कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بیٹیاں، تعلیم، باحیا روزگار اور ہمارا معاشرہ

تحریر:شیخ عامر شیخ امان اللہ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو شری بنکٹ سوامی مہاودلیہ بیڑ،مہاراشٹر

مہنگائی کے اس دور میں ایک تنخواہ سے گھر چلانا بہت سے خاندانوں کے لیے مشکل ہو چکا ہے۔ بجلی، گیس، آٹے اور تعلیم کے اخراجات نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ ایسے میں بہت سی خواتین مجبوراً یا اپنی مرضی سے کمانے کے لیے گھر سے نکل رہی ہیں۔ کہیں انہیں سراہا جاتا ہے اور کہیں طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا رہنمائی دیتا ہے؟ قرآنِ مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام کی دو صاحبزادیوں کا ذکر آتا ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے تو لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے، اور ایک طرف دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے وجہ پوچھی تو انہوں نے سادگی سے بتایا کہ جب سب چرواہے چلے جائیں گے تب ہم پانی پلائیں گی، اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔ اس واقعے سے چند باتیں صاف سمجھ آتی ہیں
1۔ ضرورت کے وقت عورت کا کمانا ممنوع نہیں۔ گھر کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیٹیوں کا بکریاں چرانا قرآن میں بیان ہوا، اور اس پر کوئی نکیر نہیں کی گئی۔
2۔ کام کے ساتھ حیا لازم ہے۔ دونوں بہنوں نے بھیڑ سے الگ رہ کر انتظار کیا۔ روزگار کا اصل اصول یہ ہے کہ کام بھی ہو اور وقار بھی قائم رہے۔
3۔ مجبوری کی وجہ بھی بتائی گئی والد کی عمر اور کمزوری کے باعث وہ یہ ذمہ داری اٹھا رہی تھیں۔ اسلام نے گھر کی کفالت کی بنیادی ذمہ داری مرد پر رکھی ہے، مگر ہنگامی حالات میں عورت کا ہاتھ بٹانا قابلِ مذمت نہیں بلکہ قابلِ قدر ہے۔ بیٹیوں کی تعلیم والدین کی ذمہ داری اگر بیٹیوں کو باوقار انداز میں روزگار کمانا ہے تو اس کی پہلی سیڑھی تعلیم ہے۔ اسلام کی پہلی وحی کا آغاز ہی "اقرأ” یعنی "پڑھو” سے ہوا، اور یہ حکم مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی اچھی پرورش اور تربیت پر جنت کی خوش خبری بھی دی۔اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ بیٹیوں کو دینی اور عصری دونوں تعلیم دلوائیں۔ آج بھی بہت سے علاقوں میں بیٹی کو یہ کہہ کر اسکول سے اٹھا لیا جاتا ہے کہ "اسے پڑھا کر کیا کرنا ہے؟” یا کم عمری میں اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔ یہ سوچ نہ دین کے مطابق ہے، نہ معاشرے کے مفاد میں۔ تعلیم یافتہ بیٹی اپنے گھر، اپنے بچوں اور آنے والی نسل کو بہتر انداز میں سنبھالتی ہے۔ مشکل وقت آئے، مثلاً شوہر کا انتقال ہو جائے یا والد کا سہارا نہ رہے، تو یہی تعلیم اسے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچاتی ہے اور عزت کے ساتھ روزی کمانے کے قابل بناتی ہے۔ آج کے حالات میں ہمارا رویہ آج دفاتر، اسکولوں، اسپتالوں اور بازاروں میں کام کرنے والی خواتین کو ہراسانی، تنگ نظری اور غیر محفوظ ماحول جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کئی گھروں میں بیوہ، طلاق یافتہ یا بے سہارا خواتین اکیلی کمائی کا بوجھ اٹھا رہی ہیں، اور معاشرہ انہیں سہارا دینے کے بجائے انگلی اٹھاتا ہے۔ یہ رویہ نہ دین کی تعلیم ہے، نہ انصاف۔ ہمیں چاہیے کہ والدین بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح تعلیم دلوائیں اور انہیں ہنر سکھائیں۔
ملازمت کی جگہوں پر پردے، تحفظ اور عزت کا ماحول یقینی بنائیں۔ باحیا انداز میں رزقِ حلال کمانے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کریں۔ گھر کے مرد اپنی بنیادی کفالت کی ذمہ داری نہ چھوڑیں اور ضرورت مند خواتین کا سہارا بنیں۔ حکومت اور ادارے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے لیے محفوظ روزگار کے مواقع پیدا کریں۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عزت اور محنت ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ جو معاشرہ بیٹی کو تعلیم دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے تحفظ اور وقار کے ساتھ کمانے کا موقع فراہم کرتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں اسلامی معاشرہ کہلانے کا حق دار ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے