कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کے لیے نئے مواقع

تحریر : نکہت انجم ناظم الدین
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

دنیا جس تیزی سے بدل رہی ہے، اس کا اندازہ ہماری روزمرہ زندگی سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ چند برس پہلے تک بہت سے کام جن کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑتا تھا، آج وہی کام موبائل فون یا کمپیوٹر کے ذریعے گھر بیٹھے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ تعلیم ہو یا روزگار، کاروبار ہو یا معلومات کا حصول، ٹیکنالوجی نے زندگی کے کئی کاموں کو آسان بنا دیا ہے۔ اور نیکنالوجی کی اس بدلتی ہوئی دنیا میں دیگر افراد کے ستھ ہی ساتھ خواتین کے لیے بھی ترقی کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ خواتین کی زندگی مختلف ذمہ داریوں سے عبارت ہے۔ ان کا زیادہ تر وقت گھر کی دیکھ بھال، بچوں کی تربیت، افراد خانہ کی خدمت اور دیگر گھریلو امور میں صرف ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سبھی خواتین کے لیے باقاعدہ ملازمت اختیار کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کئی خواتین تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اور صلاحیت رکھنے کے باوجود بھی گھریلو مصروفیات کے باعث اپنی قابلیت کو عملی میدان میں استعمال نہیں کر پاتیں۔ لیکن اب ڈیجیٹل دنیا نے ان کے لیے یہ صورتِ حال بدلنے کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ اب کام کے لیے ہر بار دفتر جانے ضرورت نہیں رہی۔ بہت سے کام گھر بیٹھے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ یہی سہولت خواتین کے لیے ڈیجیٹل دنیا کی سب سے اہم خوبی ثابت ہورہی ہے۔ خواتین اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے لیے کچھ وقت نکال کر کوئی ہنر سیکھ سکتی ہیں اور پھر اسی ہنر کو روزگار کا ذریعہ بھی بنا سکتی ہیں۔ تحریر و ترجمہ، آن لائن تدریس، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب سائٹ، ڈیجیٹل تشہیر اور کئی دوسرے شعبے ایسے ہیں جہاں گھر بیٹھے کام کے مواقع موجود ہیں۔ ابتدا میں کام چھوٹا ہو سکتا ہے، آمدنی بھی کم ہو سکتی ہے، مگر یہی آغاز آگے بڑھنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے اپنی صلاحیت اور دلچسپی کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہر کام ہر شخص کے لیے موزوں ہو یہ ضروری نہیں۔ کسی کو لکھنے کا شوق ہے تو ہی وہ اس میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ کسی کی زبان پر اچھی گرفت ہے تو ترجمہ اس کے لیے مناسب شعبہ ہو سکتا ہے۔ جس خاتون کو پڑھانے کا تجربہ ہے وہ آن لائن تدریس کر سکتی ہے۔ کسی کو سلائی، کڑھائی، دستکاری یا کھانا پکانے میں مہارت حاصل ہے تو وہ اپنے ہنر کو کاروبار کی شکل دے سکتی ہے۔ ہمیں کامیابی اسی وقت ملتی ہے جب ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر اسے مسلسل بہتر بنانے کی کوشش کریں اور انھیں بروئے کار لائیں۔
ڈیجیٹل دنیا نے تعلیم کے امکانات بھی وسیع کر دیے ہیں۔ اب علم کچھ مخصوص کتابوں، ادارے یا شہر تک محدود نہیں رہا۔بلکہ اب دنیا بھر کے تعلیمی ذرائع تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ خواتین اپنی ضرورت اور دلچسپی کے مطابق مختلف مضامین اور ہنر سیکھ سکتی ہیں۔ خصوصاً وہ خواتین جن کی تعلیم کسی مرحلے پر رک گئی تھی، وہ دوبارہ سیکھنے کا سفر شروع کر سکتی ہیں۔ کسی نئی زبان کا علم حاصل کرنا ہو، کمپیوٹر سیکھنا ہو، کاروبار کے بنیادی اصول سمجھنے ہوں یا کسی فنی شعبے میں مہارت حاصل کرنی ہو، انٹرنیٹ پر بے شمار تعلیمی مواد دستیاب ہے۔ اس کے لیے کسی غیر معمولی صلاحیت کی ضرورت نہیں۔ روزانہ ایک گھنٹہ بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کسی مفید کام کے لیے مختص کیا جائے تو چند ماہ میں ہم اپنی قابلیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ علم کا سفر ہمیشہ ایک قدم سے شروع ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بے شمار خواتین ایسی ہیں جو مختلف ہنر رکھتی ہیں، مگر ان کے ہنر کی دنیا ان کے گھر اور قریبی حلقے تک محدود رہتی ہے۔ کسی کے ہاتھ کی کڑھائی خوب صورت ہے، کوئی نفیس کپڑے تیار کرتی ہے، کوئی گھر میں عمدہ کھانے بناتی ہے اور کسی کو خوب صورت دستکاری کا ہنر آتا ہے۔ پہلے ان مصنوعات کے خریدار تلاش کرنا مشکل تھا، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ڈیجیٹل ذرائع نے گھر میں تیار ہونے والی چیزوں کو وسیع بازار تک پہنچانے کی راہ ہموار کی ہے۔ ایک خاتون اپنی مصنوعات کی تصاویر اور تفصیلات لوگوں تک پہنچا سکتی ہے، آرڈر لے سکتی ہے اور مختلف ترسیلی ذرائع کے ذریعے سامان خریدار تک پہنچا سکتی ہے۔ اس طرح ایک گھریلو ہنر باقاعدہ کاروبار کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔لیکن یاد رہے کہ کاروبار کی کامیابی صرف مصنوعات کی تشہیر سے حاصل نہیں ہوتی ہے بلکہ معیار، مناسب قیمت، وقت کی پابندی اور صارف کے اعتماد کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ جب خواتین اپنے کام کو سنجیدگی سے لیں گی، اپنے صارفین کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھیں گی اور معیار پر سمجھوتہ نہیں کریں گی تو ان کے لیے آگے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ آئیے اب دیکھیں سوشل میڈیا کا استعمال۔ اس کا ستعمال ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہ استعمال اگر بے مقصد ہو تو ہمارا قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے لیکن اسے درست مقصد کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ علم، رابطے اور روزگار کا مفید ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسکا ستعمال کرکے خواتین اپنے علمی خیالات لوگوں تک پہنچا سکتی ہیں، اپنی تحریریں شائع کر واسکتی ہیں، تعلیمی مواد تیار کر سکتی ہیں اور اپنے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے شعبے سے وابستہ لوگوں سے رابطہ قائم کر کے نئے مواقع کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں مقصد واضح ہو۔ دوسروں کی زندگیوں کو دیکھتے رہنے کے بجائے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اس ذریعے سے فائدہ اٹھایا جائے۔ وقت کا درست استعمال ہمیں آگے لے جاتا ہے جبکہ بے مقصد مصروفیت منزل سے دور کر دیتی ہے۔ اس پلیٹ فارم کا استعمال خواتین کے لیے روزگار اور کاروبار کے حصول کا، نئے مواقع حاصل کرنے کا ایک اہم پہلو ثابت ہوسکتا ہے۔ جس سے مالی خود مختاری بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ اپنی محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی خواتین میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور انھیں مستقبل کے بارے میں بہتر منصوبہ بندی کا موقع دیتی ہے۔مالی خود مختاری کا مطلب یہ نہیں کہ سبھی خواتین کے لیے ملازمت یا کاروبار ضروری ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو خاتون کام کرنا چاہتی ہے اور اس کے پاس کوئی ہنر موجود ہے، اسے اپنی صلاحیت استعمال کرنے کے مناسب مواقع حاصل ہوں۔ ایک چھوٹی سی آمدنی بھی وقت کے ساتھ بچت، تعلیم یا کسی بڑے مقصد کی بنیاد بن سکتی ہے۔ گھر کے معاشی معاملات میں سمجھ بوجھ بھی اسی قدر اہم ہے۔ آمدنی کے ساتھ اخراجات کا حساب، بچت کی عادت اور مستقبل کی منصوبہ بندی مالی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔ ڈیجیٹل ذرائع نے خواتین کو مالی معلومات تک رسائی بھی آسان بنا دی ہے، اس لیے اس شعبے میں سیکھنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ مواقع بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے۔ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین بھی انٹرنیٹ کے ذریعے علم، تربیت اور کاروباری مواقع تک پہنچ سکتی ہیں۔ان علاقوں میں بہت سے ایسے روایتی ہنر پائے جاتے ہیں جو نسلوں سے چلے آ رہے ہیں۔ ہاتھ کی کڑھائی، دستکاری، روایتی لباس اور گھریلو مصنوعات اگر مناسب انداز میں لوگوں تک پہنچائی جائیں تو ان کے لیے نئے خریدار پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس طرح مقامی ہنر کی حفاظت کے ساتھ خواتین کے لیے آمدنی کے راستے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تربیت اور رہنمائی کی خاص ضرورت ہے۔ بس انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آن لائن دنیا میں کس طرح اپنا کام پیش کرنا ہے، صارفین سے کیسے رابطہ رکھنا ہے اور دھوکے سے کس طرح محفوظ رہنا ہے۔ بس یہ خیال رہے کہ ڈیجیٹل دنیا جتنے مواقع فراہم کرتی ہے، اتنی ہی احتیاط کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ انٹرنیٹ پر ہر شخص قابلِ اعتماد نہیں ہوتا اور ہر پیشکش قابل قبول نہیں ہوتی۔ بعض اوقات آسان اور فوری آمدنی کا لالچ دے کر لوگوں سے رقم یا ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ کسی بھی آن لائن کام یا کاروباری پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے اس کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کریں۔ اپنی ذاتی معلومات، پاس ورڈ، بینک سے متعلق تفصیلات اور اہم دستاویزات کسی غیر معتبر شخص یا ادارے کے حوالے نہیں کرنی چاہییں۔ مضبوط پاس ورڈ اور اضافی حفاظتی انتظامات کا استعمال بھی ضروری ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں کامیابی کے لیے صرف ہنرمند ہونا کافی نہیں ہے بلکہ سمجھ داری بھی ضروری ہے۔ جس طرح بازار میں خریداری کرتے وقت احتیاط کی جاتی ہے اسی طرح انٹرنیٹ پر بھی ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے۔خواتین کے لیے ڈیجیٹل روزگار کا ایک بڑا فائدہ گھر سے کام کرنے کی سہولت ہے، مگر اس سہولت کے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی آتی ہے۔ گھر اور کام کے درمیان حد قائم نہ ہو تو انسان ہر وقت مصروف رہ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کام کے لیے مناسب وقت مقرر کیا جائے۔ گھر والوں کو بھی اس وقت کا احترام کرنا چاہیے تاکہ عورت یکسوئی کے ساتھ اپنا کام مکمل کر سکے۔ اسی طرح عورت کو بھی اپنے کام کی ایسی ترتیب بنانی چاہیے جس سے گھر کی ضروری ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں۔ زندگی میں کامیابی صرف زیادہ کام کرنے کا نام نہیں۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو مناسب ترتیب دے اور اپنے وقت کو سمجھ داری کے ساتھ استعمال کرے۔
ڈیجیٹل دنیا ابھی اپنے ابتدائی سفر میں ہے۔ آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے مزید شعبوں میں داخل ہوگی۔ مصنوعی ذہانت، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل تجارت اور گھر سے کام کے نئے طریقے روزگار کی دنیا کو مزید تبدیل کریں گے۔اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں خواتین کے لیے سب سے اہم سرمایہ ان کی تعلیم، ہنر اور سیکھنے کی خواہش ہوگی۔ جو عورت وقت کے ساتھ اپنے علم میں اضافہ کرتی رہے گی، نئی مہارتیں حاصل کرے گی اور بدلتے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کرے گی، اس کے لیے نئے مواقع تلاش کرنا آسان ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے سمجھیں۔ ابتدا مشکل لگ سکتی ہے لیکن ہر نئی مہارت پہلے قدم سے شروع ہوتی ہے۔ موبائل کے کسی نئے فیچر کو سمجھنا، کمپیوٹر کا بنیادی استعمال سیکھنا، کسی تعلیمی کورس میں داخلہ لینا یا اپنے ہنر کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرنا۔ یہ سب مستقبل کی طرف اٹھائے گئے چھوٹے مگر اہم قدم ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا نے خواتین کے سامنے امکانات کی ایک وسیع دنیا کھول دی ہے۔ اس دنیا میں تعلیم بھی ہے، روزگار بھی، کاروبار بھی، اظہار کا موقع بھی اور اپنی صلاحیت کو پہچاننے کی گنجائش بھی۔ مگر ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سمت کا تعین، علم کا حصول اور مسلسل محنت ضروری ہے۔
ڈیجیٹل دور نے خواتین کے سامنے جو مواقع رکھے ہیں، ان کی قدر اسی وقت ہوگی جب انہیں سمجھ داری، محنت اور مثبت مقصد کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ ٹیکنالوجی خود کسی کی منزل نہیں یہ منزل تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اصل قوت عورت کے عزم، صلاحیت، علم اور مسلسل جدوجہد میں ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے