कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک جواں سال چراغ جو بجھ کر بھی روشنی بانٹ گیا

جواں سال عالمِ دین حافظ محمد ندیم اشاعتی رحمۃ اللہ علیہ، ان کی والدہ محترمہ اور معصوم صاحبزادی کی المناک حادثاتی وفات پر تعزیتی تاثرات

تحریر: شیخ عبداللہ سر
(معاون مدرس مدینۃ العلوم ہائی اسکول ناندیڑ )

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
بعض خبریں صرف کانوں تک نہیں پہنچتیں بلکہ سیدھی دل پر دستک دیتی ہیں۔ وہ انسان کو خاموش کر دیتی ہیں، آنکھوں کو اشکبار اور دل کو غم سے بوجھل کر دیتی ہیں۔ جواں سال عالمِ دین حافظ محمد ندیم اشاعتی رحمۃ اللہ علیہ، ان کی والدہ محترمہ اور ان کی معصوم صاحبزادی کی المناک حادثاتی وفات بھی ایسی ہی ایک دل خراش خبر ہے، جس نے ہر صاحبِ دل کو رنج و الم میں مبتلا کر دیا۔
زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے، مگر جب ایک باصلاحیت، صاحبِ فکر، خدمتِ دین کے جذبے سے سرشار جواں سال عالم اچانک اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو دل بے اختیار یہ محسوس کرتا ہے کہ ابھی تو اس چراغ سے بہت سی شمعیں روشن ہونا باقی تھیں۔ ان کی رحلت صرف ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ ایک روشن فکر، ایک تعمیری سوچ اور اتحادِ امت کے ایک مخلص داعی کی جدائی ہے۔
مجھے زندگی میں متعدد روایتی علماء کرام کو قریب سے دیکھنے، ان کے افکار و کردار کو سمجھنے کا موقع ملا، لیکن حافظ محمد ندیم اشاعتی رحمۃ اللہ علیہ جیسی دینی بصیرت، وسعتِ نظر اور اعتدال پسند فکر رکھنے والی شخصیت بہت کم دکھائی دی۔ وہ علم کے ساتھ حلم، اخلاص کے ساتھ حکمت اور روایت کے ساتھ تجدید کا حسین امتزاج تھے۔
ان کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ اختلافی مسائل کو موضوعِ گفتگو بنانے کے بجائے ہمیشہ اتحادِ امت، باہمی احترام اور اخوتِ اسلامی کو فروغ دیتے تھے۔ ان کے نزدیک اختلاف کو ہوا دینا نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنا اصل دینی خدمت تھی۔ ان کی گفتگو میں نرمی، ان کی فکر میں اعتدال اور ان کے کردار میں اخلاص نمایاں تھا۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی ان کی سوچ نہایت منفرد اور دور اندیش تھی۔ وہ اس بات پر مسلسل غور کرتے تھے کہ دینی مدارس میں جدید تدریسی طریقوں، مؤثر تعلیمی وسائل اور عصرِ حاضر کی مفید مہارتوں کو کس طرح شامل کیا جائے تاکہ مدارس کے طلبہ دین کے ساتھ ساتھ زمانے کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو سکیں۔ وہ جدید تعلیمی اداروں سے وابستہ ماہرینِ تعلیم سے مشاورت کو بھی ضروری سمجھتے تھے اور روایت و جدت کے امتزاج کے قائل تھے۔
تاہم میری نظر میں ان کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو بھی تھا، جو ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہے گا۔ وہ ہمارے محلے کی مسجد کے امام تھے، اور مجھے ان کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل رہی۔ ایک مقتدی کی حیثیت سے میں نے انہیں صرف محرابِ مسجد میں نہیں دیکھا بلکہ ان کے اخلاص، حسنِ اخلاق، عاجزی اور روحانی کیفیت کو بھی قریب سے محسوس کیا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں نہایت دل نشین، سوز و گداز سے بھرپور اور مؤثر آواز عطا فرمائی تھی۔ ان کی قرأتِ قرآن دلوں کو نرم کر دیتی تھی اور نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ ان کی تلاوت میں تجوید، خشوع اور سوز کا ایسا حسین امتزاج ہوتا تھا ۔
جمعہ کے خطبات میں بھی ان کا انداز نہایت مؤثر، حکیمانہ اور فکر انگیز ہوتا تھا۔ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں ملک کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے، امت کو اتحاد، صبر، عدل، اخلاق اور باہمی خیرخواہی کا درس دیتے اور اختلاف و انتشار کے بجائے محبت، اعتدال اور حکمت کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ ان کے خطبات میں دردِ دل بھی تھا، بصیرت بھی تھی اور اصلاحِ امت کی حقیقی تڑپ بھی۔
آج بھی وہ آخری ملاقات میرے ذہن میں تازہ ہے۔ انتقال سے قبل کی مغرب اور عشاء کی نماز ہمیں انہی کی امامت میں ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ نمازِ مغرب کے بعد ان سے مصافحہ ہوا، چند لمحوں کی گفتگو بھی ہوئی، لیکن کون جانتا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ثابت ہوگی۔ اس وقت نہ میرے وہم و گمان میں تھا اور نہ ہی کسی اور کے، کہ چند گھنٹوں بعد محراب کا یہ روشن چراغ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گا۔
آج جب اس آخری ملاقات کو یاد کرتا ہوں تو دل مزید رنجیدہ ہو جاتا ہے۔ نماز کے بعد ہونے والا وہ مصافحہ، وہ مختصر سی گفتگو اور وہ مسکراتا ہوا چہرہ بار بار نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ کو اپنے اس نیک بندے کی واپسی اسی وقت منظور تھی۔
اس المناک سانحے کا ایک اور پہلو مرحوم کی شخصیت کے حسنِ اخلاق، صلہ رحمی اور خاندانی محبت کا آئینہ دار ہے۔ جواں سال عالمِ دین حافظ محمد ندیم اشاعتی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے حقیقی بہنوئی سے غیر معمولی محبت اور قلبی وابستگی تھی۔ وہ رشتوں کی حرمت، صلہ رحمی اور خاندانی تعلقات کی پاسداری کو محض ایک سماجی روایت نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور نبوی تعلیم سمجھتے تھے۔
جب ان کی بہن اور بہنوئی عمرۂ مبارک کی سعادت حاصل کرکے وطن واپس لوٹ رہے تھے تو مرحوم نے خود حیدرآباد جا کر ان کے استقبال کا فیصلہ کیا۔ یہ سفر کسی دنیاوی منفعت یا ذاتی غرض کے لیے نہیں تھا بلکہ محبت، احترام، صلہ رحمی اور اپنے عزیزوں کی خوشیوں میں شریک ہونے کے پاکیزہ جذبے سے کیا جا رہا تھا۔
لیکن انسان کچھ اور سوچتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کچھ اور ہوتا ہے۔ ﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾۔ راہِ سفر ہی میں وہ اندوہناک حادثہ پیش آیا جس نے استقبال کے اس محبت بھرے سفر کو ہمیشہ کے لیے جدائی کے سفر میں بدل دیا۔ اس حادثے میں نہ صرف یہ جواں سال عالمِ دین ہم سے جدا ہو گئے بلکہ ان کی والدہ محترمہ اور ان کی معصوم صاحبزادی بھی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ یوں ایک ایسا شخص، جو اپنے عزیزوں کی خوشیوں میں شریک ہونے نکلا تھا، خود اپنے ربِ کریم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔
یہ واقعہ ہمیں زندگی کی بے ثباتی کا ایک گہرا سبق بھی دیتا ہے کہ انسان اپنے آنے والے کل سے بے خبر ہے۔ نہ کسی کو اپنی منزل کا علم ہے اور نہ اپنے آخری سفر کی گھڑی کا۔ اس لیے ہر لمحہ اپنے رب کی رضا، نیک اعمال، حسنِ اخلاق، صلہ رحمی اور خدمتِ خلق کے ساتھ گزارنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ مرحوم کی پوری زندگی بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔
اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ایک ہی حادثے میں ایک خاندان کی تین نسلیں ہم سے جدا ہو گئیں۔ جواں سال عالمِ دین، ان کی والدہ محترمہ اور ان کی معصوم صاحبزادی کا ایک ساتھ رخصت ہو جانا ایسا غم ہے جس کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ یہ سانحہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے سامنے اپنی بے بسی اور زندگی کی ناپائیداری کا شدت سے احساس دلاتا ہے۔
اگرچہ شہادت کا حقیقی فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے، لیکن میری عاجزانہ امید اور حسنِ ظن یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس المناک حادثے میں وفات پانے والے جواں سال عالمِ دین حافظ محمد ندیم اشاعتی رحمۃ اللہ علیہ، ان کی والدہ محترمہ اور معصوم صاحبزادی کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور اگر اس کی مشیت ہو تو انہیں شہادت کا اجر و مقام بھی نصیب فرمائے۔
آج ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے اعتدال، اتحادِ امت، اخلاص، حسنِ اخلاق، صلہ رحمی، خدمتِ دین اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے ان کی مثبت فکر کو آگے بڑھائیں۔ نیک لوگ اپنے جسمانی وجود سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا کردار، ان کی فکر، ان کی آواز اور ان کی دعائیں معاشرے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
آج بھی جب میں اپنی مسجد کی طرف دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ محراب خاموش ہے، مگر اس سے اٹھنے والی قرآنِ کریم کی پرسوز آواز اب بھی دل کی گہرائیوں میں گونج رہی ہے۔ ان کی جگہ کوئی اور امام ضرور کھڑا ہوگا، مگر وہ خلوص، وہ قرأت، وہ دردِ دل اور وہ محبت شاید مدتوں محسوس ہوتی رہے گی۔
بلاشبہ، وہ ایک جواں سال چراغ تھے، جو بجھ کر بھی روشنی بانٹ گئے۔
اللہ تعالیٰ جواں سال عالمِ دین حافظ محمد ندیم اشاعتی رحمۃ اللہ علیہ، ان کی والدہ محترمہ اور معصوم صاحبزادی کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی، علمی اور اصلاحی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، متعلقین اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کی نیکیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے