कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جلسۂ انعامیہ دارالعلوم وقف دیوبند اور ایک یادگار حسرت

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش
22 اکتوبر 2026ء بروز جمعرات

طلبِ صادق کے سفر میں جب کسی تشنہ لب کو منزل کے نشان ملتے ہیں تو اس کی آنکھوں میں مسرت کے دیپ جل اٹھتے ہیں، مگر جب وہی ادارہ اور مادرِ علمی اپنے لائق فرزندوں کی زانوئے تلمذ کی لاج رکھتے ہوئے ان کے علمی وقار کو سنوارتا ہے تو یہ منظر دلوں کو ایک عجیب روحانی سرور بخشتا ہے۔ دیوبند کی خاک کا یہ امتیاز ہمیشہ سے رہا ہے کہ اس نے قال اللہ و قال الرسول کے نغموں کو صرف سینوں میں محفوظ نہیں رکھا، بلکہ اپنے نونہالانِ چمن کے حوصلوں کو ایسی پرواز دی جس پر تاریخ رشک کرتی ہے۔
آج جب دارالعلوم وقف دیوبند کے سالانہ جلسۂ انعامیہ کی روداد پر نگاہ پڑی اور حضرت مولانا مفتی امانت علی صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ استاذ شعبۂ افتاء دارالعلوم وقف دیوبند کی تحریر سے یہ خوش آئند تفصیلات سامنے آئیں کہ دورۂ حدیث شریف کے اول پوزیشن حاصل کرنے والے ہونہار طالبِ علم کو گراں قدر کتب کے ساتھ ساتھ نقد اعزازات سے نوازا گیا، جن کی مجموعی مالیت تقریباً پچاس ہزار روپے تک جا پہنچی، تو دل بے اختیار مسرور ہو گیا۔ یہ دیکھ کر روح خوش ہو گئی کہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کے عہدِ مبارک کی قائم کردہ یہ زریں روایت آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ و تابندہ ہے۔ جانشینِ خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند کے صدارتی ارشادات کا نور، شیخ الحدیث نبیرۂ علامہ انور شاہ حضرت مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی دامت برکاتہم کی پیش کردہ تعلیمی رپورٹ اور نائب مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد شکیب صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی شبانہ روز فکری کاوشیں اس بات کی شاہد ہیں کہ یہ کارواں آج بھی علم کی رفعتوں کی طرف رواں دواں ہے۔ اس پرفتن دور میں، جہاں مادی چکاچوند اور بے رغبتی نے سنجیدہ مطالعے کا ذوق دھندلا دیا ہے، طالبانِ علومِ نبوت کے تعلیمی جذبے کو ابھارنے اور ان میں آگے بڑھنے کی تڑپ جگانے کے لیے یہ حوصلہ افزائی واقعی آبِ حیات کی مانند ہے۔
اس پرشکوہ منظر نے ناچیز کے نہاں خانۂ دل میں پرانی یادوں کے دریچے وا کر دیے۔حافظے کے پردے پر اپنا وہ دو سال قبل دورِ طالب علمی گھوم گیا جب بندہ اسی چمن میں عربی ادب کے سال میں زانوئے تلمذ طے کر رہا تھا۔ محض خداوند متعال کے فضل و کرم اور اساتذۂ عظام کی باطنی توجہات کا ثمرہ تھا کہ ششماہی اور سالانہ دونوں ہی امتحانات میں ناچیز کا نام بھی نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں میں شامل رہا۔ وہ اساتذہ کی شفقتوں اور کتابوں کے ساتھ شب بیداریوں کے دن تھے۔ تقدیری فیصلے بھی عجب ہوتے ہیں، اسی سال تعلیمی سفر کا رخ تخصص فی الفقہ والافتاء والقضاء کی خاطر دارالعلوم حیدرآباد کی جانب ہو گیا۔ سالانہ جلسۂ تقسیمِ انعامات جب منعقد ہوا تو بندہ حیدرآباد کے علمی ماحول میں اس قدر گھرا ہوا تھا کہ دیوبند کا سفر اختیار نہ کر سکا، اور وہ مبارک و گراں مایہ انعامات جو اساتذہ کی دعاؤں کا روپ دھارے ہوئے تھے احقر کے ہاتھوں تک نہ پہنچ سکے۔
آج جب اساتذہ کے دستِ مبارک سے خوش نصیب طلبہ کو ملنے والے اعزازات کی جھلک دیکھی تو دل کی گہرائیوں میں ایک حسرت جاگ اٹھی۔ دل نے چاہا کہ کاش اس وقت یہ سعادت ہاتھ سے نہ جانے دی ہوتی اور وہ کتب اپنے کتب خانے کی زینت بنتیں، جو اپنے اندر مادرِ علمی کی انمٹ محبتیں سمیٹے ہوئے تھیں۔ گو کہ وہ علمی تحائف ہاتھوں میں نہ آ سکے، مگر دیوبند کی اس مقدس فضا کی دعائیں اور اساتذہ کا فیضان آج بھی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔دعا ہے کہ باری تعالیٰ اس مادرِ علمی کے فیض کو سدا جاری و ساری رکھے اور ان تمام طلبہ کو دینِ متین کی مخلصانہ خدمت کے لیے قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے