कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ناندیڑ: سادگی سے نکاح، معاشرے کے لیے ایک خوبصورت پیغام

از قلم: اعجاز احمد شیخ
مہاراشٹر خازن
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)

الحمدللہ! آج 6 نومبر 2026ء، بروز جمعہ، بعد نمازِ جمعہ میرے بھانجے فیصل بصیر ابن عبد الکلیم منیار (ساکن منیار گلی، دھنگر ٹیکڑی) کا نکاح نہایت سادگی اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق انجام پایا۔
آج صبح تقریباً 10 بجے میرے بہنوئی جناب عبد الکلیم ولد عبدالعلیم صاحب کا فون آیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد قریشیہ مسجد میں فیصل بصیر کا نکاح ہے، آپ کو ضرور شرکت کرنی ہے۔ چونکہ رشتہ پہلے ہی طے ہوچکا تھا، اس لیے یہ خبر سن کر بے حد خوشی و مسرت محسوس ہوئی اور نکاح کی اس بابرکت تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔
اس نکاح کی سب سے خوبصورت اور قابلِ تقلید بات یہ تھی کہ نہ پہلے سے کوئی بڑی منصوبہ بندی کی گئی تھی، نہ کوئی دعوت نامہ تیار کیا گیا، نہ کوئی بارات تھی، نہ بینڈ باجا، نہ دولہا کے گلے میں سہرا یا پھول ہار، نہ فضول خرچی اور نہ ہی کھانے کا کوئی انتظام۔ مسجد میں نکاح کی تقریب منعقد ہوئی اور نکاح کے بعد لڑکے والے اپنے گھر اور لڑکی والے اپنے گھر روانہ ہوگئے۔ شام کے وقت دولہا والے دلہن کو باقاعدہ رخصت کرکے اپنے گھر لے آئے۔
دلہن کے والد محترم جناب عبدالمقیب ولد عبدالحفیظ منیار (ساکن نزد سہرا فنکشن ہال، ٹائربورڈ، دیگلور ناکہ) اور ان کے اہلِ خانہ نے بھی سادگی کا بہترین مظاہرہ کیا۔ لڑکی والوں کی جانب سے بھی کسی قسم کے غیر ضروری رسم و رواج یا دکھاوے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔
نکاح کا خطبہ مسجدِ قریشیہ کے امام و خطیب مفتی احمد خان صاحب نے پڑھایا اور نکاح کی یہ مبارک تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
میں اس موقع پر دلہا اور دلہن دونوں کے اہلِ خانہ کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے معاشرے کی غیر ضروری رسم و رواج اور دکھاوے کی روایت سے ہٹ کر اتنی سادگی سے نکاح انجام دینے کا فیصلہ کیا۔ آج کے دور میں جب شادی بیاہ کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کرنا، بڑی بڑی دعوتیں کرنا، بارات نکالنا اور اپنی مالی حیثیت کا مظاہرہ کرنا ایک معاشرتی روایت بن چکا ہے، ایسے ماحول میں اس طرح کا قدم اٹھانا یقیناً بہت بڑی ہمت اور جرأت کا کام ہے۔ دونوں خاندانوں نے نہ صرف ایک اچھا فیصلہ کیا بلکہ عملی طور پر یہ پیغام بھی دیا کہ اگر نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو تو نکاح کو آسان بنانا بالکل ممکن ہے۔ ایسے خاندان قابلِ مبارک باد ہیں، جنہوں نے معاشرے کی پروا کیے بغیر ایک مثبت مثال قائم کی۔ ان دونوں خاندانوں کو میرا سلام اور دل سے خراجِ تحسین!
آج ہمارے مسلم معاشرے کو ایسے ہی نکاح کی ضرورت ہے۔ ہم نے شادی بیاہ کو غیر ضروری رسم و رواج، جہیز، بارات، دعوتوں اور فضول خرچی کا ایسا بوجھ بنا دیا ہے کہ کئی خاندان بیٹیوں کی شادی کے نام سے ہی پریشان ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے نکاح کو آسان بنایا ہے، مشکل نہیں۔
نکاح کی خوبصورتی مہنگے ہال، مختلف قسم کے کھانوں، قیمتی لباس اور دکھاوے میں نہیں، بلکہ باہمی رضامندی، محبت، خلوص اور برکت میں ہے۔
میری تمام مسلم بھائیوں سے گزارش ہے کہ فیصل بصیر کے اس نکاح سے سبق حاصل کریں۔ نکاح کو آسان بنائیں، فضول رسم و رواج سے بچیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں شادی دولت اور حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اچھے اخلاق، کردار اور باہمی رضامندی کی بنیاد پر ہو۔
اللہ تعالیٰ فیصل بصیر اور ان کی شریکِ حیات کی ازدواجی زندگی کو خوشیوں، محبتوں اور برکتوں سے بھر دے، دونوں کو ایک دوسرے کے لیے باعثِ سکون بنائے اور اس نکاح کو دوسروں کے لیے بھی سادگی کی ترغیب کا ذریعہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے