कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہم صرف جہان میں طَعام ڈھونڈتے رہے

We kept searching the world only for food

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

’’ہم صرف جہان میں طَعام ڈھونڈتے رہے‘‘
یہ مصرع محض ایک شعری جملہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کے سامنے رکھا ہوا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اگر ہم ذرا ٹھہر کر اپنا چہرہ دیکھیں تو شاید بہت کچھ ایسا نظر آئے جس سے نظریں چرانا آسان نہ ہو۔ یہ سوال صرف دسترخوان کی وسعت، کھانوں کی کثرت یا بازاروں کی رونق کا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں، ہماری خواہشات کا مرکز کیا ہے اور ہماری اجتماعی زندگی کا مقصد کیا رہ گیا ہے؟ مسلمانوں کی تاریخ میں کھانا کبھی زندگی کا مقصد نہیں رہا۔ رزق اللہ کی نعمت تھا، کھانا جسم کی ضرورت تھی، اور دسترخوان شکر، سخاوت، صلۂ رحمی اور باہمی محبت کا ذریعہ۔ لیکن جب ضرورت خواہش میں، خواہش عادت میں اور عادت زندگی کے مرکزی مقصد میں تبدیل ہو جائے تو انسان کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہو جاتا ہے: کیا ہم ضرورت کے لیے کھا رہے ہیں یا کھانے کے لیے جی رہے ہیں؟
آج کسی بھی بڑے شہر میں چلیے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے، تو ایک مخصوص معاشرتی منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ گلی گلی ہوٹل، چائے کے مراکز، فاسٹ فوڈ کے اسٹال، تلی ہوئی اشیا کی دکانیں، مٹھائی کی بھرمار، رنگ برنگے مشروبات، چائنیز اور دیگر فاسٹ فوڈ کے نام پر نت نئے ذائقوں کی یلغار—گویا بازار کا ایک بڑا حصّہ ہمارے معدے کی تسکین کے لیے وقف ہوچکا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہوٹل کیوں ہیں، مٹھائی کی دکانیں کیوں ہیں یا لوگ اپنی پسند کا کھانا کیوں کھاتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معیار، صحت، اعتدال، دیانت اور حلال و حرام کی حدود پسِ پشت چلی جائیں۔
بعض مقامات پر ناقص اور غیر معیاری اجزا، غیر صحت بخش تیل، مضرِ صحت رنگ و کیمیکلز، ملاوٹ شدہ اشیا اور حفظانِ صحت کے اصولوں سے بے اعتنائی کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ کہیں دودھ میں ملاوٹ کا مسئلہ ہے، کہیں ناقص گوشت کا، کہیں غیر معیاری مٹھائیوں کا، اور کہیں بار بار استعمال ہونے والے تیل اور حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات کا۔ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں؛ یہ دیانت، ذمّہ داری اور اخلاق کا مسئلہ بھی ہے۔ ہمیں یہ سوال بھی اپنے آپ سے کرنا ہوگا کہ اگر ایک شخص دوسروں کو ایسی چیز فروخت کرتا ہے جس کے بارے میں وہ خود جانتا ہے کہ وہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے، تو کیا صرف اس لیے اس کی ذمّہ داری ختم ہوجاتی ہے کہ خریدار نے اپنی مرضی سے اسے خریدا ہے؟ رزق کمانا عبادت بن سکتا ہے، لیکن رزق کمانے کے نام پر دوسروں کی صحت سے کھیلنا عبادت نہیں بن سکتا۔
ہماری ایک بڑی اجتماعی کمزوری یہ بھی بنتی جارہی ہے کہ ذائقہ معیار پر غالب آگیا ہے۔ جس کھانے میں زیادہ تیل، زیادہ نمک، زیادہ شکر اور زیادہ مصالحہ ہو، وہ زیادہ لذیذ سمجھا جاتا ہے۔ ظاہری رنگ، خوشبو اور فوری ذائقہ ہماری ترجیحات بن گئے ہیں؛ اس بات کی فکر کم ہوتی جارہی ہے کہ اس کھانے کا ہمارے جسم پر طویل مدتی اثر کیا ہوگا۔ بچّوں کے ہاتھ میں گھر کے پھلوں اور سادہ غذاؤں کے بجائے پیکٹ، بوتلیں، تلی ہوئی اشیا اور میٹھے مشروبات زیادہ دکھائی دینے لگے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے فاسٹ فوڈ محض کبھی کبھار کی تفریح نہیں رہا، بلکہ روزمرّہ طرزِ زندگی کا حصّہ بنتا جارہا ہے۔ یہاں سوال کسی خاص کھانے یا کسی خاص قوم کے کھانے کا نہیں۔ سوال غذائی شعور کا ہے۔ چائنیز ہو یا دیسی، مشرقی ہو یا مغربی—جو چیز غیر معیاری، مضرِ صحت یا ملاوٹ شدہ ہے، وہ صرف اس لیے صحت بخش نہیں ہو جاتی کہ اس کا نام خوش نما ہے۔
ہم مسلمان حلال و حرام کے معاملے میں حساس ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور یہ حساسیت قابلِ قدر ہے۔ لیکن ہمیں حلال کے تصور کو صرف گوشت کی نوعیت تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ حلال کمائی بھی ضروری ہے، حلال طریقۂ تجارت بھی۔ اگر کسی چیز میں حرام اجزا نہ ہوں لیکن اسے فروخت کرتے ہوئے دھوکا دیا جائے، وزن کم کیا جائے، معیار چھپایا جائے، خراب چیز کو اچھی ظاہر کیا جائے، یا خریدار کی لاعلمی سے فائدہ اٹھایا جائے، تو ہمیں اپنے تجارتی اخلاق پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اسلام نے تجارت کو ممنوع نہیں کیا؛ بلکہ دیانت دار تجارت کو عزّت دی۔ مسئلہ بازار کا وجود نہیں، بازار کے اخلاق کا زوال ہے۔
ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے: کیا بسیار خوری ہماری زندگی کا حصّہ بن گئی ہے؟ کھانا اللہ کی نعمت ہے، مگر ہر نعمت کا شکر اس کے درست استعمال میں ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھانا، مسلسل کھاتے رہنا، محض ذائقے کے پیچھے بھاگنا اور جسم کو ہر وقت مختلف لذتوں کا عادی بنانا بظاہر ایک معمولی بات محسوس ہوسکتی ہے، لیکن یہی عادات رفتہ رفتہ ہماری صحت، توانائی، عبادت، کام اور مجموعی طرزِ زندگی کو متاثر کرسکتی ہیں۔ قرآن مجید نے کھانے پینے کے باب میں ایک نہایت جامع اصول عطا کیا: کھاؤ اور پیو، مگر اسراف نہ کرو۔ غور کیجیے، اسلام نے کھانے سے منع نہیں کیا؛ اسراف سے منع کیا ہے۔ یعنی مسئلہ نعمت سے استفادہ نہیں، بلکہ نعمت میں حد سے تجاوز ہے۔
معاملہ صرف پیسے کا نہیں، وقت کا بھی ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ کھانے کی تلاش میں گھنٹوں صرف کرتے ہیں؟ کہاں کیا نیا مل رہا ہے؟ کس ہوٹل میں کون سی ڈش آئی؟ کس ریسٹورنٹ کی کیا پیش کش ہے؟ کس جگہ کون سا ذائقہ مشہور ہے؟ اگر یہی شوق علم کے لیے ہوتا، کتاب کے لیے ہوتا، تحقیق کے لیے ہوتا، معاشرے کی اصلاح کے لیے ہوتا، مظلوم انسانوں کی مدد کے لیے ہوتا، تو شاید ہماری اجتماعی حالت کچھ اور ہوتی۔ یہاں اصل اعتراض کھانے پر نہیں، ترجیحات کے عدم توازن پر ہے۔ جب ایک قوم کی گفتگو، تفریح، وقت اور پیسہ مسلسل مادی لذتوں کے گرد گھومنے لگے تو اسے اپنے اجتماعی سفر کی سمت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
ایسے ماحول میں علامہ اقبال کے معروف شعر کی یاد آتی ہے۔ ان کی روح سے معذرت کے ساتھ، اگر ہمارے موجودہ طرزِ زندگی پر طنزیہ انداز میں اسے ڈھالیں تو شاید یوں کہا جاسکتا ہے:
حقیقت روایات میں کھو گئی
یہ امت کھانے پینے میں کھو گئی
اقبال جس امت کو خودی، عمل، فکر، کردار، حریت اور مقصدِ زندگی کا شعور دینا چاہتے تھے، وہ امت اگر اپنی توانائی کا بڑا حصّہ محض ذائقوں، آسائشوں اور صارفانہ خواہشات کی تکمیل میں صرف کرنے لگے تو یہ ایک سنجیدہ فکری لمحۂ احتساب ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم اچھا کھانا کیوں چاہتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ کیا اچھا کھانا ہماری زندگی کی سب سے بڑی خواہش بن گیا ہے؟
اسی وقت دنیا کے مختلف خطوں میں بے شمار مسلمان جنگ، غربت، بے گھری، بھوک اور عدمِ تحفّظ جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ کہیں خاندان اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں، کہیں بچے بنیادی ضروریات کے منتظر ہیں اور کہیں انسانوں کے لیے معمول کی زندگی بھی ایک خواب بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں اپنے اجتماعی رویّوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کے بجائے محض نمود و نمائش پر خرچ کرنا، کھانے کی زیادتی کو تفریح بنانا، اور پھر اسی معاشرے میں غریب کے خالی دسترخوان کو نظر انداز کر دینا—یہ تضاد ہمیں بے چین کیوں نہیں کرتا؟ اسلام کا تصورِ دسترخوان صرف اپنے پیٹ تک محدود نہیں۔ اس میں پڑوسی کا حق بھی ہے، مسکین کا حق بھی، یتیم کا حق بھی، مسافر کا حق بھی اور ضرورت مند کا حق بھی۔ ایک مسلمان کا پیٹ بھرنا نعمت ہے، لیکن کسی بھوکے کا پیٹ بھرنا انسانیت اور اخوت کا تقاضا بھی ہے۔
ہمیں کھانے سے نفرت پیدا کرنے کی نہیں، کھانے کے بارے میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہوٹل بند کرنے کی نہیں، معیار اور دیانت کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ذائقے سے محروم ہونے کی نہیں، اعتدال سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تجارت چھوڑنے کی نہیں، تجارت کو اخلاق سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اور ہمیں نعمتوں سے فرار کی نہیں، نعمتوں کے صحیح استعمال اور شکر کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری مسجدیں آباد ہوں، ہمارے مدارس علم کے مراکز بنیں، ہماری یونیورسٹیاں تحقیق میں آگے بڑھیں، ہماری نوجوان نسل علم، کردار، ہنر اور خدمت میں اپنا مقام پیدا کرے، ہمارے تاجر دیانت کے نمونے بنیں اور ہمارے گھر صحت مند، سادہ اور متوازن طرزِ زندگی اختیار کریں—تب ہماری اجتماعی زندگی میں ایک حقیقی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔
آخرکار ہمیں اس بنیادی حقیقت کی طرف واپس آنا ہوگا کہ کھانا زندگی کے لیے ہے، زندگی کھانے کے لیے نہیں۔ انسان صرف جسم نہیں۔ اس کے اندر فکر بھی ہے، روح بھی ہے، ضمیر بھی ہے، ذمّہ داری بھی ہے اور مقصد بھی۔ پیٹ کی ضرورت پوری کرنا ضروری ہے، مگر انسان کی ساری صلاحیت صرف پیٹ کی تسکین پر صرف ہو جائے تو پھر علم، کردار، عبادت، خدمت، عدل، حریت، انسانی ہمدردی اور تعمیرِ معاشرہ کے لیے کیا بچے گا؟ ہمیں اپنے بچّوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اچھا کھانا بری چیز نہیں، مگر کھانے کا غلام بن جانا ضرور ایک مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنے تاجروں کو یہ یاد دلانا ہوگا کہ گاہک صرف خریدار نہیں، ایک انسان ہے؛ اس کی صحت بھی امانت ہے۔
ہمیں اپنے معاشرے کو یہ سمجھانا ہوگا کہ رزق صرف وہ نہیں جو ہمارے دسترخوان پر آتا ہے؛ رزق وہ ذمّہ داری بھی ہے جو اللہ نے ہمارے ہاتھ میں دی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: کیا ہم واقعی صرف اس لیے دنیا میں آئے ہیں کہ مختلف ذائقے تلاش کرتے رہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں اپنے دسترخوان سے نظریں اٹھا کر اپنے مقصدِ زندگی کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ قومیں صرف اچھے کھانے سے نہیں بنتیں؛ قومیں اچھے کردار، بلند مقاصد، زندہ ضمیر، علم، عمل اور ایثار سے بنتی ہیں۔ اور شاید آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم طَعام کی تلاش سے آگے بڑھ کر حقیقت کی تلاش شروع کریں۔
🗓 (18.09.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے