कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ساغر کی شاعری نے اردو زبان کو جلا بخشی:یوم وفات پر خصوصی پیشکش

تحریر: ڈاکٹر سعید اللہ ندوی(ناظم اعلیٰ جامعۃ الحسنات للبنات دوبگا لکھنؤ)

مشہور معروف شاعر و ادیب ساغر صدیقی 1928ء میں شہرانبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی نام محمد اختر تھا۔ ساغر صدیقی نے اپنے گھر میں بچپن سے بڑی غربت دیکھی تھی۔ اس غربت میں ا سکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل کرنے کا امکان نہ تھا۔ محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن کے یہاں ساغر آنے جانے لگے۔ انہوں نے ساغر کو ابتدائی تعلیم دی۔ ساغر کا دل انبالہ کی عسرت و تنگدستی سے اچاٹ ہو گیا تو وہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں امرتسر آگئے۔ یہاں ساغر نے لکڑی کی کنگھیاں بنانے والی ایک دکان پر ملازمت کر لی اور کنگھیاں بنانے کا فن بھی سیکھ لیا۔ اس دوران شعر گوئی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ شروع میں قلمی نام ناصر حجازی تھا لیکن جلد ہی بدل کر ساغر صدیقی کر لیا۔ ساغر اپنے اشعار بے تکلف دوستوں کو سنانے لگے۔ 1944ء میں امرتسر میں ایک آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں شرکت کے لیے ملک کے کونے کونے سے بڑے بڑے شعراء تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان میں ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ ایک ’’لڑکا‘‘ (ساغر صدیقی) بھی شعر کہتا ہے اوراسکی شاعری میں بڑی حساسیت اور جذباتیت ہے انہوں نے منتظمین مشاعرہ سے سفارش کرکے اسے مشاعرے میں پڑھنے کا موقع دلوا دیا۔ ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا، ترنم کی روانی تھی، جس سے انہوں نے اس مشاعرے میں سب کا دل جیت لیا۔ اس مشاعرے سے انہوں نے شہرت کی بلندیوں کو چھو نا شروع کیا۔ اس کے بعد ساغرکو بڑے بڑے مشاعروں میں دعوت دی جانے لگی اورلوگ ساغرصدیقی کو بڑیشوق سے سنتے اور خوب داد دیتے شاعری ساغر کے لیے وجۂ شہرت کے ساتھ ساتھ وسیلۂ روزگار بھی بن گئی اور اس طرح نوجوان شاعر ساغر صدیقی نے کنگھیوں کے کام کی ملازمت کو خیر آباد کہہ دیا اور پورے انہماک کے ساتھ شعر و شاعری پر اپنی توجہ مرکوز کر لی بڑی قلیل مدت میں آپ نے شاعری میں ایسا نام پیدا کیا کہ اپنے وقت کے ممتاز شعراء میں آپ کا شمار ہونے لگا آپ کی آواز میں بلا کا سوز تھا آپ اپنے ترنم سے لوگوں کے دلوں مسحور کر دیتے اور لب و لہجہ کے زیر و بم سے اس چار چاند لگا دیتے َ
تقسیمِ ہند کے بعد ساغر امرتسر سے لاہور چلے گئے۔ ساغر نے اصلاح کے لیے لطیف انور گورداسپوری کی طرف رجوع کیا اور ان سے بہت فیض پایا۔ 1947ء سے لے کر 1952ء کا زمانہ ساغر کے لیے سنہرا دور ثابت ہوا۔ اسی عرصے میں کئی روزناموں، ماہوار ادبی جریدوں اور ہفتہ وار رسالوں میں ساغر کا کلام بڑے نمایاں انداز میں شائع ہوتا رہا اورلوگوں نے انکے کلام کو خوب پسند کیا فلمی دنیا نے ساغر کی مقبولیت دیکھی تو کئی فلم پروڈیوسروں نے ان سے گیت لکھنے کی فرمائش کی اور انہیں معقول معاوضہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ 1952ء کے بعد ساغر کی زندگی میں ایک نیا بھونچال آیا اور انکی زندگی خراب صحبت کی بدولت ہر طرح کے نشے کا شکار ہو گئی۔ وہ بھنگ شراب، افیون اور چرس وغیرہ کثرت سے استعمال کرنے لگے۔ اسی عالم مدہوشی میں بھی مشقِ سخن جاری رہتا اور ساغر غزل، نظم، قطعہ اور فلمی گیت ہر صنف سخن میں شاہکار تخلیق کرتے جاتے۔ اس دور مدہوشی کے آغاز میں بھی لوگ انہیں مشاعروں میں لے جاتے جہاں ان کے کلام کو بڑی پذیرائی ملتی۔ساغر کی شاعری میں احساس کمتری کا کہیں شائبہ نظر نہیں آتا آپ کی شاعری سے آپ کی حوصلہ مندی اور بلند ہمتی کا اندازہ ہوتا ہے َ
ان کی تصانیف میں ’زہر آرزو‘، ’غم بہار‘، شب آگہی‘، ’لوح جنوں‘، ’سبز گنبد‘، ’مقتل گل‘۔ ’’کلیات ساغر ‘‘ شامل ہیں۔ جنکی وجہ سے اردو دُنیا میں آپ کا نام ہمیشہ باقی رہے گا آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو زبان کی بے پناہ خدمت کی جس کے لیے اردو دْنیا ہمیشہ آپ کی شکر گزار رہے گی جنوری 1974ء میں وہ فالج میں مبتلا ہو گئے۔ اس کی وجہ سے ان کا دایاں ہاتھ ہمیشہ کے لیے بے کار ہو گیا۔ پھر کچھ دن بعد منہ سے خون آنے لگا، جسم سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو گیا۔ ساغر صدیقی کا آخری وقت داتا دربار کے سامنے پائلٹ ہوٹل کے فٹ پاتھ پر گذرا اور ان کی وفات 19 جولائی 1974ء کی صبح کو اسی فٹ پاتھ پر ہوئی۔ انھیں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک کیا گیا۔ ہر۔ ساغر صدیقی بڑے سادہ مزاج اور ملنسار شخصیت کے حامل تھے گفتگو بڑی سلیس کرتے تھے اگر کوئی نا پسند ہوتی تو منھ پر اس کا اظہار کر دیتے تھے آخری دور میں شراب و کباب کی وجہ سے صحت بہت خراب ہو گئی تھی جس کی وجہ سے بیماریوں گھیر لیا تھا سال ان کے مزار پر عرس کا انعقاد ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے