कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زندگی کے سڑکوں پر بکھرے مختلف رنگ:شہر کی نبض، آٹو رکشا

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

رکشہ شہر کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں دوڑنے والا رکشہ محض ایک سواری نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز، مجبوریوں، امیدوں اور حتٰی کہ مجرمانہ اور اعلٰی ترین کارناموں کا مجموعہ ہے رکشے والے سب ایک جیسے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے اندر زندگی کی اتنی رنگ برنگی کہانیاں چھپی ہیں کہ ہر ایک الگ ناول کا موضوع بن سکتا ہے۔ رکشہ چلانے والے کوئی ایک طبقے کے لوگ نہیں ہیں، بلکہ اس پیشے کے پیچھے طرح طرح کی زندگی کی کہانیاں کارفرما ہیں۔ کہیں کوئی ضعیف العمر بزرگ نظر آتا ہے جس کے ہاتھ کانپ رہے ہوتے ہیں، کمر جھکی ہوتی ہے،
لیکن
زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا !!!
اور انھیں دیکھ کر دل پسیج جاتا ہے۔ کہیں کوئی لاپروا نوجوان ملتا ہے جسے پڑھنے لکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی تو والد رکشہ دلا دیا، اور بس! اب رکشہ ہی اس کا کل اثاثہ اور زندگی کا کیریئر بن جاتا ہے۔ سب سے حیرت انگیز طبقہ وہ ہے جو زندگی کے ایک طویل عرصے تک سرکاری نوکری، ملٹری، ڈاک خانے یا اسکولوں میں اونچے عہدوں پر فائز رہا، ایم ایس سی پاس یا ہیڈ کلرک رہا، اور جب ریٹائرمنٹ کے بعد رکشہ تھام لیا۔ یہ لوگ کبھی کبھی مسافروں کو فلسفہ اور زندگی کے آداب بھی سکھاتے ہیں۔
رکشے والوں کے مزاج میں عجیب تضادات پائے جاتے ہیں۔ کچھ رکشے والے اتنے باتونی ہوتے ہیں کہ گھر کی باتیں، باہر کے قصے، سیاست اور محلے کے راز بیان کرتے کرتے منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ مسافر، خاص طور پر خواتین بھی ان کی باتوں میں ایسے مشغول ہوتے ہیں کہ منزل آ چکی ہے لیکن باتیں جاری ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو ذرا سی فرمائش پر سبزی خریدنے کے لیے رکشہ روک دیتے ہیں، اور اگر کوئی اکیلی خاتون یا ماں بچے کے ساتھ ہو تو وہ خود جا کر سامان لا کر دیتے ہیں، اور عین وقت پر فرشتہ صفت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پانچ یا دس روپے کے معمولی فرق کے لیے بیچ راستے میں مسافر کو اتار کر چلتے بنتے ہیں، جس پر شدید غصہ آتا ہے۔ ٹریفک پولیس سے بچ کر گلیوں میں نکل جانے اور انہیں چکمہ دینے میں رکشے والے طاق ہوتے ہیں۔ ٹریفک کے اصولوں سے ان کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا، بس جہاں جگہ ملی، گاڑی گھما دی۔ وہ اتنے محنت کش ہوتے ہیں کہ آٹو میں ایک اضافی سواری بٹھانے کے لیے خود سیٹ پر اتنے ٹیڑھے ہو کر بیٹھتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، اور ان کی یونیفارم کبھی پہنی تو کبھی بالکل بے پروا ہ رہے۔
رکشے والوں کے اس وسیع سمندر میں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ موجود ہیں۔ جہاں لاکھوں محنتی اور ایماندار لوگ موجود ہیں، وہیں کچھ سیاہ دل عناصر بھی اس پیشے میں گھس آئے ہیں، جیسے دہلی میں ایک درندہ صفت رکشے والے نے نو سالہ بچی کو ہوٹل میں چھوڑ کر اس کے ساتھ جو ہولناک درندگی کی، وہ اس پیشے کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے جو انسانیت کو شرمسار کر دیتا ہے۔ لیکن اسی رکشے والے طبقے سے وہ روشن ہیرے بھی نکلتے ہیں جو ناممکن کو ممکن بناتے ہیں۔ ایک معمولی رکشے والے کی بیٹی دن رات محنت کر کے آئی اے ایس بنتی ہے، تو کہیں رکشے والے کی بیٹی ایم بی بی ایس ڈاکٹر بن جاتی ہے، اور کوئی غریب رکشے والا کا بیٹا پولیس افسر بن گیا !!
ان رکشے والوں کے حوصلے اور ہکت کو داد دینی ہوگی اتنا طرف اور محنت کہ بچوں کو کہاں سے کہاں پہنچادیا! کہاں سے آتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو آسمان کی بلندیوں کو چھو نے کو خواب دکھائے۔یہ زندگی کےحقائق اور اُمید کی کرنوں کا ایک انوکھا تجربہ ہے۔
شہر کی سڑکوں پر اگر کسی سواری کو سب سے زیادہ محنت کرتے، شور مچاتے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے تو وہ آٹو رکشا ہے۔ یہ ایک ایسی سواری ہے جو بظاہر تین پہیوں پر چلتی ہے، مگر اس کے ساتھ سفر کرنے والے مسافر کے صبر، حوصلے اور جیب—تینوں کا امتحان لے لیتی ہے۔ آٹو رکشا ہماری روزمرہ زندگی کا ایسا لازم و ملزوم حصہ بن چکا ہے کہ اس کے بغیر شہر کی سڑکیں کچھ ادھوری سی محسوس ہوتی ہیں۔ وقت کے دھارے کے ساتھ اب آٹو رکشا کی دنیا میں بھی نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں، جہاں سڑکوں پر دو طرح کے آٹو نظر آتے ہیں۔ایک روایتی پیٹرول اور سی این جی سے چلنے والے، اور دوسرے بیٹری یا چارجنگ والے آٹو۔ جب پیٹرول کے دام آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو لوگ بھی سوچتے ہیں کہ کیوں نہ چارجنگ والا آٹو آزمایا جائے۔ چارجنگ والا آٹو بظاہر بڑا کفایت شعار معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں۔ تقریباً سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد اسے دوبارہ چارجنگ کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اب بیچارہ آٹو کیا کرے، وہ بھی موبائل فون تو نہیں کہ پانچ منٹ چارجر لگایا اور پھر دوڑ پڑا۔
ان آٹو والوں کی زندگی بھی عجیب مشقتوں سے عبارت ہوتی ہے۔ یہ بڑے محنت کش لوگ ہوتے ہیں جو صبح سویرے اپنا آٹو لے کر گھر سے نکلتے ہیں، سارا دن دھوپ، گرمی، سردی، گرد و غبار اور ٹریفک کا مقابلہ کرتے ہوئے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتے ہیں۔ پھر اگر آٹو چارجنگ والا ہو تو دوپہر کے وقت اسے چارج پر لگا کر خود بھی کچھ دیر آرام کرتے ہیں، ناشتہ یا دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں، اور رکشا چارج کرکے دوبارہ روزگار کی تلاش میں سڑکوں پر نکل پڑتے ہیں۔ واقعی ان کی زندگی ایک ایسا متحرک پہیہ ہے جو صبح سے شام تک گھومتا ہی رہتا ہے۔
صرف مسافروں کی ڈھلائی تک ہی ان کا دائرہِ کار محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ محنت کش آٹو والے صبح و شام معصوم اسکول کے بچوں کو ان کے گھروں سے بحفاظت لانے اور لے جانے کی اہم ذمہ داری بھی خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، روزمرہ کی زندگی میں مختلف اشیاء، ضروری سامان اور بھاری ھرکم سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا فریضہ بھی یہی رکشے والے انجام دیتے ہیں۔
مگر آٹو رکشہ والوں کا سب سے دلچسپ اور انوکھا روپ ہمیں بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن اور بازاروں کے ہجوم میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ خاص طور پر صبح سویرے یا رات کے اندھیروں کے ساۓ جب کوئی مسافر کسی اسٹیشن سے باہر نکلتا ہے، تو آٹو والے اس محبت اور تپاک سے پیار سے پیش آتےہیں جیسے وہ برسوں کے بچھڑے ہوئے رشتہ دار ہوں۔ ان کی زبان کی چاشنی اور لب و لہجہ ایسا ہوتا ہے کہ — "آئیے جناب! ہمارے آٹو میں بیٹھیے!”، "آئیے محترم! کہاں جانا ہے؟”، "باجی! ادھر آئیے، آپ کو چھوڑ دیتا ہوں!”، "آپا! ہمارے ساتھ چلیے، آرام سے پہنچا دیں گے!”ان کے انداز میں اتنی اپنائیت اور عزت ہوتی ہے کہ انسان ایک لمحے کے لیے سوچتا ہے کہ شاید یہ سفر مفت میں ہی کروا دیں گے۔ مگر جیسے ہی منزل کا نام لیا جائے، محبت کا وہ خوش نما خول اترتا ہے اور نرخ نامہ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کی قیمتیں آسمانوں کو چھو لیتی ہیں۔ مگر صبح کا وقت ہو، سردی کی شدت ہو، یا رات کا اندھیرا ہو، سنسان سڑک ہو یا مناسب روشنی کا فقدان ہو، تو مسافر زیادہ بحث بھی نہیں کر پاتا۔ تھوڑا سا خوف، موقع کی نزاکت، مجبوری اور وقت کی کمی۔۔۔
اسی تکرار اور مول تول کے جھنجھٹ سے بچنے کے لیے آج کے دور میں بہت سے لوگ آن لائن سواری کا سہارا لیتے ہیں۔ جنہیں "باجی، دیدی، آپا، بھیا اتنے میں کہاں جاؤں؟” جیسی بحث ناپسند ہو، وہ موبائل اٹھاتے ہیں، رائیڈر ایپ کھولتے ہیں اور سواری بُک کر لیتے ہیں۔ اوبر اور اولا جیسی ڈیجیٹل خدمات میں کرایہ پہلے سے طے ہو جاتا ہے، اس لیے سفر شروع ہونے سے پہلے ہی مسافر اور ڈرائیور کے درمیان صلح ہو جاتی ہے۔ نہ لمبی بحث، نہ "آپ ہی بتائیے” کا سوال، اور نہ ہی کرایے کا وہ دھماکہ جو مسافر کے ہوش اڑا دے۔
تاہم، حقیقت یہی ہے کہ آٹو رکشا صرف تین پہیوں والی کوئی بے جان سواری نہیں، بلکہ ہمارے شہروں کی ثقافت اور زندگی کا ایک جاندار کردار ہے۔ کبھی یہ ہمیں بروقت منزل تک پہنچاتا ہے، کبھی کرایے پر لایعنی بحث کرواتا ہے، کبھی اپنے تیز ہارن سے توجہ حاصل کرتا ہے اور کبھی اپنی مخصوص آوازوں سے صبح کا آغاز کرتا ہے۔ اس کے ڈرائیور بھی شہر کا خون اور روح ہیں جو صبح سے شام تک پسینہ بہاتے ہیں، موسم کی سختیاں جھیلتے ہیں اور اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے سڑکوں کی خاک چھانتے ہیں۔ مگر یہ سفر رکتا نہیں، پہیے گھومتے رہتے ہیں اور انسان اپنی آخری منزل کی طرف گامزن رہتا ہے۔۔۔
مختصر یہ کہ آٹو رکشا محض تین پہیوں والی ایک سواری کا نام نہیں، بلکہ یہ اس دوڑتی بھاگتی شہری زندگی کا ایک دھڑکتا ہوا دل اور محنتِ مسلسل کا استعارہ ہے۔ پٹرول کی گرانی سے لے کر بیٹری کی بے بسی تک، اور صبح کے اسٹینڈ پر گونجتی محبت بھری صداؤں سے لے کر ڈیجیٹل ایپس کی آسانیوں تک، یہ محنت کش زندگی کے ہر موڑ پر عزم و استقامت کی نئی داستان رقم کرتے ہیں۔ یہ صرف مسافروں کو ہی منزل تک نہیں پہنچاتے، بلکہ اسکول کے نونہالوں کی حفاظت اور روزمرہ کے سامان کی ترسیل کا بوجھ بھی اپنے کاندھوں پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پہیے کی ہر گردش ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، سچی محنت اور لگن سے سفر کبھی رکتا نہیں، بلکہ ہمیشہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے