कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تابش ردولوی — روایتِ ادب کا روشن چراغ

تجزیہ نگار….. جاوید اکرم فاروقی۔ لکھنؤ

اردو ادب کی معاصر فضا میں بعض قلم کار ایسے بھی دکھائی دیتے ہیں جو محض شعر نہیں کہتے بلکہ اپنی تخلیقات کے ذریعے پوری ادبی روایت سے ایک زندہ مکالمہ قائم کرتے ہیں۔ تابش ردولوی انہی معتبر اور فعال شعرا میں شمار کیے جا سکتے ہیں جن کے یہاں مطالعے کی وسعت، تہذیبی شعور اور کلاسیکی ادب سے گہری وابستگی نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔
تابش ردولوی کی زیرِ نظر طویل نظم ( مختصر تاریخ زبان اُردو منظوم ) بہ معروف ” اُردو کی کہانی، اُردو کی زبانی ” جو اردو کے عظیم شعرا و ادبا کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، دراصل ان کے وسیع ادبی حافظے، گہرے مطالعے اور شعری وابستگی کا آئینہ ہے۔ اس نظم میں شبلی، سرشار، مرزا رسوا، حسرت، اقبال، فانی، پریم چند، یگانہ، فراق، حالی، اکبر اور غالب جیسے اکابرینِ ادب کو جس محبت، فنی شعور اور تہذیبی احترام کے ساتھ یاد کیا گیا ہے، وہ شاعر کی اپنی ادبی شخصیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
تابش ردولوی کا امتیاز یہ ہے کہ وہ محض ناموں کی فہرست مرتب نہیں کرتے بلکہ ہر شخصیت کے ساتھ اس کے فکری اور فنی جوہر کو بھی سمیٹ لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
’’چلتا پھرتا ہوا گاؤں ہے پریم چند‘‘
یہ ایک مصرع پریم چند کے پورے سماجی، دیہی اور انسانی منظرنامے کو زندہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح:
’’قرض اکبر نے اپنا ادا کر دیا
مجھ کو رنگِ ظرافت عطا کر دیا‘‘
میں اکبر الہ آبادی کی طنزیہ و ظریفانہ روایت سے شاعر کی قلبی وابستگی صاف محسوس ہوتی ہے۔
تابش ردولوی کی اس نظم کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں اردو ادب کی روایت محض ماضی کا حوالہ نہیں بنتی بلکہ ایک زندہ اور متحرک تہذیبی تسلسل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر اپنے اسلاف کو یاد کرتے ہوئے دراصل اپنی ادبی شناخت بھی متعین کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم پڑھتے ہوئے قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر اردو ادب کی پوری تاریخ کے درمیان کھڑا ہو کر اپنے بزرگوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہا ہو۔
ان کی شاعری میں ایک خاص طرح کی شگفتگی، روانی اور خطیبانہ آہنگ پایا جاتا ہے جو قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔ زبان سادہ مگر باوقار ہے، اور اسلوب میں وہی تہذیبی رکھ رکھاؤ موجود ہے جو لکھنؤی روایت کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
تابش ردولوی کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ان کی مسلسل ادبی فعالیت بھی ہے۔ رسائل و جرائد میں ان کا کلام تواتر کے ساتھ شائع ہوتا رہتا ہے، جو ان کی تخلیقی ریاضت اور ادب سے سنجیدہ وابستگی کا ثبوت ہے۔ وہ ان شعرا میں شامل ہیں جو ادب کو وقتی شہرت کے بجائے ایک تہذیبی ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ طویل نظم محض ایک ادبی تجربہ نہیں بلکہ اردو ادب کے اکابرین کے حضور عقیدت، مطالعے اور فکری احترام کا ایک خوبصورت منظوم اظہار ہے۔ اس تخلیق کے ذریعے تابش ردولوی نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی ادبی روایت سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ اس کے تسلسل کو آگے بڑھانے کا شعور بھی رکھتے ہیں۔
بلاشبہ تابش ردولوی نئی نسل کے اُن شعرا میں شمار کیے جانے کے مستحق ہیں جن کے یہاں روایت کا احترام بھی ہے، فکری وابستگی بھی، اور اظہار کا سلیقہ بھی۔ ان کی یہ نظم اردو ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے یقیناً ایک دلکش اور قابلِ مطالعہ تحفہ ثابت ہوگی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close