कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

احساس فورم ناندیڑ کی جانب سے ناندیڑ میں پروفیسر نوراللہ خان ایجوکیشن ایوارڈ تقسیم و تعلیمی رہنمائی کا تاریخ ساز پروگرام منعقد

٭ انفرادی و اجتماعی سطح پر حصول تعلیم کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت : آئی پی ایس عبدالرحمن
٭ موجودہ دور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکلز ڈیولپمنٹ کرنا بھی ضروری: کیرئیر کونسلر عامر انصاری
٭ تعلیم کے ساتھ ساتھ خدا کا خوف بھی ہونا ضروری ہے: مفتی خلیل الرحمن قاسمی

احساس فورم ناندیڑ کی جانب سے ناندیڑ میں پروفیسر نوراللہ خان ایجوکیشن ایوارڈ تقسیم و تعلیمی رہنمائی کا تاریخ ساز پروگرام منعقد

ناندیڑ: یکم جولائی (نمائندہ اعتبار) احساس فورم ناندیڑ کی جانب سے دہم اور بارہویں میں 75فیصد سے زائد نمبرات والے طلباء و طالبات کے لیے پروفیسر نوراللہ خان ایجوکیشن ایوارڈ تقسیم اور تعلیمی رہنمائی کا پروگرام شاہو مہاراج کی 150 ویں یوم پیدائش کے موقع پر30 جون کو بعد نماز ظہر حیدر گارڈن میں منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کے ساتھ امتیازی نمبرات سے کامیاب ہونے والے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اس پروگرام میں مفتی اول مراٹھواڑہ مفتی خلیل الرحمن صاحب، ونچیت بہوجن آگھاڑی کے قائد فاروق احمد، شیراز ابرار اللہ خان کو مدعو کیا گیا تھا، جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر آئی پی ایس و سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس جناب عبدالرحمن ( ممبئی) ، کیرئیر کونسلر عامر انصاری ( ممبئی) ،ڈی وائے ایس پی سشیل کمار نایک،مفتی ایوب قاسمی،مولانا عظیم رضوی، مولانا سید آصف ندوی،مفتی اعظم، پروفیسر عبدالبصیر،ایڈیٹر ورق تازہ تقی صاحب، جاوید لطف اللہ، ایوب خان، وٹھل گائیکواڑ، ظہور احمد، مشتاق پٹھان ، شیخ معراج اور اسلم خان کو مد عو کیا گیا۔ پروگرام کا آغازحافط زبیر نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ ابتداء میں مفتی ایوب قاسمی نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی ۔اس کے بعد مولانا عظیم رضوی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔شروعات میں پروفیسر ظہور احمد ، الطاف حسین،سرفراز احمد نے کیریر کائونسلنگ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بعد ازاں کیرئیر کونسلر عامر انصاری ( ممبئی) نے خطاب کرتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسی اور ایجوکیشن سسٹم کی تبدیلی کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی، اسی طرح مختلف تعلیمی اسکیموں اور اسکالرشپ کے بارے میں بھی طلبہ کو واقف کروایا۔ عامر انصاری نے کہا کہ موجودہ دور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکلز ڈیولپمنٹ کرنا بھی ضروری ہے۔ صرف نمبرات لانے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اپڈیٹ معلومات رکھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکلز ڈیولپمنٹ پر مشتمل جدید سرٹیفکیٹ کورسس کرنے کی بھی ترغیب دی۔ بالخصوص کمیونکیشن ( بات چیت ؍ اظہار خیال کی صلاحیت) ، کریٹی ویٹی ( تخلیقی ذہن) ، کولیبریشن( باہمی تعاون) اور کریٹکل تھنکنگ ( تنقیدی فکر ) جیسی صلاحیتیں اپنے اندر پیدا کرنے کے لیے اس سے متعلق کورسس کرنے پر زور دیا۔ اسی طرح جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشیل انٹلی جنس ( اے آئی) اور چیٹ جی پی ٹی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتے ہوئے ان کا سیکھنا بے حد ضروری قرار دیا۔ عامر انصاری نے مزید کہا کہ جو لوگ لکیر کے فقیر ہوتے ہیں وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے درخواست کی کہ صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اخلاقی اقدار اور قرآنی تعلیما ت پر عمل بھی کریں۔ تب ہی ہم اس قوم و ملک کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اگر آپ محنت کرتے ہیں تو آپ کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا اور ایسے لوگوں سے جڑیں جو آپ کی مدد کرسکیں۔ اس موقع پر آئی پی ایس و سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس جناب عبدالرحمن ( ممبئی) نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ کسی قوم کی تعمیر اور اُس کا لیول و معیار کی پیمائش کا انحصار ہیومن کیپٹل( باصلاحیت افراد) پر ہوتا ہے کہ اُس قوم میں ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے با صلاحیت انسان ( ڈاکٹرس، ٹیچرس، پروفیسرس، صحافی، سائنسداں، سیاست داں ، گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، ایم پی، ایم ایل اے، سوشل ورکرس وغیرہ) کتنے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ قوم آگے جائے گی یا پیچھے جائے گی۔ 2005-06ء میں سچر کمیٹی کی رپورٹ اور 2007ء میں رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ مسلمانوں کی تعلیمی، اقتصادی فیصد اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی حصہ داری بے حد کم اور مایوس کن ہے۔ انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اُس قوم کے حالات ہیں جو قرآن کو مانتی ہے جبکہ قرآن کی ابتداء ’’ اقراء‘‘ سے ہوئی تھی اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ’’ علم حاصل کرو‘ اگر چین جانا پڑے۔‘‘ عبدالرحمن صاحب نے ماضی میں مسلمانوں کے تعلیمی شغف کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ عرب کے ایک مسلم اسکالر کا جب انتقال ہوا تھا تو اُن کی کتابیں کئی سو اونٹوں پر لانے کے بعد اُن کی لائبریری کو شفٹ کیا جاسکا۔ انہوں نے سرسید اور دیگر شخصیات کی بھی مثال پیش کی اور بتایا کہ علم کے ذریعے ہی انسان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ تعلیم حاصل کریں گے تب ہی آپ اچھے شہری بن پائیں گے، تب ہی آپ اپنے خاندان ، معاشرے اور قوم کو بہتر بنا پائیں گے ۔ عبدالرحمن صاحب نے کہا کہ حکومت ریزرویشن کو ختم کرکے مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں، مواقعوں اور تعلیم سے دوٗر رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس لیے ہمیں انفرادی و اجتماعی سطح پر حصول تعلیم کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حصول تعلیم کے لیے اپنی ذاتی خواہشوں او ردلچسپیوں کی قربانی دینے اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ، صلاح الدین ایوبیؒ اور بڑی بڑی شخصیات کی سوانح عمری کو پڑھنے کی بھی ترغیب دی ، تاکہ ان کی زندگی سے تحریک پاکر معاشرے وقوم کے لیے کچھ بہتر کرسکیں۔ ونچت بہوجن آگھاڑی کے قائد و احساس فورم کے سرپرست جناب فاروق احمدنے تمام معزز مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ناندیڑ میں مختلف پروگرامز منعقد ہوتے ہیں لیکن تعلیم ہی ایک ایسا شعبہ ہے جہاں پر ہمیں سب سے زیادہ ترقی کرنے کی ضرورت ہے، اعلیٰ و معیاری تعلیم کے حصول میں مسلمانوں کی حصہ داری نہایت ہی کم ہے، تاہم وسائل کی کمی کے باوجود ناندیڑ کے کئی سارے مسلم طلبہ و طالبات نے دسویں و بارہویں جماعت میں اعلیٰ نمبرات حاصل کیے ہیں، جن طلبہ و طالبات نے اعلیٰ نمبرات کیے ہیں اُن کی اور اُن کے سرپرستوں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے تاکہ اس سے تحریک پاکر طلبہ و طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کا نام روشن کرسکیں۔ الحمدللہ اس ضمن میں احساس فورم کے ذمہ داران نے پہل کرتے ہوئے ایسے طلبہ و طالبات کے لیے سابق ایم ایل اے پروفیسر نور اللہ خان ایجوکیشن ایکسلنس ایوارڈ دینے کی پہل کی ہے۔ قبل ازیں ہماری ٹیم نے ایک اور تعلیم یافتہ مسلم قائد مرحوم فاروق پاشاہ کی یاد میں کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کرتے ہوئے اُن کے نام سے ایوارڈ دے کر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور مسلم قیادت اور اُن کے کارناموںکو نسل نو تک پہنچانے کی سعی کی تھی، ان شاء اللہ ہر سال اسی طرح کے پروگرام منعقد کیے جاتے رہیں گے۔ انہوںنے کہا کہ ہر شعبے میں قابل افراد کا ہونا ضروری ہے، تاہم جب تک قابل قیادت و لیڈرشپ نہیں ہوتی تب تک اُس قوم میں قابلیت نہیں آتی۔ اس لیے قابل قائد اور قابل ٹیچر ( درس و تدریس) ہی ایسے دو شعبے ہیں جو ملت کی تعمیر کرتے ہیں۔ جس قوم کے پاس قابل ٹیچرس او رقابل قائد ہوتے ہیں وہ قوم کبھی بھی کمزور نہیں ہوسکتی، تاہم آج اس ملک میں مسلمان ایک کمزور قوم کے طور پر نظر آتے ہیں، کیونکہ آج ہمارے پاس قابل ٹیچرس اور قابل قیادت کی کمی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے پاس ہراسکول میں ٹیچر اورہر گلی و محلہ میں لیڈر و قائد نظر آتے ہیں، لیکن ہمیں اُن کی قابلیت پر بھی غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ فاروق احمد نے طلبہ و طالبات اور سرپرستوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ دسویں کے مارکس آپ کو خواب دکھاتے ہیں‘ قابلیت نہیں دکھاتے، لیکن اُس خواب کو قابلیت میں تبدیل کرنے کے لیے آپ کو گیارہویں، بارہویں، نیٹ او ر انٹرنس امتحان میں شدید محنت کرنی پڑے گی۔ انہوں نے سرپرستوں سے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مستقبل میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوں تو بچوں کو آج ہی سے گھر کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اُن کے کام ( کپڑے و برتن دھونے وغیرہ) اُنہیں خود ہی کرنے کی عادت ڈلوانا ہوگا۔ فاروق احمد نے کہا کہ کسی قوم کی ترقی صرف ڈگری حاصل کرنے سے نہیں ہوتی ہے بلکہ اُس کے اندر کے اخلاق و قابلیت پر منحصر ہے، اس لیے ہمیں اخلاق و قابلیت پیدا کرنے کے لیے ہر زاویے سے محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ممتاز عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے ہی کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی ، بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ خدا کا خوف بھی ہونا ضروری ہے۔ آج دُنیا میں بڑے بڑے جرائم انجام دینے والے تعلیم یافتہ لوگ ہی ہیں، اگر تعلیم کے ساتھ خدا کا خوف نہ ہو تو انسان سرکش بن جاتا ہے۔ ہمیں اپنی نسل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کی بھی ضرورت ہے، نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنا وقت برباد نہ کریں، بلا وجہہ گلی محلوں میں بیٹھ کر غیر ضروری تبصرے نہ کریں، بلکہ عشاء کے فوری بعد بلا وجہہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، فجر کی نماز اور قرآن شریف پابندی سے پڑھیں اوردوسرے لوگوں کو شکایت کا موقع نہ دیں۔ واضح رہے کہ مہاراشٹر کی تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں کی تعلیمی حصّہ داری کو برقرار رکھنے کے لئے چھترپتی شاہو مہاراج نے مسلم بورڈنگ ادارہ کا قیام عمل میں لایا تھا اور اس ادارے کو اپنے صدرات میں رکھتے ہوئے اس کے انتظامی امور کی ذمہ داری خود لی اور تمام پسماندہ طبقات کے ساتھ مسلمانوں کو ریزرویشن دیکر سماجی انصاف کی بہترین نظیر پیش کی تھی۔اسی ماہ کے اختتام پر شاہو مہاراج کی 150 ویں یوم پیدائش کے موقع پر احساس فورم ناندیڑ کی جانب سے ایوارڈ تقسیم و تعلیمی رہنمائی کا پروگرام منعقد کیا گیا۔ جس میں سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات اور اولیائے طلبہ نے شرکت کی ۔ اس موقع پر معززین کے ہاتھوں دسویں و بارہویں جماعت میں اعلیٰ نمبرات حاصل کرنے والے کم و بیش 230 طلبہ و طالبات کو ایوارڈ و مومنٹو دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔ جن میں سے شیخ فیضان احمد محمود احمد ( 97.6 فیصد)، فریحہ نشاط محمد مشتاق ( 97 فیصد)، ماہین فاطمہ پٹھان نصراللہ خان ( 96 فیصد)، شرینا روہین محمد سرفراز (95.6 فیصد)، محمدی یُسریٰ فاطمہ ( 95.4 فیصد)، منزہ افشین منتجب الدین ( 95.2 فیصد)، علینہ گوہر محمد نقی ( 95 فیصد)، رِمشا کوثر ناظم الدین ( 95 فیصد) کے نام قابل ذکر ہیں۔ ساتھ ہی محمدطلہا ازہان جنہوں نے 88.63فی صد نمبرات کے ساتھ کامیاب ہوتے ہوئے دہم کی پڑھائی کرتے ہوئے امسال قران پاک کا حفظ مکمل کیا۔ محمد طلہا کو مفتی خلیل الرحمن نے دعائیں دی اور خصوصی استقبال کیا۔ احساس فورم کی جانب سے آئے ہوئے تمام معزز مہمانوں کا شایان شان پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ احساس فورم کے ذمہ دار عبید باحسین نے پروگرام کی نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے۔ احساس فورم کے دیگر ذمہ داران شیخ معراج، محمد قاسم، ایڈوکیٹ شیخ بلال، عبدالسمیع، اظہر مومن، اظہر اللہ بیگ، فہیم فاروقی، ایس ایم شمیم، عمر فاروق، عتیق لیڈر، سرفراز خان، سید عبید، توصیف احمد ، شعیب شیخ ، ضیا انعامدار، سید راسشید ، اکبر شیخ و دیگر کی کوششوں سے مجموعی طور پر ناندیڑمیں ایک تاریخ ساز پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

 

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے