कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جب دلوں سے خوفِ خدا رخصت ہو جائے

خامہ بکف محمد عادل ارریاوی

آج جب میں نے معاشرے کے اردگرد گہری نظر ڈالی تو بے شمار ایسی خرابیاں دکھائی دیں جنہیں دیکھ کر دل بے حد غمگین اور پریشان ہوگیا۔ بظاہر ترقی آسائش اور سہولتوں کا دور ہے لیکن اگر دلوں کی کیفیت دیکھی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان بہت سی روحانی اور اخلاقی قدروں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے خوفِ خدا کمزور پڑتا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گناہوں کو گناہ اور برائیوں کو برائی سمجھنے کا احساس بھی ماند پڑتا جا رہا ہے۔
میں نے دیکھا کہ بعض لوگ صرف دنیا کمانے اور مال جمع کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی پوری زندگی کا مقصد دولت کا حصول بن کر رہ گیا ہے۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ دولت کس راستے سے آرہی ہے حلال ہے یا حرام جائز ہے یا ناجائز۔ بس مال میں اضافہ ہونا چاہیے خواہ اس کے لیے کسی کا حق مارنا پڑے یا دینی حدود کو پامال کرنا پڑے۔
اسی طرح بہت سے لوگ سود جیسے سنگین گناہ کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ دن رات اسی کاروبار میں مصروف رہتے ہیں اور اس بات کی فکر نہیں کرتے کہ اللہ ربّ العزت اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سود کے بارے میں کتنی سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔ دنیاوی فائدے کی خاطر آخرت کے نقصان کو نظر انداز کر دینا یقیناً ایک بہت بڑی محرومی ہے۔
معاشرے میں ایک اور افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگ جائیداد کی تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیتے۔ نہ بہنوں کو ان کا حق دیا جاتا ہے اور نہ بیٹیوں کے حصے کا خیال رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات پوری زندگی گزر جاتی ہے مگر حق دار اپنے شرعی حق سے محروم رہتے ہیں جبکہ دوسروں کا حق دبانے والے اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری اور جواب دہی کا معاملہ ہے۔
اسی طرح بعض لوگ مال و دولت یا دیگر دنیاوی مفادات کی خاطر اپنی کم عمر بچیوں کی شادی ایسے افراد سے کر دیتے ہیں جو عمر میں ان سے بہت بڑے ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات لڑکی کی رائے اور اس کی پسند و ناپسند جاننے کی بھی زحمت نہیں کی جاتی۔ حالانکہ ایک بیٹی بھی احساسات رکھتی ہے اس کے بھی خواب ہوتے ہیں اور اس کی رضا و خوشی کو نظر انداز کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
گھریلو زندگی پر نظر ڈالی جائے تو بعض گھرانوں میں شوہر اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے بجائے سختی بدزبانی اور ظلم و زیادتی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ معمولی معمولی باتوں پر جھگڑا مار پیٹ اور تذلیل جیسے اعمال نہ صرف خاندان کے سکون کو تباہ کرتے ہیں بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے میاں بیوی کے تعلق کو محبت رحمت اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم کرنے کی تعلیم دی ہے۔
شادی بیاہ کی تقریبات بھی اپنی اصل سادگی سے بہت دور ہوتی جا رہی ہیں۔ فضول خرچی دکھاوا بے جا رسم و رواج اور غیر ضروری اخراجات کو خوشی کی علامت سمجھ لیا گیا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک ناچ گانے اور بے ہودہ رسموں کے بغیر شادی مکمل ہی نہیں ہوتی جبکہ سادگی اور سنت کے مطابق نکاح کو فراموش کیا جا رہا ہے۔
سب سے زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ جب ایسے لوگوں کو دین کی باتیں سنائی جاتی ہیں انہیں اللہ ربّ العزت کے احکامات اور آخرت کی جواب دہی یاد دلائی جاتی ہے تو بہت سے لوگ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور اگر سن بھی لیں تو اپنی عملی زندگی میں اس کا اثر قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ گویا نصیحت صرف کانوں تک پہنچتی ہے دل تک نہیں پہنچ پاتی۔
حقیقت یہ ہے کہ جب دلوں میں خوفِ خدا زندہ ہوتا ہے تو انسان تنہائی میں بھی گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہے انصاف کو اختیار کرتا ہے اور اپنی زندگی کو اللہ ربّ العزت کی رضا کے مطابق گزارنے کی فکر کرتا ہے۔ لیکن جب خوفِ خدا کمزور پڑ جاتا ہے تو پھر انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے اور آہستہ آہستہ برائیاں اس کی زندگی کا معمول بن جاتی ہیں۔
آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں اللہ ربّ العزت کی عظمت آخرت کی فکر اور جواب دہی کے احساس کو زندہ کریں۔ جب انسان یہ یقین رکھے گا کہ ایک دن اسے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے تو وہ یقیناً ظلم ناانصافی حرام کمائی اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے سے بچے گا۔ معاشرے کی حقیقی اصلاح قانون کے ڈر سے نہیں بلکہ دل میں موجود خوفِ خدا سے ہوتی ہے اور یہی وہ دولت ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اللہ ربّ العزت سب کو ہدایت دے نیک عمل کی توفیق عطافرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے