कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پرفریب دورمیں بے شعوری کاانجام

تحریر:محمد اخلاق ندوی ،سندیلوی
8081718017

ایسا دور آ گیا ہے کہ ہماری زندگی میں ٹھہراؤ بہت کم رہ گیا ہے۔ وقت برق رفتاری سے گزر رہا ہے، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس تمام بھاگ دوڑ کے درمیان ہماری اپنی ذات سے ملاقات ہی نہیں ہو پاتی۔ ہم دن بھر مصروف رہتے ہیں، لیکن کبھی یہ سوچنے کی فرصت نہیں ملتی کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں، ہماری منزل کیا ہے اور ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم انسان سے زیادہ مشین بن چکے ہیں۔ ہماری زندگی کا بیشتر حصہ ایک ایسے مشینی نظام کے تابع ہو گیا ہے، جس میں احساس، غور و فکر، احتساب اور تدبر کے لیے بہت کم جگہ باقی رہ گئی ہے۔ اسی مشینی زندگی کا نتیجہ ہے کہ ہم جن فتنوں میں گھر چکے ہیں، ایمان و عقیدہ کی جن کمزوریوں اور اعمال کی جن خرابیوں میں مبتلا ہیں، ان کا ہمیں صحیح احساس تک نہیں ہو پاتا۔ ہماری بے خبری ہی ہماری سب سے بڑی محرومی بن گئی ہے۔
اسی بے شعوری کے باعث ہم صحیح اور غلط، حق اور باطل، خیر اور شر میں تمیز کرنے کی صلاحیت بھی کھوتے جا رہے ہیں۔ ہم ظاہری چمک دمک سے تو فوراً متاثر ہو جاتے ہیں، لیکن حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی چیزیں ہمارے سامنے برائی ہوتے ہوئے بھی اچھائی معلوم ہوتی ہیں اور بہت سی حق باتیں ہمیں ناگوار محسوس ہونے لگتی ہیں۔
اگر اپنی اس بے شعوری اور بے حسی کا اندازہ لگانا ہو تو ذرا اپنے تعلیمی نظام اور اپنی ترجیحات پر نظر ڈال لیجیے۔ ہم اپنی نسلوں کو بغیر کسی سنجیدہ غور و فکر کے مختلف قسم کے اسکولوں اور اداروں میں بھیج دیتے ہیں۔ ہمیں اس بات کی چنداں فکر نہیں ہوتی کہ ہمارے بچے وہاں کیا سیکھ رہے ہیں، ان کی فکری اور ذہنی تشکیل کس رخ پر ہو رہی ہے، ان کے اخلاق و کردار کی بنیادیں کس نوعیت کی رکھی جا رہی ہیں، اور ان کے اندر دین، انسانیت، خدمت اور ذمہ داری کا شعور پیدا بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔خدشہ یہ ہے کہ جب یہی بچے عملی زندگی میں قدم رکھیں تو وہ مضبوط کردار کے حامل انسان بننے کے بجائے صرف ’موم کے سپاہی‘ ثابت ہوں، جو حالات کے معمولی دباؤ سے بھی پگھل جائیں۔ پھر وہی منظر سامنے آتا ہے جس کی ترجمانی شاعر نے بڑے درد کے ساتھ کی ہے:؎
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں۔
ہماری اسی بے تدبیری اور غفلت کا نتیجہ ہے کہ ہماری نئی نسل زندگی کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے۔ وہ معاشرے کے لیے نفع بخش سرمایہ بننے کے بجائے صرف لینے کی عادی ہو جاتی ہے، دینے کی صلاحیت اور جذبہ پیدا نہیں کر پاتی، کیونکہ اس کی تربیت ہی اس انداز سے نہیں ہوئی کہ وہ امت، معاشرے اور انسانیت کے لیے مفید کردار ادا کر سکے۔
تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے۔ امام ابن جوزی ؒ نے ’سیرۃ عمر بن عبدالعزیز‘ میں ایک نہایت سبق آموز واقعہ نقل کیا ہے۔ ایک مرتبہ خلیفہ منصور نے حضرت عبدالرحمن بن قاسم ؒسے عرض کیا:’ہمیں کوئی نصیحت فرمائیے۔‘انہوں نے فرمایا:’جب حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا انتقال ہوا تو وہ گیارہ بیٹے چھوڑ گئے، لیکن ان کے ترکے میں صرف تیرہ دینار تھے۔ ان میں سے ۵؍دینار کفن پر خرچ ہوئے اور دو دینار قبر کی تیاری میں صرف ہوئے، باقی رقم گیارہ بیٹوں میں تقسیم ہو گئی۔دوسری طرف جب ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہوا تو اس نے بھی گیارہ بیٹے چھوڑے، مگر بے شمار مال و دولت چھوڑ گیا۔ ہر بیٹے کے حصے میں دس لاکھ درہم آئے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے ہر بیٹے نے اللہ کی راہ میں جہاد کے موقع پر ایک سو گھوڑے پیش کیے، جبکہ ہشام بن عبدالملک کے بیٹوں میں سے ایک کو میں نے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے اور بھیک مانگتے ہوئے دیکھا۔‘
یہی وہ بنیادی فرق ہے جو تقویٰ کی وراثت اور صرف مال کی وراثت میں ہوتا ہے۔ دولت ہمیشہ برکت کی ضمانت نہیں بنتی، بلکہ حقیقی برکت صالح کردار، اعلیٰ اخلاق، پاکیزہ تربیت اور اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد سے حاصل ہوتی ہے۔ مال ختم ہو سکتا ہے، مگر کردار کی دولت نسلوں تک باقی رہتی ہے۔اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ نبی کریم ؐنے دجال کی آمد سے پہلے جس زمانے کو ’دھوکے اور فریب کا دور‘ قرار دیا تھا، ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسا زمانہ جس میں اقدار الٹ جائیں گی، معیار بدل جائیں گے، اور حق و باطل کے درمیان امتیاز مٹتا چلا جائے گا۔اس دور کی نمایاں نشانی یہ ہے کہ جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا، خائن کو امانت دار کہا جائے گا اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا۔ فیصلے حقائق کی بنیاد پر نہیں، بلکہ پروپیگنڈے، مفادات اور جذبات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ یہی وہ فتنہ ہے جس نے انسانی فکر کو مفلوج کر دیا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہماری مشینی زندگی نے ہمارے احساس، شعور اور ادراک کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کھوتے جا رہے ہیں۔ ہم اطلاعات کے سیلاب میں تو بہہ رہے ہیں، مگر علم و حکمت کی روشنی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ معلومات کی فراوانی نے ہمیں صاحبِ بصیرت نہیں بنایا، بلکہ اکثر اوقات مزید الجھنوں میں مبتلا کر دیا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کچھ ٹھہراؤ پیدا کریں، اپنے اندر محاسبہ نفس کی عادت پیدا کریں، اور اپنے دل ودماغ کو کتاب اللہ اور سنت رسول ؐ کی روشنی سے منور کریں۔ فتنوں کے اس دور میں شعور ہی سب سے بڑی ڈھال ہے اور بصیرت ہی سب سے مؤثر ہتھیار۔ جب تک ہم طالبِ حق بن کر قرآن و سنت کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، اس وقت تک نہ ہماری فکری گرہیں کھلیں گی اور نہ ہمارے اندر حق کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ یہی بصیرت ہماری اندھی آنکھوں میں سرمہ بن کر اترے گی اور یہی سرمایہ دنیا و آخرت میں ہماری کامیابی کا ذریعہ بنے گا، ان شاء اللہ۔
ہمارے زمانے میں دروسِ قرآن کا سلسلہ اگرچہ خوش آئند حد تک بڑھا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر مقامات پر قرآن کو ایک زندہ کتاب کے بجائے صرف تاریخی واقعات کی کتاب بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ آیاتِ قرآنی کو عصرِ حاضر کے مسائل، معاشرتی چیلنجز اور انسانی زندگی کی عملی رہنمائی سے جوڑنے کی کوشش کم دکھائی دیتی ہے۔ نتیجتاً سننے والے کے اندر نہ فکری انقلاب پیدا ہوتا ہے اور نہ عملی بیداری۔ جب قرآن زندگی کی رہنمائی کے بجائے صرف تلاوت یا واقعات تک محدود ہو جائے تو معاشرہ شعور سے محروم رہ جاتا ہے۔
اگر ہم نے اب بھی اپنی فکر، اپنی ترجیحات، اپنی نسلوں کی تربیت اور قرآن و سنت سے اپنے تعلق کا ازسرنو جائزہ نہ لیا تو بعید نہیں کہ ہم آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے رہ جائیں، کان رکھتے ہوئے بھی حق کی آواز نہ سن سکیں اور دل رکھتے ہوئے بھی حقیقت کا ادراک کھو بیٹھیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ بصیرت دیں، صرف روزگار نہیں بلکہ کردار دیں، صرف دنیا کمانے کا ہنر نہیں بلکہ آخرت سنوارنے کا شعور دیں۔ یہی شعور آنے والے فتنوں سے ہماری حفاظت کرے گا اور یہی ہماری اجتماعی بقا کی ضمانت بنے گا۔
مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
اپنے خورشید پہ پھیلا دیے سائے ہم نے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے