कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عصرِ حاضر کا خطرناک فتنہ فحاشی اور شہوت پرستی

تحریر:محمد عادل ارریاوی

اللہ ربّ العزت کا شکر و احسان ہے کہ جس نے ہمیں دین فطرت پر پیدا فرما کر تمام عالم پر فضیلت اور برتری بخشی ہے۔
ہمارے مذہب اسلام میں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی بڑی تاکید آئی ہے جب تک یہ کام ہوتا رہے گا امت اصلاح پر رہے گی اس کام کو چھوڑ دینا بگاڑ اور فساد کا باعث بنے گا۔
آج ہر طرح کی برائیوں کا بڑھتا ہوا سیلاب ہے اس دور کو دور جاہلیت کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کیونکہ کوئی ایسی برائی معاشرہ میں نہیں ہے جو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے پائی جاتی تھی وہی قتل و غارت گری بے حیائی بے پردگی عریانی فحاشی شراب نوشی کا امنڈتا ہوا سیلاب ہے۔ آج نہ ماں کی عزت ہے نہ بہن کی نہ بیوی کی پھر سے دور جاہلیت فروغ پا رہا ہے۔ جنسی ضرورت کے لیے شادی کے بجائے جانوروں کی طرح اپنی ہوس مٹانا مردوں کی ذہنیت کو نا جائز پیار و محبت سے معمور کیا جا رہا ہے۔ ایسا ماحول بن چکا ہے کہ ایک مرد و عورت کا شہوت کو کنٹرول کرنا محال ہوتا جارہا ہے حرام تعلقات میں رہنے والی خواتین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب یہ بڑے شہروں کا معاملہ نہیں رہا چھوٹے موٹے گاؤں میں بھی ایسے واقعات پیش آرہے ہیں روزانہ کتنی عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہو رہی ہے کتنی ہی عورتیں اغوا ہوتی ہیں ہزاروں نا جائز اولا جنم لیتے ہیں نابالغ لڑکیاں زنا سے حاملہ ہورہی ہیں بغیر نکاح کے ایک مرد اور خاتون جنسی تعلق بنائیں اور کہیں پر بھی رہیں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ مغربی تہذیب و ثقافت کو اہمیت دی جارہی ہے۔ قوم کے نوجوانوں کی حالت خراب ہورہے ہیں۔ نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد لغویات اور فضولیات میں وقت گزار رہی ہے ۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں قرآن کے بجائے کرکٹ موبائل پبجی اور فری فائر تھما دیا گیا وہ اپنا قیمتی وقت اور قیمتی جوانی لہو ولعب فحاشی اور بے حیائی میں گزار رہے ہیں سگریٹ نوشی شراب نوشی افیم گانجه چرس گٹکھا ایک فیشن بن گیا ہے ۔ زبان پر ماں بہن کے جنسی اعضاء پر مشتمل ہے۔ گالیاں عاشقی کرنا لڑکیوں کو چھیڑنا جنسی زیادتی کرنا موبائل اور لیپ ٹاپ میں فحش اور بے حیائی کے مناظر دیکھ دیکھ کر خواتین زنا بالجبر اور وہ بھی اپنے ہی دوستوں یا رشتہ داروں کی ہوس کا شکار ہورہے ہیں۔
امتوں کے زوال کا بنیادی سبب اخلاقی بے راہ روی اور جنسی آوارگی ہوتا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئے یونانیوں کا زوال رومیوں کا سقوط اور موجودہ تہذیب کا کھوکھلا پن ان سب کے پس پردہ جنسی بے راہ روی کا طوفان بلا خیز کارفرما ہے اہل یونان پر شہوت پرستی کا غلبہ اس قدر شدید تھا کہ ان کے یہاں زنا اور فحاشی کو قابل فخر سمجھا جاتا تھا اور وہ قوم لوط کے عمل کی بناء پر قہر الہی کا شکار ہو گئے اہل روم کا حال بھی یونانیوں سے کچھ کم نہ تھا جہاں مرد و عورت کی تمیز ہی ختم کر دی گئی اسی طرح ظہور اسلام سے پہلے بھی سماج جنسی بے راہ روی اور بے حیائی کے دلدل میں پھنسا ہوا تھا اس دور کا عظیم فتنہ عریانیت بے حیائی فحاشی ہے جس نے انسان کو شہوت اور ہوس کا دیوانہ بنادیا ہے۔ کچھ خواتین لیبرل اور اوپن مائنڈ کا سہارا لے کر خود کو غیر مردوں کے لیے نمائش کا ذریعہ بن گئی ہیں نکاح کے بغیر آزاد شہوت رانی کو فروغ دیا جا رہا ہے یوروپی ممالک میں آزاد شہوت رانی کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں وہاں نہ کوئی بیٹی ہے نہ بہن نہ ماں نہ بیوی لڑکی کو بغیر نکاح کے ساتھ رہنے اور بچہ پیدا کرنے کی تو اجازت ہے اس کو کسی بھی قسم کی سزا کا حقدار نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کے اس عمل کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ نوعمری کے دوران محبت میں گرفتار ہو کر جسمانی تعلق استوار کرنے والی لڑکی کو مانع حمل کی دوائیں مفت دی جاتی ہیں یا پھر ان تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ان ناجائز بچوں سے نجات کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ یہ خوفناک رجحان دنیا بھر میں بڑھتا جا رہا ہے۔ یوروپی معاشرہ کی طرح دیگر مقامات پر بھی جنسی بے راہ روی اور شہوت پرستی کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ لاکھوں لڑکیاں محبت کے نام پر مردوں کی ہوس کا شکار ہوگئیں۔ ان کی پورن ویڈیو بنائی گئیں ۔ بعد میں ان پورن ویڈیو کے ذریعہ بلیک میل کیا گیا۔ بار بار ہوس پوری کی پیسے لیے اور دوستوں کی بھی ہوس پوری کروائی ۔ ان حالات کے پیش نظر کتنی ہی لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ۔ افسوس کے ہر دن ایسے کیس ہونے کے باوجود بھی لڑکیوں کو ہوش نہیں آتا جو مسلسل اپنی عزت نیلام کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔
بچے اور بچیاں قرآن و حدیث کی تعلیم چھوڑ کر صرف اسکولوں کالجوں اور کو چنگ سنٹرس کا رخ کر رہے ہیں۔ نوجوان جوڑے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر یا کمر اور کاندھے پر ہاتھ رکھ کر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزار کر جوس پی کر ہوٹلوں میں کھانا کھا کر ایک دوسرے کو سب کچھ سونپ دیتے ہیں اور غلط حرکتیں کرتے ہوئے پکڑے جارہے ہیں۔ بے حیائی کو پرموٹ کیا جا رہا ہے۔
ہم پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فحاشی اور عریانی کے خلاف نوجوانوں میں شعور پیدا کریں۔ اگر ہم پورے معاشرے کو درست نہیں کر سکتے تو کم از کم ہمیں اپنے بچوں کی نگرانی کرنی ہوگی عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنسی بے راہ روی مرد و زن کی مساوات اور آزادی نسواں کی دین ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں حیا عفت اور پاکدامنی نصیب فرما ہماری نگاہوں کی حفاظت فرما اور ہمیں ہر قسم کی بے حیائی و فحاشی سے محفوظ فرما آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے