कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مرٹھواڑہ میں پانی کے بحران پر فوری اقدامات کی شدید ضرورت

ایڈوکیٹ شری کانت وائیکر کا حکومت سے مطالبہ

سیلو :22؍اکتوبر(ابرار بیگ)مرٹھواڑہ میں پانی کا بحران دن بہ دن انتہائی سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پینے کے پانی کی شدید قلت اور زرعی آبپاشی کے مسائل کی وجہ سے پورا علاقہ بحران کی زد میں ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار قانونی ماہر اور تجزیہ نگار ایڈوکیٹ شری کانت ایل۔ وائیکر سیلو نے اپنے ایک مضمون کے ذریعے کیا ہے۔ایڈوکیٹ شریکانت وائیکر کے مطابق ناگپور معاہدے کے تحت مرٹھواڑہ کو بغیر کسی شرط کے مہاراشٹر میں شامل کیا گیا تھا۔ اس وقت اس خطے کی ہمہ جہت ترقی، خصوصاً آبپاشی، نقل و حمل، بجلی، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں جو وعدے کیے گئے تھے، 1960 سے 2026 تک انہیں پورا نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مرٹھواڑہ کی ترقی پسماندگی کی شکار ہے۔
قدرتی نابرابری اور زراعت کا نقصان:
پچھلے کچھ سالوں سے ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسم کی غیر یقینی صورتحال کے باعث مرٹھواڑہ، ودربھ اور شمالی مہاراشٹر میں بارش کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔ کبھی شدید بارش، کبھی سوکھا اور کبھی بے وقت بارشوں کی وجہ سے کسانوں کا معاشی طور پر کمر توڑ نقصان ہوا ہے۔ اس سال بھی حالات کچھ الگ نہیں ہیں اور کسان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ڈیموں میں گاد اور پانی کی منصفانہ تقسیم میں ناانصافی:
مرٹھواڑہ میں گوداوری، مانجرا، دُدھنا اور پورنا اہم ندیوں پر 1980 کی دہائی میں ڈیم تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم، ان تمام ندیوں کے بالائی علاقوں میں پانی روکنے کی وجہ سے مرٹھواڑہ کے ان ڈیموں میں پانی کی آمد محدود ہو جاتی ہے۔مزید برآں، جاور واڑی ڈیم میں بڑی مقدار میں گاد جمع ہونے کی وجہ سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کافی کم ہو چکی ہے۔ جبکہ پربھنی ضلع کا ‘لوئر دُدھنا’ ڈیم 1980 سے زیرِ تعمیر ہونے کے باوجود آج بھی اپنی 100 فیصد گنجائش کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکا ہے فی الوقت صرف 75 فیصد صلاحیت ہے انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی لاپرواہی کی وجہ سے کسانوں کو اس کا پورا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔
حل اور تجاویز:
ماہرین کی کمیٹی اور واٹر گرڈ آبپاشی کے تمام التوا میں پڑے منصوبوں کو مکمل کرنے اور ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے کر تلافی کا خاکہ تیار کیا جائے۔ بند پڑے۔ "واٹر گرڈ” منصوبے کو دوبارہ فعال کیا جائے۔
ندیوں اور نالوں کی کھدائی اور سیدھا کرنا: فوری طور پر ہر تعلقہ اور ضلع سطح پر ندیوں، نالوں اور ندی کے راستوں کی کھدائی اور انہیں سیدھا کرنے کا کام آفاتِ سماوی فنڈ سے کیا جائے۔
ضلع نیوجن کمیٹی کا کردار: ڈسٹرکٹ پلاننگ کمیٹی کے فنڈز کا ایک خاص حصہ ان کاموں کے لیے مختص کرنا لازمی قرار دیا جائے۔
ریچارج ایبل بور ویل: دیہی علاقوں میں ندیوں اور نالوں کے قریب ریچارج ایبل بور ویل بنائے جائیں تاکہ زمین دوز پانی کی سطح میں اضافہ ہو سکے۔
‘جلیُکت شوار’ اسکیم کو پربھنی، ہنگولی، جالنہ، لاطور، بیڈ اور عثمان آباد جیسے سوکھے سے متاثرہ اضلاع میں فوری طور پر فعال کیا جائے۔
ایڈوکیٹ شری کانت وائیکر نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے ان تجاویز پر فوری عمل درآمد نہ کیا تو مرٹھواڑہ کو ریگستان بننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کسانوں اور عوام کی زندگی بچانے کے لیے فوری مثبت فیصلے کرے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے