कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’برکس سمٹ 2026‘مبہم اتفاق رائے اور ادھورے وعدے

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

برکس دراصل ان ابھرتے ہوئے معیشتوں کا ایک گروپ ہے جو بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں مغربی غالب عالمی نظام کے متبادل کی تلاش میں پیدا ہوا۔ ابتدا میں 2006 میں برازیل، روس، ہندوستان اور چین کے اقتصادی تجزیہ کاروں نے اسے ایک تصور کے طور پر پیش کیا، پھر 2009 میں سربراہی اجلاس کی شکل اختیار کر گئی اور 2010 میں جنوبی افریقہ کے شمولیت کے بعد برکس کا نام پختہ ہو گیا۔ بعد کے سالوں میں اس میں مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور کچھ دیگر ممالک شامل ہو گئے، جس سے یہ11 ارکان کا وسیع گروپ بن گیا جو دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 40فیصد حصہ رکھتا ہے۔ اس گروپ کا بنیادی مقصد مغربی اداروں جیسے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل میں گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مضبوط کرنا، عالمی اقتصادی نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا، مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینا، اور ایک کثیر قطبی دنیا کی طرف بڑھنا رہا ہے۔ برکس نے خود کو کسی کے خلاف اتحاد کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا ہے، خاص طور پرہندوستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ یہ گروپ ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا محافظ ہے، نہ کہ امریکہ یا مغرب کے خلاف کوئی محاذ۔
برکس کی توسیع نے اس کے کردار اور صلاحیتوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک طرف توسیع نے گروپ کو عالمی سطح پر زیادہ نمائندہ بنا دیا اور گلوبل ساؤتھ کی آواز کو وسیع تر کر دیا۔ اب یہ نہ صرف ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بڑے معیشتوں کا نمائندہ ہے بلکہ تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک اور افریقی براعظم کے اہم کھلاڑی بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس سے برکس کو عالمی تجارتی اور مالیاتی مذاکرات میں زیادہ وزن حاصل ہوا۔ تاہم توسیع کے منفی اثرات زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ 11 ارکان کے بعد گروپ کے اندر مفادات کی تفریق بہت بڑھ گئی ہے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات ایک ہی تنظیم کے رکن ہیں مگر مغربی ایشیا کی جنگ میں ایک دوسرے کے مخالف فریق ہیں۔ چین اور ہندوستان کے درمیان سرحدی تناؤ اور اقتصادی عدم توازن برقرار ہے۔ روس کی یوکرین جنگ نے گروپ کے اندر خاموشی اور مبہم موقف کو مجبور کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اتفاق رائے حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا۔ مئی 2026 میں وزرائے خارجہ کی میٹنگ اسی وجہ سے ناکام رہی تھی۔ توسیع نے برکس کو ایک وسیع فورم تو بنا دیا مگر اسے ایک موثر اور فیصلہ کن ادارہ بننے سے روک دیا۔ اب یہ زیادہ تر علامتی بیانات جاری کرنے تک محدود رہ گیا ہے جہاں ہر رکن اپنے قومی مفادات کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہے۔
نیو ڈویلپمنٹ بینک کا کردار برکس کے اقتصادی ایجنڈے کا سب سے اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ 2014 میں قائم ہونے والا یہ بینک شنگھائی میں واقع ہے اور اس کا مقصد برکس ممالک اور دیگر ترقی پذیر معیشتوں میں انفراسٹرکچر اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کو مالی اعانت فراہم کرنا ہے۔ اسے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ مغربی اداروں کی شرائط سے آزاد قرضے دستیاب ہوں۔ بینک نے کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور مقامی کرنسیوں میں قرض دینے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ تاہم عملی سطح پر اس کا کردار اب بھی محدود ہے۔ اس کی سرمایہ کاری کی گنجائش عالمی ضروریات کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے۔ روس پر مغربی پابندیوں کے بعد بینک کو روس کو قرضے معطل کرنے پڑے، جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ادارہ ابھی بھی مغربی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر آزاد نہیں۔ چین کی بڑی شراکت داری کے باعث بینک پر بیجنگ کے اثر و رسوخ کے الزامات بھی لگتے رہتے ہیں۔ نئی دہلی سمٹ میں بھی بینک کو مضبوط بنانے اور اس کی گنجائش بڑھانے کی باتیں کی گئیں، مگر کوئی بڑا عملی قدم سامنے نہیں آیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ نیو ڈویلپمنٹ بینک اب بھی ایک امید افزا تصور ہے، نہ کہ مغربی مالیاتی نظام کا حقیقی متبادل۔
موجودہ 18ویں برکس سمٹ، جو ستمبر 2026 میں نئی دہلی میں ہندوستان کی صدارت میں منعقد ہوئی، اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ اس سمٹ کا تھیم ’’لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کی تعمیر‘‘تھا، جسے انگریزی میں Building for Resilience, Innovation, Cooperation and Sustainability کہا گیا۔ اعلان کردہ مقاصد میں عالمی اداروں کی اصلاح، یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور ٹیرف کی مخالفت، مقامی کرنسیوں میں تجارت کو آگے بڑھانا، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر تعاون، اور گلوبل ساؤتھ کو’’قواعد بنانے والا‘‘بنانے کا دعویٰ شامل تھا۔ نئی دہلی ڈیکلریشن 140 پیراگراف پر مشتمل ایک طویل دستاویز تھی جس میں ان تمام موضوعات کا احاطہ کیا گیا، پہلگام دہشت گرد حملے کی مذمت کی گئی، فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی، اور مغربی ایشیا میں تحمل کا مطالبہ کیا گیا۔
سمٹ کی روئیداد تین دنوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ 11ستمبر کو برکس بزنس فورم کا انعقاد ہوا جس میں کاروباری رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری اور سپلائی چینز پر بات چیت کی۔ 12 ستمبر کو سربراہوں کا باضابطہ اجلاس بھارت منڈپم میں شروع ہوا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹین، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقی صدر سائرل رامافوسا، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان اور دیگر رہنما نئی دہلی پہنچے۔ اسی دن نئی دہلی ڈیکلریشن متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، حالانکہ اس سے پہلے مئی میں وزرائے خارجہ کی میٹنگ مغربی ایشیا کے تنازعات پر ناکام ہو چکی تھی۔ سائیڈ لائنز پر ایران اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی ملاقات ہوئی جو خطے کی کشیدگی کے باوجود اہم سمجھی گئی۔ 13ستمبر کو دوسرا دن بھی اجلاس اور بائی لیٹرل ملاقاتوں سے بھرا رہا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 15 سے زیادہ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ شی جن پنگ اور مودی کی ملاقات7 سال بعد ہوئی، مگر چینی صدر نے سرکاری ڈنر میں شرکت نہیں کی اور قیام بہت مختصر رکھا۔ سمٹ کے اختتام پر ہندوستان نے اپنے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر جیسے یو پی آئی اور آدھار کو نمایاں کیا جبکہ چین نے اے آئی اور ٹیکنالوجی پر نئی تجاویز پیش کیں۔
حکومت نے اس سمٹ کو بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ برکس کو اب’’فائلوں سے حقیقی زندگی کے اثرات‘‘کی طرف بڑھنا چاہیے اور گلوبل ساؤتھ کو قواعد بنانے والا بنانا چاہیے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اسے تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ’’جب ہندوستان قیادت کرتا ہے تو دنیا سنتا ہے‘‘۔ حکومت کا موقف یہ ہے کہ ہندوستان نے گہرے اختلافات کے باوجود متفقہ ڈیکلریشن کامیاب کر لیا، پہلگام حملے کی مذمت حاصل کی، اور برکس کو کھلے طور پر اینٹی ویسٹ پلیٹ فارم بننے سے روکا۔ یہ موقف ہندوستانی میڈیا اور حکومتی حلقوں میں وسیع پیمانے پر دہرایا گیا۔
اس کے برعکس اپوزیشن نے سمٹ کے نتائج پر سخت تنقید کی۔ کانگریس نے سب سے زیادہ توجہ سبزی خور ڈنر مینو پر مرکوز رکھی اور الزام لگایا کہ حکومت اپنی غذائی ترجیحات کو عالمی رہنماؤں پر مسلط کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اسی فیصد ہندوستانی غیر سبزی خور ہیں اور مینو ملک کے متنوع کھانے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا اور راشد علوی نے اسے مہمانوں کی بے عزتی قرار دیا۔ سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ سمٹ سے کچھ خاص نہیں نکلا، اگر برکس ممالک روس یوکرین جنگ یا ایران کے تنازعے کو روکنے میں کامیاب ہوتے تو بات الگ ہوتی۔ کانگریس نے مزید یہ بھی کہا کہ ڈیکلریشن میں لداخ اور اروناچل پردیش جیسے مسائل کا ذکر نہیں، اور مودی ۔جن پنگ ملاقات کی تفصیلات شفاف نہیں کی گئیں۔ اپوزیشن کا مجموعی موقف یہ رہا کہ یہ کوئی حقیقی سفارتی فتح نہیں بلکہ محض علامتی کامیابی ہے۔
ماہرین کی رائے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے۔ آبزروور ریسرچ فاؤنڈیشن کے ہرش وی پنت نے کہا کہ اتفاق رائے حاصل کرنا خود ایک بڑی کامیابی تھی کیونکہ توسیع کے بعد گروپ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی تھی، مگر مبہم زبان اندرونی تقسیم کی عکاسی کرتی ہے۔ سی راجا موہن نے لکھا کہ ہندوستان کی کامیابی برکس کو’’بورنگ‘‘رکھنے میں ہے، یعنی اسے اینٹی ویسٹ نظریاتی محاذ بننے سے روکنا۔ کولمبیا یونیورسٹی کے جیفری سیکس نے سمٹ کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ برکس دنیا کے منظرنامے میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔ گوتام چکرمانے نے نوٹ کیا کہ ڈیکلریشن خود ایک کامیابی ہے کیونکہ اتفاق رائے مشکل حالات میں حاصل ہوا۔ تاہم زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دستاویز کوئی عملی روڈ میپ نہیں، نیو ڈویلپمنٹ بینک اب بھی کمزور ہے، اور توسیع نے گروپ کو زیادہ نمائندہ ضرور بنایا مگر فیصلہ سازی کو مشکل تر کر دیا۔
تاہم یہ مقاصد جتنے بلند نظر آتے ہیں، عملی سطح پر اتنے ہی کمزور ثابت ہوئے۔ ڈیکلریشن میں مغربی ایشیا کی کشیدگی پر صرف مبہم زبان استعمال کی گئی۔ نہ امریکہ اسرائیل کے حملوں کا نام لیا گیا، نہ ایران کے جوابی اقدامات کا، اور یوکرین جنگ کا ذکر بالکل غائب رہا۔ یہ’’اتفاق رائے‘‘ دراصل اختلافات کو چھپانے کی کوشش تھی۔ توسیع کے بعد گروپ اتنا متنوع ہو گیا ہے کہ حقیقی مشترکہ پالیسی بنانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ چین کی تجاویز اے آئی اور ٹیکنالوجی پر مرکوز تھیں جبکہ ہندوستان نے اسے اینٹی ویسٹ پلیٹ فارم بننے سے بچانے کی کوشش کی۔ نیو ڈویلپمنٹ بینک کو مضبوط بنانے کی باتیں تو ہوئیں مگر اس کی اصل کمزوریاں یعنی محدود سرمایہ اور مغربی نظام پر انحصار دور نہیں ہو سکیں۔ نتیجہ ایک ایسا بیان بن کر رہ گیا جو سب کو مطمئن کرتا نظر آتا ہے مگر کسی کو پابند نہیں کرتا۔
اس سمٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ برکس کے مقاصد اب بھی الفاظ کی حد تک محدود ہیں۔ مقامی کرنسیوں اور متبادل ادائیگی کے نظام کی باتیں کئی سالوں سے چل رہی ہیں مگر ڈالر کی بالادستی برقرار ہے۔ نیو ڈویلپمنٹ بینک اب بھی چھوٹا اور مغربی مالیاتی نظام پر انحصار کرنے والا ادارہ ہے۔ عالمی اداروں کی اصلاح کا مطالبہ پرانا ہے مگر اس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں۔ سمٹ نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کو ایک میز پر بٹھا کر سفارتی تصویر ضرور بنائی، مگر جنگ جاری رہی۔ شی جن پنگ کی مختصر آمد اور سرکاری ڈنر سے اجتناب نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ہند۔چین تعلقات ابھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے۔ توسیع نے گروپ کو بڑا تو بنا دیا مگر اسے کمزور بھی کر دیا، کیونکہ اب اتفاق رائے حاصل کرنا اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ بڑے فیصلے صرف مبہم بیانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔
آخر میں دیکھا جائے تو موجودہ سمٹ نے برکس کو ایک بار پھر یہ یاد دلایا کہ گروپ کی اصل کمزوری اس کے اندرونی تضادات اور ادارہ جاتی کمزوری ہے۔ حکومت اسے سفارتی فتح قرار دیتی ہے، اپوزیشن اسے علامتی اور ناکافی سمجھتی ہے، اور ماہرین اتفاق رائے کو محدود کامیابی ماننے کے باوجود عملی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ گلوبل ساؤتھ کی آواز بننے کا دعویٰ کرتا ہے مگر بڑے عالمی تنازعات پر مشترکہ موقف اختیار کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس کے مقاصد جتنے پرخطر اور پرکشش ہیں، ان کا عملی نفاذ اتنا ہی سست اور کمزور ہے۔ برکس اب بھی ایک اہم ڈپلومیٹک فورم ہے، مگر ایک متبادل عالمی نظام کی بنیاد بننے سے ابھی بہت دور ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے