کے نقوش یقینا دیر تک یاد رکھے جائیں گے اور آنے والی نسلیں ان کے سفر سے یہ سبق حاصل کرتی رہیں گی کہ کامیابی کا راستہ عزم، محنت، دیانت، منصوبہ بندی اور ذمہ داری کے احساس سے ہو کر گزرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے