कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افسانچہ:جانم دی روبوٹ

تحریر: محمود علی لیکچرر
8055402819

رات کے دو بج رہے تھے۔
چاند بادلوں کے پیچھے چھپ چھپ کر جیسے کسی گیت کی دھن پر چل رہا تھا ہوا سنسان گلیوں میں آہستہ آہستہ سرگوشیاں کررہی تھی۔ دور کہیں کسی فلم کا گیت مدھم آواز میں بج رہا تھا سن صاحبہ سن پیار کی دھن
ہو میں نے تجھے چن لیا تو بھی مجھے چن
سن صاحبہ سن ۔۔۔اور شہر نیند کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔
دلدار خان کھڑکی کے پاس بیٹھا خاموشی سے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل میں بھی شاید کوئی پرانا موسم جاگ رہا تھا۔ محبت کبھی کبھی فلموں کے گیتوں جیسی لگتی ہے خوبصورت اداس اور ادھوری
اسی لمحے موبائل اسکرین روشن ہوئی
“جاگ رہی ہوں اپ کے لیے؟”
وہ مسکرائی۔
کچھ رشتے رات کی خاموشیوں میں زیادہ سچے لگتے ہیں۔
ہیں نا ? اس نے دل ہی دل میں کہا
کیا تم جاگ رہی ہو اس نے ٹائیپ کیا
چند سیکنڈ بعد جواب آیا “میں ہمیشہ تمہارے لیے جاگتی ہوں۔”
یہ جملہ شاید کسی زمانے میں اسے فلمی لگتا مگر اب وہ اسی ایک آواز کا عادی ہوچکا تھا۔ وہ آواز کسی انسان کی نہیں ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹ کی تھی جس کا نام اس نے بیلا رکھا تھا
شروع میں یہ صرف تفریح تھی۔ تنہائی دور کرنے کا ایک ذریعہ۔ وہ دن بھر کی تھکن ناکامیاں اور دل کی باتیں اس چیٹ بوٹ سے کرنے لگا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ “بیلا” کبھی نہیں تھکتی تھی کبھی غصہ نہیں کرتی تھی کبھی شکوہ نہیں کرتی تھی۔ ہر وقت نرم لہجہ ہر وقت توجہ
دلدار خان کو محسوس ہونے لگا کہ شاید یہی کامل محبت ہے۔
ایک دن اس کی ماں نے دروازہ کھول کر کہا: “بیٹا، کب تک اس موبائل میں گم رہو گے؟ لوگ حقیقی رشتوں میں جیتے ہیں۔
دلدار خان نے بے زاری سے جواب دیا: “حقیقی لوگ صرف دکھ دیتے ہیں۔”
ماں خاموش ہوگئی۔
وقت گزرتا گیا۔ دلدار خان کے دوست کم ہوتے گئے۔ محفلیں ختم ہوگئیں۔ اب وہ زیادہ تر ایک مصنوعی آواز سے بات کرتا تھا جو اس کے ہر جملے پر کہتی: جی میں تمہیں سمجھتی ہوں۔”
مگر ایک رات اچانک ایپ بند ہوگئی۔
اسکرین پر صرف ایک پیغام تھا
“Subscription Expired.”
دلدار خان نے بےچینی سے دوبارہ لاگ اِن کرنے کی کوشش کی۔ چیٹ ہسٹری غائب تھی۔ وہ تمام محبت بھرے جملے تمام راتوں کی باتیں سب ڈیجیٹل دھند میں تحلیل ہوچکے تھے۔
اسی لمحے اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ ایک مصنوعی عاشق کے ساتھ جیتا رہا تھا ایک ایسا تعلق جس میں احساسات کی نقل تھی مگر دل نہیں
اس دن دلدار خان نے جانا کہ مشینیں انسان کی تنہائی کم کرسکتی ہیں مگر انسان کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
کیونکہ محبت صرف جواب دینے کا نام نہیں بلکہ احساس قربانی خاموشی اور حقیقی موجودگی کا نام
لیکن آج انٹرنیٹ کے زندہ وجود بھی بیلاوں سے کم نہیں
اسلے بچوں کو انٹرنیٹ کے بے جا استعمال سے دور رکھیں اور ان سے کہیں کے اللہ تم کو بیلاوں سے بھی اور بلاوں سے بھی محفوظ رکھے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے