कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قدیم دنیا کے سرجن ۔ جب جراحی کا علم صرف چند لوگوں تک محدود تھا

تحریر: ڈاکٹر مرزا اطیب بیگ
BAMS , CCH , CSD , PGCEMS
پوسد ضلع ایوت محل

آج اگر کسی مریض کو اپینڈکس کا آپریشن کروانا ہو، پتھری نکالنی ہو یا ہڈی کی پیچیدہ سرجری کرانی ہو تو ہمارے ذہن میں فوراً آپریشن تھیٹر، سرجن، اینستھیزیا، جراثیم سے پاک آلات اور جدید مشینوں کا تصور آتا ہے۔ لیکن ذرا تصور کیجیے کہ ایک ایسا زمانہ بھی تھا جب نہ جدید اینستھیزیا موجود تھا، نہ اینٹی بایوٹک، نہ ایکسرے اور نہ ہی جراثیم کے بارے میں موجودہ سائنسی علم۔
پھر بھی انسان نے سرجری کی کوشش کی۔
قدیم زمانے میں جسم پر جراحی کرنا ایک انتہائی خطرناک کام تھا۔ معمولی سا زخم بھی انفیکشن کا سبب بن سکتا تھا اور خون زیادہ بہہ جائے تو جان بچانا مشکل ہو جاتا تھا۔ اسی لیے جراحی کا علم ہر شخص کے لیے نہیں تھا۔ یہ کام ایسے لوگوں تک محدود تھا جو جسم، زخم اور مختلف آلات کے استعمال کا تجربہ رکھتے تھے۔
قدیم ہندوستان میں سشروت کا نام جراحی کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سشروت سمہتا میں زخموں، ہڈیوں، مختلف جراحی طریقوں اور جراحی آلات سے متعلق تفصیلات ملتی ہیں۔ ناک کی تعمیرِ نو جیسی جراحی کے طریقوں کا بھی اس روایت میں ذکر ملتا ہے۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اس زمانے کے طبیب جسم کو صرف بیماریوں کا مجموعہ نہیں سمجھتے تھے۔ وہ جسمانی ساخت، زخم کی نوعیت اور مریض کی مجموعی حالت کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔
دوسری طرف قدیم یونانی اور بعد میں اسلامی دنیا کی طبی روایت میں بھی جراحی کے علم نے ترقی کی۔ مسلم دنیا میں طب کی کتابوں کا ترجمہ، تدوین اور تدریس ہوئی اور مختلف طبی علوم ایک دوسرے سے متاثر ہوئے۔
دسویں صدی کے مشہور طبیب ابوالقاسم الزہراوی نے جراحی کے میدان میں نمایاں کام کیا۔ ان کی کتاب التصریف میں جراحی کے آلات اور مختلف جراحی طریقوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ ان کے بیان کردہ بہت سے آلات نے بعد کی جراحی کی روایت پر اثر ڈالا۔
لیکن قدیم سرجنوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ صرف آپریشن کرنا نہیں تھا۔
اصل مسئلہ انفیکشن تھا۔
اس زمانے میں جراثیم کی وہ سائنسی سمجھ موجود نہیں تھی جو آج ہمارے پاس ہے۔ آپریشن کے بعد زخم میں انفیکشن ہو جانا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ اسی طرح خون بہنے کو روکنا، درد پر قابو پانا اور مریض کو آپریشن کے دوران بے حرکت رکھنا بھی بڑے چیلنج تھے۔
آج ایک سرجن کے پاس اینستھیزیا، اینٹی بایوٹکس، خون کی منتقلی، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین، جدید مانیٹرنگ اور جراثیم سے پاک آلات موجود ہیں۔ یہ سہولتیں محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ہزاروں سال کے طبی تجربے، تحقیق اور غلطیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا نتیجہ ہیں۔
اس لیے قدیم سرجنوں کو جدید سرجنوں کی کوششوں کو نظر انداز کرنا تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
انہوں نے محدود وسائل میں انسانی جسم کو سمجھنے کی کوشش کی، تجربات کیے، آلات بنائے اور اپنے مشاہدات کو کتابوں میں محفوظ کیا۔ بعد کی نسلوں نے انہی معلومات میں اضافہ کیا، غلطیوں کو درست کیا اور نئے سائنسی اصول دریافت کیے۔
یہی طب کی اصل خوبصورتی ہے۔
آج کا ڈاکٹر کل کے علم پر کھڑا ہے۔
قدیم زمانے کے طبیبوں کے پاس جدید مشینیں نہیں تھیں، لیکن ان کے پاس مشاہدہ تھا۔ بعد میں مشاہدے کے ساتھ تجربہ آیا، تجربے کے ساتھ تحقیق اور تحقیق کے ساتھ جدید سائنس۔
آج جب ہم ایک معمولی سرجری کو بھی نسبتاً محفوظ سمجھتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس آسانی کے پیچھے طبی تاریخ کی ایک طویل داستان موجود ہے۔
جراحی کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طب کسی ایک شخص یا ایک دور کی ایجاد نہیں؛ یہ نسل در نسل جمع ہونے والے علم، مشاہدے اور تحقیق کا سفر ہے۔
اور یہ سفر آج بھی جاری ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے