कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کھائیں کدھر کی چوٹ، بچائیں کدھر کی چوٹ

مسلسل مسائل میں گھری اقلیت، کمزور ہوتی احتجاجی قوت اور مسلم قیادت کا امتحان

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔۔9934933992

حالیہ برسوں میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو ایک کے بعد ایک ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن سے نہ صرف بے چینی پیدا ہوئی ہے بلکہ اس کی اجتماعی ترجیحات، احتجاجی قوت اور سیاسی حکمتِ عملی بھی متاثر ہوئی ہے۔ کبھی شہریت اور این آر سی کا معاملہ، کبھی شہریت ترمیمی قانون پر بحث، کبھی مساجد اور مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات، کبھی مدارس اور اردو کے حوالے سے سوالات، کبھی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور کبھی قومی ترانے یا قومی گیت سے متعلق لازمی قرار دیے جانے کی بحث—مسائل کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک معاشرہ بیک وقت اتنے محاذوں پر اپنی توانائی کس طرح صرف کرے اور اپنی اجتماعی قوت کو منتشر ہونے سے کیسے بچائے؟
اذان اور مساجد کے لاؤڈ اسپیکر سے متعلق تنازعات ہوں، سڑکوں یا عوامی مقامات پر نماز کی ادائیگی کو لے کر پیدا ہونے والے اختلافات، مسلم تاجروں کے بائیکاٹ کی اپیلیں، ٹھیلے سے دکان تک تاجروں کے نام اور شناخت کو موضوع بنانے کا رجحان، گؤکشی اور نام نہاد لو جہاد جیسے تنازعات یا ہجومی تشدد کے واقعات—ان سب نے مسلم معاشرے کے ایک بڑے حصے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ بعض معاملات میں قانونی کارروائی ہوئی، بعض میں سیاسی و سماجی بحث چلی اور بعض واقعات کی نوعیت و ذمہ داری پر مختلف فریقوں کے درمیان اختلاف بھی رہا۔ تاہم، مجموعی صورتِ حال نے مسلمانوں کو بارہا دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
مسئلہ صرف یہیں ختم نہیں ہوتا۔ وقف املاک سے متعلق قانونی تبدیلیاں بھی مسلمانوں کے درمیان شدید بحث کا موضوع بنی ہیں۔ 2025 کے وقف ترمیمی قانون سے متعلق متعدد درخواستیں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت رہیں اور عدالت نے عبوری مرحلے میں قانون کی بعض دفعات سے متعلق سوالات پر غور کیا۔ اسی طرح یکساں سول کوڈ کا معاملہ بھی مسلمانوں کے عائلی اور شخصی قوانین سے جڑا حساس موضوع بن کر سامنے آتا رہا ہے۔ مارچ 2026 میں گجرات اسمبلی نے یو سی سی بل منظور کیا، جبکہ اس سے قبل اتراکھنڈ میں قانون نافذ ہو چکا تھا۔ حالیہ دنوں میں مرکزی وزیر امیت شاہ کی جانب سے 2029 تک بی جے پی کے زیرِ قیادت ریاستوں میں یو سی سی کے نفاذ سے متعلق بیان نے اس بحث کو مزید وسعت دی ہے۔
عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات، مساجد کے سروے اور ملکیت کے دعوے، بعض مقامات پر انہدام کی کارروائیاں، حجاب سے متعلق اختلافات، مدارس کے نصاب اور انتظامی امور پر سوالات، اردو زبان کے فروغ اور اس کے تعلیمی مستقبل سے متعلق خدشات بھی اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہیں۔ مسلم خواتین کے لباس، تعلیم، شادی اور خاندانی معاملات پر ہونے والی سیاسی و سماجی بحث نے بھی کئی مرتبہ یہ سوال اٹھایا ہے کہ ان کے مسائل کو خود خواتین کی آواز اور تجربات کے ساتھ کس طرح سمجھا اور حل کیا جائے۔
دوسری جانب غیر ملکی شہریوں، خصوصاً بنگلہ دیشی باشندوں کے نام پر ہونے والی سیاسی بحث، آبادی کے اعداد و شمار کو مذہبی رنگ دینے کی کوششیں، مسلمانوں کی معاشی سرگرمیوں اور رہائشی علاقوں سے متعلق تنازعات اور بعض جگہوں پر مسلمانوں کی شناخت کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا رجحان بھی تشویش کا سبب بنتا ہے۔ ان تمام معاملات کی نوعیت، قانونی حیثیت اور شدت یکساں نہیں، اس لیے انہیں ایک ہی پیمانے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ تاہم، ان کے درمیان ایک مشترک پہلو ضرور ہے کہ مسلم معاشرہ اپنے وجود، شناخت، حقوق اور مستقبل سے متعلق مسلسل سوالات کا سامنا کر رہا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مسائل کیوں پیدا ہو رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک کے بعد ایک سامنے آنے والے ان مسائل کا سامنا کس حکمتِ عملی کے ساتھ کیا جائے؟
جب کوئی معاشرہ بیک وقت کئی محاذوں پر گھرا ہو تو اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی ترجیحات طے کرنا ہوتا ہے۔ اگر ہر مسئلے کو یکساں اہمیت دے کر اسی شدت کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا جائے تو احتجاجی قوت کے منتشر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ نتیجتاً نہ کسی ایک مسئلے پر مؤثر توجہ مرکوز ہو پاتی ہے اور نہ اجتماعی آواز اپنی مطلوبہ قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
یہی کیفیت مسلم معاشرے میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف مذہبی شناخت اور آئینی حقوق سے متعلق سوالات ہیں تو دوسری طرف تعلیم، روزگار، کاروبار، غربت، صحت، رہائش اور سماجی تحفظ جیسے بنیادی مسائل ہیں۔ اگر کسی بچے کو معیاری تعلیم نہیں مل رہی، نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہے، خاندان معاشی دباؤ میں ہے اور نئی نسل مسابقتی دنیا میں پیچھے رہ رہی ہے تو ان سوالات کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے اٹھانا ہوگا جتنی سنجیدگی سے شناخت سے متعلق معاملات کو اٹھایا جاتا ہے۔
محاورہ ہے: ’’کھائیں کدھر کی چوٹ، بچائیں کدھر کی چوٹ‘‘۔ آج مسلم معاشرے کی اجتماعی کیفیت کو کسی حد تک اسی محاورے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف نئے معاملے کا اندیشہ، دوسری طرف پہلے سے موجود مسئلے کا دباؤ۔ نتیجہ یہ ہے کہ دفاعی ردعمل مسلسل جاری رہتا ہے، مگر مستقل، مربوط اور طویل مدتی حکمتِ عملی کم ہی دکھائی دیتی ہے۔
اس صورتِ حال میں مسلم قیادت کا کردار سب سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ قیادت کا مطلب محض بیان جاری کرنا، پریس کانفرنس کرنا، قرارداد منظور کرنا یا ہر نئے تنازع پر احتجاج کرنا نہیں۔ حقیقی قیادت وہ ہے جو حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ترجیحات طے کرے، جذبات کے بجائے آئین اور قانون کی زبان میں بات کرے، ماہرینِ قانون، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنوں، صحافیوں، خواتین اور نوجوانوں کو ساتھ لے کر طویل مدتی منصوبہ تیار کرے اور عوام کو یہ بتائے کہ کس مسئلے پر کب، کیسے اور کس سطح پر آواز اٹھانی ہے۔
جمہوری نظام میں احتجاج ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن احتجاج اسی وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ دلیل، دستاویز، قانونی جدوجہد، اعداد و شمار اور مسلسل عوامی رابطہ موجود ہو۔ محض جذباتی ردعمل وقتی طور پر اطمینان دے سکتا ہے، مگر دیرپا نتائج کے لیے منظم کوشش ضروری ہے۔ عدالت میں جانے والے معاملے کے لیے مضبوط قانونی تیاری چاہیے، پارلیمانی مسئلے کے لیے سیاسی مکالمہ، سماجی مسئلے کے لیے عوامی بیداری اور معاشی مسئلے کے لیے عملی منصوبہ۔
مسلم معاشرے کو یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہر مسئلے کا جواب صرف سڑک پر نہیں ملتا۔ کچھ معاملات عدالت میں لڑنے ہوتے ہیں، کچھ پارلیمانی اور سیاسی سطح پر اٹھانے ہوتے ہیں، کچھ کے لیے میڈیا اور عوامی مکالمہ ضروری ہوتا ہے، کچھ کا مقابلہ تعلیمی و سماجی بیداری سے کرنا ہوتا ہے اور بعض مسائل کا حل اپنی معاشی حالت بہتر بنانے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
اسی طرح سیاسی نمائندگی بھی محض انتخابات کے دن ووٹ ڈالنے کا نام نہیں ہے۔ مسلمانوں کو مقامی اداروں سے لے کر اسمبلیوں، پارلیمنٹ، تعلیمی اداروں، عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا اور کاروباری شعبوں تک اپنی مؤثر موجودگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ نمائندگی صرف تعداد سے نہیں، بلکہ تیاری، اہلیت، تنظیم اور مسلسل عوامی رابطے سے بھی پیدا ہوتی ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مسلسل دفاعی کیفیت کہیں مسلم معاشرے کی خود اعتمادی کو ہی متاثر نہ کر دے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں اقلیت کا تحفظ صرف اکثریت کی نیک نیتی پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ آئین، قانون، اداروں اور شہری شعور پر بھی اس کی بنیاد ہونی چاہیے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے آئینی حقوق سے واقف ہوں، قانونی راستوں پر اعتماد کریں اور اپنے مسائل کو اعداد و شمار، حقائق اور مضبوط دلائل کے ساتھ قومی سطح پر پیش کریں۔
مسلم قیادت کو اپنے روایتی دائرۂ کار سے بھی باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ اگر قیادت صرف مذہبی اور جذباتی مسائل تک محدود رہے گی تو معاشرے کے بڑے حصے کے بنیادی مسائل پسِ پشت چلے جائیں گے۔ آج ضرورت ایسی اجتماعی قیادت کی ہے جو مسجد اور مدرسے کے ساتھ اسکول، کالج، یونیورسٹی، عدالت، میڈیا، کاروبار اور پارلیمنٹ—ہر جگہ مؤثر نمائندگی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
خاص طور پر نئی نسل کو محض احتجاج کا حصہ بنانے کے بجائے اسے قانون، صحافت، تحقیق، تعلیم، ٹیکنالوجی، کاروبار اور انتظامی شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ کسی بھی معاشرے کی طویل مدتی قوت صرف اس بات سے طے نہیں کی جاتی کہ وہ کتنی بڑی تعداد میں احتجاج کر سکتا ہے، بلکہ اس سے بھی کہ اس کے کتنے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کتنے ماہرینِ قانون پیدا ہو رہے ہیں، کتنے محقق اور صحافی حقائق کے ساتھ قومی مباحث میں حصہ لے رہے ہیں اور کتنے افراد مختلف اداروں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
اسی کے ساتھ مسلم معاشرے کے اندرونی مسائل سے بھی آنکھ نہیں چرائی جا سکتی۔ تعلیمی پسماندگی، خواتین کی تعلیم، بچوں کا اسکول چھوڑ دینا، بے روزگاری، چھوٹے کاروبار کی کمزور بنیاد، صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی اور غربت جیسے مسائل کو صرف بیرونی حالات کا نتیجہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو معاشرہ اپنی داخلی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ بھی زیادہ منظم انداز میں کر سکتا ہے۔
یہ وقت مایوسی یا بے سمتی کا نہیں بلکہ اپنی ترجیحات طے کرنے کا ہے۔ ہر معاملے پر ایک ہی انداز میں ردعمل دینے کے بجائے یہ طے کرنا ہوگا کہ کون سا مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے، کون سا قانونی جدوجہد چاہتا ہے، کون سا سیاسی مکالمے سے حل ہو سکتا ہے، کون سا عوامی بیداری کا تقاضا کرتا ہے اور کون سا مسئلہ طویل مدتی سماجی اصلاح کا۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم بات بھی ضروری ہے کہ ہر واقعے کو مذہبی عینک سے دیکھنے کے بجائے جہاں جرم ہو، وہاں اسے جرم کے طور پر؛ جہاں انتظامی ناکامی ہو، وہاں انتظامی ناکامی کے طور پر؛ اور جہاں آئینی حق کا سوال ہو، وہاں آئینی حق کے طور پر اٹھایا جائے۔ اس سے مطالبات کی اخلاقی اور قانونی قوت میں اضافہ ہوگا اور قومی سطح پر مکالمے کے امکانات بھی وسیع ہوں گے۔
ورنہ صورتِ حال یہی رہے گی کہ ایک طرف سے چوٹ آئے گی تو دوسری طرف سے بچنے کی فکر لاحق ہوگی اور اسی کشمکش میں اجتماعی قوت منتشر ہوتی چلی جائے گی۔
آج اصل ضرورت اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ہے کہ چوٹیں کتنی بھی ہوں، مگر دفاع کا رخ کیا ہو، ترجیحات کیا ہوں اور منزل کیا ہو؟ اگر یہ طے نہ کیا گیا تو مسائل کا یہ سلسلہ صرف احتجاجی تھکن ہی پیدا نہیں کرے گا بلکہ اجتماعی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جذبات کے ساتھ حکمت، احتجاج کے ساتھ منصوبہ بندی، ردعمل کے ساتھ مستقبل کی تیاری اور حقوق کے مطالبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہو۔
ورنہ سوال بدستور یہی رہے گا:
کھائیں کدھر کی چوٹ، بچائیں کدھر کی چوٹ؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے