कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسانی جان اتنی سستی کیوں ہوگئی؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی
22 محرم الحرام 1448ھ

آج ملک ہندوستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی اخبار کے صفحات ہوں یا موبائل کی اسکرین ہر طرف قتل عصمت دری ظلم بربریت لوٹ مار اور بے رحمی کی خبریں گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی جان کی حرمت ختم ہوتی جارہی ہے اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے۔
کہیں شوہر کا قتل کہیں بیوی کا قتل کہیں بھائی کا قتل کہیں معصوم بچی کا قتل کہیں عاشق کا قتل کہیں محبوبہ کا قتل کہیں باپ کا قتل کہیں بہن کا قتل کہیں دوست کا قتل کہیں رشتہ دار کا قتل اور کہیں پڑوسی کا قتل۔ آخر اس ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ انسانی جان آخر اتنی سستی کیوں ہوگئی ہے؟
اطلاعات کے مطابق حال ہی میں راجستھان میں ایک نہایت افسوس ناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ ایک معصوم تیرہ سالہ طالبہ اسکول سے اپنے گھر واپس لوٹ رہی تھی۔ راستے میں جب وہ ایک رکشے میں سوار ہوئی تو مبینہ طور پر رکشہ ڈرائیور اسے ایک ہوٹل تک لے گیا جہاں اس کے ساتھ 32 نوجوانوں نے گروپ بناکر 5 دن تک لگاتار ان کی عزت و عصمت کو پامال کیا اسے مختلف مقامات پر لے جایا گیا اور بعد ازاں وہ معصوم جان اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ یہ واقعہ پوری انسانیت کیلئے بہت بڑا سانحہ ہے۔
اسی طرح دہلی سے بھی ایک افسوس ناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک خاتون نے معمولی گھریلو اختلاف پر اپنے شوہر کو قتل کردیا۔
کشن گنج میں رضوان نامی ایک شخص کی شادی ہوئی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد وہ روزگار کی غرض سے بیرونِ ملک چلا گیا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کی بہتر پرورش کرسکے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کے ناجائز تعلقات قائم ہوگئے۔ روزانہ کئی کئی افراد آتے اور ان کے ساتھ ہمبستر ہوکر جاتے عورت کا کہنا ہے مجھے خود نہیں معلوم کتنے لوگوں کے ساتھ میں سوئی ۔جب اس کا شوہر تقریباً تین سال بعد واپس اپنے گھر آیا تو مبینہ طور پر بیوی نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اسے قتل کردیا تاکہ ان کے تعلقات کا راز فاش نہ ہو اور وہ بدنامی سے بچ سکیں۔ انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر انسان کی وفاداری محبت اور رشتوں کی حرمت کو کیا ہوگیا ہے؟
چند دن پہلے پونے مہاراشٹر میں بھی ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک لڑکی نے شادی سے پہلے اپنے ہونے والے شوہر کو اپنے عاشق کے ساتھ مل کر پہاڑ سے دھکا دے دیا جس کے نتیجے میں وہ کھائی میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔
ایک اور مقام پر معمولی سے زمینی تنازع کی بنیاد پر ایک شخص کو چاقو مار کر قتل کردیا گیا جبکہ وہاں موجود لوگ بے بسی کے ساتھ یہ منظر دیکھتے رہے۔
اسی طرح ایک ٹرین میں معمولی سی بات پر ایک مولانا کو جان سے مار دیا گیا۔ یہ سب واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ برداشت صبر اور تحمل جیسی اعلیٰ صفات ہمارے معاشرے سے رخصت ہوتی جارہی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ صرف ہندو معاشرے تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ مسلمانوں میں بھی ایسے افسوس ناک واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ حقیقت ہر شخص کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
آج شاید ہی ہندوستان کا کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں روزانہ قتل عصمت دری خواتین کے خلاف جرائم اور دیگر سنگین واقعات کی خبریں سامنے نہ آتی ہوں۔ آئے دن بے شمار ایسے سانحات پیش آرہے ہیں جو انسانیت کے سر کو شرم سے جھکا دیتے ہیں۔ معصوم بچیوں کی عزت پامال کرنا بے گناہ انسانوں کو بے رحمی سے قتل کردینا اور معمولی باتوں پر کسی کی زندگی چھین لینا گویا روزمرہ کا معمول بنتا جارہا ہے۔
آخر انسان کی جان کی کوئی قیمت نہیں رہی؟ کیا انسان صرف ایک کھلونا بن کر رہ گیا ہے؟ ایک ماں باپ اپنی اولاد کو کتنی محبت محنت اور قربانی سے پروان چڑھاتے ہیں ان کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں لیکن کچھ سنگ دل لوگ معمولی سی بات ذاتی مفاد لالچ غصے یا انتقام کی آگ میں کسی کی پوری زندگی ختم کردیتے ہیں۔
آخر اس ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ حکومت بڑھتے ہوئے جرائم کے سدباب کے لیے مؤثر اور مضبوط لائحۂ عمل کیوں اختیار نہیں کرتی؟ قانون کا خوف مجرموں کے دلوں سے کیوں ختم ہوتا جارہا ہے؟ کب تک یہ قتل و غارت گری ظلم و بربریت اور بے گناہ انسانوں کے خون سے اس ملک کی سرزمین رنگین ہوتی رہے گی؟ کب تک ہم روزانہ ایسی دل خراش خبریں سنتے پڑھتے اور افسوس کا اظہار کرتے رہیں گے؟
ہم صرف افسوس نہیں بلکہ سنجیدگی سے غور و فکر کریں کہ اگر آج کسی کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا ہے تو ممکن ہے کل ہمارے ساتھ بھی آئے اور اگر معاشرے میں اخلاق دینی تربیت قانون کی بالادستی انصاف کی بروقت فراہمی اور انسانی جان کی حرمت کو دوبارہ زندہ نہ کیا گیا تو ایسے سانحات میں کمی لانا انتہائی دشوار ہوگا۔
اللہ ربّ العزت ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنائے ہر بے گناہ انسان کی جان و آبرو کی حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے