कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اقرارِ توحید اور شرک سے اعلانِ بیزاری

از قلم :- عبدالکریم اشعر
(اردھاپور۔ ضلع ناندیڑ ۔مہاراشٹرا)

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے ”
عقیدہ ء توحید ایمان کی اصل ہے ۔ اقرارِ توحید اور انکارِ شرک ہی اصل دین ہے ۔ اقرارِ توحید اور شرک سے اعلانِ بیزاری کے بغیر اللّٰہ کے نزدیک نہ تو ایمان معتبر ہے اور نہ اعمال قابلِ قبول ۔اسی لئے اللّٰہ ربّ العزّت نے بنی نوع انسان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے جتنے انبیاء و رُسل مبعوث فرمائے اُن تمام انبیاء و رُسل کی دعوت کا مرکزی نقطہ نظر توحید ہی تھا ۔
ہم نے ہر اُمّت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ اللّٰہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو "(سورہ نحل آیت 36)
ایک اور جگہ اللّٰہ ربّ العزّت ارشاد فرماتا ہے ۔
اور تم سب اللّٰہ کی بندگی کرو ،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ (سورہ نساء آیت 36)۔
یوں تو دعوتِ توحید تمام ہی انبیاء کی دعوت کا مرکزی نقطہ نظر رہی ہے لیکن سیدنا ابراھیمؑ کی سیرت اور آپؑ کی دعوتِ توحید اور توحید میں آپؑ کا مقام، امتیازی شان کا حامل ہے ۔ یہ شان اتنی بلند ہے کہ آپؑ کو امام الموحدین (توحید پرستوں کے امام ) کہا جاتا ہے ۔آخر کیا وجہ ہے جو سیدنا ابراھیمؑ کو توحید میں یہ مقام حاصل ہے؟ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں سیدنا ابراھیمؑ اور آپؑ کی دعوتِ توحید پر ۔
امام الموحدین سیدنا ابراھیمؑ کی پوری زندگی عقیدہء توحید سے عبارت تھی ۔ آپؑ آج سے تقریباً چار ہزارسال پہلے عراق کے شہر اُرمیں پیدا ہوئے ۔ آپؑ جب دنیا میں تشریف لائے اس وقت پوراعراق اور بالخصوص آپؑ کی جائے پیدائش قصبہ اُر شرک کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ خدا کے بندے خدا کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں بنائی ہوئی مورتوں کو خدا بنا بیٹھے تھے ان پتھر کی بے جان مورتوں کے علاوہ مظاہرِ قدرت یعنی چاند ،سورج، اور ستاروں کو معبود کا درجہ حاصل تھا اس کے علاوہ بادشاہِ وقت نمرود بھی خود ساختہ خدا بن بیٹھا تھا ۔خود ابراھیمؑ کا باپ آذر شہرِ اُر کا سب سے بڑا پروہت ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا بت گر بھی تھا ۔ کفر و شرک کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں سیدنا ابراھیمؑ کی بعثت ہوئی اور اللّٰہ نے آپؑ کو نبوّت سے سرفراز فرما کر پیغامِ توحید کو پہنچانے کی ذمےداری عطا فرمائی۔آپ نے سب سے پہلے تو بڑی حکمت اور دانائی سے مظاہرِ قدرت یعنی چاند سورج اور ستاروں کی بحیثیتِ خدا نفی کی جس کا نقشہ اللّٰہ ربّ العزّت نے اپنی کتاب میں کچھ یوں کھینچا ہے ۔
چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تارا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں”
پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میر ی رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا”
پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ پکار اٹھا اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو”(سورہ انعام آیت ۔76 تا 78)
پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے ببانگِ دہل عقیدہ توحید کا اعلان کر دیا ۔
میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں”(سورہ انعام آیت 79)
توحید کا یہ نعرہ جب بادشاہِ وقت تک پہنچا تو ایوانِ اقتدار لرز اٹھا ، نمرود غصے سے تلملا اٹھا ،آپ کو دربار میں بلوایا گیا ۔ عقیدہ توحید سے سرشار ابراھیمؑ کے پائے استقلال میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی ،اقتدار کی طاقت و قوت اور بادشاہِ وقت کا جاه و جلال بھی آپ کو اپنے عقیدہ توحید سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹا سکا اور آپ نے ایوانِ اقتدار میں بادشاہِ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کی جھوٹی خدائی سے انکار کرتے ہوئے خدائے وحدہُ لا شریک کی وحدانیت کا اقرار و اعلان کر دیا ۔
اور نہ صرف یہ کہ اعلانِ توحید کیا بلکہ کمالِ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قوم کے تمام معبودانِ باطلہ کا انکار کرتے ہوئے اپنے باپ ،اپنی پوری قوم اور حکومتِ وقت سے دشمنی اور بغاوت کا اعلان کر دیا ۔
تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ”(سورہ ممتحنہ آیت 4)۔
توحید کے اس بے باکانہ اعلان نے آپ کو اپنے باپ ،اپنی قوم اور حکومتِ وقت کی نظر میں معتوب بنا دیا ،باپ آپ کو عاق کرنے کی دھمکی دینے لگا ، حکومت اور قوم دھمکیاں دینے لگی کہ ابراھیمؑ اپنی دعوت سے باز آجاؤ ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا ۔ ان مشکل حالات میں ابراھیمؑ نے عملی توحید کا وہ فقید المثال مظاہرہ پیش کیا جس نے آپ کو امام الموحدین بنا دیا ۔ آپؑ نے اس وقت جب شہر کے تمام لوگ میلے میں گئے ہوئے تھے شہر کے سب سے بڑے معبد میں جا کر معبودانِ باطلہ کو پاش پاش کر دیا اور صرف سب سے بڑے بت کو صحیح سلامت چھوڑ کر کلہاڑی اس کے گلے میں ڈال دی ۔ جب لوگ واپس پہنچے اور اپنے معبودوں کی یہ حالت دیکھی تو سمجھ گئے کہ ہو نہ ہو یہ ابراہیمؑ کا کام ہے۔ ابراہیمؑ بلوائے گئے آپ سے جب پوچھا گیا کہ ابراھیمؑ کیا یہ تم نے کیا ہے؟ تو ابرا ھیمؑ نے جواب دیا اس بڑے بت سے پوچھو شاید اس نے غصّے میں ان کی یہ حالت کی ہو ۔ قوم کہنے لگی ابراہیمؑ کیا تم نہیں جانتے یہ بولتے نہیں ہیں ؟ابراہیمؑ فورًا کہنے لگے تو پھر تم ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ بات کچھ لوگوں کی سمجھ میں آئی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ توحید اور توحید کا نعرہ لگانے والوں کو کبھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا گیا ہے ۔ آواز اٹھی کہ ابراہیم نے ہمارے معبودوں کی توہین کی ہے اسے جلا ڈالو ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ آواز پوری قوم کی آواز بن گئی اور آگ بھڑکادی گئی ۔یہ آگ اتنی بلند تھی کہ اس کی لپٹیں دور دور تک پہنچ رہی تھیں ۔ قوم نے طے کیا کہ ایک بڑی غلیل بنائی جائے اور اس میں ڈال کر ابراہیمؑ کو آگ میں جھونک دیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور عقیدہ توحید سے سرشار ابراہیمؑ ،”اللّٰہ میرے لئے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے” کہتے ہوئی آگ میں کود پڑے۔
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی ”
ادھر توحید کا یہ مجسم پیکر اپنے جذبہ توحید سے سرشار آگ میں کود پڑا اُدھر اس خدائے وحدہُ لا شریک کی رحمت جوش میں آئی جس کی وحدانیت کا نعرہ ابراہیم نے ببانگِ دہل لگایا تھا ۔
ہم نے کہا اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر”(سورہ انبیا آیت 69)
وہ چاہتے تھے کہ ابراہیمؑ کے ساتھ بُرائی کریں مگر ہم نے ان کو بُری طرح ناکام کر دیا”(سورہ انبیاء آیت 70)
اس خدا کے خلیل نےخدا پر ایمان اور عقیدہ توحید کا وہ منظر پیش کیا کہ اللّٰہ نے اُنہیں دنیا کا امام بنا دیا .
یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزما یا اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا: میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں "(سورہ بقرہ آیت 124)
اللّٰہ ربّ العزّت نے نہ صرف یہ کہ ابراہیمؑ کو توحید پرستوں کا امام بنا دیا بلکہ آپ کو اپنا خلیل کہہ کر آپؑ کو اپنی وفاداری کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ عطا کر دیا۔
اور اس ابراھیم کے صحیفوں میں جس نے وفا کا حق ادا کر دیا (سورہ نجم آیت 37)۔
ابراھیمؑ کی پوری زندگی توحید پرستی سے عبارت ہے آپ نے توحید کے لئے ہر طرح کی مشکلیں، مصائب اور آزمائشیں برداشت کیں لیکن عقیدہ توحید کے نعرہ اور دعوت سے دستبردار ہونا گوارا نہیں کیا اور اللّٰہ کی توحید کا نعرہ اس طرح بلند کیا کہ اللّٰہ نے سیدنا ابراھیمؑ کو توحید پرستوں کا امام بنا دیا ۔
ابراھیم اور اُمتِ مسلمہ کا تعلق:-
میرے اور آپ کے آقا جنابِ محمد مصطفیٰؐ کی بعثت اور اُمتِ مسلمہ کی تخلیق ابراھیمؑ کی دعا کا نتیجہ ہے۔
اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع ) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے(سورہ بقرہ آیت 128)
اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے”(سورہ بقرہ آیت 129).
اُمتِ مسلمہ کو ملّت ابراہیمی کہا گیا ہے ۔ پچھلی تمام شریعتیں منسوخ ہونے کے بعد شریعتِ محمدی میں سنّت ابراہیمی یعنی قربانی و حج کو باقی رکھا گیا ہے ۔ ملّت ابراہیمی ہونے کے ناطے ہمیں اپنے باپ ابراھیمؑ کے جذبہء توحید کو زندہ کرنا تھا اور پیغامِ توحید کو عام کرنا تھا لیکن افسوس۔
بت شکن اٹھ گئے باقی جو بچے بت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں ”
آج اُمتِ مسلمہ کی اکثریت شرک میں مبتلا ہے ،اور یہی ہماری موجودہ پستی، ذلت و رسوائی کا سبب بھی ہے ۔ہم خدا کی وحدانیت کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن ہمارے عقائد میں شرک کی آمیزش ہے ۔ ہم خدا کو احکم الحاکمین تو کہتے ہیں لیکن خدا کے اقتدار اور حقِ قانون سازی میں نہ صرف یہ کے انسانوں کی شرکت گوارا کرتے ہیں بلکہ اس کے لئے باقاعدہ تگ و دو کرتے ہیں ۔ یاد رکھئے اللہ کو ایسی توحید نہ تو مطلوب ہے اور نہ قابلِ قبول ۔ موجودہ پر فتن حالات میں ہمیں پھر سے اسی جذبہ توحید کو اپنانے اور پیش کرنے کی ضرورت ہے جس توحید کا اقرار اور اعلان ہمارے باپ سیدنا ابراھیمؑ نے کیا تھا ۔اللّٰہ ہم سب کو سیدنا ابراھیمؑ کا سا جذبہء توحید عطا فرمائے اور ہمیں اپنی وفاداری کے جذبے سے سرشار فرمائے ۔اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین۔
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے