कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فوزیہ رباب: نسائی احساسات کی معتبر آواز

’’تری آنکھوں میں جو اک قطرہ چھپا ہے میں ہوں ‘‘

تحریر:مجیدعارف نظام آبادی
ریاض، سعودی عرب
majeedaarif@gmail.com

شاعری دراصل لفظوں کا ہنر نہیں، احساس کو لفظ عطا کرنے کا فن ہے۔ ہر شخص کے پاس جذبات ہوتے ہیں، ہر دل میں ایک داستان سانس لیتی ہے، ہر آنکھ میں کچھ خواب اور کچھ نمی چھپی ہوتی ہے۔ مگر شاعر وہ ہے جو اس خاموش واردات کو زبان دے دے، جو دل کی دھڑکن کو مصرع بنا دے اور آنکھ کے ایک قطرے میں ایک پوری کائنات دریافت کر لے۔
گواہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والی فوزیہ رباب اسی قبیلے کی معروف شاعرہ ہیں۔ان کا یہ مصرع
’’تیری آنکھوں میں جو اک قطرہ چھپا ہے، میں ہوں‘‘
ان کے شعری مزاج کا محض ایک خوب صورت نمونہ نہیں بلکہ ان کے فن کی ایک علامتی شناخت بھی ہے۔ "قطرہ”یہاں صرف آنسو نہیں’یہ ذات، یاد، محبت، ہجر، احساس اور پوشیدہ درد کا استعارہ ہے۔ شاعرہ نے اپنی موجودگی کو کسی عظیم اور پرشکوہ شے سے نہیں، بلکہ آنکھ کے ایک خاموش قطرے سے تعبیر کیا ہے۔ یہی انتخاب ان کے شعری شعور کی نزاکت اور ان کے تخلیقی مزاج کی انفرادیت کو آشکار کرتا ہے۔
فوزیہ رباب کی شاعری کا سب سے دل آویز پہلو یہ ہے کہ ان کے یہاں جذبہ لفظ پر غالب آتا ہے، مگر لفظ جذبے کو بے قابو نہیں ہونے دیتا۔ یہی توازن شعر کو محض جذباتی اظہار سے اٹھا کر فن کی سطح تک پہنچاتا ہے۔ ان کے ہاں محبت ہے تو اس میں خود سپردگی بھی ہے اور خود شناسی بھی، درد ہے تو اس میں شور نہیں، ایک مہذب سی خاموشی ہے، ہجر ہے تو اس میں ماتم نہیں، ایک گہری داخلی کسک ہے۔
ان کی شاعری کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعرہ اپنے قاری سے خطاب نہیں کرتیں، بلکہ اس کے دل کے اندر بیٹھ کر اس سے گفتگو کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شعر اجنبی محسوس نہیں ہوتا۔ وہ قاری کو اپنے تجربے کا تماشائی نہیں بناتیں بلکہ اسے اس تجربے کا شریک بنا لیتی ہیں۔یہی فوزیہ رباب کی شعری کشش کا حسن ہے۔
تیری آنکھوں میں جو اک قطرہ چھپا ہے، میں ہوں جس نے چھپ چھپ کے ترا درد سہا ہے، میں ہوں ایک پتھّر کہ جسے آنچ نہ آئی توٗ ہے
ایک آئینہ کہ جو ٹوٹ چکا ہے، میں ہوں
جس کو ہنس ہنس کے ہمیشہ ہی ہے ٹالا توٗ نے
جس نے رو رو کے تجھے اپنا کہا ہے، میں ہوں
معاصر شاعری میں ایک طرف لفظوں کی نمائش اور دوسری طرف خیال کی پیچیدگی کا رجحان نمایاں ہے۔ ایسے ماحول میں فوزیہ رباب کا شعری رویہ سادگی کی طرف مراجعت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہ سادگی سطحی یا سادہ لوحانہ نہیں ہےاس کے پس پشت ایک حساس تخلیقی شعور کارفرما ہے۔
ان کے ہاں عام لفظ، غیر معمولی کیفیت کا حامل ہو جاتا ہے۔آنکھ، آنسو، خاموشی، یاد، تنہائی، انتظار اور محبت جیسے مانوس الفاظ جب ان کے شعری پیکر میں داخل ہوتے ہیں تو محض لغوی معنی نہیں رکھتے بلکہ اپنے ساتھ ایک پورا جذباتی منظرنامہ لے آتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری روزمرہ زبان سے بلند ہو کر احساس کی زبان بن جاتی ہے۔
فوزیہ رباب کے ہاں لفظ چیختے نہیں، سرگوشی کرتے ہیں۔
وہ اپنے قاری پر کیفیت مسلط نہیں کرتیں، اسے کیفیت تک پہنچنے کا راستہ دکھاتی ہیں۔
فوزیہ رباب کی شاعری کو نسائی احساس کی لطیف تہوں سے الگ کرکے دیکھنا بھی ممکن نہیں۔ ان کے شعری اظہار میں ایک ایسی داخلی نرمی محسوس ہوتی ہے جو محبت کو محض رومان نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے انسانی وجود کی ایک بنیادی ضرورت بنا دیتی ہے۔
ان کے یہاں عورت محض عورت نہیں،وہ محسوس کرنے والی، یاد رکھنے والی، انتظار کرنے والی اور اپنے اندر ایک مکمل کائنات رکھنے والی شخصیت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں محبت کا تصور یک رخی نہیں۔ محبت کبھی قربت ہے، کبھی فاصلہ کبھی لمس ہے، کبھی یاد، کبھی مسکراہٹ ہے، کبھی آنکھ میں ٹھہرا ہوا آنسو۔
اور شاید اسی لئے ان کا شعر قاری کے دل میں دیر تک رہتا ہے۔کیونکہ وہ محبت کو بیان نہیں کرتیں، محبت کی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔
"قطرہ‘” اردو شاعری میں کوئی نیا استعارہ نہیں۔ آنسو، شبنم، خون، دریا اور قطرہ۔یہ سب ہماری کلاسیکی اور جدید شعری روایت میں بارہا برتے جا چکے ہیں۔ مگر کسی مانوس استعارے کی معنوی تازگی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ شاعر اسے کس نئے زاویے سے دیکھتااور برتتا ہے۔
فوزیہ رباب کا کمال یہ ہے کہ وہ ’قطرے’کو صرف آنسو کے طور پر نہیں دیکھتیں، بلکہ وہ اسے ذات کی علامت بنا دیتی ہیں۔”میں ہوں”یہ الفاظ پورے مصرعے کو ایک نئی معنوی جہت عطا کرتے ہیں۔شاعرہ گویا کہتی ہیں کہ میری شناخت کسی اعلان میں نہیں، کسی شور میں نہیں، بلکہ اس پوشیدہ نمی میں ہے جسے صرف ایک حساس نگاہ محسوس کر سکتی ہے۔
یہاں ’”میں”بھی محض شاعرہ کی ذات نہیں رہتی،یہ ہر اس شخص کی آواز بن جاتی ہے جس کی زندگی میں کوئی ایسا احساس موجود ہے جسے وہ دنیا سے چھپائے ہوئے ہے۔یہی شعر کی اصل قوت ہے کہ شاعر کا ذاتی تجربہ اجتماعی احساس میں تبدیل ہو جائے۔
فوزیہ رباب کے شعری مزاج کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو درد کی تہذیب ہے۔ان کے یہاں درد نمائش نہیں بنتا۔ وہ اپنے دکھ کو بازار میں نہیں لے جاتیں، اسے شعر کے پردے میں رکھتی ہیں۔ یہی پردہ ان کے اظہار کو وقار عطا کرتا ہے۔ایک اچھا شاعر اپنے زخم کو صرف دکھاتا نہیں، اسے معنی دیتا ہے۔
فوزیہ رباب بھی یہی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے ہاں دکھ ذاتی رہتے ہوئے بھی اجتماعی ہو جاتا ہے، تنہائی اپنی ذات سے نکل کر قاری کی تنہائی سے مل جاتی ہے اور آنسو محض نمی نہیں رہتا بلکہ ایک ایسی زبان بن جاتا ہے جسے ہر حساس انسان سمجھ سکتا ہے۔
فوزیہ رباب کی شاعری کی تاثیر کا اصل سرچشمہ شاید یہی ہے کہ ان کے لفظ ذہن سے پہلے دل پر دستک دیتے ہیں۔
یہ شاعری قاری سے فلسفیانہ مباحث کا تقاضا نہیں کرتی۔ وہ اسے اپنے احساس کے دروازے پر لے جاتی ہے۔ قاری کبھی کسی بھولی ہوئی محبت کو یاد کرتا ہے، کبھی کسی بچھڑے ہوئے شخص کی آواز سنتا ہے، کبھی اپنی ہی آنکھ میں چھپے ہوئے اس قطرے کو محسوس کرتا ہے جسے مدت سے نام نہیں دیا تھا۔یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر اور قاری کے درمیان فاصلہ مٹ جاتا ہے۔
شاعرہ کا ’میں’قاری کا ’”میں”بن جاتا ہے۔
اور یہی کسی بھی تخلیق کار کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اردو شاعری کی وسیع روایت میں ہر دور نے ایسی آوازیں پیدا کی ہیں جنہوں نے اپنی انفرادیت بلند آہنگی سے نہیں بلکہ احساس کی صداقت سے قائم کی۔ فوزیہ رباب کی شاعری کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ان کا شعری لہجہ نرم ہے، مگر کمزور نہیں، جذباتی ہے، مگر بے مہار نہیں، رومان پرور ہے، مگر سطحی نہیں۔
وہ محبت کو لفظ دیتی ہیں، مگر محبت کے ساتھ اس کی اداسی، اس کی خاموشی اور اس کی معنویت کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ان کی شاعری میں دل کی دھڑکن اور لفظ کی شائستگی ایک ساتھ چلتی ہے۔یہی امتزاج ان کے فن کو دل آویز بناتا ہے۔
فوزیہ رباب ان شاعرات میں سے ہیں جو قاری کو چونکانے کے بجائے ان کے دل کوچھو لینے کا ہنر جانتی ہیں۔ ان کے اشعار ذہن پر حملہ نہیں کرتے، دل میں اترتے ہیں۔ وہ اپنے کلام سے کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتیں، بس ایک احساس رکھ دیتی ہیں اور پھر قاری خود اس احساس کا مفہوم دریافت کرنے لگتا ہے۔
شاید اسی لیے ان کی شاعری پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی خاموش شام میں اچانک کسی نے دل کے بند دریچے پر آہستہ سے دستک دی ہو۔
اور پھر وہی ایک قطرہ…
آنکھ میں ٹھہرا ہوا۔
یاد میں روشن۔درد میں نم۔محبت میں زندہ۔
"تیری آنکھوں میں جو اک قطرہ چھپا ہے، میں ہوں”
یہ مصرع فوزیہ رباب کے شعری سفر کا ایک خوب صورت استعارہ بھی ہے اور ان کی شخصیت کا ایک لطیف تعارف بھی۔
وہ لفظوں کی ہجوم آفرینی سے نہیں، احساس کی خوشبو سے پہچانی جاتی ہیں۔
ان کی شاعری ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ کبھی کبھی پوری داستان کہنے کے لیے ایک آنسو کافی ہوتا ہے، پوری محبت بیان کرنے کے لیے ایک نگاہ کافی ہوتی ہے اور پوری شخصیت کا تعارف دینے کے لیے صرف ایک مصرع کافی ہوتا ہے۔
فوزیہ رباب بھی شاید ایسی ہی شاعرہ ہیں۔
جو شعر نہیں کہتیں، دل کے کسی خاموش گوشے میں ایک چراغ رکھ دیتی ہیں۔
ان کا مجموعہء کلام "آنکھوں کے اس پار” ادبی دنیا میں پذیرائی حاصل کرچکا ہے۔
نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں:
غزل
تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو
دیکھ کر مجھ کو گزر جاتے ہو حد کرتے ہو
نین تو یوں ہی تمہارے ہیں بلا کے قاتل
اس پہ تم روز سنور جاتے ہو حد کرتے ہو
میری آنکھوں سے بھی آنسو نہیں گرنے پاتے
میری آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہو حد کرتے ہو
میرے جذبات میں تم بہہ تو لیا کرتے ہو
کیسے دریا ہو اتر جاتے ہو حد کرتے ہو
میں بھی ہر روز تری مان لیا کرتی ہوں
تم بھی ہر روز مکر جاتے ہو حد کرتے ہو
تیری خوشبو کو زمانے سے چھپاؤں کیسے
تم جو چپ چاپ بکھر جاتے ہو حد کرتے ہو
تم تو کہتے تھے رباب اب میں تری مانوں گا
پھر بھی تم دیر سے گھر جاتے ہو حد کرتے ہو

غزل

مجھ کو تو کچھ اور دکھا ہے آنکھوں کے اس پار
تم بتلاؤ آخر کیا ہے آنکھوں کے اس پار
سپنا کوئی بکھر چکا ہے آنکھوں کے اس پار
دریا جیسے ٹوٹ پڑا ہے آنکھوں کے اس پار
لکھوں تیرا نام پڑھوں تو سانول تیرا نام
تیرا ہی بس نام لکھا ہے آنکھوں کے اس پار
بینائی تیرے رستوں کو تھام کے بیٹھی ہے
تیرے گھر کا در بھی وا ہے آنکھوں کے اس پار
آنکھوں کے اس پار تو جیسے دریا ٹھہر گیا
لیکن صحرا بکھر گیا ہے آنکھوں کے اس پار
دن تعبیر مری چوکھٹ پر لا کر رکھ دے گا
رات نے تیرا خواب بنا ہے آنکھوں کے اس پار
رکھ دیتا ہے ہاتھ آنکھوں پر غیر کو جب بھی دیکھوں
جانے ایسا کون چھپا ہے آنکھوں کے اس پار
اس کو جاتا دیکھ رہی ہیں ہنس ہنس کر یہ آنکھیں
جانے کیا کچھ بیت رہا ہے آنکھوں کے اس پار
اب تو آ کر دیکھے گا تو روتا جائے گا
ہم نے ایسا بین کیا ہے آنکھوں کے اس پار
بس اک خواب کی میت ہے اور ماتم داری ہے
ہم نے جا کر دیکھ لیا ہے آنکھوں کے اس پار
ہم نے تیری آنکھوں میں رہ کر محسوس کیا
کتنا درد چھپا رکھا ہے آنکھوں کے اس پار
اب دنیا کے چہروں میں تجھ کو میں کیا دیکھوں
دل نے تجھ کو دیکھ لیا ہے آنکھوں کے اس پار
لاکھ زمانہ بیچ آئے تو لاکھ ہو مجھ سے دور
لیکن بالکل پاس کھڑا ہے آنکھوں کے اس پار
کیوں نہ ہر اک جانب اب شہزادے کی صورت ہو
ہم نے اس کو نقش کیا ہے آنکھوں کے اس پار
تجھ کو تو آباد لگا کرتی ہیں یہ آنکھیں
ویرانی کا شہر بسا ہے آنکھوں کے اس پار
اوجھل اوجھل رہنے والا میری آنکھوں سے
مجھ سے کتنی بار ملا ہے آنکھوں کے اس پار
آنکھوں سے تو نکل پڑا ہے پل بھر میں لیکن
آنسو کا سامان بچا ہے آنکھوں کے اس پار
حیرانی اس پار سے آخر کر بیٹھی ہے کوچ
وہ کتنا حیران کھڑا ہے آنکھوں کے اس پار
تجھ کو بھی سرشار نہ کر دیں آنکھیں تو کہنا
ایک طلسم ہوش ربا ہے آنکھوں کے اس پار
پتھر ہو کر رہ جائیں گی آنکھیں موند ربابؔ
اب بھی اس کا خواب پڑا آنکھوں کے اس پار
***
مضمون نگار کئی کتابوں کے مصنف اور ویب سائٹ
www.mynizamabad.com
www.qalampubl.com
کے ایڈیٹر و سی ای او ہیں
***

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے