कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نیتن یاہو کے جانے سے صرف چہرہ بدلے گا، نقشہ نہیں!

تحریر:ڈاکٹر اسداللہ خان

سیاست میں سب سے بڑا دھوکا اکثر کسی جھوٹ سے نہیں، کسی چہرے سے ہوتا ہے۔ 27 اکتوبر کو اسرائیل میں ووٹ ڈالے گئے، اور دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اس انتخاب کو ایک سوال میں سمیٹ دیا: کیا بنیامین نیتن یاہو جائیں گے؟ ابتدائی نتائج میں کسی بلاک کو واضح اکثریت نہیں ملی، مگر ان کے سب سے بڑے حریف، یاشار پارٹی کے سربراہ اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ نے انتخابی رات ہی فتح کا دعویٰ کر دیا۔ عالمی میڈیا انہیں "اینٹی بی بی” کہتا ہے، یعنی نیتن یاہو مخالف۔ یہ لقب جتنا سہل ہے، اتنا ہی گمراہ کن بھی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیل کا اگلا وزیرِ اعظم کون ہوگا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اگلے وزیرِ اعظم کے ہاتھ میں نقشہ کون سا ہوگا۔
آئزنکوٹ 2015 سے جنوری 2019 تک اسرائیلی فوج کے سربراہ رہے۔ اکتوبر 2023 کے بعد وہ جنگی کابینہ کا حصہ بنے، اور دسمبر 2023 میں ان کا پچیس سالہ بیٹا غزہ کی جنگ میں مارا گیا۔ ایک سابق جرنیل، ایک سوگوار باپ، ایک دھیما لہجہ: اسرائیلی رائے دہندگان کے لیے یہ ایک مکمل تصویر ہے، اور نیتن یاہو کے شور شرابے سے تھکے ہوئے مغربی مبصرین کے لیے ایک خوشگوار تبدیلی۔ مگر لہجہ پالیسی نہیں ہوتا، اور آواز کی دھیمی پچ بموں کی تباہی کم نہیں کرتی۔
اکتوبر 2008 میں، جب آئزنکوٹ اسرائیل کی شمالی کمان کے سربراہ تھے، انہوں نے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کو ایک انٹرویو دیا جو بعد میں ایک پورے فوجی نظریے کی بنیاد بن گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2006 کی جنگ میں بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ کے ساتھ جو ہوا، وہی ہر اس گاؤں کے ساتھ ہوگا جہاں سے اسرائیل پر گولی چلے گی؛ اسرائیل وہاں غیر متناسب طاقت استعمال کرے گا اور بھاری تباہی پھیلائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی نظر میں یہ شہری گاؤں نہیں، فوجی اڈے ہیں، اور یہ کوئی تجویز نہیں بلکہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی منظوری دی جا چکی ہے۔ یہی خیال "ضاحیہ ڈاکٹرین” کہلایا۔ اگلے برس اقوامِ متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے، جس کی سربراہی جنوبی افریقہ کے جج رچرڈ گولڈ اسٹون کر رہے تھے، 2008-09 کی غزہ جنگ پر اپنی رپورٹ میں اس تصور کو مزاحمت کے خوف کے لیے وسیع پیمانے پر تباہی کی حکمتِ عملی قرار دیا، اور یہ نتیجہ نکالا کہ اسے عملاً نافذ کیا گیا تھا۔
اس نظریے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے جنگ کے قانون کے دو بنیادی اصول یاد رکھنے چاہئیں۔ پہلا امتیاز کا اصول ہے: لڑنے والے اور نہ لڑنے والے میں فرق کیا جائے گا۔ دوسرا تناسب کا اصول ہے: کسی فوجی ہدف پر حملے سے ہونے والا شہری نقصان اس فوجی فائدے سے بڑھ نہیں سکتا۔ ضاحیہ ڈاکٹرین ان دونوں اصولوں کو ایک جملے میں منسوخ کر دیتی ہے۔ وہ گاؤں کو اڈہ قرار دے کر امتیاز ختم کرتی ہے، اور غیر متناسب طاقت کو اعلانیہ پالیسی بنا کر تناسب۔ اس میں گولی چلانے والے کو نہیں، اس کی گلی کو سزا دی جاتی ہے؛ مجرم کو نہیں، جغرافیے کو۔ یہ جنگ کی وہ صورت ہے جس میں بستی بجائے خود دشمن بن جاتی ہے۔
آج آئزنکوٹ کیا کہتے ہیں؟ اگست 2026 میں اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سات اکتوبر کے بعد جو بھی دو ریاستی حل کی بات کرتا ہے، وہ خیالی دنیا میں رہتا ہے۔ ایک امریکی جریدے سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ کبھی "دو قوموں کے لیے دو ریاستوں” کے فارمولے کے قائل نہیں رہے۔ جون 2026 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں، جسے وہ یہودیہ اور سامریہ کہتے ہیں، یہودی بستیوں کی آبادکاری پر اپنے پختہ یقین کا اظہار کیا۔ عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے سوال پر انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ یہ ان کے اصولوں کے خلاف ہے، اور اتحادیوں کے لیے یہ شرط رکھی کہ وہ اسرائیل کو یہودی اور جمہوری ریاست تسلیم کریں، حالانکہ اسرائیل کی آبادی کا پانچواں حصہ عرب شہریوں پر مشتمل ہے۔ اور جب جولائی 2026 میں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کی بنیاد پر نیتن یاہو کی گرفتاری کی بات کی، تو آئزنکوٹ، جو نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں، فوراً ان کے دفاع میں کھڑے ہو گئے اور اس مطالبے کو سچائی کی بے پروا تحریف اور خالص یہود دشمنی قرار دیا۔
ان کے ماضی کا ایک اور باب بھی اس تصویر کو مکمل کرتا ہے۔ 2018 میں غزہ کی سرحد پر "گریٹ مارچ آف ریٹرن” کے مظاہروں کے دوران، جب وہ فوج کے سربراہ تھے، سو سے زائد فلسطینی اسرائیلی گولیوں سے مارے گئے۔ اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے فروری 2019 میں قرار دیا کہ اس بات پر یقین کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان مظاہرین پر براہِ راست گولیاں چلا کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں کیں۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اسی پالیسی پر سب سے سخت تنقید خود اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم نے کی، جس نے اسے غیر مسلح مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی پالیسی کہا۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھا جائے۔ آئزنکوٹ کے حامی یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انتہا پسند وزرا بزلئیل سموتریچ اور اتمار بن گویر پر اسرائیل کے قومی مفاد کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا، کہا کہ مغربی کنارے میں فوج کا کنٹرول کمزور پڑ گیا ہے اور اسے بحال ہونا چاہیے، اور متنازع "ای ون” آبادکاری منصوبے کو غلطی قرار دیا۔ وہ غزہ میں ایسی طویل جنگ بندی کے حامی ہیں جس میں یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کا غیر مسلح ہونا شامل ہو، اور ان شرائط پر بندرگاہ سمیت بحالی کے اقدامات قبول کرنے کو تیار ہیں۔ ان کے حامی یہ بھی کہتے ہیں کہ ضاحیہ ڈاکٹرین کا مقصد جنگ نہیں، جنگ کو روکنا تھا۔ ان باتوں میں وزن ہے، اور یہ ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ ان وزیروں سے مختلف ہیں جو فلسطینیوں کو کھلے عام بے دخل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ مگر غور کیجیے کہ ای ون منصوبے پر ان کا اعتراض یہ تھا کہ اس سے اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر نقصان ہوتا ہے، اور فلسطینیوں سے علیحدگی کی ان کی وکالت کی ایک بنیادی دلیل "یہودی اکثریت” کا تحفظ ہے۔ یعنی اختلاف قیمت اور طریقے پر ہے، فلسطینیوں کے حق پر نہیں۔ اور ایک اسرائیلی جریدے کے تجزیے کے مطابق انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں ان کی حکمتِ عملی نیتن یاہو کو دائیں جانب سے پیچھے چھوڑنے کی تھی۔ جس سیاست میں مقابلہ نرمی کا نہیں بلکہ سختی کا ہو، وہاں ہر نیا امیدوار پرانے سے زیادہ سخت نظر آنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔
یہیں وہ نکتہ ہے جو اس انتخاب کی عالمی تفہیم میں گم ہو گیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں اسرائیلی ریاست کے طرزِ عمل کو ایک شخص کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں جن دو اسرائیلی رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے، ان میں نیتن یاہو سرِ فہرست تھے، اور دنیا بھر کے احتجاجوں میں ان کا چہرہ ظلم کی علامت بن گیا۔ اس شخصی تصویر کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ جب ظلم ایک فرد کا نام بن جائے، تو اس فرد کا جانا ظلم کے خاتمے کا دھوکا دینے لگتا ہے۔ اگر نیتن یاہو رخصت ہوتے ہیں تو مغربی دارالحکومتوں میں اطمینان کا سانس لیا جائے گا، تعلقات "معمول” پر آنے لگیں گے، اور دباؤ ڈھیلا پڑ جائے گا، حالانکہ جس نظریے کے تحت غزہ اور جنوبی لبنان کی بستیاں ملبے میں بدلیں، اس کا مصنف خود اقتدار کے دروازے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ چہرے بدلنے سے نقشے نہیں بدلتے؛ نقشے نظریے بدلنے سے بدلتے ہیں۔
اس میں ہمارے لیے، ہندوستان کے اردو قارئین کے لیے بھی، ایک سبق ہے۔ ہماری صحافت اکثر بین الاقوامی سیاست کو ہیرو اور ولن کی کہانی بنا دیتی ہے۔ ایک کو گرتا دیکھ کر ہم خوش ہوتے ہیں اور دوسرے کے لہجے سے امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ سنجیدہ تجزیے کا تقاضا یہ ہے کہ رہنماؤں کو ان کی آواز سے نہیں، ان کی پالیسی، ان کے ریکارڈ اور ان کے اعلانیہ نظریات سے پرکھا جائے۔ ہندوستان سرکاری طور پر مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا آیا ہے؛ اس پالیسی کو با معنی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نئی دہلی اسرائیل کی کسی بھی آنے والی حکومت سے بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری، غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی، اور بین الاقوامی عدالتوں کے احترام کا تقاضا اسی شدت سے کرے، خواہ وزیرِ اعظم کا نام کچھ بھی ہو۔ اور ایک بات ہمیں اپنی تحریروں میں بھی ملحوظ رکھنی چاہیے: تنقید ایک ریاست کے نظریے اور اس کے حکمرانوں کی پالیسی پر ہو، کسی قوم یا مذہب پر نہیں۔ اسرائیل کے اندر بتسلیم جیسی تنظیمیں اور بہت سے اسرائیلی صحافی خود اسی نظریے کے سب سے بے باک ناقد ہیں۔ انصاف کی جدوجہد کو نفرت کی زبان سے سب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔
آئزنکوٹ کا دکھ حقیقی ہے؛ کوئی باپ اپنے بیٹے کی موت کو بھلا نہیں سکتا۔ مگر سوگ کی سچائی تب پوری ہوتی ہے جب وہ سرحد پار کر کے غزہ کے ان باپوں تک پہنچے جن کے بچے ملبے کے نیچے دفن ہوئے۔ جو دکھ صرف اپنی طرف دیکھے، وہ انتقام کی ایندھن بن جاتا ہے؛ جو دوسرے کا دکھ بھی پہچان لے، وہی امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
غزہ یا جنوبی لبنان کے کسی بچے کے لیے اس بات کا کوئی مطلب نہیں کہ اس کے گھر پر گرنے والے بم کا حکم کسی چیختے ہوئے سیاست دان نے دیا یا کسی دھیمے لہجے والے جرنیل نے۔ اسرائیل کا اگلا وزیرِ اعظم کوئی بھی ہو، اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی ریاست کبھی یہ مان سکے گی کہ کسی گاؤں کو فوجی اڈہ کہہ دینے سے وہاں سوئے ہوئے بچے سپاہی نہیں بن جاتے؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے