कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

——-ایک اور پروین مرتد ہوگئی

بیٹیوں کی صرف نگرانی نہیں، اعتماد، تربیت اور دینی و اخلاقی شعور کی بھی ضرورت ہے

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ :9934933992

ایک اور پروین مرتد ہو گئی۔ یہ صرف کسی لڑکی کے کسی نوجوان کی محبت میں گرفتار ہونے، گھر سے فرار ہونے یا بین المذاہب شادی کا معاملہ نہیں، بلکہ ہمارے لیے اپنے گھروں اور نئی نسل کے ساتھ تعلق کا جائزہ لینے کا ایک موقع بھی ہے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہماری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی کہ ہماری بیٹیاں اپنے دل کی بات ہم سے کہنے کے بجائے کسی باہری شخص سے کہنے لگیں۔
مسلم لڑکی کے مرتد ہونے کا یہ واقعہ جہان آباد کے ایک ایسے قصبے سے سامنے آیا ہے، جسے علم و ادب کا گہوارہ اور تہذیب کا مسکن کہا جاتا ہے۔ بائیس سالہ مسلم لڑکی ایک غیر مسلم موبائل میکینک سے مبینہ معاشقے کے بعد گھر سے فرار ہو گئی۔ بعدازاں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں اس نے اسلام ترک کرکے اپنے محبوب کے ساتھ مندر میں شادی کرنے کی اطلاع دی۔ گو کہ بیٹی کی واپسی کی امید لگائے بیٹھے والدین ویڈیو کو فرضی قرار دے کر اپنے بے قرار دل کو تسلی دے رہے ہیں، لیکن حقائق تو تفتیش کے بعد عیاں ہوں گے۔ خدا کرے یہ ویڈیو واقعی فرضی ہو اور ناسمجھ لڑکی گھر واپس آجائے، لیکن معاملے میں پولیس کی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر سے والدین پریشان ہیں۔ بہرحال اس واقعے نے کئی بنیادی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ آخر ہماری بعض بیٹیاں اپنے گھر، والدین اور مذہبی ماحول سے جذباتی طور پر اتنی دور کیوں ہوجاتی ہیں کہ کسی باہری شخص کو اپنا سب سے بڑا ہمدرد سمجھنے لگتی ہیں؟ ان کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے، ہم اس سے کس قدر واقف ہیں؟ ہم ان کی آمدورفت اور دوستوں پر کس قدر نظر رکھ رہے ہیں، اور کیا ہم ان کے جذبات اور ذہنی الجھنوں کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں؟ کیونکہ صرف لڑکی کو قصوروار ٹھہرا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس مقام تک پہنچنے سے پہلے گھر، خاندان اور سماج کی طرف سے کمی کہاں رہ گئی۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اور شاید آخری بھی نہیں۔ مختلف علاقوں سے وقتاً فوقتاً ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں مسلم لڑکیوں کے غیر مسلم نوجوانوں سے تعلقات، گھر سے چلے جانے اور بعدازاں شادی یا مذہب تبدیل کرنے کے دعوے کیے گئے۔ میرے علم میں بھی ایسے کئی معاملات آئے ہیں۔ بعض لڑکیاں دیگر علاقہ سے تعلق رکھتی تھیں، جبکہ بعض کے تعلقات جہان آباد سے تھے۔ ایک واقعے میں ایک مسلم لڑکی قرآن مجید کے چند پاروں کی حافظہ تھی۔ گاؤں میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی تھی، مسجد اور مدرسہ بھی موجود تھا اور بظاہر دینی ماحول کی بھی کمی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ ایک غیر مسلم نوجوان کے ساتھ شادی کرکے مرتد ہوگئی۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ اس ایک واقعے کو کس عنوان سے بیان کیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مسجد، مدرسہ اور دینی ماحول کی موجودگی کے باوجود ہماری بیٹیوں کے دل و دماغ میں ایسا خلا کیسے پیدا ہوا جسے کسی باہر کے شخص نے پُر کردیا؟ دین صرف عبادات اور پابندیوں کا نام نہیں۔ اگر دین بچے کے کردار، سوچ، فیصلوں اور مشکل وقت میں اس کے رویے کا حصہ نہیں بنتا تو محض دینی ماحول کا موجود ہونا کافی نہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ظاہری مذہبی ماحول اور اندرونی ایمانی و اخلاقی مضبوطی دو الگ چیزیں ہیں۔ جب گھر میں دین صرف رسمی طور پر موجود ہو اور جذباتی و فکری تربیت غائب ہو، تو باہر کی دنیا آسانی سے خلا کو بھر لیتی ہے۔
موبائل فون نے صورت حال کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ آج موبائل فون صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا۔ دوستی، محبت، تفریح، نظریات اور جذباتی تعلقات سب کچھ ایک اسکرین کے فاصلے پر ہیں۔ اس لیے یہ سمجھ لینا کہ بیٹی گھر سے باہر نہیں جاتی، اس لیے محفوظ ہے، درست نہیں۔ آن لائن گفتگو، پرائیویٹ چیٹس، سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی کہانیاں اور جذباتی ہمدردی کا دکھاوا نوجوان ذہنوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ لیکن اس کا حل صرف موبائل چھین لینا بھی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ نوجوان موبائل کے ذریعے کس دنیا سے جڑ رہے ہیں اور والدین اس دنیا سے کس قدر واقف ہیں۔ ہمیں یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بچے کس سے بات کررہے ہیں ، کیا دیکھ رہے ہیں اور اس کے ذہن میں کون سے سوالات پیدا ہورہے ہیں۔ اگر والدین خود ڈیجیٹل دنیا سے نابلد رہیں تو نگرانی بے اثر ہو جاتی ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ گھر میں موبائل کے استعمال کے بارے میں کھلی بات چیت ہو، وقت کی حد بندی ہو، اور ساتھ ہی بچوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کے پاس سوالات پوچھنے اور الجھنیں شیئر کرنے کی جگہ موجود ہے۔ جب بچہ جانے گا کہ گھر میں اسے سمجھا جائے گا تو باہر کی ہمدردی کی کشش کم پڑ جاتی ہے۔
ایسے واقعات کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے منظم سازش کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی معاملے میں لالچ، دھوکے، دباؤ، زبردستی یا کسی منظم غیر قانونی سرگرمی کے شواہد موجود ہوں تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن الزام اور ثبوت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ محض سوشل میڈیا کی پوسٹ، جذباتی بیان یا تقریر کسی الزام کو حقیقت ثابت نہیں کرتی۔ اگر کوئی منظم سرگرمی ہے تو اس کے شواہد سامنے لائے جائیں تاکہ قانون اپنا کام کرے۔ لیکن اگر ایسا کوئی ثبوت موجود نہ ہو تو صرف مذہب کی بنیاد پر کسی فرد یا تنظیم کو موردِ الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔ اس لیے ہمیں جذبات کے بجائے حقیقت، الزام کے بجائے ثبوت اور شور کے بجائے عملی اقدام کو ترجیح دینی ہوگی۔ یہ احتیاط اس لیے بھی ضروری ہے کہ کسی حقیقی مسئلے کی نشاندہی اور ہر واقعے کو ایک ہی سازش قرار دینا، دونوں الگ باتیں ہیں۔ حقیقت تک پہنچنے کے بعد ہی درست حل ممکن ہے۔
یقینا ہم اپنی بیٹیوں کی حفاظت چاہتے ہیں، لیکن حفاظت اور قید میں فرق ہے۔ ہر وقت خوف میں رکھنا، سوال پوچھنے پر ڈانٹ دینا، دوستوں کو سمجھے بغیر صرف پابندی عائد کردینا اور جذبات کو غیر اہم سمجھنا شاید وقتی خاموشی پیدا کردے، لیکن دل کی دوری ختم نہیں کرتا۔ گھر میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں بیٹی سچ بول سکے۔ وہ یہ کہہ سکے کہ ‘‘مجھے محبت ہوگئی ہے’’ اور والدین کا پہلا ردعمل دروازہ بند کرنا نہ ہو۔ پہلے اس کی بات سنی جائے، پھر اسے سمجھایا جائے اور اس کے سامنے محبت، دین، اخلاق، خاندان اور مستقبل کی حقیقتیں رکھی جائیں۔ یہاں والدین کا کردار صرف نگران کا نہیں، رہنما کا ہے۔ بچے اگر اپنی پہلی جذباتی الجھن والدین سے بیان کرسکیں تو بہت سے معاملات بگڑنے سے پہلے سنبھل سکتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں یقین ہو کہ بات کرتے ہی ڈانٹ، مار، پابندی یا بے عزتی ہوگی تو وہ خاموش رہنے یا کسی دوسرے شخص سے مدد لینے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ اعتماد پیدا کرنے کے عملی طریقے بھی موجود ہیں۔ روزمرہ کی بات چیت میں بچوں کی رائے پوچھنا، ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں پر توجہ دینا، اور مشکل موضوعات پر بھی بغیر غصے کے گفتگو کرنا اس اعتماد کی بنیاد بنتا ہے۔ جب گھر میں جذباتی سہارا موجود ہو تو باہر کی دنیا کی کشش کمزور پڑ جاتی ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ نئی نسل دین سے دور ہورہی ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دین سے قریب کرنے کے لیے ہم نے کیا کیا ہے۔ کیا ہم نے بچوں کو صرف نماز، روزہ اور حلال و حرام بتایا یا انہیں یہ بھی سمجھایا کہ زندگی میں جذباتی آزمائشیں کیسے آتی ہیں؟ کیا انہیں یہ اعتماد دیا کہ دین کے بارے میں کوئی سوال ہو تو وہ بلا خوف پوچھ سکتے ہیں؟ کیا والدین اور اساتذہ نے ان کے ساتھ دو طرفہ گفتگو کی یا صرف احکامات سنائے؟ دینی تربیت اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب بچہ دین کو صرف ایک پابندی نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی سمجھنے لگے۔ اس کے لیے گھر کا ماحول، والدین کا کردار، اساتذہ کی حکمت اور معاشرے کی سنجیدگی سب ضروری ہیں۔ عملی طور پر والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ محبت، رشتوں اور فیصلوں کے بارے میں کھلی بات کریں۔ انہیں بتائیں کہ حقیقی محبت کیا ہے اور عارضی جذبات کیا ہیں۔ دینی تعلیم کو صرف حفظ و تلاوت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اخلاقی فیصلوں، صبر، احترام اور خود احتسابی سے جوڑیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ صرف کتابی علم نہ پڑھائیں بلکہ طلبہ کی ذہنی الجھنوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ علماء کرام سے بھی یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ صرف وعظ و نصیحت پر اکتفا نہ کریں بلکہ نوجوان نسل کے سوالات کا سنجیدگی سے جواب دیں اور ان کے مسائل کو نظرانداز نہ کریں۔
اس تمام بحث میں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ ذمہ داری صرف والدین یا معاشرے کی نہیں۔ لڑکی یا لڑکا بھی بالغ ہونے کے بعد اپنے فیصلوں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لیکن اگر گھر میں جذباتی خلا موجود ہو تو غلط فیصلے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے اصلاح کا آغاز گھر سے ہونا چاہیے۔ ہمیں الزام سے زیادہ اصلاح، نگرانی سے زیادہ اعتماد اور تقریروں سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ علماء، والدین، اساتذہ اور سماجی کارکن سب کو اپنی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ اگر کسی لڑکی یا لڑکے کو دھوکے، لالچ، دباؤ یا زبردستی کے ذریعے مذہب یا شادی کے کسی فیصلے پر مجبور کیا جارہا ہے تو قانون کو اپنا کام کرنا چاہیے۔ اگر کوئی بالغ شخص اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کررہا ہے تو اس معاملے میں بھی قانون، رضامندی اور حقائق کو بنیاد بنانا ہوگا۔ دونوں صورتوں میں جذباتی ہنگامے کے بجائے حقیقت تک پہنچنا ضروری ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر واقعے کو صرف ‘‘سازش’’ کہہ دینے سے ہماری اپنی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔ اگر کوئی بیٹی اپنے گھر میں جذباتی سہارا، گفتگو اور اعتماد محسوس کرتی ہے تو مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنے کی اس کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔ گھر میں روزانہ کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی باتوں کا تبادلہ، مشترکہ وقت گزارنا، اور بغیر فیصلہ سنائے سننے کی عادت پیدا کرنا ان خلاؤں کو پر کرنے میں مدد دیتا ہے جنہیں باہر کے لوگ آسانی سے استعمال کر لیتے ہیں۔ موبائل اور سوشل میڈیا کے دور میں والدین کو خود بھی ڈیجیٹل آگاہی حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ بچوں کی دنیا کو سمجھ سکیں اور ان کے ساتھ اس دنیا کے خطرات اور مواقع پر بات کرسکیں۔
آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ پروین کیوں مرتد ہو گئی۔ سوال یہ ہے کہ وہ جانے سے پہلے ہم سے کتنے قریب تھی؟ ہم اپنی بیٹیوں کے قدموں کی نگرانی کرسکتے ہیں، لیکن ان کے دل کی نگرانی نہیں کرسکتے۔ ان کے دل تک پہنچنے کا راستہ صرف اعتماد، محبت، تربیت اور مسلسل مکالمے سے نکلتا ہے۔ اس لیے کسی ایک پروین کے واقعے پر افسوس کرنے کے بجائے ہمیں اپنے گھروں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری اولاد اپنی خوشی، پریشانی، محبت، خوف اور الجھن سب سے پہلے کس کے ساتھ بانٹتی ہے۔ اگر جواب ‘‘والدین’’ ہے تو شاید ہم نے اپنی ذمہ داری کا کچھ حصہ ادا کردیا ہے۔ اگر جواب کوئی اجنبی ہے تو ہمیں دوسروں کو الزام دینے سے پہلے اپنے گھر کے دروازے پر دستک دینی چاہیے۔
یہ پروین تو ہمارے ہاتھ سے نکل گئی مگر اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی دوسری۔ پروین کے ہاتھ سے ہمارا ہاتھ نہ چھوٹے۔ اس کے لیے ہمیں نگرانی کو اعتماد سے، پابندی کو مکالمے سے، اور خوف کو محبت و تربیت سے بدلنا ہوگا۔ گھر کو ایسی جگہ بنانا ہوگا جہاں بیٹی اور بیٹا دونوں اپنی الجھنیں بلا خوف بیان کرسکیں، اور والدین ان الجھنوں کو سن کر حکمت اور صبر کے ساتھ راستہ دکھائیں۔ تبھی ہم حقیقی معنوں میں اپنی نسل کی حفاظت کرسکیں گے اور ایسے واقعات کی تکرار کم ہوسکے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے