कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بچپن: شخصیت سازی کی بنیاد

Childhood: The Foundation of Personality Development

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسان کی زندگی ایک ایسے سفر کا نام ہے جس کا آغاز ایک ننھے سے قدم سے ہوتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں، مگر اس کا ذہن امکانات سے بھرا ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ابھی دنیا کے رنگوں کی کوئی مستقل ترتیب نہیں ہوتی، اس کے دل پر ابھی زندگی کے تجربات کی گرد نہیں جمی ہوتی اور اس کی شخصیت پر ابھی معاشرے کے رویّوں کی گہری لکیریں نمایاں نہیں ہوتیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں شخصیت کی تعمیر کا خاموش مگر بنیادی عمل شروع ہوتا ہے۔
بچپن بظاہر زندگی کا ایک مختصر اور معصوم دور ہے، لیکن حقیقت میں یہی وہ زمانہ ہے جس میں انسان کے اندر آنے والے کل کے خدوخال تشکیل پاتے ہیں۔ بچے کے کان جو کچھ سنتے ہیں، آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں، دل جس محبت یا محرومی کو محسوس کرتا ہے، اور ذہن جن سوالات سے گزرتا ہے، وہ سب کسی نہ کسی صورت میں اس کی آئندہ شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے بچے کی تربیت کو محض چند آداب سکھانے یا اسکول بھیجنے کا نام نہیں دیا جاسکتا؛ یہ دراصل ایک انسان کی شخصیت، فکر، کردار اور مستقبل کی تعمیر کا عمل ہے۔
بچپن کو اگر صرف عمر کے ابتدائی چند سال سمجھ لیا جائے تو اس کی اصل اہمیت نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ بچپن دراصل تشکیلِ شخصیت کا بنیادی مرحلہ ہے۔ اس دوران بچہ اپنے اردگرد کی دنیا کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ اسے سمجھنے، محسوس کرنے اور اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ والدین کے رویّوں سے محبت کا مفہوم سیکھتا ہے، گھر کے ماحول سے امن یا خوف کا احساس حاصل کرتا ہے، استاد کے رویّے سے علم کے ساتھ اپنا تعلق بناتا ہے، دوستوں سے تعلق اور اشتراک کے آداب سیکھتا ہے، اور معاشرے سے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی اپنی ذات اور دوسروں کی ذات کی کیا قدر و قیمت ہے۔
ایک بچے کے لیے دنیا کا پہلا آئینہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ اگر اس آئینے میں اسے محبت، احترام، اعتماد، سچائی اور شفقت نظر آئے تو اس کے اندر دنیا کو اعتماد کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اگر اسی آئینے میں ہر وقت خوف، تحقیر، جھوٹ، تشدد یا بے اعتنائی کے مناظر ہوں تو اس کی شخصیت کے اندر بھی عدمِ تحفظ اور بے اعتمادی کے نقوش پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بچے کو ہم صرف تعلیم نہیں دیتے، ہم اپنے طرزِ زندگی کے ذریعے اسے اپنے معاشرے کا ایک نمونہ بھی دکھاتے ہیں۔
اسلام نے بچے کو محض والدین کی ملکیت یا خاندان کی سماجی ذمّہ داری نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک امانت اور ذمّہ داری کے طور پر دیکھا ہے۔ قرآنِ کریم اولاد کو دنیا کی زینت بھی قرار دیتا ہے اور ساتھ ہی انسان کو ذمّہ داری اور جواب دہی کا احساس بھی دلاتا ہے۔ بچے کی شخصیت کے بارے میں اسلامی تصور کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان اپنی اصل میں فطرتِ سلیم کے ساتھ دنیا میں آتا ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے”۔
یہ تصور تربیت کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے کی شخصیت کو ابتدا ہی سے ایک ایسی صلاحیت کے طور پر دیکھا جائے جس میں خیر، شعور، محبت، ایمان اور اخلاق کے امکانات موجود ہیں۔ تربیت کا مقصد اس فطری صلاحیت کو دبانا نہیں بلکہ اسے صحیح سمت دینا ہے۔ یہاں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمّہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ بچہ جس ماحول میں پرورش پاتا ہے، وہ ماحول اس کی فطری صلاحیتوں کے اظہار یا ان کے کمزور پڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
بچے کی پہلی درس گاہ اسکول نہیں، گھر ہے؛ اور اس کا پہلا استاد عموماً اس کا ماں باپ ہوتے ہیں۔ بچہ ابتدائی عمر میں کتابوں سے کم اور چہروں سے زیادہ سیکھتا ہے۔ وہ نصیحت سے پہلے عمل کو دیکھتا ہے اور الفاظ سے پہلے رویّے کو محسوس کرتا ہے۔ اگر والدین بچے کو سچ بولنے کی تلقین کریں لیکن خود اس کے سامنے جھوٹ بولیں تو بچہ نصیحت سے زیادہ عمل کو یاد رکھے گا۔ اگر اسے احترام سکھایا جائے مگر گھر میں مسلسل بدزبانی ہو، تو الفاظ کی تاثیر کم ہوجائے گی۔ اگر نماز کی اہمیت بیان کی جائے مگر گھر کا عملی ماحول اس سے خالی ہو، تو بچے کے لیے دین ایک نصیحت بن کر رہ سکتا ہے، زندگی کا حصّہ نہیں۔ اسی لیے تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ مثالی کردار ہے۔ والدین کا ایک نرم جملہ، ایک سچا وعدہ، بچے کی غلطی پر ایک متوازن ردِعمل، کسی ضرورت مند کے ساتھ حسنِ سلوک اور عبادت کے وقت اللّٰہ کی طرف متوجہ ہونا—یہ سب بچے کے لیے خاموش مگر گہرے اسباق ہیں۔
جس طرح جسم کو نشوونما کے لیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچے کی شخصیت کو نشوونما کے لیے محبت، توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت بچے کو کمزور نہیں بناتی؛ مناسب محبت اس کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے۔ رسول اللّٰہﷺ کا بچوں کے ساتھ طرزِ عمل اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ آپﷺ بچوں سے محبت فرماتے، انہیں سلام کرتے، ان کے ساتھ شفقت سے پیش آتے اور ان کی انسانی قدر و منزلت کو محسوس کراتے تھے۔ تربیت میں محبت کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کی ہر خواہش پوری کردی جائے۔ حقیقی محبت کبھی حدود بھی مقرر کرتی ہے، کبھی "نہیں” کہنا بھی سکھاتی ہے اور کبھی غلطی پر اصلاح بھی کرتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اصلاح ذلت کے ساتھ نہیں بلکہ احترام کے ساتھ کی جائے۔ بچے کو یہ احساس رہنا چاہیے کہ: "میری غلطی قابلِ اصلاح ہے، لیکن میری ذات قابلِ احترام ہے”۔ یہ فرق ایک صحت مند شخصیت کی تعمیر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
بچے کو مسلسل ڈانٹنا، دوسروں کے سامنے اس کی تحقیر کرنا، اس کا مذاق اڑانا یا ہر معاملے میں اسے ناکام قرار دینا بظاہر معمولی باتیں محسوس ہوسکتی ہیں، مگر یہ رویے اس کے اندر اپنی ذات کے بارے میں منفی تصور پیدا کرسکتے ہیں۔ تربیت کا مقصد بچے کو یہ احساس دلانا نہیں کہ وہ ہر وقت غلط ہے، بلکہ یہ سکھانا ہے کہ غلطی انسان کا حصّہ ہے اور اصلاح اس کی ذمّہ داری۔ جب بچہ کوئی غلطی کرے تو تربیت کا بہتر سوال یہ نہیں کہ: "تم ہمیشہ ایسے ہی کیوں کرتے ہو؟” بلکہ یہ ہونا چاہیے: "اس غلطی سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟” یہ انداز بچے کو خوف کے بجائے ذمّہ داری کی طرف لے جاتا ہے۔
بچپن سوالات کا زمانہ ہے، بچہ پوچھتا ہے: یہ کیوں ہے؟ ایسا کیسے ہوتا ہے؟ اللّٰہ کہاں ہے؟ لوگ مختلف کیوں ہیں؟ مجھے یہ کام کیوں کرنا چاہیے؟ یہ سوالات محض ذہنی شرارت نہیں بلکہ شعور کی بیداری کی علامت بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے بچے کے سوال کو فوراً خاموش کر دینا اس کے ذہن کی نشوونما کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسلام نے غور و فکر، تدبر اور علم کی جستجو کو اہمیت دی ہے۔ چنانچہ اسلامی تربیت کا تقاضا یہ ہے کہ بچے کو سوال کرنے سے خوف زدہ نہ کیا جائے بلکہ اسے صحیح سوال، صحیح تحقیق اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کا طریقہ سکھایا جائے۔ ہر سوال کا جواب فوراً معلوم ہونا ضروری نہیں؛ کبھی کبھی بچے کے ساتھ مل کر جواب تلاش کرنا بھی تربیت کا بہترین طریقہ ہوتا ہے۔
بچپن صرف نصاب، امتحان اور ہوم ورک کا نام نہیں۔ کھیل، تخیل، کہانی، مشاہدہ اور تجربہ بھی بچے کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کھیل کے ذریعے بچہ تعاون، مقابلہ، صبر، شکست کو قبول کرنا، دوبارہ کوشش کرنا اور دوسروں کے ساتھ معاملات کرنا سیکھتا ہے۔ اسی طرح کہانیاں اس کے تخیل اور اخلاقی شعور کو وسعت دیتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بچوں کی تربیت صرف رسمی تعلیم تک محدود نہیں رہی؛ ان کی صلاحیتوں کو پہچاننے، انہیں ذمّہ داری دینے اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھانے کی مثالیں ہمیں سیرت اور اسلامی تاریخ میں ملتی ہیں۔ اس لیے بچے کو صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ اس نے آج کیا پڑھا، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے: اس نے آج کیا سیکھا؟ کیا سوچا؟ کیا محسوس کیا؟ کس کی مدد کی؟ اور اپنی کسی غلطی سے کیا سبق حاصل کیا؟
کردار اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتوں سے بنتا ہے۔ وقت پر اٹھنا، وعدہ پورا کرنا، اپنی چیزیں سنبھالنا، دوسروں کی بات سننا، سچ بولنا، غلطی تسلیم کرنا، کمزور کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا—یہ سب معمولی دکھائی دینے والی عادات مستقبل کے کردار کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اسی لیے تربیت کا اصل مقصد صرف ایک "کامیاب طالب علم” بنانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسا انسان بنانا چاہیے جو علم کے ساتھ اخلاق، صلاحیت کے ساتھ ذمّہ داری، آزادی کے ساتھ حدود اور کامیابی کے ساتھ انسانیت کو بھی سمجھتا ہو۔
بچپن اور نوجوانی دو الگ الگ جزیرے نہیں بلکہ ایک ہی انسانی سفر کے دو مرحلے ہیں۔ بچپن میں جو عادات، تصورات اور جذبات پروان چڑھتے ہیں، وہ نوجوانی میں زیادہ واضح صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ اگر بچپن میں بچے کو سوچنے، سوال کرنے، ذمّہ داری لینے، غلطی سے سیکھنے اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی تربیت دی جائے تو نوجوانی میں اسے بڑے فیصلوں کے سامنے نسبتاً مضبوط بنیاد میسر آتی ہے۔ اس کے برعکس اگر بچپن مکمل طور پر خوف، جبر، بے توجہی یا محض ظاہری کامیابی کے دباؤ میں گزرے تو نوجوانی کے مرحلے میں پیدا ہونے والے سوالات اور چیلنجز زیادہ پیچیدہ محسوس ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا نوجوان کی اصلاح کے لیے صرف نوجوانی میں کام شروع کرنا کافی نہیں؛ نوجوان کی تعمیر کا آغاز بچپن ہی سے ہوتا ہے۔
آج کا بچہ کل کا طالب علم، کارکن، استاد، والد، ماں، قائد، شہری اور معاشرے کا فعال فرد ہوگا۔ اس لیے اس کی تربیت صرف خاندان کا نجی مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل سے وابستہ معاملہ ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم بچوں کو صرف مقابلے کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں یا زندگی کے لیے بھی؟ ہم انہیں صرف ملازمت کے قابل بنانا چاہتے ہیں یا ذمّہ دار انسان بھی؟ ہم ان کے ہاتھ میں صرف جدید ٹیکنالوجی دینا چاہتے ہیں یا اس کے استعمال کی اخلاقی بصیرت بھی؟ یہ سوالات دراصل ہماری اپنی ترجیحات کا آئینہ ہیں۔
بچپن زندگی کی وہ نرم مٹی ہے جس پر آنے والے کردار کی لکیریں کھینچی جاتی ہیں۔ اس مٹی میں جو بیج آج بویا جائے گا، وقت کے ساتھ وہی کسی نہ کسی صورت میں درخت بن کر سامنے آئے گا۔ اگر ہم محبت بوئیں گے تو اعتماد کی فصل اُگ سکتی ہے۔ اگر علم بوئیں گے تو بصیرت پیدا ہوگی۔ اگر ایمان بوئیں گے تو مقصدِ زندگی روشن ہوگا۔ اگر اخلاق بوئیں گے تو کردار تشکیل پائے گا۔ اور اگر ذمّہ داری کا شعور پیدا کریں گے تو ایک ایسا نوجوان پروان چڑھے گا جو صرف اپنے مستقبل کا نہیں بلکہ اپنے معاشرے کے مستقبل کا بھی امین ہوگا۔ اس لیے بچے کو دیکھتے ہوئے صرف یہ نہ سوچیں کہ "یہ ابھی بہت چھوٹا ہے”؛ بلکہ یہ سوچیں کہ "اسی چھوٹے وجود میں ایک آنے والی شخصیت، ایک خاندان کا مستقبل اور ایک معاشرے کی امید پروان چڑھ رہی ہے”۔ بچپن کو سنوارنا دراصل مستقبل کو سنوارنا ہے۔
🗓 (06.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے