कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ابنِ پرامپٹ اور ادبی پولٹری فارم

از: رغیب الرحمٰن انعامدار
فون: 9403050506

ہمارے ناشر نے کتاب کا دوسرا ایڈیشن نکالنے سے پہلے تین شرطیں رکھیں: عنوان بدلا جائے، سرورق بدلا جائے اور کسی بڑے ادیب کی رائے شامل کی جائے۔ ہم نے پوچھا، "کتاب بھی بدل دیں؟”
بولے، "اس کی ضرورت نہیں۔ پہلے ایڈیشن میں کس نے پڑھی ہے؟”
ان کی صاف گوئی ہمیں ہمیشہ پسند آئی ہے، خصوصاً جب کسی دوسرے مصنف کے بارے میں ہو۔ ہمارے معاملے میں بھی نیت ان کی اچھی تھی۔ چاہتے تھے کہ جو کتاب برسوں سے گودام میں پڑی ہے، اس کا کچھ حصہ اب قارئین کے گھروں میں پڑا رہے۔ ہم نے چند معتبر ادیبوں کے نام لیے۔ ہر نام پر احترام سے سر جھکاتے، پھر پوچھتے، "ان کا حلقہ کتنا ہے؟”
ہم نے کہا، "بہت پڑھے لکھے آدمی ہیں۔”
بولے، "وہ تو آپ بھی ہیں۔ ہمیں اس وقت پڑھنے والا نہیں، پڑھوانے والا چاہیے۔”
آخر ابنِ پرامپٹ کا نام تجویز کیا۔ ہم انہیں جانتے تھے۔ ہمارے ادبی گروپ میں آئے تھے تو ہر تحریر کے نیچے "بہت خوب” لکھتے تھے۔ پھر ایک روز کسی غزل پر ایسا تبصرہ کیا کہ شاعر نے ہمیں فون کر کے پوچھا، "بھائی، تعریف کی ہے یا کچھ نکل آیا ہے؟” ہم نے بتایا، بظاہر تعریف ہے۔ شاعر نے تبصرہ محفوظ کر لیا۔ بعد میں مجموعہ چھپا تو تبصرہ دیباچے میں شامل تھا، غزل انتخاب سے باہر رہ گئی تھی۔
اس کے بعد ابنِ پرامپٹ کی ترقی مسلسل ہوئی۔ پہلے شاعر ہوئے، پھر نقاد، پھر دونوں کی تربیت کرنے لگے۔ ہم ایک مضمون کی آخری عبارت درست کرتے رہتے اور وہ اسی دوران اس موضوع پر ایک کتاب، اس کی اہمیت پر مضمون اور مضمون پر اختلاف کرنے والوں کے نام کھلا خط شائع کر چکے ہوتے۔
ہم نے ناشر سے کہا، "مگر وہ ابھی نئے ہیں۔”
بولے، "آپ بہت پرانے ہیں۔ اسی لیے دونوں کا ملنا ضروری ہے۔”
چند روز بعد ان کے ادارے کا دعوت نامہ آ گیا۔ ہمیں "ممتاز صاحبِ اسلوب” لکھا گیا تھا۔ ہم نے لفافہ احتیاط سے کھولا کہ کہیں خطاب پھٹ نہ جائے۔ اندر تقریب کا پروگرام اور تعاون کی درخواست تھی۔ عمومی تعاون میں شرکت، خصوصی میں نشست اور سرپرستانہ تعاون میں اظہارِ خیال کی گنجائش تھی۔ چائے تینوں کو ملنی تھی۔ ہم نے خصوصی تعاون پسند کیا۔ ناشر اظہارِ خیال کے اضافی خرچ پر آمادہ نہیں تھا۔
اہلیہ نے پوچھا، "کتاب بھی ساتھ لے جاؤ گے؟”

"دو نسخے۔”

"پھر کتاب کو بلایا ہے۔ تم پہنچانے جا رہے ہو۔”

ہم نے الماری سے صاف لفافہ نکال لیا۔ اس قسم کی گفتگو میں کاغذ کا کوئی کام یاد آ جانا مفید رہتا ہے۔
ادارے کا نام "ادبی پولٹری فارم” تھا۔ پہلے سمجھا، مخالفین نے رکھا ہوگا۔ پہنچے تو خود دروازے پر یہی لکھا تھا۔ نیچے باریک حروف میں "مرکزِ فروغِ تخلیقی صلاحیت” درج تھا۔ عمارت کبھی کتب خانہ تھی۔ پرانے بورڈ کا ایک گوشہ نئے بورڈ کے نیچے سے جھانک رہا تھا۔ اس پر صرف "عام” باقی تھا۔

دروازے کے اندر ایک نوجوان اسٹول پر کھڑا پردے کی سلائی درست کر رہا تھا۔ سوئی ہونٹوں میں دبائے اس نے ہماری کتابیں دیکھیں، پھر خالی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ کرسی پر اس کی کاپی پڑی تھی۔ ہم بیٹھنے لگے تو جلدی سے نیچے اترا، کاپی اٹھائی اور اپنے کرتے سے نشست صاف کر دی۔

"آپ افسانے لکھتے ہیں؟”

ہم نے کہا، "کبھی کبھی۔”

وہ کچھ پوچھنے ہی والا تھا کہ اندر سے آواز آئی، "سلیم! پردہ پہلے مکمل کرو۔ صدر صاحب کی تصویر میں پیچھے اینٹیں آئیں گی۔”
اس نے کاپی میز پر رکھی۔ اسی وقت ایک صاحب کاغذوں کا پلندہ لائے اور اس پر رکھ دیا۔ سلیم نے پلندے کے نیچے سے اپنی کاپی کا کونا نکال کر چھوڑ دیا، تاکہ بعد میں پہچان سکے۔

استقبالیے پر ہمارا نام فہرست میں نہ ملا۔ دعوت نامہ دکھایا تو نوجوان نے دوسری فہرست کھولی۔ اس میں مل گیا۔ ہمارے سینے پر "ممتاز صاحبِ اسلوب” کی تختی لگائی گئی۔ ہم نے دیکھا، قریب کھڑے ایک صاحب اپنی تختی بدلوا رہے تھے۔ گزشتہ سال "مہمانِ اعزاز” تھے، اس بار "خصوصی مہمان” کر دیے گئے تھے۔
منتظم نے جگہ کی کمی بتائی۔ انہوں نے تعاون کی رسید دکھائی تو جگہ نکل آئی۔
صحن میں پرانی مطالعے کی میزوں پر اسناد اور تقریب کی یادگار کے صفحات پھیلے تھے۔ تین نوجوان اپنے تعارف دیکھ رہے تھے۔ تینوں "منفرد لب و لہجے” کے شاعر تھے۔ کاتب نے ایک کے لیے "جداگانہ” تجویز کیا۔ نوجوان نے پوچھا، "اس سے درجہ تو نہیں گھٹے گا؟”

اسی دوران ایک دبلا آدمی تاروں کا گچھا لیے آیا۔ "اب کس کا تعارف بدلا ہے؟ چھاپے والا فون کر رہا ہے۔”

ایک نوجوان نے بتایا کہ "بین الاقوامی” رہ گیا ہے۔

دبلے آدمی نے جگہ دیکھی۔ "پھر والد صاحب کا نام نکالنا پڑے گا۔”

نوجوان نے پرچہ واپس لے لیا۔ فیصلہ کچھ سوچنے کا تھا۔

یہ *”چارجر شاہ”* تھے۔ نام سے ہم نے بزرگ سمجھا تھا، مگر وہ ایک ہاتھ سے مائیک کی تار کھولتے اور دوسرے سے کرسیوں کا حساب لکھتے تھے۔ حساب سگریٹ کی خالی ڈبی پر تھا۔ ہمیں ابنِ پرامپٹ کے کمرے تک لے گئے۔ راستے میں سلیم سے کہا، "اپنے ابا کو بتا دینا، پردوں کے پیسے کل مل جائیں گے۔”

سلیم نے پردے سے نگاہ ہٹائے بغیر سر ہلا دیا۔

اندر ابنِ پرامپٹ دو فون سامنے رکھے بیٹھے تھے۔ ایک ادارے کے لیے روایت کے تحفظ پر پیغام، دوسرے کے لیے نئی راہوں کی تلاش پر تقریر تیار ہو رہی تھی۔ تیسرا دعوت نامہ تاریخ کا متقاضی تھا۔

ہمیں دیکھ کر اٹھے تو چارجر شاہ نے فوراً میز کے پیچھے ہاتھ ڈال کر تار ڈھیلی کر دی۔

"آپ کی تحریروں سے پرانی شناسائی ہے۔”

ہم نے کتاب پیش کی۔ سرورق دیکھ کر فرمایا، "یہی تو!”

ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ یہی کیا۔ پہلی ملاقات میں دوسرے کی یادداشت کا امتحان لینا بدذوقی ہوتی۔

وہ خوش گفتار آدمی تھے۔ بات سنتے ہوئے پورا چہرہ متوجہ ہو جاتا۔ کسی اچھے جملے پر فوراً نظر اٹھاتے، جیسے بھیڑ میں اپنا کوئی واقف دکھائی دے گیا ہو۔ ہم نے رائے کی درخواست کی۔ کہا، "ناشر کا اصرار ہے، ورنہ اپنی ذات کے لیے ہم۔۔۔”

انہوں نے ہاتھ اٹھا کر باقی انکسار روک دیا۔

"آپ جیسے بزرگوں کا حکم ہے۔”

ہم عمر میں دو تین برس بڑے ہوں گے۔ اس موقع پر یہ فرق مناسب لگا۔

میز کے دوسرے سرے پر "پیشگی داد دہلوی” مقررین کے تعارف لکھ رہے تھے۔ کاغذ لمبائی میں تہ کیے ہوئے تھے۔ نئے نام سے پہلے انگوٹھا زبان سے تر کرتے اور ورق پلٹتے۔ کسی کا نام مختصر ہو تو تعارف سے تلافی ہو جاتی۔

ایک صاحب کے آگے "مایہ ناز” لکھا، پھر کاٹ کر "نامور” کر دیا۔ ہم نے وجہ پوچھی۔

بولے، "مایہ ناز صدرِ محترم کے لیے رکھا ہے۔”

مولانا تقریبات کی نظامت بھی کرتے تھے، یادگاریں بھی مرتب کرتے تھے۔ گھر کا کچھ خرچ انہی سے چلتا تھا۔ ان کی کتاب کا مسودہ برسوں سے تیار تھا، مصنف کا تعارف لکھنے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ کسی نے پوچھا، اپنی کتاب کب چھاپیں گے؟ کہنے لگے، "دوسروں کی فرصت ملے تو۔” پھر فوراً ایک مقرر کے نام کے آگے "صاحبِ تصانیفِ کثیرہ” بڑھا دیا۔

*حضرت واہ واہی* بھی آ گئے۔ ان کی کرسی پر تہ کیا ہوا رومال پڑا تھا۔ اسے اٹھا کر جیب میں رکھا اور ہماری کتاب دیکھنے لگے۔

"کیا خوب صورت پیش کش ہے!”

ہم نے بتایا، "پرانا ایڈیشن ہے۔”

"پھر بھی تازگی دیکھیے۔”

وہ برسوں ایک دفتر میں حساب رکھتے رہے تھے۔ سبک دوشی کے بعد گھر میں ان کی رائے صرف بجلی کے بل تک محدود رہ گئی تھی۔ یہاں ہر روز کسی کو ان کی ضرورت پڑتی تھی۔ کبھی مہمان لینے جاتے، کبھی بیمار شاعر کے لیے رقم جمع کرتے، کبھی کسی بھولی ہوئی سالگرہ کا اہتمام کر دیتے۔ تعریف ان کی عادت ضرور تھی، مگر اسے سننے والے بھی محض اتفاقاً ان کے گرد نہیں تھے۔

چارجر شاہ نے چائے رکھی۔ ہم نے تکلف سے منع کیا۔

بولے، "تکلف والی ختم ہو گئی۔ یہ عام ہے۔”

استاد مسکرائے۔ "بڑا مخلص آدمی ہے۔”

چارجر شاہ نے طباعت کا حساب آگے کر دیا۔ یادگار کے صفحات بڑھ گئے تھے۔ سرپرستِ اعلیٰ کا تعارف دیر سے آیا تھا۔

"ان کی تصویر پہلے سے ہے،” چارجر شاہ نے کہا۔

پیشگی داد بولے، "تعارف الگ چیز ہے۔”

"صفحے بھی الگ پیسے کے ہیں۔”

استاد نے کہا، "دیکھتے ہیں۔” پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ "میں آپ کی کتاب دیکھتا ہوں۔ آپ ذرا تصویریں بنوا لیجیے، یادگار میں کام آ جائیں گی۔”

ہم اٹھ کھڑے ہوئے۔

تصویر والے کمرے میں ایک میز، ایک کتاب اور عینک کے دو فریم رکھے تھے۔ شیشے نہ ہونے کی وجہ سے سب کو موافق آتے تھے۔ تصویر بنانے والا ایک صاحب سے کہہ رہا تھا، "کتاب کی طرف دیکھیے، پڑھیے مت، چہرہ نیچے چلا جاتا ہے۔”

ہماری تصویر میں بھی کتاب دی گئی۔ ہم نے اپنی پیش کی تو کہا گیا، اس کا رنگ پردے میں دب جائے گا۔ دوسری پکڑ لی۔ ناشر کئی بار کہہ چکا تھا کہ پرانی تصویر بدلنی چاہیے۔ اس میں ہماری عمر کم اور کتاب کی زیادہ معلوم ہوتی تھی۔

تصویر بننے تک *فوری فاضل* ہمارے پاس آ بیٹھے۔ نوجوانوں کی تحریریں دیکھتے تھے۔ ایک لڑکا اپنی نظم لایا۔ اسے شکایت تھی کہ ادارے سے تیار ہونے والی دوسری نظم سے ملتی ہے۔ *حافظ ری جنریٹ* نے دونوں دیکھیں۔ ایک ماں پر تھی، دوسری وطن پر۔ دونوں میں مٹی، خوشبو اور آغوش تھی۔ دوسری کا عنوان بدلا، آخری بند آگے پیچھے کیا اور واپس کر دی۔

لڑکے نے پڑھ کر کہا، "اب میری لگ رہی ہے۔”

اسی وقت سلیم آیا۔ پردہ مکمل ہو گیا تھا۔ اس نے میز سے کاپی نکالی، مگر فوری فاضل نے ہاتھ بڑھا کر کہا، "شام کے بعد۔ ابھی سب مصروف ہیں۔”

ہم نے کاپی مانگ لی۔ اتنی دیر میں ہماری اگلی تصویر کا انتظام ہو رہا تھا۔

مسودہ پچھلے ہفتے جمع ہوا تھا۔ آج اصلاح کے نشانوں کے ساتھ لوٹایا گیا تھا۔ ابتدا تھی، "زندگی ایک لق و دق صحرا ہے جس میں انسان امید کی سوئی سے قسمت کے چاک رفو کرتا ہے۔”

ہم نے پوچھا، "پہلے کیا لکھا تھا؟”

"ابا عید کے دوسرے دن بھی دکان کھول لیتے ہیں۔”

فوری فاضل نے وضاحت کی، "آغاز میں وسعت پیدا کی ہے۔”

آگے ایک گاہک تھا جو بچی کے لیے کپڑا دے گیا تھا۔ نیلا سوٹ تیار ہو گیا، مگر وہ لینے نہیں آیا۔ عید کے کئی دن بعد سلیم نے اسے سامنے سے ہٹانا چاہا۔ باپ نے کہا، "سامنے رہے۔ کبھی گزرتے ہوئے اسے خیال آ جائے گا۔”

ہم نے جملہ دوبارہ پڑھا۔

"پھر آیا؟”

"ابھی تک نہیں۔”

"کیوں نہیں آیا؟”

سلیم کو معلوم نہیں تھا۔ اس نے کاپی میں بھی یہی لکھا تھا۔ اصلاح کرنے والے نے اس جگہ سوالیہ نشان لگایا ہوا تھا۔

ابنِ پرامپٹ ہمیں بلانے آئے تو کاپی پہچان لی۔ "اچھا مشاہدہ ہے،” کہنے لگے۔

پھر ایک لفظ پر انگلی رکھی۔ "یہ تم نے لکھا تھا؟”

"بعد میں ڈالا ہے۔”

"نکال دو۔ تمہارے ابا اس طرح نہیں بولتے ہوں گے۔”

سلیم نے اصل لفظ واپس رکھ دیا۔ استاد کچھ دیر وہ عبارت دیکھتے رہے۔ ان کے چہرے پر اس وقت محفل والی مسکراہٹ نہیں تھی۔

نوجوان نے پوچھا، "یہ چھپ سکتی ہے؟”

"کام کرنا پڑے گا۔”

"نام کے ساتھ ابھرتا ہوا افسانہ نگار لکھ سکتے ہیں؟”

استاد مسکرائے۔ "پہلے نام آنے دو۔”

سلیم بھی ہنس دیا۔ کاپی بند کرتے ہوئے اس نے پوچھا، "آپ شام کو سنیں گے؟ ابا کو بتایا ہے کہ یہاں بڑے لکھنے والے آتے ہیں۔”

ہم نے کہا، "رہیں گے۔”

وہ مطمئن ہو گیا۔

دفتر میں ہماری کتاب کھلی تھی۔ استاد نے ایک پیراگراف کی تعریف کی۔ وہ ہمیں بھی پسند تھا۔ ان کی بصیرت پر اعتماد بڑھ گیا۔

بولے، "رائے مختصر لکھوں گا۔”

ہم نے کہا، "جو مناسب سمجھیں۔” پھر بتا دیا کہ ناشر کو پچھلے سرورق پر خاصی جگہ دستیاب ہے۔

رائے لینے کا ہمارا ایک پرانا تجربہ خوش گوار نہیں تھا۔ ایک بزرگ نے پوری کتاب پڑھ کر پانچ صفحات لکھ دیے تھے۔ پہلے دو خوبیاں بیان کیں، پھر ان کی حدود اور اسباب ایسے کھولے کہ آخر تک وہ بھی خامیاں معلوم ہونے لگیں۔ ہم نے شکریہ ادا کیا اور ناشر کو بتایا، رائے بہت فنی ہے، عام قاری کے لیے موزوں نہیں۔ اس کے بعد بزرگ سے ملاقات ہوتی تو موسم پر گفتگو کرتے تھے۔

ابنِ پرامپٹ کو یہ واقعہ نہیں سنایا۔ وہ قلم اٹھا چکے تھے۔

ادھر پروگرام میں تبدیلی ہو گئی۔ افتتاحی کلمات ہمیں کہنے تھے۔ موضوع تھا، "تخلیقی دیانت اور ہمارا ادبی مستقبل”۔ ہم نے کہا، پہلے اطلاع ہوتی تو تیاری کرتے۔

پیشگی داد بولے، "آپ جیسے لوگوں کے لیے کیا مشکل ہے؟”

حافظ ری جنریٹ نے تقریر دے دی۔ ہم نے دو جملے اپنے شامل کیے، بچپن کا ایک واقعہ نکال دیا جو ہمارے ساتھ پیش نہیں آیا تھا۔ ایک جگہ لکھا تھا کہ ادیب اپنے لفظ کا جواب دہ ہوتا ہے۔ اس کے نیچے لکیر کھینچ دی، زور دے کر پڑھنا تھا۔

چھاپے سے یادگار آ گئی۔ استاد کا افسانہ "عید کے بعد” شامل تھا۔ اسے دو دن پہلے بھیجا گیا تھا۔ ہم نے پڑھا۔ درزی بوڑھا، دکان خستہ، شہر بے حس تھا۔ نیلا سوٹ موجود تھا۔ ایک جگہ وہ "معصوم آرزوؤں کا نیلگوں کفن” بن گیا تھا۔ آگے وہی جملہ تھا،
"سامنے رہے۔ کبھی گزرتے ہوئے اسے خیال آ جائے گا۔”

سلیم کا نام نہیں تھا۔

ہم نے استاد کی طرف دیکھا۔ وہ ہماری توصیفی رائے لکھ رہے تھے۔

"یہ سلیم کی تحریر سے۔۔۔”

"ہاں، وہیں سے خیال کھلا۔ باقی تو آپ دیکھ رہے ہیں۔”

باقی مختلف تھا۔ زبان بدل گئی تھی، واقعات بڑھ گئے تھے، اختتام آ گیا تھا۔ ہم نے سوچا، سرسری فیصلہ مناسب نہیں۔

استاد نے ہماری کتاب بند کی۔ "آپ کی نثر میں ایک خاص ٹھہراؤ ہے۔”

ہم نے یادگار رکھ دی۔

شام کو ہال بھر گیا۔ پہلی صف میں کچھ کرسیاں ان لوگوں کے لیے خالی تھیں جن کا آنا یقینی نہیں تھا۔ دوسری صف کے لوگ انہیں بار بار دیکھتے تھے۔ پیچھے نوآموز اپنی کاپیاں لیے بیٹھے تھے۔ سلیم صاف کرتا پہن کر آیا تھا۔ کپڑوں کی تھیلی کرسی کے نیچے رکھی تھی، واپسی میں جوڑا پہنچانا تھا۔

ہماری تقریر اچھی رہی۔ اپنے ابتدائی جملوں پر خاموشی رہی تو باقی متن پر اعتماد کر لیا۔ دیانت والے حصے پر تالیاں بجیں۔ استاد سر ہلا رہے تھے۔

پھر انہیں بلایا گیا۔ تعارف کے دوران چارجر شاہ نے پانی رکھا، تار سیدھی کی اور گھڑی دیکھی۔ کرسیاں گیارہ بجے واپس جانی تھیں۔ ان کی کوشش تھی کہ اختتامی دعائیں بھی اسی کرائے میں ہو جائیں۔

ابنِ پرامپٹ اچھا پڑھتے تھے۔ مکالمے پر لہجہ بدلتے، اہم جگہ رک جاتے۔ معمولی عبارت بھی ان کی آواز سے بہتر لگتی تھی۔

نیلے سوٹ کا ذکر آیا تو سلیم سیدھا ہو گیا۔ یادگار کھولی، آخری صفحہ دیکھا، پھر ساتھ بیٹھے نوجوان سے کچھ پوچھا۔ اس نے بھی صفحات الٹے اور سر ہلا دیا۔

وہ جملہ آیا تو واہ واہی صاحب کھڑے ہو گئے۔ پیشگی داد نے کہا، "یہ جملہ زندہ رہے گا۔”

استاد مسکرائے۔ پانی پیا اور آگے پڑھنے لگے۔

افسانہ ختم ہوا۔ سلیم نے ہاتھ اٹھایا، پھر نیچے کر لیا۔ اگلے مقرر کا تعارف شروع ہو چکا تھا۔ اس نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا۔ استاد نے دیکھ لیا۔

"جی، سلیم؟”

"وہ نیلا سوٹ ہماری دکان والا ہے؟”

"تمہاری تحریر سے ایک تخلیقی اشارہ ملا تھا۔”

سلیم کے چہرے پر خوشی آئی۔ پھر یادگار کھول کر پوچھا، "میرا نام کہاں آئے گا؟”

پیشگی داد مائیک کے قریب آ گئے۔ "ہمارے نوجوان دوست خوش ہیں کہ استاد نے ان کے مشاہدے کی قدر فرمائی۔”

"جی، مگر نام؟”

*مفتی کاپی پیسٹ* نے اخذ و استفادے کی روایت سمجھانا شروع کی۔ *علامہ گوگل حسین* نے فون پر کوئی قول نکالا اور ان کی طرف بڑھایا۔ مفتی صاحب اپنی بات میں مصروف رہے۔ روشن اسکرین کچھ دیر ان کے پہلو میں رہی، پھر خود بخود بجھ گئی۔

سلیم نے کہا، "میں پورا افسانہ اپنا نہیں کہہ رہا۔ وہ جملہ۔۔۔”

فوری فاضل نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ بتایا، یہ فنی تربیت کے ابتدائی مرحلے کا سوال ہے۔ بعد میں سمجھا دیا جائے گا۔

ہم جملہ اس کی کاپی میں پڑھ چکے تھے۔ جانتے تھے کہ کاپی استاد کے پاس رہی ہے۔ کچھ کہہ سکتے تھے، مگر مجمع میں بات بڑھانا نوجوان کے حق میں مناسب نہ تھا۔

استاد نے کہا، "تم بعد میں ملنا۔”

سلیم بیٹھ گیا۔ کاپی کھولی، پھر بند کی۔ کچھ دیر بعد فون دیکھا، تھیلی اٹھائی اور نکل گیا۔ دروازے پر مڑ کر ہماری طرف دیکھنا چاہا، مگر اسی وقت اگلا مقرر کھڑا ہو گیا تھا۔

اس مقرر نے نوجوانوں میں تحمل کی کمی پر افسوس کیا۔ پہلے اپنے تعارف کی تصحیح کرائی، ان کی کتابیں آٹھ نہیں، نو تھیں۔

محفل ختم ہوئی تو ابنِ پرامپٹ دفتر میں جا بیٹھے۔ ہم رخصت ہونے لگے تو روک لیا۔ ہماری رائے سامنے رکھی تھی۔ باہر واہ واہی مہمانوں کو رخصت کر رہے تھے۔ ایک صاحب کی گاڑی نہیں آئی تھی، انہیں اپنی موٹر سائیکل پر چھوڑنے گئے، واپس آ کر جوتوں کی گرد جھاڑی اور حسبِ معمول کرسی پر بیٹھ گئے۔

استاد بولے، "نام آ جانا چاہیے تھا۔”

ہم نے کہا، "اب بھی آ سکتا ہے۔”

انہوں نے دراز سے پرانی کاپی نکالی۔ اصل نام لکھا تھا۔ صفحات پر عمومی ہدایات تھیں، زبان پر توجہ، مطالعہ بڑھائیے، فی الحال مشق جاری رکھیے۔

"میں بھی کاپیاں لے کر جاتا تھا،” انہوں نے کہا۔ "ایک صاحب کے ہاں چھ مہینے گیا۔ ڈاک سنبھالی، مضامین نقل کیے۔ میری غزل اگلی نشست میں دیکھی جانی تھی۔”

ہم نے پوچھا، "کسی نے مدد نہیں کی؟”

"کی تھی۔ ایک استاد وقت دیتے تھے۔ کتابیں بتاتے تھے۔”

"پھر؟”

انہوں نے دعوت نامے اکٹھے کیے۔ "ادھر کام شروع ہو گیا۔ وہ پڑھنے کو کہتے تھے۔ یہاں لوگ مجھے پڑھنے لگے تھے۔”

پیشگی داد اور مفتی صاحب بھی آ گئے۔ حل تجویز ہوا، سلیم کو اگلی تقریب میں نوجوان تخلیق کار کا اعزاز دیا جائے۔ تصویر بنے، استاد حوصلہ افزائی کریں، معاملہ خوش اسلوبی سے ختم ہو۔

ابنِ پرامپٹ نے پوچھا، "کب کی تقریب؟”

تاریخ بتائی گئی۔ انہوں نے تقویم کھولی۔ پیشگی داد نے سند کی عبارت لکھنی شروع کی۔ واہ واہی نے بتایا، لڑکے کے والد کو بھی بلائیں گے، انہیں بہت خوشی ہوگی۔

استاد نے یادگار اٹھائی۔

"اس افسانے میں نام؟”

مفتی صاحب بولے، "اس کی فنی حیثیت الگ ہے۔”

واہ واہی نے کہا، "اعزاز کے ساتھ اس کا تعارف بھی چھپ جائے گا۔”

استاد نے ہماری طرف دیکھا۔

ہم نے عرض کیا، "اس نے نام پوچھا تھا۔”

انہوں نے تقویم بند کر دی۔

پہلے بیان میں غلط فہمی، بعض احباب اور سیاق و سباق تھا۔ دوسرے میں سلیم کا نام اوپر آیا۔ آخر دو صاف جملے رہ گئے، مرکزی جزئیہ اور مکالمہ اس کے مسودے سے لیے گئے تھے، نسبت درج نہ کرنا غلطی تھی۔

پیشگی داد نے "سہو” تجویز کیا۔ مفتی صاحب نے اتنا صاف لکھنے سے منع کیا۔ چارجر شاہ نے پوچھا، "باقی چھپی ہوئی جلدوں میں کیا لگائیں؟”

خرچ معلوم کیا گیا۔ استاد نے رقم دوبارہ پوچھی، پھر بٹوا نکالا۔ نوٹ گن کر رکے، ایک واپس رکھا، حساب دیکھا اور پھر وہی نوٹ نکال دیا۔

باقی نسخوں میں نسبت کا ورق لگنا تھا۔ برقی متن بھی درست ہونا تھا۔

ہماری رائے لفافے میں دے دی گئی۔ گھر آ کر پڑھی۔ نثر تجربے کی آنچ میں پکی ہوئی تھی اور انسانی نفسیات کی تہوں تک اترتی تھی۔ چند لفظ زیادہ تھے۔ سوچا، صبح کم کرا لیں گے۔

رات ہی اعترافی بیان کی تعریفیں آنے لگیں۔ کسی نے بڑے ظرف کی نشانی کہا، کسی نے لکھا کہ استاد کا قد بڑھ گیا۔ سلیم کے نام سے اوپر ابنِ پرامپٹ کا نام اتنی بار آیا کہ بیان پھر انہی کا تعارف بن گیا۔

صبح فارم کے دروازے پر اعلان تھا، "اعتراف کی اخلاقی قوت: خصوصی مذاکرہ۔”

چارجر شاہ بولے، "کل والی نشست کا عنوان بدل گیا ہے۔ کرسیاں آ گئی تھیں۔”

اندر بڑا اشتہار تیار تھا۔ استاد کی تصویر، جلی حروف میں "جرأتِ اعتراف”، نیچے بیان۔ سلیم کا نام سطر میں سما نہیں رہا تھا، اس لیے حروف چھوٹے کر دیے گئے تھے۔

پیشگی داد "میری غلطی” کو "میری اخلاقی ذمہ داری” سے بدلوا رہے تھے۔ حافظ ری جنریٹ نے دونوں صورتیں بنا دی تھیں۔

استاد آئے۔ واہ واہی نے تبصرے دکھائے۔ انہوں نے پڑھے، ہلکے سے مسکرائے، پھر اشتہار دیکھا۔

"عبارت کیوں بدلی؟”

پیشگی داد نے کہا، انداز بہتر کیا ہے۔

انہوں نے اصل بیان سامنے رکھ دیا۔ "یہی رہنے دیجیے۔”

"تصویر؟”

"رہنے دیجیے۔ عبارت یہی ہو۔”

سلیم بھی آ گیا۔ اس نے درست نسبت والا ورق پڑھا۔ نام پر انگلی رکھی، پھر کاپی میں رکھ لیا۔ پیشگی داد نے پوچھا، ساتھ شاگردِ رشید لکھ دیں؟

استاد بولے، "صرف نام کافی ہے۔”

سلیم نے اپنی تحریر چھپنے کا پوچھا۔

"دوبارہ دیکھتے ہیں۔ پہلے وہیں سے شروع کرو جہاں ابا دکان کھولتے ہیں۔”

نوجوان نے صحرا والے جملے پر انگلی رکھی، فوری فاضل کو دیکھا، پھر پوچھا، "اسے کاٹ دوں؟”

استاد نے سر ہلا دیا۔ اس نے ہلکی سی لکیر کھینچی۔ جملہ اب بھی پڑھا جا سکتا تھا۔

ہم نے اپنی توصیفی رائے نکالی، مگر چھاپے والے کا فون آ گیا۔ سلیم کچھ پوچھ رہا تھا۔ اس وقت اپنا معاملہ چھیڑنا مناسب نہ لگا۔ لفافہ واپس رکھ لیا۔

باہر سلیم کی سائیکل کھڑی تھی۔ ہینڈل سے وہی کپڑوں کی تھیلی لٹک رہی تھی۔ چارجر شاہ نے اس میں پردوں کی سلائی کے پیسے رکھوائے اور کہا، "یہ ابا کے ہیں۔ کاپی میں مت رکھ لینا۔”

ہم خاموشی سے باہر آ گئے۔

راستے میں ناشر کا فون آیا۔ "رائے مل گئی؟”

ہم نے کہا، "مل گئی ہے۔ مگر کتاب کے آغاز میں دینا مناسب نہیں ہوگا۔”

"پھر؟”

ہم نے کاغذ دوبارہ کھولا۔ آخری جملہ واقعی اچھا تھا۔

"پچھلے سرورق پر دے دیجیے۔”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے