कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عالمی یومِ اوزون:اوزون کی تہہ کا تحفظ، صحت مند مستقبل کی ضمانت

تحریر : عارف محمد خان، جلگاؤں

ہر سال 16 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ اوزون منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد اوزون کی تہہ کی اہمیت، اس کو لاحق خطرات اور اس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ اوزون ہماری زمین کے لیے قدرت کی عطا کردہ ایک اہم حفاظتی ڈھال ہے، جس کے بغیر کرۂ ارض پر زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اوزون ایک خاص قسم کی گیس ہے جو فضا کی بالائی سطح، خصوصاً اسٹریٹوسفیئر میں پائی جاتی ہے۔ اس کی تہہ سورج سے آنے والی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں، خصوصاً UV-B، کی ایک بڑی مقدار کو جذب کر لیتی ہے۔ یہی شعاعیں اگر بڑی مقدار میں زمین تک پہنچیں تو انسانوں میں جلد کے سرطان اور آنکھوں کے امراض کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں، جبکہ فصلوں، جنگلات، سمندری حیات اور دیگر ماحولیاتی نظام کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماضی میں بعض صنعتی اور گھریلو مصنوعات میں استعمال ہونے والے کلوروفلورو کاربن (CFCs) اور دیگر اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادّوں کے بے تحاشا استعمال نے اوزون کی تہہ کو شدید متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں قطبی علاقوں، بالخصوص انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی مقدار میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جسے عام طور پر ’’اوزون ہول‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقوامِ عالم نے 16 ستمبر 1987ء کو مونٹریال پروٹوکول پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادّوں کی پیداوار اور استعمال کو مرحلہ وار کم کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ عالمی سطح پر اس معاہدے پر عمل درآمد کو ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا جاتا ہے۔
اوزون کے تحفظ کے لیے عالمی کوششوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اوزون کی تہہ کی بحالی کا عمل جاری ہے، تاہم اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی سطح پر مسلسل تعاون، قوانین پر عمل درآمد اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کا فروغ ضروری ہے۔ کسی ایک ملک کی کوشش کافی نہیں، کیونکہ فضا اور ماحول کی آلودگی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔
عالمی یومِ اوزون کا ایک اہم پہلو عوامی شعور بیدار کرنا بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ماحول دوست مصنوعات استعمال کریں، توانائی کے ضیاع سے بچیں، فضائی آلودگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور ایسی مصنوعات کے استعمال سے گریز کریں جن میں ماحول کے لیے نقصان دہ مادّے شامل ہوں۔ حکومتوں اور صنعتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کریں اور ایسی ٹیکنالوجی کو فروغ دیں جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے محفوظ ہو۔
آج ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی حدت جیسے مسائل نے بھی دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ قدرتی ماحول کا تحفظ محض ایک انتخاب نہیں بلکہ انسانی بقا کی ضرورت ہے۔ اوزون کی تہہ کا تحفظ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر عالمی برادری کسی مشترکہ مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی، تعاون اور مستقل مزاجی سے کام کرے تو مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے