कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

احسان کا سود

تحریر: عارف محمد خان،جلگاؤں

ہر مہینے کی پانچ تاریخ کو ایک بوڑھی عورت پوسٹ آفس آتی تھی۔
کاؤنٹر پر سو روپے رکھتی، آر ڈی کی پاس بک میں اندراج کرواتی اور جاتے جاتے ایک ہی سوال پوچھتی:
"بیٹا، جادھو کا کچھ پتا چلا؟”
پوسٹ آفس کے ملازم اس سوال کے عادی ہوچکے تھے۔
"نہیں اماں، ابھی تک نہیں۔”
وہ خاموشی سے سر ہلا کر چلی جاتی۔
اکشے کو پوسٹ آفس میں آئے تین ماہ ہوئے تھے۔ چوتھے مہینے اس سے رہا نہ گیا۔
"اماں، یہ جادھو کون ہیں؟”
بوڑھی سگُنا بائی کچھ دیر خاموش رہیں، پھر بولیں:
"چالیس سال پہلے میرے شوہر کے ساتھ ایک گودام میں گنپت جادھو کام کرتے تھے۔ میری پہلی ولادت بہت مشکل تھی۔ ڈاکٹر نے پانچ سو روپے مانگے۔ ہمارے پاس ایک پیسہ نہیں تھا۔ گنپت نے اپنی پوری تنخواہ میرے شوہر کے ہاتھ پر رکھ دی اور کہا، ’بچہ پہلے، حساب بعد میں۔‘”
وہ رکیں۔
"انہی پانچ سو سے میرا بچہ بچ گیا۔”
"پھر جادھو کہاں گئے؟”
"گودام بند ہوا تو وہ اپنے گاؤں چلے گئے۔ پتا ایک کاغذ پر لکھ کر دیا تھا، مگر برسات میں کاغذ گل گیا۔ بس اتنا یاد رہا کہ گاؤں کے نام میں ’دیو‘ آتا تھا۔ چالیس سال تلاش کیا، مگر وہ نہیں ملے۔”
اکشے نے پوچھا:
"اور یہ سو روپے؟”
سگُنا بائی نے پاس بک کھولی۔
"رام بھاؤ نے کہا تھا، جب تک جادھو نہیں ملتے، ان کے پانچ سو الگ رکھتے جاؤ۔ قرض لے کر نہیں مرنا۔”
انہوں نے پانچ پرانی پاس بکس کاؤنٹر پر رکھ دیں۔
"پانچ سو اب ایک لاکھ بہتر ہزار ہوگئے ہیں۔”
اکشے حیران رہ گیا۔
سگُنا بائی مسکرائیں:
"اصل پانچ سو ہیں، بیٹا۔ باقی احسان کا سود ہے۔”
اسی شام اکشے نے آس پاس کے تمام پوسٹ آفسوں کو جادھو کا نام اور پرانی تفصیل بھیج دی۔
گیارہویں دن ساکھرپے سے جواب آیا:
گنپت جادھو مل گئے۔ نوّے برس کے ہیں، مگر زندہ اور خیریت سے ہیں۔
اگلی پانچ تاریخ کو سگُنا بائی حسبِ معمول آئیں۔
سو روپے کاؤنٹر پر رکھے اور سوال کرنے ہی والی تھیں کہ اکشے نے موبائل ان کے سامنے کردیا۔
اسکرین پر ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔
"اماں، جادھو مل گئے۔”
شام کو رام بھاؤ بھی پوسٹ آفس پہنچ گئے۔
دونوں بوڑھے اسکرین پر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
چالیس سال درمیان میں تھے، مگر پہچاننے میں ایک لمحہ بھی نہ لگا۔
"گنپیا…”
"راما…!”
رام بھاؤ نے پاس بکس دکھائیں۔
"تیرے پانچ سو واپس کرنے تھے۔ چالیس سال سے سنبھال رکھے ہیں۔ اب ایک لاکھ بہتر ہزار ہوگئے۔ پوتے کا کھاتا نمبر دے، سب بھیج دوں گا۔”
گنپت کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر بولا:
"راما، مجھے صرف پانچ سو بھیج دینا۔ باقی ساکھرپے کے اسکول کو دے دینا۔”
"کیوں؟”
گنپت مسکرایا:
"پانچ سو سے ایک بچہ بچا تھا۔ اب لاکھ روپے سے سو بچے پڑھنے دو۔”
رام بھاؤ کی آنکھیں بھر آئیں۔
"آج چالیس سال بعد سکون سے سوؤں گا، گنپیا۔”
ایک ماہ بعد ساکھرپے کے اسکول میں نئی کلاس روم بننے لگی۔
اس کی دیوار پر لکھا تھا:
"گنپت جادھو اور رام بھاؤ کی دوستی کی یاد میں۔”
اگلی پانچ تاریخ کو سگُنا بائی پھر پوسٹ آفس آئیں۔
سو روپے کاؤنٹر پر رکھے۔
اکشے نے پوچھا:
"اب کس لیے؟ قرض تو چکا دیا۔”
وہ مسکرائیں:
"چالیس سال کی عادت ہے، بیٹا۔ اب ساکھرپے جانے کے ٹکٹ کے لیے جمع کروں گی۔”
"کیوں؟”
سگُنا بائی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
"گنپت بھائی کے ہاتھ کی چائے ایک بار خود بیٹھ کر پینی ہے۔”
اکشے خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔
اس دن اسے سمجھ آیا کہ اصل مُدَّل پانچ سو روپے نہیں تھے۔
اصل مُدَّل وہ احسان تھا، جو چالیس برس تک دل میں محفوظ رہا۔
اور کچھ احسان…
رقم سے نہیں، نسلوں تک انسانیت بانٹ کر چکائے جاتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے