कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یہ ہمارے اسکولوں میں کیا ہورہا ہے ؟

پیشکش: محمد شہزاد جامعی

محترم قارئین 26/ جنوری کی آمد آمد ہے ، بہت سے سرپرست شکایت کررہے ہیں، کہ 15 اگست، 26 جنوری یا دیگر تقاریب میں بچیوں کو ڈانس جیسی سرگرمیوں میں شامل کرنا اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے یا نہیں ؟ ان کا سوال اس موقع پر بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے ،اس لیے کہ اب کچھ دین واسلام کے نام پر چلنے والے اسکول بھی اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال رہے ہیں ۔
چند سرپرستوں کے ایماء پر یہ تحریر پیش خدمت ہے، یہ تحریر عمومی ہے کسی ایک اسکول کو نشانہ بنانا مقصود نہیں ہے ، مقصد صرف یہ ہے کہ ایسی غیر ضروری اور بے دینی کو عام کرنے والی چیزوں سے ذمہ داران نے احتیاط کرنا چاہیے ۔
آج ہماری یہ بچیاں مستقبل کی عورتیں ہیں ،اور اسلام نے خواتین کو عزت و احترام کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا ہے ،اور ان کی حیا اور عفت کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ عورتوں کی عزت اور حیا قرآن میں بھی ہے سبحانہ وتعالی نے عورتوں کو پردے اور حیا کا حکم دیا ہے ،اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور اگلے زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نہ دکھاتی پھرو۔”(سورہ احزاب: 33)
اور مؤمن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔”(سورہ نور: 31)
2. احادیث مبارکہ:
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’حیا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘(صحیح بخاری: )
’’ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے، اور اسلام کی خصلت حیا ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ: 4181)
اگر ہم مستقبل میں اپنی بچیوں سے قرآنی آیات پر عمل کی امید رکھتے ہیں، تو ہمیں ذیل کے امور پر دھیان دینا ہوگا ۔
بچیوں کو غیر مناسب سرگرمیوں سے بچانے کی ذمہ داری:
اسکول، والدین، اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں اور بچیوں کو ان سرگرمیوں سے بچائیں جو ان کی عزت، وقار، اور اسلامی شناخت کے خلاف ہوں۔ ڈانس یا دیگر ایسے مظاہرے بچیوں کی حیا اور عفت کے منافی ہیں اور ان کے جذباتی اور دینی اقدار کو متاثر کرتے ہیں۔
اس عمل کے نقصانات:
1. حیا کا نقصان:
بچیوں کے دل سے حیا اور پردے کا شعور کمزور ہوتا ہے۔
2. معاشرتی اثرات:
اس عمل سے بچوں اور بچیوں میں مغربی ثقافت کی تقلید کی عادت پروان چڑھتی ہے۔
3. قیامت کے دن جوابدہی:
والدین، اساتذہ، اور منتظمین کو ان غیر اسلامی سرگرمیوں کے بارے میں قیامت کے دن جواب دینا ہوگا۔
نصیحت اور اصلاح:
سرپرست حضرات اسکول والوں سے ادباً اور محبت بھرے انداز میں یہ گذارش کر سکتے ہیں کہ:
1. اسلامی تعلیمات کی یاد دہانی کرائیں: بچیوں کو دین کی روشنی میں عزت و وقار سکھانے کی تاکید کریں۔
2. متبادل پیش کریں: ایسی تقریبات میں بچوں کو نعت خوانی، تقاریر، اسلامی کہانیاں، اور ثقافتی مظاہرے جیسے مثبت اور تعلیمی سرگرمیوں میں شامل کریں۔
3. بچوں کے حقوق: بچوں کے مستقبل اور شخصیت سازی میں دینی تربیت کو اہمیت دینے پر زور دیں۔
یہ نصیحت قرآن و سنت کی روشنی میں نرم گفتاری کے ساتھ کی جائے تاکہ دلوں پر اثر ہو اور اصلاح ممکن ہو۔
4: اگر اس کوشش کے باوجود بھی معاملہ ویسا ہی رہا تو کسی اور اچھے اسکول کا انتخاب کریں ، اچھے اسکول، کم یاب ضرور ہیں مگر نایاب نہیں ۔
اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے