कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آئینہ خانہ:شیر سنگھ کی دغا بازی، سیٹھ صاحب کی سادگی اورکروڑوں کا اسٹیلتھ ’چشمہ‘!

از : سید رشید اللہ حسینی ؍ اطہر کلیم احمد، ناندیڑ (مہاراشٹرا)

دنیا میں کچھ رشتے اتنے یکطرفہ اور ’بلائنڈ ٹرسٹ‘ (Blind Trust) پر قائم ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ محلے کے لالچی چوکیدار ’شیر سنگھ‘ اور امیر کبیر ’سیٹھ صاحب‘ کا رشتہ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ شیر سنگھ اس مفاد پرست دوست کی طرح ہے جو تحفے میں آپ کی ہی مہنگی گھڑی مانگتا ہے اور پھر اسی گھڑی میں وقت دیکھ کر بتاتا ہے کہ ’’معاف کرنا سیٹھ جی، میری ڈیوٹی کا ٹائم ختم ہو گیا ہے۔‘‘ ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے، لیکن شیر سنگھ کی لغت میں دوست وہ ہے جسے مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ کر، اس کی مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے محلے کا مہنگا ترین سیکیورٹی سسٹم بیچا جائے۔ سیٹھ صاحب کی سادگی، معصومیت اور نام نہاد ’شرافت‘ کا یہ عالم ہے کہ وہ پچھلی کئی دہائیوں سے اسی شیر سنگھ کے ڈسے کا شکار ہیں، اور ہر بار ڈسے جانے کے بعد بل بھی خود ہی خوشی خوشی ادا کرتے ہیں۔ شیر سنگھ کی اس دغا بازی اور ڈبل گیم کا تازہ ترین اور سب سے شاندار لطیفہ پچھلے دنوں نکڑ والے خفیہ چائے خانے میں پیش آیا۔ اطلاعات ہیں کہ شیر سنگھ، جو خود کو محلے کا چوہدری اور سیٹھ صاحب کا اکلوتا باڈی گارڈ کہتا ہے، اس نے چائے خانے میں محلے کے آوارہ لڑکے ’ببن کباڑی‘ (جس کا نشانہ بہت پکا ہے) کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی اور کمال کی ’چوکیداری مہارت‘ کا مظاہرہ کیا۔ شیر سنگھ نے ببن کباڑی سے کہا، ’’دیکھو بھائی، میں اب اس گلی کے جھگڑوں سے خود کو دور کر رہا ہوں۔ تم بس مین روڈ پر میرے اور میرے ’چہیتے سالے‘ کی دکان پر پتھر مت مارنا۔ البتہ، اگر تمہارا دل چاہے تو سیٹھ صاحب کی حویلی پر شوق سے نشانے بازی کی پریکٹس کرو، میں بیچ میں نہیں آؤں گا۔‘‘ ببن کباڑی نے بھی حامی بھر لی۔ ذرا تصور کریں، آپ نے محلے کے جس بدمعاش سے بچنے کے لیے بھاری تنخواہ پر ایک باڈی گارڈ رکھا تھا، وہ رات کو اسی بدمعاش کے ساتھ سگریٹ پی رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ’’میرے کیبن پر پتھر مت مارنا، باقی سیٹھ جی کی حویلی کھلی ہے، جتنا چاہے لوٹ لو، بس میری ڈیوٹی کے اوقات میں شور مت مچانا!‘‘
جب ببن کباڑی کو سیٹھ صاحب کی حویلی کی دھلائی کا یہ ’این او سی‘ (NOC) مل گیا، تو شیر سنگھ نے اپنی اصل دکان کھولی۔ سیٹھ صاحب نے گھبرا کر شیر سنگھ کو فون لگایا: ’’شیر سنگھ بھائی! ببن کباڑی نے حویلی کا راستہ گھیر لیا ہے، ہماری گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جلدی سے اپنا ڈنڈا لے کر آؤ اور ہماری مدد کرو!‘‘ اب شیر سنگھ، جس کے ڈی این اے میں چوکیداری سے زیادہ ’پراپرٹی ڈیلنگ‘ اور ’سیلز مین شپ‘ بھری ہے، اس نے بڑے پیار سے جواب دیا: ’’دیکھیں سیٹھ صاحب! مجھے سردیوں کی راتوں میں گلیوں کی دھول مٹی راس نہیں آتی، ویسے بھی میں کسی اور کی لڑائی میں اپنا ڈنڈا نہیں چلاتا۔ لیکن آپ گھبرائیں مت! میں آپ کے لیے ایک بمپر آفر لایا ہوں؛ میں آپ کو کروڑوں روپے میں امپورٹڈ ’اسٹیلتھ‘ (Stealth) روبوٹک سفید ہاتھی دے رہا ہوں، اور خوشخبری یہ ہے کہ ہاتھیوں کے ساتھ مہاوت بالکل فری! بتائیے، پیمنٹ کیش کریں گے، آن لائن ٹرانسفر کریں گے، یا اپنی دو چار دکانوں کی رجسٹری سیدھی میرے نام کریں گے؟‘‘ یہ سودا بالکل ایسا ہے کہ آپ کے باورچی خانے میں دو چوہے گھس آئیں، آپ گھبرا کر دوست کو بلائیں، اور وہ چوہے مار دوا دینے کے بجائے آپ کو کروڑوں روپے کا جنگی ٹینک بیچ دے اور کہے کہ ’’اسے خود ڈرائیو کر کے چوہوں پر چڑھا دو!‘‘ ذرا منظر کا تصور کریں: ایک طرف ببن کباڑی ہے جو پاؤں میں ہوائی چپل پہنے، کباڑ کے پائپوں اور دیسی غلیل سے حملے کر رہا ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے سیٹھ صاحب کو دنیا کا مہنگا ترین ’اسٹیلتھ‘ سفید ہاتھی بیچا جا رہا ہے۔ یعنی ایک ایسا ہاتھی جو خطرہ دیکھتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔ ارے بھائی! جس دشمن کی آنکھوں میں حیا نہ ہو، اس سے چھپنے کے لیے کروڑوں کی ’غائب ہونے والی‘ ٹیکنالوجی کا کیا اچار ڈالنا ہے؟ یہ شیر سنگھ کی وہ قاتلانہ مارکیٹنگ ہے جہاں وہ پہلے پڑوسی کو آپ کے گھر پتھر مارنے کا اشارہ کرتا ہے، پھر اسی سے خفیہ ڈیل کر کے اپنا کیبن بچاتا ہے، اور آخر میں آپ کے ڈر کو کیش کرواتے ہوئے آپ کی پوری تجوری صاف کر دیتا ہے۔
سیٹھ صاحب کا یہ مہنگا سیکیورٹی بجٹ اور شوقِ نمائش ویسے بھی کافی پرانا ہے۔ محلے والوں کو آج بھی یاد ہے کہ اس سے قبل بھی شیر سنگھ نے انہیں پرانے ماڈل کا ایک انتہائی مہنگا اور چمکدار ’سفید ہاتھی‘ بیچا تھا۔ محلے کے سالانہ جشن پر اس کروڑوں کے سفید ہاتھی کو خوب چمکایا گیا، اس نے حویلی کے احاطے میں کیا شاندار کرتب دکھائے اور رنگ برنگا دھواں اڑایا کہ پورا محلہ عش عش کر اٹھا۔ لیکن جب حقیقت میں ببن کباڑی سے جنگ چھڑی اور حویلی پر پتھروں کی بارش ہوئی، تو عین موقع پر ببن نے اپنی پچاس روپے کی دیسی غلیل سے ایسا اچوک نشانہ لگایا کہ وہ کروڑوں کا مغرور سفید ہاتھی دھڑام سے اوندھے منہ گرپڑا۔ اب پرانی ذلت سے سبق سیکھنے کے بجائے سیٹھ صاحب نے ’اسٹیلتھ‘ ہاتھی باندھ لیا ہے۔ ہاتھی تو حویلی میں آ گیا ہے، لیکن اب اسے چلانے کے لیے اس کا ولایتی چارہ اور ماہانہ سروسنگ بھی شیر سنگھ ہی کی دکان سے بلیک میں خریدنی پڑ رہی ہے۔ سیٹھ صاحب ہاتھی کی پالش پر لاکھوں اڑا رہے ہیں، اور دوسری طرف ببن کباڑی حویلی کے باہر بیٹھا اب بھی اپنی اسی پچاس روپے کی غلیل کے ربڑ کو کھینچ کر مزے سے قہقہے لگا رہا ہے۔ اس ڈیل کی سب سے دلچسپ اور بات ان روبوٹک ہاتھیوں کی ’اسٹیلتھ‘ ٹیکنالوجی ہے۔ اگر ذرا گہرائی میں جا کر دیکھیں تو شیر سنگھ کی دوستی، وعدے اور وفاداری بھی سو فیصد ’اسٹیلتھ‘ ہی ہے۔ جب سودا ہو رہا ہو اور نوٹ گنے جا رہے ہوں، تو شیر سنگھ آپ کا سگا بھائی بنا نظر آتا ہے، لیکن جیسے ہی مشکل وقت آتا ہے یا کوئی پتھر آپ کی طرف آتا دکھائی دیتا ہے، تو شیر سنگھ کی مدد فوراً ’اسٹیلتھ موڈ‘ میں چلی جاتی ہے اور ایسے غائب ہوتی ہے کہ سیٹھ صاحب دوربین لے کر بھی ڈھونڈیں تو کچھ نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف سیٹھ صاحب کی دفاعی سادگی اور معصومیت پر بھی رونا آتا ہے، جو 50 روپے کی غلیل اور کباڑ کو مار گرانے کے لیے کروڑوں کا ہاتھی خرید رہے ہیں۔ یہ تو بالکل ایسا ہے جیسے آپ کے غسل خانے میں لال بیگ (Cockroach) نکل آئے، اور آپ اسے کچلنے کے لیے بازار سے برانڈ نیو ’فیراری‘ (Ferrari) خرید لائیں! محلے کی سیاست کا سیدھا سا معاشی اصول ہے، جب ببن کباڑی کا پچاس روپے کا پتھر سیٹھ صاحب کے کروڑوں کے امپورٹڈ ہاتھی سے ٹکراتا ہے، تو ببن کباڑی ہنس کر دوسرا پتھر اٹھا لیتا ہے، جبکہ ہاتھی کا مالک اس کے علاج کا بل دیکھ کر سیدھا آئی سی یو (ICU) پہنچ جاتا ہے۔ شیر سنگھ کی اس کھلی دغا بازی، پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی پالیسی اور خفیہ چائے خانے کے مذاکرات کے بعد بھی اگر سیٹھ صاحب کو یہ لگتا ہے کہ شیر سنگھ ان کا سچا محافظ ہے، تو پھر انہیں کسی نئے سیکیورٹی سسٹم کی نہیں، بلکہ دماغی امراض کے کسی بہت بڑے اور مہنگے اسپتال کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شیر سنگھ دنیا کا وہ واحد ’ہمدرد‘ ہے جو آپ کو ندی میں ڈوبتا دیکھ کر لائف جیکٹ تو نہیں پھینکتا، البتہ کنارے پر کھڑے ہو کر آپ کو ایک انتہائی امپورٹڈ اور برانڈڈ چشمہ ضرور بیچ دیتا ہے، تاکہ جب آپ پانی کے اندر غوطے کھائیں تو آپ انتہائی اسٹائلش، ہائی ٹیک اور مکمل ’وی آئی پی‘ لگیں!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے