कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’دماغی نکسل‘‘: ذہنوں کی جنگ یا مخالفین کو خاموش کرنے کا ہتھکنڈا؟

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔۔۹۹۳۴۹۳۳۹۹۲

لفظ ’’نکسل‘‘ سنتے ہی ذہن میں بندوق، بارود، جنگل اور مسلح تشدد کی تصویر ابھرنے لگتی ہے۔ ہندوستان میں نکسل ازم کی تاریخ 1967 کی نکسلباڑی کسان تحریک سے جڑی ہوئی ہے۔ مغربی بنگال کے دارجلنگ ضلع کے نکسلباڑی علاقے سے شروع ہونے والی یہ تحریک وقت کے ساتھ مسلح بائیں بازو کی انتہاپسند تحریک میں تبدیل ہوگئی۔ مختلف دھڑوں کے وجود میں آنے کے بعد 2004 میں پیپلز وار اور ماؤسٹ کمیونسٹ سینٹر کے انضمام سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) وجود میں آئی، جسے حکومت مسلح بائیں بازو کی انتہاپسند تنظیم قرار دیتی ہے۔
نکسل ازم اور ماؤ نواز تشدد ہندوستان کے لیے ایک طویل عرصے تک سنگین داخلی سلامتی کا مسئلہ رہا ہے۔ عام شہری، سکیورٹی فورسز اور ترقیاتی سرگرمیاں اس تشدد سے متاثر ہوئی ہیں۔ لیکن اس پس منظر میں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی سیاسی یا معاشی نظریے سے اتفاق یا اختلاف بذاتِ خود جرم نہیں، جبکہ مسلح تشدد، دہشت گردی، ممنوعہ تنظیم کی عملی معاونت یا قانون کے تحت قابلِ سزا سرگرمی جرم ہوسکتی ہے۔
اسی فرق کے تناظر میں اب ایک نئی اصطلاح سیاسی اور سماجی مباحث کا حصہ بن رہی ہے—’’دماغی نکسل‘‘۔
سوال یہ ہے کہ آخر ’’دماغی نکسل‘‘ سے مراد کیا ہے؟:
کیا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ماؤ نواز تشدد کی نظریاتی حمایت کرتے ہیں؟ کیا وہ عناصر اس زمرے میں آتے ہیں جو ممنوعہ تنظیموں کے لیے مالی یا تنظیمی مدد فراہم کرتے ہیں؟ یا پھر اس اصطلاح کا دائرہ ان لوگوں تک بھی پھیل سکتا ہے جو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں، انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں یا محروم طبقات کے مسائل اٹھاتے ہیں؟
اسی سوال کا جواب اس پوری بحث کی سمت متعین کرے گا۔
لال قلعہ سے ’’دماغی نکسل‘‘ کا اعلان:
15 اگست 2026 کو ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے نکسل ازم اور ماؤ نواز تشدد کا ذکر کیا۔ سرکاری طور پر جاری کردہ خطاب کے مطابق وزیراعظم نے مسلح نکسل ازم کو شکست سے دوچار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’دماغی نکسل‘‘ اب بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق ایسی قوتیں مواقع تلاش کررہی ہیں، تشدد اور انارکی کے راستے ڈھونڈ رہی ہیں اور مختلف طریقوں سے معاشرے کو غلط سمت میں لے جانے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے ایسی ذہنیت کی شناخت، متعلقہ عناصر کو الگ تھلگ کرنے اور نوجوان نسل کو ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے قومی دھارے سے جوڑنے پر زور دیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ لال قلعہ کی فصیل سے استعمال ہونے والی اصطلاح محض سیاسی بیان نہیں رہتی بلکہ قومی بحث کا موضوع بن جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ’’دماغی نکسل‘‘ کی حدود واضح کی جائیں۔
گو کہ ’’دماغی نکسل‘‘ کوئی متعین قانونی اصطلاح نہیں ہے۔ محض کسی شخص کو اس نام سے پکار دینا اسے مجرم نہیں بنا دیتا۔ اگر کوئی شخص ممنوعہ مسلح تنظیم کے لیے جسمانی، مالی یا عملی مدد فراہم کرتا ہے، تشدد پر اکساتا ہے، مسلح کارروائی میں شریک ہوتا ہے یا دہشت گرد سرگرمیوں کی معاونت کرتا ہے تو حکومت کو قانون کے مطابق کارروائی کا پورا حق ہے۔ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حکومت کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں فکری اختلاف اور مجرمانہ سرگرمی کے درمیان موجود لکیر دھندلی کردی جائے۔
کسی نظریے کا مطالعہ کرنا جرم نہیں۔ حکومت کی پالیسی کو غلط قرار دینا جرم نہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سوال اٹھانا جرم نہیں۔ صحافت کے ذریعے حکومتی فیصلوں کا احتساب کرنا جرم نہیں۔ کسی محروم طبقے کے حق میں آواز بلند کرنا بھی جرم نہیں۔
جرم وہاں شروع ہوتا ہے جہاں خیال کے ساتھ قابلِ تعزیر عمل، تشدد، سازش، ممنوعہ تنظیم کی عملی معاونت یا قانون شکنی شامل ہوجائے۔
اس لیے ’’دماغی نکسل‘‘ جیسی اصطلاح استعمال کرنے سے پہلے اس کے معیار، حدود اور ثبوت کا پیمانہ واضح ہونا چاہیے۔
کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ جمہوریت کا اصل حسن سوال، اختلاف، تنقید اور مکالمے میں ہے۔
پارلیمنٹ میں اپوزیشن حکومت کے فیصلوں پر اعتراض کرتی ہے۔ صحافی سوال اٹھاتا ہے۔ وکیل عدالت میں حکومتی فیصلے کو چیلنج کرسکتا ہے۔ استاد کسی پالیسی کے اثرات پر تنقید کرسکتا ہے۔ طالب علم اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرسکتا ہے۔ عام شہری اپنی شکایت حکومت تک پہنچا سکتا ہے۔ ایسے میں اگر ان سرگرمیوں کو ’’غلط سمت‘‘ قرار دے کر ’’دماغی نکسل‘‘ کا لیبل لگا دیا جائے تو جمہوری مکالمے کی گنجائش کہاں باقی بچے گی؟
حکومت کی پالیسی سے اختلاف، حکومت سے دشمنی نہیں۔ حکومت پر تنقید، ملک سے دشمنی نہیں۔ اقتدار سے سوال، ریاست کے خلاف سازش نہیں۔ انسانی حقوق کی بات کرنا، نکسل ازم کی حمایت نہیں۔اور یہی فرق جمہوریت کی روح ہے۔
کسی مخالف کو دلیل سے جواب دینے کے بجائے اسے کوئی لیبل دے دینا آسان ہوسکتا ہے۔ کبھی ’’ملک دشمن‘‘، کبھی ’’غدار‘‘، کبھی ’’اربن نکسل‘‘ اور اب ’’دماغی نکسل ‘ جیسی اصطلاحات سیاسی بحث کا حصہ بن جاتی ہیں۔
لیبل لگنے کے بعد بحث شخص کے خیالات اور دلائل سے ہٹ کر اس کی شناخت پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ فرض کیجیے کوئی صحافی کسی سرکاری اسکیم میں بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیا وہ دماغی نکسل ہے؟
کوئی استاد یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کسی پالیسی سے غریب طلبہ متاثر ہورہے ہیں۔ کیا وہ دماغی نکسل ہے؟
کوئی وکیل گرفتار شخص کے قانونی حقوق کی بات کرتا ہے۔ کیا وہ حکومت مخالف ہوگیا؟
اسی طرح کوئی سماجی کارکن قبائلی یا محروم طبقے کے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے۔ کیا وہ ماؤ نواز بن گیا؟
اور اگر کوئی نوجوان بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم یا صحت کے مسائل پر حکومت سے جواب طلب کرتا ہے تو کیا اس کا سوال نکسل ازم بن جاتا ہے؟
اگر ایسا ہونے لگے تو ’’دماغی نکسل‘‘ قومی سلامتی کی اصطلاح کم اور سیاسی ہتھیار زیادہ بن سکتی ہے۔
اس بحث کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ماؤ نواز تشدد ایک حقیقی مسئلہ رہا ہے۔ اس نے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نقصان پہنچایا اور کئی علاقوں میں ترقیاتی عمل کو متاثر کیا۔ لہٰذا مسلح انتہاپسندی کے خلاف ریاستی کارروائی کو محض ’’اختلاف دبانے‘‘ کی کوشش قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ممنوعہ مسلح تنظیموں کا مقابلہ کرے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے۔ مگر اسی ذمہ داری کے ساتھ یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ مسلح دشمن اور پرامن ناقد کے درمیان فرق واضح رکھا جائے۔
’’دماغی نکسل‘‘ کا سب سے پیچیدہ پہلو ’’ذہن‘‘ کا تصور ہے۔
جمہوریت میں کسی انسان کے ذہن پر پہرا نہیں بٹھایا جاسکتا۔ وہ کون سی کتاب پڑھتا ہے، کس فلسفے کا مطالعہ کرتا ہے یا کس سیاسی نظریے سے متاثر ہے، یہ سب اس وقت تک جرم نہیں ہوسکتا جب تک اس کے ساتھ کوئی مجرمانہ عمل وابستہ نہ ہو۔
فکری آزادی کا مطلب تشدد کی آزادی نہیں۔ اگر کوئی شخص تشدد کی حمایت کرتا ہے، نوجوانوں کو مسلح بغاوت کے لیے اکساتا ہے، ممنوعہ تنظیم کی عملی یا مالی معاونت فراہم کرتا ہے تو قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔
لیکن صرف حکومت پر سخت تنقید یا متبادل سیاسی نظریے کی حمایت کو ’’دماغی نکسل‘‘ قرار دینا خطرناک ہوگا۔
ریاست کو ذہن نہیں، عمل دیکھنا چاہیے؛ اختلاف نہیں، جرم دیکھنا چاہیے۔
لال قلعہ کی فصیل سے وزیراعظم نے ’’نکسل ذہنیت‘‘ رکھنے والے عناصر کو شناخت کرکے الگ تھلگ کرنے کی بات کی ہے۔ یقیناً ان عناصر کے خلاف کارروائی ضروری ہے جو واقعی تشدد، ممنوعہ تنظیم یا دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں، لیکن اگر ’’الگ تھلگ‘‘ کرنے کا مطلب پرامن سیاسی مخالفین، صحافیوں، دانشوروں، طلبہ یا سماجی کارکنوں کی کردار کشی یا اظہارِ رائے سے محرومی ہے تو یہ جمہوری اصولوں کے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔
کیونکہ جمہوریت میں اختلاف یا حکومت کی مخالفت، ملک کی مخالفت نہیں ہوتی۔ اس لیے اختلاف کا جواب مکالمے سے دیا جانا چاہیے۔
’’دماغی نکسل ‘‘ کی اصطلاح اب حکومت کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔
اگر اس کے ذریعے واقعی ان عناصر کی نشاندہی کی جاتی ہے جو مسلح انتہاپسندی، تشدد یا ممنوعہ تنظیموں کی عملی معاونت کرتے ہیں تو قومی سلامتی کے تناظر میں اس پر سنجیدہ بحث ہوسکتی ہے۔
لیکن اگر اس کا دائرہ ہر اس شخص تک پھیلنے لگے جو حکومت سے سوال کرتا ہے تو یہی اصطلاح قومی سلامتی کے بجائے سیاسی ہتھیار بن سکتی ہے۔ وطن عزیز ہندوستان جیسے متنوع ملک میں اختلاف کوئی کمزوری نہیں بلکہ جمہوریت کی فطری علامت ہے۔ مختلف زبانیں، ثقافتیں، سماجی طبقات اور سیاسی نظریات ہندوستانی معاشرے کی حقیقت ہیں۔ مختلف سیاسی خیالات جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہیں۔
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی رہتی ہیں، مگر آئین، شہری آزادی اور جمہوری ادارے پوری قوم کی امانت ہیں۔
اس لیے نکسل ازم کے خلاف جنگ ضرور لڑی جائے، لیکن اس جنگ میں اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنایا جائے۔
15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے وزیراعظم نے ’’نکسل ذہنیت‘‘ کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔ اگر اس ’’دماغی نکسل‘‘ سے مراد وہ عناصر ہیں جو حقیقی طور پر مسلح تشدد، ممنوعہ تنظیموں یا دہشت گرد سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانون کو پوری قوت سے حرکت میں آنا چاہیے۔
لیکن اگر یہی اصطلاح حکومت کے ہر ناقد، صحافی، دانشور، طالب علم یا سماجی کارکن کے لیے استعمال ہونے لگے جو سوال اٹھاتا ہے تو یہ جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک ہوگا۔
بلاشبہ مسلح تشدد کے خلاف حکومت کا سخت ہونا ضروری ہے، مگر اختلافِ رائے کے معاملے میں برداشت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ملک کو ایک طرف بندوق کے سائے سے آزاد کرنا ہے تو دوسری طرف اسے خوف کے سائے سے بھی محفوظ رکھنا ہے۔
آخرکار کسی جمہوری ریاست کی کامیابی اس میں نہیں کہ اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھے، بلکہ اس میں ہے کہ مخالف آواز بھی قانون پر اعتماد کرے اور حکومت بھی اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھے۔
بندوق کا جواب حکومت دے سکتی ہے، مگر سوال کا جواب دلیل ہی دے سکتی ہے۔
کیونکہ مسلح انتہاپسندی کا خاتمہ صرف بندوق خاموش کرنے سے نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ملک کا ہر شہری یہ محسوس کرے کہ وہ اپنے سوال کے ساتھ بھی محفوظ ہے، اپنے اختلاف کے ساتھ بھی آزاد ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں بھی پُرامید ہے۔
جمہوریت میں سب سے خطرناک صورتِ حال یہ نہیں کہ شہری سوال کرتے ہیں؛ خطرناک صورتِ حال وہ ہے جب شہری سوال کرنے سے ڈرنے لگیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے