कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جی 20 کا اجلاس: عالمی اختلافات، سفارتی تعطل اور نئے عالمی نظام کی پیچیدہ صورتِ حال

(کثیر قطبی دنیا میں طاقت کی کشمکش، عالمی قیادت کا بحران اور بین الاقوامی تعاون کے محدود ہوتے امکانات کا تجزیاتی مطالعہ)

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں گروپ آف ٹوئنٹی (G20) کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس کسی مشترکہ اعلامیے کے اجرا کے بغیر اختتام پذیر ہونا محض ایک سفارتی کارروائی کی ناکامی نہیں، بلکہ موجودہ عالمی نظام میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم، باہمی بداعتمادی اور عالمی طاقتوں کے متضاد مفادات کا ایک نمایاں اظہار ہے۔ دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کے نمائندوں کا ایک ہی میز پر جمع ہونا، عالمی سلامتی، معیشت، تجارت اور جغرافیائی سیاست جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کرنا اپنی جگہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، لیکن جب اتنے بڑے عالمی فورم پر شریک ممالک کسی مشترکہ مؤقف یا متفقہ اعلامیے تک پہنچنے میں ناکام رہیں تو یہ سوال ناگزیر ہوجاتا ہے کہ کیا عالمی ادارے اور کثیر ملکی سفارتی فورم عصرِ حاضر کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھوتے جارہے ہیں؟ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے کے بجائے چیئرمین کا بیان جاری ہونا اس امر کی علامت ہے کہ عالمی برادری کے درمیان اختلافات اب محض پالیسیوں اور ترجیحات تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان اختلافات نے عالمی سیاست کے بنیادی تصورات، سلامتی کے تقاضوں اور بین الاقوامی تعلقات کی سمت کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔
جی 20 بنیادی طور پر دنیا کی بڑی معیشتوں اور اہم علاقائی و عالمی طاقتوں کا ایسا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد عالمی اقتصادی استحکام، مالیاتی تعاون، پائیدار ترقی، تجارتی روابط اور بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں عالمی سیاست نے جو رخ اختیار کیا ہے، اس نے اس ادارے کے بنیادی مقاصد کے سامنے نئے چیلنجز کھڑے کردیے ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی مسلسل کشیدگی، ایران سے متعلق تنازعات، امریکہ اور چین کے درمیان اقتصادی و تزویراتی مقابلہ، عالمی تجارتی محصولات، توانائی کی سیاست اور اہم معدنیات پر کنٹرول کی دوڑ نے بین الاقوامی تعلقات کو ایک ایسے پیچیدہ مرحلے میں داخل کردیا ہے جہاں اقتصادی تعاون بھی سیاسی مفادات اور جغرافیائی طاقت کے تابع ہوتا جارہا ہے۔ چنانچہ جی 20 جیسے فورم پر بھی اقتصادی مسائل کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔
اجلاس میں روس اور یوکرین کی جنگ ایک اہم موضوع کے طور پر زیرِ بحث آئی۔ یہ جنگ اب محض دو پڑوسی ممالک کے درمیان علاقائی تنازع نہیں رہی، بلکہ اس نے عالمی سلامتی، یورپی دفاعی نظام، توانائی کی منڈیوں، غذائی رسد اور بین الاقوامی سفارت کاری کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی روسی اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور یوکرین کی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہیں، جب کہ روس اپنی سلامتی، تزویراتی مفادات اور مغربی فوجی اتحادوں کی توسیع کو اپنے مؤقف کی بنیاد بناتا ہے۔ دوسری جانب متعدد ممالک اس تنازع میں کسی ایک عالمی طاقت کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہونے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے مطابق متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہی اختلاف عالمی سطح پر کسی مشترکہ مؤقف کی تشکیل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس صورتِ حال نے واضح کردیا ہے کہ موجودہ دنیا میں طاقت کے مراکز ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں، لیکن کسی دیرپا سیاسی حل پر اتفاق پیدا کرنے کی صلاحیت نسبتاً محدود ہوتی جارہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور ایران سے متعلق تنازعات بھی عالمی سفارت کاری کے لیے ایک نہایت حساس امتحان بن چکے ہیں۔ خطے میں اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ، غزہ کی انسانی صورتِ حال، ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور بڑی طاقتوں کی مداخلت نے مشرقِ وسطیٰ کو عالمی سیاست کا ایک مرکزی میدان بنا دیا ہے۔ امریکہ، یورپی ممالک، روس اور چین کے مفادات اس خطے میں مختلف نوعیت کے ہیں، جب کہ علاقائی ممالک بھی اپنی سلامتی، سیاسی بقا اور اقتصادی مستقبل کے حوالے سے الگ الگ ترجیحات رکھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی ایک متفقہ پالیسی تک پہنچنا آسان نہیں۔ بالخصوص فلسطین کے مسئلے پر مغربی دنیا کے بعض دوہرے معیارات اور انسانی حقوق کے اصولوں کے انتخابی اطلاق نے عالمی اداروں کی غیر جانب داری اور اخلاقی ساکھ کے بارے میں بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ اگر عالمی برادری انسانی جان، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے یکساں اصول اختیار نہیں کرتی تو عالمی امن کا تصور محض سفارتی تقریروں اور اعلامیوں تک محدود ہوکر رہ جاتا ہے۔
اجلاس میں امریکی تجارتی محصولات اور عالمی تجارت کے مستقبل پر اختلافات بھی خصوصی اہمیت کے حامل رہے۔ امریکہ کی تجارتی پالیسی میں محصولات اور تحفظ پسندانہ اقدامات کو ایک طرف ملکی صنعت، روزگار اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف ان پالیسیوں کے باعث عالمی تجارتی نظام میں غیر یقینی، تجارتی کشیدگی اور جوابی اقدامات کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ عالمی معیشت باہمی انحصار کے اصول پر قائم ہے؛ ایک ملک کی تجارتی پالیسی دوسرے ملک کی صنعت، برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے جب بڑی معیشتیں آزاد تجارت کے بجائے محصولات، پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگتی ہیں تو اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ چھوٹی معیشتیں اور کمزور ممالک اس کشمکش میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس بڑی طاقتوں کی اقتصادی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے محدود وسائل اور کم سفارتی گنجائش ہوتی ہے۔
بحیرۂ جنوبی چین میں کشیدگی بھی عالمی سلامتی کے منظرنامے کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ یہ خطہ نہ صرف عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے بلکہ اس کی تزویراتی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ چین اور بعض جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان سمندری حدود، جزائر اور قدرتی وسائل کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں، جب کہ امریکہ کی خطے میں بحری موجودگی اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون نے اس تنازع کو بڑی طاقتوں کی رقابت سے بھی جوڑ دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل، سمندری سلامتی اور بین الاقوامی اقتصادی استحکام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ اس لیے بحیرۂ جنوبی چین کا مسئلہ محض علاقائی خودمختاری کا تنازع نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان مستقبل کی تزویراتی ترتیب کا ایک اہم مظہر ہے۔
اجلاس کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت اور بعض یورپی سفارت کاروں کے اعتراضات کے باعث روایتی گروپ فوٹو کی منسوخی بھی علامتی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ بظاہر یہ ایک رسمی سفارتی روایت کا خاتمہ تھا، لیکن اس کے پس منظر میں موجود سیاسی پیغام زیادہ گہرا ہے۔ سفارت کاری کی تاریخ میں مشترکہ تصاویر، رسمی ملاقاتیں اور اجتماعی اجلاس اختلافات کے باوجود مکالمے اور بین الاقوامی روابط کے تسلسل کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ جب کسی عالمی فورم پر ایسی روایات بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہوجائیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان بداعتمادی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ تاہم سفارتی آداب اور سیاسی اختلافات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہی بالغ نظر عالمی قیادت کی علامت ہوتا ہے۔ مکالمے کے دروازے بند کردینا مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے اجلاس کے آغاز پر اتحاد اور تعاون کی ضرورت پر زور دینا بھی موجودہ عالمی صورتِ حال کے تناظر میں قابلِ توجہ ہے۔ عالمی تجارت کے راستوں کا تحفظ، توانائی کی فراہمی، غذائی تحفظ، اہم معدنیات تک رسائی اور عالمی سپلائی چین کی مضبوطی ایسے موضوعات ہیں جن پر بظاہر بیشتر ممالک کے مفادات مشترک ہیں۔ کورونا وبا، روس یوکرین جنگ، عالمی اقتصادی پابندیوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ کسی ایک ملک یا خطے پر ضرورت سے زیادہ انحصار اقتصادی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے اب بڑی طاقتیں اہم معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، توانائی کے وسائل، غذائی اجناس اور صنعتی خام مال کی فراہمی کے متبادل ذرائع تلاش کررہی ہیں۔ لیکن یہاں بھی ایک بنیادی تضاد موجود ہے: ممالک سپلائی چین کے تحفظ اور اقتصادی تعاون کی بات تو کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اس تعاون کو اپنے تزویراتی اور قومی مفادات کے تابع رکھتے ہیں۔ نتیجتاً مشترکہ اقتصادی ترجیحات بھی عالمی سیاسی رقابت سے محفوظ نہیں رہ پاتیں۔
اس اجلاس کا ایک اہم تجزیاتی پہلو یہ بھی ہے کہ موجودہ عالمی نظام بتدریج یک قطبی غلبے سے کثیر قطبی طاقت کی تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی اداروں اور اصولوں میں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا کردار بنیادی رہا، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں چین کا اقتصادی و عسکری عروج، روس کی عالمی سیاست میں دوبارہ مؤثر موجودگی، بھارت کی بڑھتی ہوئی اقتصادی و تزویراتی اہمیت اور دیگر علاقائی طاقتوں کا فعال کردار عالمی طاقت کے توازن کو تبدیل کررہا ہے۔ اب دنیا کے متعدد ممالک کسی ایک طاقت کے زیرِ اثر رہنے کے بجائے مختلف عالمی مراکز کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس تبدیلی نے عالمی سیاست کو زیادہ متنوع ضرور بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ فیصلہ سازی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی تشکیل کو بھی پیچیدہ کردیا ہے۔ کثیر قطبی دنیا کا قیام بذاتِ خود عالمی امن کی ضمانت نہیں؛ اس کے لیے طاقت کے مراکز کے درمیان باہمی احترام، اصولی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کا قابلِ اعتماد نظام بھی ضروری ہے۔
اس تناظر میں جی 20 کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونا ایک علامتی سفارتی ناکامی ضرور ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ادارے کی بے معنویت کا ثبوت قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ مشترکہ اعلامیے کے بغیر بھی ایسے اجلاس عالمی رہنماؤں کو براہِ راست مکالمے، اپنے مؤقف کی وضاحت، اختلافات کی تفہیم اور محدود شعبوں میں تعاون کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ چیئرمین کا بیان بھی بعض مشترکہ ترجیحات اور اجلاس کے نتائج کو سامنے لانے کا ایک سفارتی ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ جب عالمی مسائل کی سنگینی بڑھ رہی ہو اور دنیا کو مشترکہ فیصلوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہو، اس وقت بڑی طاقتوں کا بنیادی معاملات پر اتفاق نہ کرپانا عالمی ادارہ جاتی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔
اس تمام صورتِ حال کا ایک اہم اثر ترقی پذیر ممالک، بالخصوص ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی معیشتوں پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان تجارتی جنگیں، اقتصادی پابندیاں، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں خلل ان ممالک کے لیے مہنگائی، قرضوں کے بوجھ، غذائی عدم تحفظ اور صنعتی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ ان ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کی کشمکش میں محض تماشائی بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات، اقتصادی خودمختاری اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنائیں۔ بھارت جیسے ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے بھی یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی اقتصادی صلاحیت، سفارتی اثر و رسوخ اور عالمی شراکت داری کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقی پذیر دنیا کے مسائل کو عالمی فورموں پر زیادہ مؤثر انداز میں پیش کریں۔
مسلم دنیا کے لیے بھی اس اجلاس اور موجودہ عالمی تقسیم میں کئی اہم اسباق پوشیدہ ہیں۔ اسلامی ممالک توانائی، جغرافیائی محلِ وقوع، سمندری تجارتی راستوں، معدنی وسائل اور انسانی افرادی قوت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن باہمی سیاسی اختلافات، علاقائی رقابتوں اور مشترکہ حکمتِ عملی کے فقدان کے باعث وہ اپنی اجتماعی قوت کو پوری طرح بروئے کار نہیں لاسکے۔ فلسطین، غزہ، شام، سوڈان اور دیگر مسلم خطوں کے مسائل نے واضح کیا ہے کہ محض انفرادی سفارتی بیانات یا وقتی مذمتی قراردادیں کافی نہیں ہوتیں۔ مسلم ممالک کو اپنے اختلافات کے باوجود کم از کم مشترکہ انسانی، اقتصادی اور سفارتی ترجیحات پر اتفاق پیدا کرنا ہوگا۔ ایک مؤثر مشترکہ حکمتِ عملی، آزادانہ سفارتی کردار، اقتصادی تعاون اور انسانی بحرانوں کے حل کے لیے عملی اقدامات ہی مسلم دنیا کو عالمی سیاست میں زیادہ باوقار اور مؤثر مقام دلا سکتے ہیں۔
بالآخر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کا اجلاس ایک ایسے عالمی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے جہاں مسائل مشترک ہیں، خطرات باہم مربوط ہیں اور اقتصادی مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، لیکن ان کے حل کے لیے سیاسی اعتماد اور مشترکہ ارادے کا فقدان نمایاں ہوتا جارہا ہے۔ آج دنیا کو محض طاقتور ممالک کی سفارتی نشستوں اور رسمی بیانات کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسی عالمی قیادت درکار ہے جو قومی مفادات کے ساتھ انسانی مفادات کو بھی اہمیت دے، سیاسی اختلافات کے باوجود مکالمے کا راستہ کھلا رکھے اور بین الاقوامی قانون کو طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں معیار بنائے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی محدود عینک سے باہر نکل کر مشترکہ انسانی مستقبل کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں تو عالمی ادارے محض رسمی اجتماعات کے مراکز بن کر رہ جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو آج طاقت کے نئے توازن سے زیادہ انصاف کے نئے توازن کی ضرورت ہے۔ عالمی امن صرف اس وقت ممکن ہے جب طاقت کو قانون کا پابند، تجارت کو استحصال سے پاک، سفارت کاری کو منافقت سے محفوظ اور انسانی حقوق کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر رکھا جائے۔ جی 20 کا یہ اجلاس عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ باہمی اختلافات کے باوجود تعاون ناگزیر ہے؛ کیونکہ کسی ایک ملک کی سلامتی، خوش حالی اور ترقی اب باقی دنیا کے استحکام سے الگ نہیں رہ سکتی۔ اگر عالمی قیادت نے اس حقیقت کو سمجھنے میں مزید تاخیر کی تو آج کے سفارتی تعطل کل کے اقتصادی بحران، علاقائی تصادم اور ممکنہ عالمی کشیدگی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
🗓 (01.11.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے