कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسرائیل میں کرسی کی جنگ، غزہ میں زندگی کی جنگ

اسرائیلی انتخابات، اقتدار کا تعطل اور فلسطینیوں کے حقِ زندگی و خود اختیاری کا سوال

تحریر:ڈاکٹر اسداللہ خان

قسط اول: اسرائیل کے انتخابی تعطل کی اندرونی کہانی:
اسرائیل میں انتخابات کے بعد بھی حکومت سازی کا سوال حل نہیں ہوا۔ ووٹوں کی گنتی اور نشستوں کی تقسیم کے باوجود کسی بلاک کو واضح اکثریت نہیں ملی، جبکہ نیتن یاہو نئی حکومت بننے تک نگراں وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اقتدار میں برقرار ہیں۔ یوں انتخابی مقابلہ ختم ہونے کے بعد اب اتحادیوں کو ساتھ لانے کی کشمکش شروع ہو گئی ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ اس سیاسی تبدیلی سے فلسطینیوں کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔ نیتن یاہو کی رخصتی کا امکان بعض لوگوں کے لیے امید کا باعث ہے، جبکہ بعض سمجھتے ہیں کہ ان کے بعد بھی اسرائیل کی فلسطین پالیسی نہیں بدلے گی۔ دونوں باتوں کو عملی فیصلوں کی روشنی میں پرکھنا ہوگا۔ کسی رہنما کی شکست اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہے، مگر فلسطینیوں کے لیے اصل تبدیلی ظلم میں کمی، جان و مال کا تحفظ اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسرائیل میں حکومت سازی کی مشکلات کیا ہیں، نیتن یاہو اور ان کے مخالفین میں کیا فرق ہے، اور عرب جماعتیں اس صورتِ حال میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اس کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ اس صورتِ حال کا غزہ اور مغربی کنارے کے مستقبل پر کیا اثر پڑ سکتا ہے، ایران کے ساتھ کشیدگی کیا رخ اختیار کر سکتی ہے، اور مسلم دنیا کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بنیادی سوال یہی رہے گا کہ اقتدار کی اس کشمکش سے فلسطینیوں کی زندگی میں کیا فرق پڑے گا۔
اس بحث میں حکمران کی تبدیلی اور پالیسی کی تبدیلی کا فرق واضح رہنا چاہیے۔ نیا وزیرِ اعظم آ جانا فوری خبر بن سکتا ہے، لیکن نئی پالیسی کا ثبوت اس کے اقدامات سے ملے گا۔ فلسطینیوں کے حقوق، فوجی کارروائیوں، آبادکاری اور امداد کی رسائی کے بارے میں فیصلے ہی بتائیں گے کہ تبدیلی کتنی حقیقی ہے۔
مضمون میں پیش کردہ نتائج کے مطابق، ایک سو بیس رکنی اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو کے حامی بلاک کو ترپن، حزبِ اختلاف کو اڑتالیس اور عرب قیادت والی جماعتوں کو انیس نشستیں ملی ہیں۔ نیتن یاہو کی جماعت لکوڈ کی ستائیس نشستیں ہیں۔ کسی بھی بلاک کے پاس اپنے بل پر اکسٹھ ارکان کی اکثریت نہیں، اس لیے حکومت بنانے کے لیے دوسرے ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ یہی صورتِ حال عرب جماعتوں کی اہمیت بڑھاتی ہے۔
تاہم عرب جماعتوں کو ایک ہی سیاسی قوت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان میں سیکولر اور بائیں بازو کی جماعتوں کا اتحاد جوائنٹ لسٹ بھی ہے اور منصور عباس کی اسلام پسند جماعت راعم بھی۔ مضمون میں درج ابتدائی نتائج میں انہیں بالترتیب گیارہ اور آٹھ نشستیں دی گئی ہیں۔ دونوں کے نظریات اور سیاسی طریقے مختلف ہیں۔ ہمارے لیے ان کی کامیابی کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کی نمائندگی عرب شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور فلسطینیوں کی مشکلات کم کرنے میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔
ان اعداد کے پیچھے ایک انسانی کہانی بھی ہے۔ اسرائیل کے عرب شہری، جو خود کو بڑی تعداد میں فلسطینی شناخت سے وابستہ سمجھتے ہیں، برسوں سے انتخابی عمل سے بیزاری کا شکار رہے ہیں۔ اس بار ان کی بستیوں میں بزرگوں نے نوجوانوں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے کی مہم چلائی، کیونکہ بہت سوں کے نزدیک یہ انتخاب محض حکومت کا نہیں، اپنے شہری وجود کی حفاظت کا معاملہ تھا۔ جو برادری کل تک ایوان کے حاشیے پر تھی، آج اس کی نشستیں پوری ریاضی کو بدل رہی ہیں۔
نتائج کے بعد نیتن یاہو نے دھاندلی کے الزامات بھی لگائے، مگر مرکزی الیکشن کمیٹی نے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔ گویا اسرائیل کی سیاست اب پالیسی کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل کی ساکھ پر بھی بٹ رہی ہے۔
اسرائیل کا کوئی تحریری دستور نہیں؛ حکومت سازی کا ضابطہ بنیادی قانون برائے حکومت میں درج ہے، اور یہ ایک گھڑی کی طرح چلتا ہے۔ سرکاری نتائج ۴ نومبر تک شائع ہونے ہیں۔ اس کے بعد صدر آئزک ہرزوگ تمام جماعتوں سے مشاورت کر کے سات دن کے اندر اس رکن کو مینڈیٹ دیں گے جس کے اتحاد بنانے کا امکان سب سے زیادہ ہو، چاہے وہ سب سے بڑی جماعت کا سربراہ نہ بھی ہو۔ ۱۰ نومبر کو نئی کنیسیٹ کے ارکان حلف اٹھائیں گے؛ یہ پارلیمان کا حلف ہے، حکومت کا نہیں۔
پہلے امیدوار کو اٹھائیس دن ملتے ہیں، جن میں چودہ دن کی توسیع ممکن ہے۔ ناکامی پر کسی دوسرے رکن کو اٹھائیس دن ملتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مرحلہ آتا ہے جو ہمارے یہاں گردش کرنے والی کئی تحریروں سے غائب ہے: اکیس دن کا وہ وقفہ جس میں کم از کم اکسٹھ ارکان تحریری طور پر کسی ایک نام پر متفق ہوں، اور اس نامزد کو چودہ دن ملیں۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو کنیسیٹ خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے اور تقریباً تین ماہ میں نئے انتخابات ہوتے ہیں۔
دو باریکیاں اس گھڑی کا رخ موڑ سکتی ہیں۔ نئی حکومت بننے تک موجودہ وزیرِ اعظم نگراں رہتا ہے، خواہ یہ عمل مہینوں پر پھیل جائے۔ اور اعتماد کے ووٹ کے لیے سادہ اکثریت کافی ہے؛ اکسٹھ استحکام کی ضمانت ہے، قانونی شرط نہیں۔ اسی لیے بیرونی حمایت یا غیر جانب داری کے سہارے اقلیتی حکومت ممکن ہے، اگرچہ ایسی حکومت ہر بجٹ پر نئے سرے سے ووٹ گنتی ہے۔ یوں انتظار کا ہر دن کسی کے لیے بوجھ ہے اور کسی کے لیے سرمایہ۔
اس تعطل کی جڑ انتخابی نظام میں کم اور سیاست کی سمت میں زیادہ ہے۔ گزشتہ سات برسوں میں اسرائیل کے انتخابات کسی پالیسی پر کم اور ایک شخص کی ذات پر زیادہ لڑے گئے ہیں۔ اپریل ۲۰۱۹ء سے نومبر ۲۰۲۲ء تک یہ ملک ساڑھے تین برس میں پانچ بار پولنگ اسٹیشن گیا، اور ہر بار بنیادی سوال وہی تھا جو اس بار ہے: نیتن یاہو، ہاں یا نہیں؟
اس سوال کے دونوں جوابوں کے پیچھے سنجیدہ دلائل ہیں، اور انہیں ایمان داری سے بیان کرنا ضروری ہے۔ نیتن یاہو کے حامی انہیں ملک کی تاریخ کا سب سے تجربہ کار وزیرِ اعظم سمجھتے ہیں، جس کی قیادت میں سلامتی اولین ترجیح رہی۔ ان کے مخالفین بدعنوانی کے اس مقدمے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ۲۰۲۰ء سے عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور جس کے الزامات سے وہ انکار کرتے ہیں؛ ۲۰۲۳ء کی ان عدالتی ترامیم کی طرف جن پر ملک گیر احتجاج ہوا؛ اور سب سے بڑھ کر ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کی سیکورٹی ناکامی کی طرف، جس کی سرکاری قومی تحقیقات سے حکومت گریز کرتی رہی۔
جب کسی قوم کی سیاست ایک شخص کے گرد گھومنے لگے تو جماعتیں نظریات کے بجائے وفاداری کے خانوں میں بٹ جاتی ہیں۔ اسرائیل کے حالیہ نقشے میں اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ حزبِ اختلاف کے بلاک میں ایسی جماعتیں بھی ہیں جو سلامتی، بستیوں اور فلسطینی ریاست کے بارے میں نیتن یاہو سے زیادہ دور نہیں؛ ان کا اختلاف ان کی قیادت، طرزِ حکمرانی اور اداروں کے ساتھ برتاؤ سے ہے۔ یوں ایوان دو حصوں میں بٹا ہوا تو ضرور ہے، مگر یہ تقسیم فلسطین کے سوال پر نہیں، ایک فرد کے سوال پر ہے۔
ایسی صورت میں سمجھوتہ غداری کے مترادف بن جاتا ہے۔ آئزنکوٹ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ نیتن یاہو کی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے، باری باری وزارتِ عظمیٰ کے فارمولے پر بھی نہیں؛ اور نیتن یاہو عرب جماعتوں کے ساتھ کسی بھی اتحاد کو ملک کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ جب ہر فریق انتخاب سے پہلے ہی اپنے دروازے بند کر لے تو انتخاب کے بعد راستہ نہ ملنا حیرت کی بات نہیں۔ تعطل کسی آئینی سقم کا نتیجہ نہیں؛ یہ پہلے سے کیے گئے وعدوں کا حاصل ہے۔
گادی آئزنکوٹ کوئی امن پسند کارکن نہیں، اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ ہیں، اور اس منصب پر انہیں خود نیتن یاہو نے فائز کیا تھا۔ ۷ اکتوبر کے بعد وہ جنگی کابینہ میں شامل ہوئے؛ اسی جنگ میں غزہ کے محاذ پر ان کا بیٹا مارا گیا اور اگلے دن بھتیجا۔ چند ماہ بعد وہ یہ کہہ کر الگ ہو گئے کہ فیصلوں پر سیاسی اور ذاتی مصلحتیں غالب آ رہی ہیں۔ یہ پسِ منظر بتاتا ہے کہ ان کی مخالفت نظریے کی نہیں، اندازِ حکمرانی کی ہے۔
ان کے اعلانات میں فرق بھی ہے اور تسلسل بھی۔ فرق یہ کہ وہ بطور وزیرِ اعظم پہلا قدم ۷ اکتوبر کی ناکامی پر سرکاری قومی تحقیقات کو بتاتے ہیں، مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد اور بستیوں کی بے مہار توسیع پر قابو پانے کی بات کرتے ہیں، اور سفارتی معاہدوں کو زیادہ جگہ دینا چاہتے ہیں۔ تسلسل یہ کہ وہ غزہ اور لبنان سے جلد فوج واپس بلانے کے حق میں نہیں، جب تک حماس اور حزب اللہ کی عسکری صلاحیت ختم نہ ہو جائے؛ اور وہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے دو ریاستی حل کی کبھی تائید نہیں کی اور مستقبل کے راستے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران کے معاملے میں نیتن یاہو مشن مکمل کرنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ آئزنکوٹ انہیں سلامتی کو سیاسی ضرورت کے لیے استعمال کرنے سے خبردار کرتے ہیں؛ مگر دونوں ایران کو بڑا سلامتی خطرہ مانتے ہیں۔
اس سے جو تصویر بنتی ہے وہ کسی انقلاب کی نہیں، انداز کی تبدیلی کی ہے۔ سلامتی کا بنیادی نظریہ بڑی حد تک وہی رہنے کا امکان ہے، جبکہ اداروں کے ساتھ برتاؤ، مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کی پشت پناہی اور بیرونی دنیا سے مکالمے کا لہجہ بدل سکتا ہے۔ فلسطینی گاؤں کے اس کسان کے لیے، جس کے زیتون کے باغ اس موسم میں بار بار حملوں کی زد میں آئے، یہ فرق معمولی نہیں۔ مگر غزہ کے لیے، جہاں فوجی انخلا اور سیاسی افق دونوں کا انتظار ہے، ابھی کوئی واضح وعدہ نہیں؛ اس کا تفصیلی جائزہ دوسری قسط میں آئے گا۔
یہیں وہ سوال اپنی پوری شدت سے ابھرتا ہے جو مسلم دنیا میں بار بار پوچھا جا رہا ہے: اگر حکمران بدل جائے مگر فلسطینی ریاست کا موقف نہ بدلے تو اس تبدیلی کی عملی قیمت کیا ہوگی؟ اس کا دیانت دار جواب یہ ہے کہ قیمت ہوگی، مگر محدود؛ اور اس کی پیمائش تقریروں سے نہیں، اگلے چھ مہینوں کے فیصلوں سے ہوگی۔
ریاضی کے اعتبار سے حل سامنے پڑا ہے۔ اگر اڑتالیس نشستوں والا بلاک عرب جماعتوں کی انیس نشستوں سے جڑ جائے تو اکثریت نہ صرف پوری ہوتی ہے بلکہ اس سے آگے نکل جاتی ہے۔ مگر سیاست میں جمع کا ہر سوال اعداد سے حل نہیں ہوتا۔ جوائنٹ لسٹ نے نیتن یاہو حکومت کو ہٹانے کے لیے سیاسی تعاون کی آمادگی ظاہر کی ہے، اور راعم کے سربراہ منصور عباس کہتے ہیں کہ ان کا دونوں بلاکوں سے رابطہ ہے۔ دوسری طرف آئزنکوٹ نے شراکت داری کی تین شرطیں رکھی ہیں: اسرائیل کو یہودی اور جمہوری ریاست ماننا، اعلانِ آزادی کی اقدار قبول کرنا، اور فوجی یا قومی خدمت کا عہد۔ یہ شرطیں تین عرب جماعتوں کو باہر رکھ دیتی ہیں اور صرف راعم کے لیے ایک تنگ سا دریچہ کھلا چھوڑتی ہیں۔ آئزنکوٹ کا مؤقف ہے کہ حماس اور جنگ کے بارے میں عرب جماعتوں کے مواقف ان کے ساتھ حکومت کی راہ میں حائل ہیں۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے۔ جس برادری کے ووٹ نے حزبِ اختلاف کو اقتدار کی دہلیز تک پہنچایا، اسی کو اندر بلانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ عرب شہریوں پر مشتمل ہے، مگر ان کی نمائندگی کو اب بھی اکثر حکومت کے بیرونی دالان میں بٹھایا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف ایک اتحاد کا نہیں، اس سوال کا ہے کہ ایک جمہوریت اپنے تمام شہریوں کو فیصلہ سازی میں برابر شریک مانتی ہے یا نہیں۔
تاریخ اس معاملے میں دو مثالیں رکھتی ہے۔ پہلی ۱۹۹۲ء کی ہے، جب اسحاق رابن کی حکومت عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت پر ٹکی رہی، اور اسی دور میں اوسلو معاہدے طے پائے۔ دوسری ۲۰۲۱ء کی ہے، جب راعم پہلی عرب جماعت کی حیثیت سے باضابطہ حکومتی اتحاد میں شامل ہوئی، اور وہ حکومت اگلے ہی برس بکھر گئی۔ پہلی مثال بتاتی ہے کہ بیرونی حمایت بڑے فیصلوں کا سہارا بن سکتی ہے؛ دوسری یہ کہ نظریاتی ہم آہنگی کے بغیر بننے والے اتحاد زیادہ دیر نہیں چلتے۔ دونوں مثالیں سچ ہیں، اور آج کی صورتِ حال ان دونوں کے بیچ کھڑی ہے۔
انیس نشستیں ایک کنجی ضرور ہیں، مگر کنجی تبھی کام آتی ہے جب تالا اسے قبول کرے۔ اس انتخاب کا سب سے گہرا سبق شاید یہی ہے کہ عرب شہریوں نے انتخابی عمل پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے، اور اب یہ اسرائیلی نظام کا امتحان ہے کہ وہ اس اعتماد کا جواب کس زبان میں دیتا ہے۔
اس وقت اسرائیلی سیاست کے سامنے چار راستے ہیں۔ ایک قومی یکجہتی کی حکومت، جس کے بیچ آئزنکوٹ کا یہ عہد کھڑا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔ دوسرا عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت سے اقلیتی حکومت، جسے حزبِ اختلاف کی قیادت اب تک رد کرتی آئی ہے۔ تیسرا انفرادی وفاداریوں کی تبدیلی، جس کے لیے نیتن یاہو کو اپنے بلاک کے باہر سے آٹھ اور آئزنکوٹ کو، عرب جماعتوں کے بغیر، تیرہ ارکان درکار ہیں؛ مبصرین دونوں کو بعید از قیاس سمجھتے ہیں۔ اور چوتھا نئے انتخابات، جنہیں صدرِ مملکت ٹالنا چاہتے ہیں اور جن کے دوران نگراں حکومت برقرار رہے گی۔
ان میں سے کون سا راستہ کھلے گا، اس کی پیش گوئی اس تحریر کا مقصد نہیں؛ ایسی پیش گوئیاں اکثر ایک ہفتے میں باسی ہو جاتی ہیں۔ یقینی بات صرف اتنی ہے کہ جو بھی حکومت بنے گی، اسے ایک ایسے معاشرے کا سامنا ہوگا جس کی تقسیم انتخابی نقشے سے کہیں گہری ہے۔
اسرائیل کے ایوان کی کہانی ایک جملے میں سمیٹنی ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ وہاں ووٹ نے فیصلہ نہیں کیا، صرف سوال کی شکل بدل دی ہے۔ کل تک پوچھا جاتا تھا کہ کون جیتے گا؛ آج پوچھا جا رہا ہے کہ کون مانے گا۔ کاغذ پر اکثریت کا راستہ موجود ہے، مگر وہ ان اعلانات کے بیچ سے گزرتا ہے جو انتخاب سے پہلے دروازے بند کرنے کے لیے کیے گئے تھے، اور اب قفل بن کر انہیں کے ہاتھوں میں رہ گئے ہیں۔
اس کہانی کا سب سے گہرا سبق یہ ہے کہ جمہوریت کی گھڑی اور سیاست کا ترازو الگ الگ رفتار سے چلتے ہیں۔ گھڑی اپنی مقررہ مہلتوں پر سوئیاں آگے بڑھاتی رہے گی، کسی کی ضد سے بے نیاز۔ ترازو صرف اس وقت جھکے گا جب کوئی فریق اپنی انا یا اپنا کوئی اعلان پلڑے سے اتارنے پر آمادہ ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، مسند پر وہی بیٹھا رہے گا جس کی رخصتی پر یہ ساری بحث شروع ہوئی تھی۔ یہ اس نظام کی کمزوری بھی ہے اور اس کی ضمانت بھی: کمزوری اس لیے کہ انتظار موجودہ حاکم کے حق میں جاتا ہے، اور ضمانت اس لیے کہ کوئی بھی حاکم گھڑی کو روک نہیں سکتا۔
مگر ایوان کی یہ ریاضی اپنی جگہ مکمل نہیں۔ اس کا اصل جواب ان گلیوں اور خیموں میں لکھا جائے گا جن کے باسی اس گنتی میں شریک ہی نہیں۔ اگلی قسط انہی گلیوں کا سفر ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے