कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مشرقِ وسطیٰ کی نئی بساط، عظیم تر اسرائیل کا خواب اور ایران کا واٹر لو

The New Middle Eastern Chessboard, the Dream of Greater Israel, and Iran’s Waterloo

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

آج دنیا کی سیاست کا منظرنامہ ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں برطانوی استعمار (British Colonialism) کے عہد میں کھینچی گئی لکیریں امریکی بالادستی کے دور میں نئے معنی اختیار کر رہی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب برطانیہ کے ایوانوں میں بیٹھ کر مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے فیصلے کیے جاتے تھے، نقشے بنتے تھے، سرحدیں کھینچی جاتی تھیں اور قوموں کی تقدیر کا تعین ان کی مرضی کے بجائے سامراجی مفادات (Imperialist Interests) کی روشنی میں ہوتا تھا۔ آج وہی خطہ ایک نئی عالمی طاقت کی حکمتِ عملی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں برطانوی سلطنت کے پرچم تلے جو کھیل کھیلا جاتا تھا، آج اس کے بہت سے کردار امریکی طاقت، عسکری برتری اور عالمی سیاسی اثرورسوخ کے سائے میں اپنی اپنی بساط بچھا رہے ہیں۔ امریکہ کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ محض عالمی قیادت کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ اس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی، جغرافیائی اور تزویراتی توازن کو نئے سرے سے مرتب کرنے کی کوششیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی خطے میں امن، خودمختاری اور استحکام کی بنیاد رکھے گی، یا ایک نئی کشمکش کو جنم دے گی جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب بڑی طاقتیں کسی خطے کی تشکیلِ نو کا ارادہ کرتی ہیں تو ان کے سامنے نقشے پر کھنچی ہوئی سرحدیں محض جغرافیائی لکیریں نہیں رہتیں، بلکہ مفادات، وسائل، عسکری اڈوں، تجارتی راستوں اور سیاسی وفاداریوں کی علامت بن جاتی ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے انہدام اور برطانوی و فرانسیسی اثرورسوخ کے پھیلاؤ نے مشرقِ وسطیٰ کی جدید سیاسی ساخت پر گہرے نقوش چھوڑے۔ بعد کے ادوار میں اسرائیل کا قیام، عرب اسرائیل جنگیں، تیل کی سیاست، سرد جنگ کی رقابتیں اور خلیجی خطے میں امریکی عسکری موجودگی نے اس تاریخی ورثے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ آج اگر مشرقِ وسطیٰ کی ازسرِنو تشکیل کی بات ہوتی ہے تو اسے کسی ایک ملک یا ایک شخصیت کی خواہش تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا؛ اس کے پس منظر میں عالمی طاقتوں کے مفادات، علاقائی ریاستوں کی سلامتی کے خدشات، فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور کئی دہائیوں سے جاری تنازعات کا ایک پیچیدہ جال موجود ہے۔
اس پورے منظرنامے میں اسرائیل کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسرائیل کا قیام محض ایک نئی ریاست کا ظہور نہیں تھا، بلکہ اس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عرب قوم پرستی، فلسطینی قومی جدوجہد اور عالمی طاقتوں کی علاقائی حکمتِ عملی کو ایک نئے محور پر لا کھڑا کیا۔ اس کے بعد سے خطے کی سیاست میں اسرائیل کی عسکری برتری، امریکہ کی حمایت اور اپنے وجود و سلامتی کے بارے میں اسرائیلی تصورات مسلسل اہم عوامل رہے ہیں۔ تاہم، اسرائیل کے مستقبل کو سمجھنے کے لیے یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ اسرائیل کی سلامتی اور اس کی علاقائی بالادستی دو الگ تصورات ہیں۔ کسی ریاست کے تحفّظ کا حق اسے لامحدود علاقائی اختیار نہیں دیتا، اور نہ ہی کسی دوسری قوم کے حقوق کو محدود کرکے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عظیم تر اسرائیل کا تصور ایک حساس اور متنازع سیاسی و نظریاتی بحث کی صورت اختیار کرتا ہے۔
عظیم تر اسرائیل کی اصطلاح مختلف تاریخی، مذہبی اور سیاسی تعبیرات میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ بعض سیاسی و مذہبی حلقوں میں اس سے مراد اسرائیلی ریاست کی سرحدوں کو وسیع کرنے کا تصور لیا جاتا ہے، جب کہ بعض مواقع پر یہ اصطلاح زیادہ وسیع نظریاتی معنی میں بھی سامنے آتی ہے۔ لیکن اس تصور کو ایک مکمل، متفقہ اور باضابطہ امریکی منصوبہ قرار دینے کے لیے شواہد درکار ہیں۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی نئی ترتیب میں اسرائیل کو محض ایک محفوظ ریاست کے بجائے خطے کی فیصلہ کن بالادست قوت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ کیا اس سے علاقائی تنازعات ختم ہوں گے یا کمزور ریاستوں کی خودمختاری مزید دباؤ میں آئے گی؟ کیا فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل ممکن ہوگا، یا طاقت کا عدم توازن کسی نئی مزاحمت، نئی جنگ اور نئی تباہی کو جنم دے گا؟ تاریخ کا سبق واضح ہے: طاقت کے ذریعے قائم کیا جانے والا نظم بظاہر دیرپا دکھائی دے سکتا ہے، مگر اگر اس کی بنیاد انصاف اور مقامی آبادیوں کی رضامندی پر نہ ہو تو اس کے اندر مزاحمت کے بیج ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی گزشتہ کئی دہائیوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خطے کی سیاست میں خودمختار علاقائی قیادتوں، انقلابی تحریکوں اور بیرونی طاقتوں کے درمیان کشمکش بار بار فیصلہ کن مرحلے تک پہنچی ہے۔ شاہ فیصل کے عہد میں تیل کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا تجربہ، معمر قذافی کی مغرب مخالف سیاست، صدام حسین کے دور کی جنگیں اور ان کے بعد عراق کی تباہ کن صورتِ حال، حافظ الاسد کی علاقائی حکمتِ عملی اور شام میں بعد کے برسوں کی طویل خانہ جنگی—یہ سب الگ الگ تاریخی واقعات ہیں، جن کے اسباب اور نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان سب کو کسی ایک خفیہ منصوبے کی کڑیاں قرار دینا تاریخی پیچیدگی کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔ تاہم، یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بیرونی مداخلتوں، علاقائی رقابتوں، داخلی آمرانہ سیاست (Domestic Authoritarian Politics) اور طاقت کے حصول کی کشمکش نے مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کو شدید عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔ بعض ریاستوں کی قیادتوں کا خاتمہ ہوا، بعض ریاستی ادارے کمزور پڑے، اور کہیں طاقت کا خلا ایسے گروہوں نے پُر کیا جنہوں نے پورے خطے کو مزید بحرانوں میں دھکیل دیا۔
خلیج کی جنگوں کو بھی اسی وسیع تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایران عراق جنگ، کویت پر عراقی حملہ، 1991ء کی خلیجی جنگ، 2003ء میں عراق پر امریکی قیادت میں حملہ اور اس کے بعد کی طویل بدامنی—ہر واقعے کے اپنے فوری اسباب، علاقائی محرکات اور بین الاقوامی مفادات تھے۔ ان تمام جنگوں کو صرف عظیم تر اسرائیل کے خواب کی تعبیر قرار دینا مکمل تاریخی تصویر پیش نہیں کرتا۔ لیکن یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ان جنگوں کے نتیجے میں خطے کی طاقت کا توازن کس حد تک تبدیل ہوا، کن ریاستوں کی عسکری اور سیاسی صلاحیتیں کمزور ہوئیں، کن بیرونی طاقتوں کی موجودگی بڑھی اور اسرائیل سمیت مختلف علاقائی فریقوں کی سلامتی کے تصورات پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں؛ وہ ریاستی اداروں، معاشی ڈھانچوں، سماجی رشتوں، قومی نفسیات اور آئندہ نسلوں کے امکانات تک کو بدل دیتی ہیں۔ بظاہر ایک جنگ کسی خاص مقصد کے لیے لڑی جاتی ہے، لیکن اس کے نتائج اکثر اس مقصد سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔
آج کے مشرقِ وسطیٰ میں ایران اسی پیچیدہ کشمکش کا ایک اہم کردار ہے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران نے اپنی خارجہ پالیسی کو ایک ایسے انقلابی اور علاقائی تصور کے ساتھ آگے بڑھایا جس نے اسے امریکہ، اسرائیل اور خطے کے بعض عرب ممالک کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی میں رکھا۔ ایران نے اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کے لیے سفارتی تعلقات، عسکری صلاحیتوں، میزائل پروگرام، جوہری سرگرمیوں اور مختلف علاقائی اتحادیوں سے روابط کا سہارا لیا۔ اس حکمتِ عملی نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں ایک مؤثر قوت تو بنایا، مگر اسی کے ساتھ اسے اقتصادی پابندیوں، سفارتی تنہائی، اندرونی معاشی دباؤ اور براہِ راست و بالواسطہ تصادم کے خطرات سے بھی دوچار کیا۔ ایران کو نہ تو محض ایک بیرونی طاقتوں کے خلاف مزاحم قوت سمجھنا کافی ہے اور نہ ہی اسے خطے کے تمام بحرانوں کا واحد ذمّہ دار قرار دینا درست ہوگا۔ اس کی پالیسیوں کے اثرات، اس کے علاقائی مخالفین کے مفادات اور عالمی طاقتوں کے فیصلے—یہ سب مل کر اس کشمکش کی صورت گری کرتے ہیں۔
ایران کی اہمیت کا اصل راز اس کی جغرافیائی حیثیت، آبادی، ریاستی ڈھانچے، عسکری صلاحیت اور خلیجِ فارس و آبنائے ہرمز کے قریب اس کے محلِ وقوع میں پوشیدہ ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، جب کہ خلیجِ فارس کے اردگرد موجود تیل و گیس کے ذخائر عالمی معیشت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ اس خطے میں کسی بڑے تصادم کا اثر صرف ایران، اسرائیل یا خلیجی ریاستوں تک محدود نہیں رہے گا؛ توانائی کی قیمتوں، بحری تجارت، عالمی مالیاتی منڈیوں، خوراک کی ترسیل اور بین الاقوامی سفارت کاری تک اس کے اثرات پھیل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف کسی وسیع جنگ کی صورت میں عسکری کامیابی کا تصور معاشی، سیاسی اور تزویراتی نتائج سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا یا اس کی عسکری صلاحیتوں کو عارضی طور پر محدود کرنا ایک بات ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے علاقائی ردِعمل، طویل مدتی مزاحمت اور عالمی معاشی اضطراب کو قابو میں رکھنا بالکل دوسری بات۔
یہیں آکر ایران کے گرد جاری کشمکش ایک بڑے تاریخی سوال میں تبدیل ہو جاتی ہے: کیا امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی عسکری و تکنیکی برتری کو استعمال کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں، یا اس عمل میں انہیں ایسے عوامل کا سامنا ہوگا جو ان کے منصوبوں کو غیر متوقع نتائج سے دوچار کر دیں گے؟ عالمی طاقتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں صرف اس وقت نہیں ہارتی جاتیں جب فوجیں میدان میں شکست کھاتی ہیں؛ کبھی سیاسی مقاصد ناقابلِ حصول ہو جاتے ہیں، کبھی جنگ کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے بڑھ جاتی ہے، اور کبھی فتح کے بعد پیدا ہونے والا خلا خود فاتح کے لیے ایک مستقل بحران بن جاتا ہے۔ عراق میں 2003ء کی جنگ اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ امریکی عسکری طاقت کے ذریعے ممکن ہوا، مگر اس کے بعد عراق میں مستحکم، پُرامن اور متفقہ سیاسی نظام قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ حکومت گرا دینا اور ایک قابلِ قبول سیاسی نظم قائم کرنا دو مختلف صلاحیتیں ہیں؛ پہلی کے لیے عسکری برتری کافی ہو سکتی ہے، دوسری کے لیے سیاسی بصیرت، مقامی قبولیت، ادارہ جاتی استحکام اور طویل مدتی حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں ایران کو نپولین کے واٹر لو سے تشبیہ دینا ایک معنی خیز ادبی و تاریخی استعارہ بن سکتا ہے۔ واٹر لو محض ایک جنگ کا نام نہیں، بلکہ اس لمحے کی علامت ہے جب فتوحات کے تسلسل پر یقین رکھنے والی ایک عظیم طاقت کو اپنی حدود کا احساس ہوا۔ نپولین کی فوجی کامیابیوں نے یورپ کے بڑے حصّے کو اس کے سامنے جھکا دیا تھا، مگر واٹر لو نے ثابت کیا کہ غیر معمولی عسکری قوت بھی حالات، اتحادوں، رسد، سیاسی مزاحمت اور فیصلہ کن غلطیوں سے بالاتر نہیں ہوتی۔ تاریخ میں بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جو کسی سلطنت یا طاقت کے زوال کا واحد سبب نہیں بنتے، لیکن اس کے زوال کی سمت کو نمایاں کر دیتے ہیں۔ واٹر لو بھی اسی نوعیت کا ایک تاریخی موڑ تھا۔ چنانچہ اگر ایران مستقبل میں امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے ایسا مقام ثابت ہوتا ہے جہاں ان کی عسکری برتری سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ ہو سکے، تو یہ محض ایک علاقائی ناکامی نہیں ہوگی؛ یہ عالمی طاقت کے استعمال اور اس کی حدود کے بارے میں ایک بڑے سبق کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔
یہ نتیجہ پہلے سے اخذ کر لینا کہ ایران لازماً امریکہ یا اسرائیل کے لیے واٹر لو ثابت ہوگا، تجزیے کے بجائے خواہش یا پیش گوئی کے دائرے میں داخل ہو جانا ہے۔ ایران کی داخلی معاشی مشکلات، عوامی اضطرابات، دفاعی صلاحیتوں، علاقائی اتحادیوں اور سفارتی امکانات کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری برتری، ان کے اتحادوں اور ان کی پالیسیوں کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ کسی بھی تصادم کا نتیجہ صرف ایک فریق کی قوت سے طے نہیں ہوتا؛ یہ اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو کس طرح استعمال کرتا ہے، اس کے سیاسی مقاصد کتنے حقیقت پسندانہ ہیں اور مخالف فریق کتنی قیمت برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایران کے لیے بھی مزاحمت بذاتِ خود کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اگر تصادم اس کے معاشی ڈھانچے، شہری آبادی اور قومی مستقبل کو شدید نقصان پہنچاتا ہے تو اسے بھی اپنی حکمتِ عملی کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس کو شکست دے سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کسی ممکنہ جنگ کے بعد خطہ پہلے سے زیادہ محفوظ، منصفانہ اور مستحکم ہوگا یا مزید انتشار کا شکار۔
موجودہ صورتِ حال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب صرف روایتی عسکری طاقتوں کی بساط نہیں رہا۔ ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل دفاعی نظام، سائبر جنگ، معاشی پابندیاں، توانائی کی رسد، عالمی رائے عامہ اور غیر ریاستی مسلح گروہ—یہ سب جدید تصادم کے اہم عناصر بن چکے ہیں۔ اس ماحول میں کوئی ایک فریق مکمل طور پر محفوظ نہیں رہتا۔ طاقتور ریاستیں تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن انہیں اپنے معاشی مفادات، شہری سلامتی، عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفّظ کے تقاضوں کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب نسبتاً کمزور فریق بھی غیر متناسب جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے تصادم کی لاگت بڑھا سکتا ہے۔ یہی عدمِ توازن جدید جنگوں کو غیر یقینی، طویل اور اکثر ناقابلِ پیش گوئی بنا دیتا ہے۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ کی نئی ترتیب کے خواب دیکھنے والوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ شاید کسی ایک مخالف کی طاقت نہ ہو، بلکہ یہ غلط فہمی ہو کہ طاقت کے استعمال کے نتائج کو مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
اس تمام کشمکش کے مرکز میں ایک بنیادی انسانی حقیقت بھی موجود ہے جسے عالمی طاقتوں کی حکمتِ عملی اکثر پسِ پشت ڈال دیتی ہے: مشرقِ وسطیٰ محض تیل کے ذخائر، فوجی اڈوں، بحری راستوں اور تزویراتی مفادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ کروڑوں انسانوں کا وطن ہے۔ یہاں فلسطینیوں کی بے دخلی اور حقِ خودارادیت کا سوال ہے، اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کے خدشات ہیں، ایرانی عوام کی معاشی مشکلات ہیں، عرب معاشروں کی سیاسی امنگیں ہیں اور ان تمام قوموں کا حق ہے کہ وہ جنگ، خوف اور بیرونی تسلط کے بجائے امن، وقار اور ترقی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اگر کسی نئے علاقائی نظام کی بنیاد محض عسکری برتری، سیاسی تابع داری اور مخالف قوتوں کو کمزور کرنے پر رکھی گئی تو ممکن ہے اس کے معمار اسے اپنی کامیابی سمجھیں، لیکن اس کی عمارت کے اندر عدمِ اطمینان اور مزاحمت کی دراڑیں موجود رہیں گی۔ پائیدار امن کسی ایک ریاست کی مطلق بالادستی سے نہیں، بلکہ ایک ایسے سیاسی بندوبست سے جنم لیتا ہے جس میں سلامتی کے خدشات کا اعتراف، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، شہریوں کے حقوق اور قوموں کی خودمختاری کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔
سوال یہی ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کو کہاں لے جانا چاہتا ہے، اور کیا وہ اس سفر کے تمام ممکنہ نتائج کا ادراک رکھتا ہے؟ اگر اس کی حکمتِ عملی کا مقصد ایک ایسا علاقائی نظم قائم کرنا ہے جس میں اسرائیل کی سلامتی یقینی ہو، ایران کی عسکری صلاحیتیں محدود ہوں اور امریکی مفادات محفوظ رہیں، تو اس مقصد کے حصول کے لیے عسکری دباؤ ایک ذریعہ تو ہو سکتا ہے، مگر مستقل حل نہیں۔ کسی ریاست کو کمزور کرنا اور کسی خطے میں امن قائم کرنا ایک ہی عمل کے دو نام نہیں ہیں۔ اس کے لیے سیاسی تصفیے، قابلِ اعتبار ضمانتوں، علاقائی مکالمے اور ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں کوئی ملک خود کو مستقل طور پر محاصرے، محرومی یا بے دخلی کے خطرے میں محسوس نہ کرے۔ اگر ان تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا تو آج کی عسکری کامیابی کل کی سیاسی ناکامی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ سلطنتیں صرف بیرونی دشمنوں کے ہاتھوں نہیں گرتیں؛ کبھی وہ اپنی قوت کے بارے میں حد سے بڑھے ہوئے اعتماد، اپنی حکمتِ عملی کی خامیوں اور اپنے مخالفین کی مزاحمت کو غلط اندازہ لگانے کے باعث بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔ برطانوی سلطنت کا زوال، نپولین کی شکست اور عراق میں امریکی مداخلت کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیاں مختلف تاریخی حالات کی مثالیں ہیں، لیکن ان سب میں ایک مشترک نکتہ ضرور دکھائی دیتا ہے: طاقت اپنے مقاصد کو اسی وقت پائیدار کامیابی میں بدل سکتی ہے جب اسے سیاسی حقیقتوں، انسانی ضروریات اور تاریخی حدود کا شعور بھی حاصل ہو۔ ایران مستقبل میں اس کشمکش کا کون سا کردار ادا کرے گا، یہ ابھی طے نہیں؛ لیکن یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران کے گرد کوئی بڑی جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایسے سوالات کے سامنے لا کھڑا کرے جن کے جواب محض عسکری برتری سے نہ مل سکیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا اگلا باب اس بات سے متعین ہوگا کہ عالمی طاقتیں اپنی قوت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتی ہیں: قوموں کو اپنی مرضی کے تابع کرنے کے لیے، یا ایسا سیاسی توازن قائم کرنے کے لیے جس میں سب کی سلامتی اور خودمختاری کی گنجائش موجود ہو۔ اگر طاقت کا مقصد بالادستی ہے تو مزاحمت اس کی ناگزیر ہم سفر بن سکتی ہے؛ اور اگر مقصد انصاف پر مبنی امن ہے تو مذاکرات، باہمی ضمانتیں اور سیاسی سمجھوتے اس کے بنیادی ستون ہوں گے۔ ایران واٹر لو ثابت ہوگا یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ مگر تاریخ کا فیصلہ اس سے کہیں وسیع تر ہوگا: آیا اکیسویں صدی کی بڑی طاقتیں ماضی کی سلطنتوں کی غلطیوں سے کچھ سیکھ سکیں، یا وہ بھی اسی پرانے مغالطے کا شکار رہیں گی کہ دنیا کو نقشوں پر نئی لکیریں کھینچ کر اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نقشے طاقت کے زور پر بدلے جا سکتے ہیں، لیکن قوموں کی یادداشت، ان کی شناخت، ان کی امنگوں اور آزادی کی خواہش کو ہمیشہ کے لیے مٹایا نہیں جا سکتا۔
🗓 (21.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے