कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

الیکشن قریب آیا تو اعظم خان یاد آئے- اکھلیش بابو!

یہ ملاقات ہے یا ووٹ کی وصولی؟

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

رام پور ضلع جیل کا سرخ دروازہ کھلا، پولیس کے گھیرے میں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو باہر نکلے، کیمرے چمکے اور اگلی صبح اخبارات کی سرخی تھی: "اکھلیش نے اعظم خان سے جیل میں ملاقات کی، بی جے پی کو ہرانے کا عزم”۔ باہر کھڑے صحافیوں سے انہوں نے کہا کہ اعظم صاحب اور ان کے خاندان پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے ہیں، کسی سیاسی خاندان کے ساتھ اتنی ناانصافی نہیں ہوئی، اور جب بی جے پی کے ظلم کی تاریخ لکھی جائے گی تو رام پور کا نام سب سے اوپر ہوگا۔ انہوں نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بند کرنے کی کوشش کو "پی ڈی اے” یعنی پچھڑوں، دلتوں اور اقلیتوں سے تعلیم کا حق چھیننے کی سازش بھی قرار دیا۔
الفاظ بہت خوب صورت ہیں۔ مگر اترپردیش کا مسلمان ان الفاظ کو سن کر تالی بجانے سے پہلے کیلنڈر کی طرف دیکھتا ہے۔ اسمبلی انتخابات چند مہینوں کے فاصلے پر ہیں۔ اور وہ پوچھتا ہے: اکھلیش بابو! اعظم خان آج یاد آئے ہیں، یا آج یاد دلانا ضروری ہو گیا ہے؟
یہ سوال کسی جذباتی لمحے کی پیداوار نہیں، یہ برسوں کے حساب کا نتیجہ ہے۔ آئیے وہ حساب سامنے رکھتے ہیں۔
فروری ۲۰۲۰ء میں اعظم خان، ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کو جیل بھیجا گیا۔ اعظم خان تقریباً ستائیس مہینے سیتاپور جیل میں رہے، اور مئی ۲۰۲۲ء میں سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد باہر آئے۔ اسی برس، اسمبلی انتخابات کے بعد، ان کے میڈیا انچارج فصاحت علی خان نے رام پور میں پارٹی کے ایک اجلاس میں کھلے عام شکایت کی کہ اڑھائی برس میں اکھلیش یادو صرف ایک بار جیل میں ان سے ملنے گئے، پارٹی نے ان کی رہائی کے لیے کسی ایک ضلع میں بھی احتجاج نہیں کیا، اور مسلمانوں نے جس پارٹی کو یک طرفہ ووٹ دے کر ایک سو گیارہ نشستیں دلائیں، اس کے صدر نے کبھی اس برادری کے لیے آواز نہیں اٹھائی۔
اکتوبر ۲۰۲۲ء میں نفرت انگیز تقریر کے ایک مقدمے میں سزا کے بعد اعظم خان کی اسمبلی رکنیت ختم ہوئی، اور دسمبر کے ضمنی انتخاب میں وہ رام پور، جسے دہائیوں تک ان کا قلعہ کہا جاتا تھا، بی جے پی کے حصے میں چلا گیا۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں بیٹے کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے مقدمے میں سزا کے بعد پورا خاندان پھر جیل میں تھا۔ اعظم خان اس بار تقریباً تئیس مہینے بعد، ستمبر ۲۰۲۵ء میں سیتاپور جیل سے باہر آئے۔ رپورٹوں کے مطابق اس دن جیل کے دروازے پر اکھلیش یادو موجود نہیں تھے۔ ان کی اہلیہ نے کہا تھا کہ انہیں سماج وادی پارٹی سے کوئی امید نہیں۔ بی ایس پی میں شمولیت کی افواہیں گرم ہوئیں، اور تب، اکتوبر ۲۰۲۵ء میں، اکھلیش رام پور پہنچے۔
نومبر ۲۰۲۵ء میں دو پین کارڈ کے مقدمے میں باپ بیٹے کو سات سات برس کی سزا ہوئی اور اعظم خان پھر جیل چلے گئے۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں رام پور ترقیاتی اتھارٹی نے جوہر یونیورسٹی کی چالیس میں سے اڑتیس عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر انہدام کا نوٹس جاری کیا۔ اس نازک موقع پر پارٹی نے رام پور ایک وفد بھیجا۔ اور اب، اکتوبر ۲۰۲۶ء میں، جب انتخابی بگل بجنے کو ہے، پارٹی صدر خود جیل کے دروازے پر کھڑے ہیں۔
اس روزنامچے کو غور سے پڑھیے تو ایک سیدھا سا نقشہ ابھرتا ہے۔ اکھلیش بابو کی ملاقاتیں جیل کے کیلنڈر سے نہیں، سیاست کے کیلنڈر سے بندھی دکھائی دیتی ہیں۔ جب اعظم خان کمزور اور تنہا تھے، فاصلہ رہا۔ جب ان کے پارٹی چھوڑنے کی خبریں گرم ہوئیں، یا جب ووٹ کا موسم قریب آیا، قدم رام پور کی طرف اٹھے۔
اترپردیش کے مسلمان کے لیے اعظم خان محض ایک سیاست داں نہیں۔ وہ رام پور سے دس بار کے رکنِ اسمبلی ہیں، کئی بار ریاستی وزیر رہے، اور وہ شخص ہیں جس نے ایک پسماندہ علاقے میں ایک یونیورسٹی کھڑی کی جس کا نام مولانا محمد علی جوہر کے نام پر رکھا گیا۔ ان کی زبان تیز تھی، ان کا لہجہ اکثر کڑوا تھا، اور ان کے بعض بیانات پر خود مسلمانوں نے بھی سر جھکایا ہے۔ مسلمان انہیں فرشتہ نہیں سمجھتا، اور نہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ انہیں قانون سے بالاتر رکھا جائے۔ عدالتوں نے بعض مقدمات میں انہیں سزا دی ہے، اور ان فیصلوں کے خلاف اپیلیں قانون کے دائرے میں جاری ہیں۔
مگر مسلمان یہ ضرور دیکھتا ہے کہ ایک شخص، اس کی بیوی اور اس کے بیٹے پر اتنے مقدمات قائم ہوئے کہ ان کی گنتی بھی ایک خبر بن گئی؛ کہ ایک بیٹے کی پیدائش کی تاریخ اور ایک پین کارڈ پورے خاندان کو برسوں سلاخوں کے پیچھے رکھنے کا ذریعہ بن گئے؛ اور کہ جس عمارت میں ہزاروں بچے پڑھتے ہیں، اس پر بلڈوزر کا سایہ منڈلا رہا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: کیا اسی ریاست میں کسی اور قدآور رہنما، کسی اور پارٹی کے کسی اور طاقت ور خاندان کے ساتھ یہی پیمانہ برتا گیا؟ اگر قانون سب کے لیے ایک ہے تو اس کی رفتار اور اس کی سختی بھی سب کے لیے ایک کیوں نظر نہیں آتی؟
اسی لیے اعظم خان کا معاملہ مسلمان کے دل میں ایک شخص کا نہیں، ایک علامت کا معاملہ بن گیا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر رام پور کا یہ طاقت ور ترین مسلمان، جس نے پچاس برس سیاست کی، برسوں جیل میں رہ سکتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی یونیورسٹی پر بلڈوزر کا نوٹس آ سکتا ہے، تو گاؤں کے اس عام مسلمان کی کیا حیثیت ہے جس کے پاس نہ وکیل ہے، نہ پیسہ، نہ اخبار؟
اڑھائی برس میں ایک ملاقات؟
اب سیدھے سوال، اکھلیش بابو، آپ سے۔
آپ کہتے ہیں کہ کسی سیاسی خاندان کے ساتھ اتنی ناانصافی نہیں ہوئی جتنی اعظم خان کے خاندان کے ساتھ ہوئی۔ ہم آپ سے متفق ہیں۔ لیکن جب یہ ناانصافی ہو رہی تھی، آپ کہاں تھے؟ جب ستائیس مہینے کی پہلی قید کے دوران آپ کے اپنے رہنما کے معتمد کہہ رہے تھے کہ آپ صرف ایک بار ملنے گئے، تب آپ نے اس شکایت کا جواب سیتاپور کی سڑک پر قدم رکھ کر کیوں نہیں دیا؟ جب ستمبر ۲۰۲۵ء میں اعظم خان تئیس مہینے بعد جیل سے نکلے، تو جیل کے دروازے پر استقبال کرنے والوں میں آپ کیوں نہیں تھے؟ اور جب جولائی میں ان کی یونیورسٹی کی اڑتیس عمارتوں پر انہدام کا نوٹس آیا، تو آپ نے وفد بھیجا، خود کیوں نہیں گئے؟
آپ کہتے ہیں کہ سرکار بنی تو سارے جھوٹے مقدمے واپس ہوں گے۔ مسلمان پوچھتا ہے: کیا اعظم خان کی رہائی بھی ایک انتخابی وعدہ ہے، جس کی ادائیگی ووٹ کی شرط سے بندھی ہے؟ جو پارٹی اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنے سب سے بڑے مسلمان رہنما کے لیے سڑک پر ایک منظم تحریک نہ چلا سکی، وہ اقتدار میں آ کر کیا کرے گی، اس کی ضمانت کون دے گا؟
مارچ ۲۰۲۴ء میں اعظم خان نے سیتاپور جیل سے پیغام بھیجا کہ اکھلیش یادو خود رام پور سے لوک سبھا کا الیکشن لڑیں، اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ وہ رام پور کے انتخاب کا بائیکاٹ کریں گے۔ پارٹی نے رام پور سے مولانا محب اللہ ندوی کو ٹکٹ دیا، اور وہ جیت بھی گئے۔ ایک منتخب مسلمان رکنِ پارلیمان کی کامیابی پر کسی کو اعتراض نہیں۔ اعتراض اس طرزِ عمل پر ہے جس میں جیل میں بیٹھے ایک رہنما کی رائے کو اس کے اپنے گھر کے فیصلے میں بھی وزن نہ دیا گیا۔
مسلمان یہ سب دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا اعظم خان کو رام پور کی سیاست سے رفتہ رفتہ بے دخل کیا جا رہا تھا؟ اور اگر ایسا تھا تو آج اسی اعظم خان کی تصویر کے ساتھ رام پور کا ووٹ کیوں مانگا جا رہا ہے؟ آپ کے اپنے سینئر رہنما کہہ رہے ہیں کہ یہ ملاقات ان لوگوں کو جواب ہے جو اعظم خان کا قد گھٹانا چاہتے تھے۔ اکھلیش بابو! وہ لوگ کون تھے؟ کہیں ان کا پتا آپ کے اپنے دفتر میں تو نہیں ملتا؟
آپ نے "پی ڈی اے” کا نعرہ دیا: پچھڑے، دلت، الپ سنکھیک، یعنی اقلیتیں۔ اس نعرے کا آخری حرف اترپردیش کے تقریباً ہر پانچویں شہری کی نمائندگی کرتا ہے۔ ۲۰۲۲ء کے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے جس یک سوئی سے آپ کو ووٹ دیا، اس پر ریاست کے تمام انتخابی تجزیہ نگار متفق ہیں۔ ۲۰۲۴ء کی لوک سبھا میں بھی آپ کو جو تاریخی کامیابی ملی، اس میں اس برادری کا حصہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
مگر مسلمان پوچھتا ہے کہ اس "اے” کی آواز آپ کے منبر سے کتنی بار سنائی دی؟ جب مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلے، جب بھیڑ کے ہاتھوں قتل کی خبریں آئیں، جب مسجدوں اور مدرسوں کے بارے میں تنازعات اٹھے، جب نوجوانوں کو برسوں مقدمات میں الجھایا گیا، تب آپ کی آواز کتنی بلند تھی؟ مسلمان کو یہ شکایت نہیں کہ آپ ہر بار اس کے لیے سڑک پر کیوں نہیں آئے۔ اسے شکایت یہ ہے کہ آپ کی خاموشی اس ڈر سے بندھی دکھائی دیتی رہی کہ کہیں آپ "مسلمانوں کی پارٹی” نہ کہلا دیے جائیں۔ آپ کو مسلمان کا ووٹ تو چاہیے تھا، مگر اس کے ساتھ کھڑے ہونے کی تصویر نہیں۔
یہ سوال صرف آپ سے نہیں، اترپردیش کی پوری سیکولر سیاست سے ہے، مگر آج یہ آپ کے دروازے پر اس لیے کھڑا ہے کہ اس ریاست میں سب سے زیادہ مسلمان ووٹ آپ ہی کے کھاتے میں جاتا ہے۔ مسلمان کو برسوں سے یہ سمجھایا جاتا رہا کہ تمہارے پاس کوئی اور راستہ نہیں؛ بی جے پی کو روکنا ہے تو ہمیں ووٹ دو۔ اس منطق نے مسلمان کو ایک ایسا ووٹر بنا دیا ہے جس کا ووٹ پہلے ہی جیب میں سمجھا جاتا ہے، اور جس جیب میں کوئی چیز یقینی طور پر موجود ہو، اس کی فکر کوئی نہیں کرتا۔
بی جے پی کے ریاستی انچارج کا یہ طنز کہ سماج وادی پارٹی کا اعظم خان کو وزیرِ داخلہ بنانے کا "خواب” کبھی پورا نہیں ہوگا، دراصل مسلمانوں کو یہ یاد دلاتا ہے کہ ان کا رہنما دونوں طرف سے سیاسی بساط کا ایک مہرہ بن گیا ہے: ایک طرف اسے ڈراوے کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، دوسری طرف ووٹ کی ضمانت۔ مسلمان اب نہ ڈراوا بننا چاہتا ہے، نہ ضمانت۔ وہ شہری بننا چاہتا ہے، جس کے سوال کا جواب دیا جائے اور جس کے درد کا حساب رکھا جائے۔
یہ تحریر صرف شکایتوں کا دفتر نہیں۔ اترپردیش کے مسلمان کو اپنا احتساب بھی کرنا ہے۔ اس نے برسوں اپنا ووٹ جذبات کے بہاؤ میں دیا اور بدلے میں کسی ٹھوس عہد کا مطالبہ نہیں کیا۔ اس نے اپنی قیادت کو چند ناموں تک محدود رکھا، اور جب وہ نام کمزور پڑے تو خود کو بے سہارا پایا۔ اس نے تعلیم، روزگار اور قانونی مدد کے اپنے اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے سیاسی سرپرستی پر بھروسا کیا۔
اگلے الیکشن سے پہلے مسلمانوں کو اپنے ووٹ کو ایک معاہدے میں بدلنا ہوگا۔ ہر امیدوار اور ہر پارٹی سے تحریری طور پر پوچھا جائے کہ وہ تعلیمی اداروں کے تحفظ، طویل مقدمات میں پھنسے نوجوانوں کی قانونی مدد، بلڈوزر کی کارروائیوں میں قانونی طریقۂ کار کی پابندی، اور فرقہ وارانہ تشدد کے مقدمات میں فوری انصاف کے بارے میں کیا کرے گی۔ جو جواب دے، اس پر نظر رکھی جائے؛ جو وعدہ توڑے، اگلی بار اس کا حساب لیا جائے۔ ووٹ کا وزن اس دن بڑھتا ہے جس دن ووٹر یہ ثابت کر دے کہ وہ یقینی نہیں ہے۔
اکھلیش بابو! اگر آپ کی رام پور یاترا محض انتخابی تصویر نہیں، تو اسے ثابت کرنے کا موقع ابھی باقی ہے۔ اعظم خان اور ان کے خاندان کے مقدمات کے لیے پارٹی کی سطح پر بہترین قانونی ٹیم کا اعلان کیجیے اور ان مقدمات کی پیروی کو پارٹی کی ذمہ داری بنائیے، صرف بیانات کی نہیں۔ جوہر یونیورسٹی کے تحفظ کو، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، ایک سیاسی تحریک بنائیے، اور اس تحریک کی قیادت وفد کے ذریعے نہیں، خود کیجیے۔ اپنی انتخابی دستاویز میں مسلمانوں کے تعلیمی، معاشی اور قانونی مسائل کے لیے واضح، قابلِ پیمائش وعدے لکھیے، اور ان کی نگرانی کے لیے ایک کھلا طریقہ بتائیے۔ اور سب سے بڑھ کر، "پی ڈی اے” کے "اے” کو صرف ووٹ کے دن نہیں، ہر دن اپنی آواز دیجیے۔
اگر یہ سب الیکشن کے بعد بھی جاری رہا تو مسلمان یہ مان لے گا کہ اکتوبر کی یہ ملاقات ایک سچی ہمدردی تھی۔ اور اگر الیکشن ختم ہوتے ہی رام پور کا راستہ پھر طویل ہو گیا، تو یہ ملاقات اس کے حافظے میں ایک اور انتخابی تصویر بن کر رہ جائے گی۔
رام پور جیل کا دروازہ آپ کے لیے کھلا، اکھلیش بابو، اور آپ باہر آ گئے۔ اعظم خان کے لیے وہ دروازہ ابھی بند ہے۔ اس دروازے کے دونوں طرف کا فرق آج اترپردیش کے مسلمان کے دل میں ایک سوال بن کر کھڑا ہے: جو رہنما برسوں اس دروازے کے پیچھے رہا، اس کی یاد آپ کو کب آتی ہے، اور کیوں آتی ہے؟
مسلمان آپ کا دشمن نہیں۔ اس نے آپ کو جتنی وفاداری دی، اتنی کسی اور برادری نے شاید ہی دی ہو۔ مگر وفاداری بھی ایک ووٹ ہے، اور ہر ووٹ کی طرح اس کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے: وقت پر کندھا، مصیبت میں آواز، اور اقتدار سے باہر رہتے ہوئے بھی ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت۔ اس بار مسلمان آپ کی تقریر نہیں، آپ کا روزنامچہ پڑھ کر فیصلہ کرے گا۔ کیونکہ جیل کے دروازے پر ایک دن کی تصویر اور ووٹ کے دروازے پر پانچ برس کا بھروسا، دونوں کا وزن ایک نہیں ہوتا۔ اور تاریخ جب ناانصافی کی کتاب لکھے گی، جیسا آپ نے کہا، تو شاید اس کے ایک باب کا عنوان یہ بھی ہو: وہ دوست جو صرف الیکشن کے موسم میں یاد آئے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے