कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن ندوی رحمت اللہ علیہ ایک عہد ساز شخصیت

تحریر: مولانا میرذاکر علی محمدی پربھنی
9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم وانما توفون اجورکم یوم القیامت فمن زحزح عن النار وادخل الجنہ فقد فاز۔ عالمی شہرت یافتہ ،تعلیمی، ادبی ، سماجی ، ثقافتی شخصیت ، دارالعلوم ندوہ کے سابق مہتمم ،عربی ادب کے عظیم استاذ اور مشہور و معروف ماہنامہ عربی مجلہ ، البعث الاسلامی کے مدیر اعلی کے انتقال کی خبر سنکر یقینا دل کو بڑا صدمہ ہوا اور آنکھیں اشکبار ہوئ ہیں۔ میں 1985 میں ندوہ میں متعلم رہ چکا ہوں۔ اس زمانہ میں، میں نے مولانا کو بہت قریب سے دیکھا ہوں، حضرت جب مکان سے سیاہ شیروانی میں ملبوس کلاس میں درس کے لیے جب جاتے تو ایک عجیب کشش اور انداز ہوتا، ایسا لگتا تھا کہ ایک پروقار مومن شیر درس دینے کے لیے جارہے ہیں۔ جب وہ جاتے تو کسی طالبعلم کی مجال نہیں ہوتی کہ ان کے سامنے سے گذر جاے، یا ہوٹل میں ناشتہ اور چاے نوشی کے لیے ٹہرے۔ ندوت العلماء کی مسجد میں جب وہ خطبہ جمعہ دیتے تو سامعین اور مصلیان کے دلوں پر گہرا اثر ہوتا، میں نے آج تک ایسا بیباک خطبہ جمعہ دینے والا عالم دین نہیں دیکھا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی پیدائش پیدائش 1934 سابق مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء کی رحلت یقینا اہل علم اور دانشوران قوم و ملت کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے ،کیونکہ ایک عالم کی موت سارے عالم کے موت کے مترادف ہوتی ہے ۔لیکن اللہ کا یہ نظام ہے کہ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔اور اس سے یہ بات ہم پر اللہ تعالی آشکارہ کرتا ہے کہ جہاں زندگی ہے وہاں موت یقینی اور اٹل ہے۔ اس سے راہ فرار اور انکار بڑے بڑے سورمہ اور سقراط اور منکر بھی نہیں کرسکتا۔ موت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ، کل ہماری باری ہے لیکن اس عظیم تعلیمی شخصیت کا دنیا سے اللہ کی رضاء کے ساتھ خیر آباد کہنا ملت اسلامیہ کا ایک بڑا خسارہ اور تعلیمی نقصان ہے۔ حضرت نے ندوۃ العلماء سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد بغداد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔اور اس کے بعد ندوۃ العلماء ملک کی مشہور درس گاہ میں زندگی کے ستر سال علم کی گتھیاں سلجھانے میں صرف کی ۔اور کئی اصلاحی ادبی ثقافتی تنظیموں کے ممبر اور نائب صدور رہ چکے ہیں۔ 1994 میں صدر جمہوریہ ایوارڈ سے عربی زبان کے لیے اعزاز سے نوازا گیا ۔ اور اسی طرح کئ عربی اور اردو کتب کے مصنف ہیں۔ جن میں قابل الذکر کتب مندرجہ ذیل ہیں ۔ 1 شعراء الرسول فی ضوء الواقع والقریض 2 ساعت مع العارفین 3 ندوت العلماء تواجہ التحدی الکبیر اور اردو میں اسلام اور مغرب ہے۔ آپ کے مقالات جو اکثر البعث السلامی کا حصہ ہوا کرتے ، آپ کے بہترین علمی، ادبی اور ثقافتی کاموں پر کئ جامعات اور یونیور سٹیز نے مقالے لکھے ہیں۔ جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں یہ تعزیتی نشست عالم اسلام کی مشہور و معروف شخصیت ڈاکٹر مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی سابق مہتمم دارالعلوم ندوہ لکھنؤ کی نسبت سے محض یہ دعائیہ کلمات اور تعزیت کے خاطر نہیں بلکہ مرحوم کی تعلیمی، ادبی ، ثقافتی اور صحافتی خدمات کا اعتراف اور خراج عقیدت پیش کرنے، اور ہمیں یاد آخرت کی طرف متوجہ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ایک یاد دہانی ہے ، اور ہر ایمان والے کو یہ فکر کرنا چاہیے کہ جب اس دنیا کو خیرآ باد کہے تو اللہ کی رضا کا پروانہ ساتھ ہو ۔اور حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی رحمت اللہ علیہ سابقہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ اللہ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے