कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بال بھارتی کے علمی و ادبی سفر میں محسن ساحلؔ کی شراکت

اردو زبان و ادب سے وابستگی، تخلیقی بصیرت اور تعلیمی خدمات کا ایک قابلِ قدر اعتراف

تحریر:خان نویدالحق
(اسپیشل آفیسر برائے اردو، بال بھارتی، پونہ)

عہدِ حاضر کی اردو شاعری میں عروس البلاد ممبئی سے ابھرنے والے معتبر اور ممتاز ناموں کا ذکر کیا جائے تو محسن ساحلؔ کا نام اپنی تخلیقی انفرادیت، فکری سنجیدگی اور ادبی وابستگی کے باعث خصوصی اہمیت کا حامل نظر آتا ہے۔ وہ ایک صاحبِ طرز شاعر اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ شعبۂ تعلیم، ممبئی میونسپل کارپوریشن سے وابستہ ایک فعال اور متحرک معلم بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف یہ ہے کہ انھوں نے تخلیق و تدریس کے دونوں میدانوں میں اپنی دلچسپی اور توانائیوں کو اردو زبان و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
محسن ساحلؔ نہ صرف اپنی تخلیقی بصیرت، فکری سنجیدگی اور شعری وجاہت کے حوالے سے ادبی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں بلکہ تعلیمی میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ انھوں نے ادب اور تعلیم کو دو الگ الگ شعبوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے دونوں کے مابین ایک فطری اور بامعنی رشتہ قائم رکھا ہے۔ ایک طرف وہ شعر و سخن کے ذریعے اپنے عہد کے احساسات، تجربات اور فکری رویوں کو شعری پیکر عطا کرتے ہیں تو دوسری طرف درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ رہتے ہوئے نئی نسل کی علمی، لسانی اور فکری تربیت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی ہمہ جہتی ان کی شخصیت کو ایک انفرادی شناخت عطا کرتی ہے۔
اردو زبان و ادب سے ان کی وابستگی محض ایک تخلیق کار یا شاعر کی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ تعلیمی، تدریسی اور نصابی سرگرمیوں تک بھی وسیع ہے۔ زبان کی ترویج و اشاعت، اس کے معیار و وقار کی حفاظت اور نئی نسل تک اس کے علمی و ادبی سرمایے کی منتقلی کے سلسلے میں ان کی سنجیدہ دلچسپی ہمیشہ قابلِ توجہ رہی ہے۔ ان کی یہ وابستگی اس امر کی غماز ہے کہ وہ اردو زبان کو محض اظہار و ابلاغ کا وسیلہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک تہذیبی، ثقافتی اور فکری ورثے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، جس کی حفاظت اور ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
اس موقع پر انھیں بال بھارتی کی چھٹی جماعت کی وہ درسی کتاب پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جس کی ادارت، ترتیب و تدوین کا فریضہ اردو لسانی کمیٹی نے انجام دیا ہے۔ اس کمیٹی کے فعال اور اہم اراکین میں برادر محسن ساحلؔ کا نام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ موصوف نے اپنی بے شمار تدریسی، ادبی اور سماجی مصروفیات کے باوجود اس کتاب کی تیاری، تدوین، تنقیح اور دیگر علمی و لسانی مراحل میں نہایت ذمے داری، محنت اور انہماک کے ساتھ حصہ لیا۔ ان کی شرکت محض کمیٹی کی رکنیت تک محدود نہیں رہی بلکہ انھوں نے اپنے مطالعے، تجربے، ادبی ذوق اور تدریسی مشاہدات کی روشنی میں مختلف امور پر اپنی آرا اور مفید تجاویز پیش کیں، جن سے کتاب کی مجموعی افادیت میں اضافہ ہوا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ نصابی کتابوں کی تیاری ایک ایسا حساس اور ذمے دارانہ علمی عمل ہے جس میں زبان کی صحت، اسلوب کی سلاست، مواد کی معنویت، عمر کے تقاضوں اور طلبہ کی ذہنی استعداد جیسے متعدد پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ کسی بھی درسی کتاب کی اہمیت محض اس کے مندرجات یا اسباق کی تعداد سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے بھی وابستہ ہوتی ہے کہ وہ طلبہ کے ذہن و فکر پر کس نوعیت کے اثرات مرتب کرتی ہے، ان کے ذوقِ مطالعہ کو کس حد تک جِلا بخشتی ہے اور ان میں زبان کے استعمال، تفہیم اور اظہار کی صلاحیتوں کو کس انداز سے پروان چڑھاتی ہے۔
درحقیقت درسی کتاب کی تیاری محض ایک انتظامی یا رسمی عمل نہیں بلکہ ایک ایسا علمی و تعلیمی فریضہ ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں کی فکری، لسانی اور تہذیبی تربیت پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے نصابی مواد کی ترتیب و تدوین میں شامل ہر فرد پر ایک غیر معمولی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ محسن ساحلؔ نے اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے قیمتی مشوروں، تنقیدی بصیرت، ادبی ذوق اور تدریسی تجربات کے ذریعے اس کتاب کو زیادہ مؤثر، معیاری اور طلبہ کے لیے مفید بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یہ شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اردو کے تعلیمی مستقبل اور اس کی نصابی تشکیل کے حوالے سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہاں اس پہلو کی نشان دہی بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ کسی ادیب یا شاعر کا نصابی سرگرمیوں سے وابستہ ہونا دراصل اس کے ادبی تجربے کو عملی تعلیمی ضروریات سے مربوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تخلیقی ادب انسان کے احساس و ادراک کو وسعت دیتا ہے، جب کہ نصابی ادب اسی فکری اور لسانی سرمائے کو ایک منظم تعلیمی نظام کے ذریعے نئی نسل تک منتقل کرنے کا وسیلہ بنتا ہے۔ محسن ساحلؔ کی شخصیت میں یہ دونوں جہتیں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کی ادبی بصیرت اور تدریسی تجربہ یقیناً اس نوعیت کے کاموں میں ایک مفید امتزاج کی حیثیت رکھتا ہے۔
بال بھارتی جیسے معتبر تعلیمی ادارے کے ساتھ اردو زبان و ادب سے وابستہ افراد کا تعاون اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہاں تیار ہونے والا نصابی مواد ریاست کے مختلف علاقوں میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ تک پہنچتا ہے۔ اس لیے اس ادارے میں ہونے والی علمی و لسانی سرگرمیاں محض ایک ادارے کی داخلی سرگرمیاں نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات وسیع تر تعلیمی حلقوں تک پہنچتے ہیں۔ اردو لسانی کمیٹی کے اراکین اسی احساسِ ذمے داری کے تحت اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے نصابی مواد کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ محسن ساحلؔ کی شمولیت بھی اسی اجتماعی علمی جدوجہد کا ایک قابلِ قدر حصہ ہے۔
چنانچہ آج جب اردو لسانی کمیٹی کے صدر محترم ڈاکٹر محمد اسداللہ کی موجودگی میں یہ کتاب محسن ساحلؔ کی خدمت میں پیش کی گئی تو یہ محض ایک کتاب کی پیش کش نہ تھی بلکہ ان کی مسلسل محنت، علمی لگن، تخلیقی صلاحیتوں اور اردو زبان کے تئیں مخلصانہ وابستگی کا ایک خاموش اعتراف بھی تھا۔ اس موقع پر کتاب کی پیش کش کے ذریعے دراصل اس علمی تعاون اور اجتماعی کاوش کو بھی سراہا گیا جس کے نتیجے میں ایک اہم نصابی ضرورت کی تکمیل ممکن ہوئی۔
مجھے یقین ہے کہ محسن ساحلؔ جیسے ذوقِ سلیم رکھنے والے، علمی و ادبی شعور سے آراستہ اور اپنے فرائض کے تئیں سنجیدہ افراد کی شمولیت سے اردو زبان کی نصابی و تعلیمی سرگرمیوں کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔ اردو زبان کا مستقبل اسی وقت زیادہ روشن اور تاب ناک ہو سکتا ہے جب اس کے تخلیق کار، معلمین، محققین اور اہلِ علم اپنی انفرادی صلاحیتوں کو اجتماعی مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں اور نئی نسل کی لسانی و فکری تربیت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں۔
بلاشبہ محسن ساحلؔ کی ادبی و تعلیمی سرگرمیاں اس مثبت رویے کی عکاس ہیں۔ ان کی آمد اور بال بھارتی کے ساتھ ان کی علمی وابستگی ہمارے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ادبی و تعلیمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے قلم کو مزید توانائی، فکر کو مزید وسعت اور تخلیقی صلاحیتوں کو مزید بالیدگی بخشے اور انھیں اردو زبان و ادب کی خدمت کے لیے اسی جوش، جذبے اور خلوص کے ساتھ سرگرمِ عمل رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے