कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پروفیسر فاطمہ پروین کا ادبی خواتین میں نمایاں مقام-اردو زبان کے لیے عالمگیرمثالی خدمات

پروفیسر حمیرہ سعید کی کتاب" بلبل دکن" کی رسم اجرا- پروفیسر مظفر علی شہہ میری' پروفیسر ایس۔اے شکور اور علامہ اعجاز فرخ ،پروفیسر نسیم الدین فریس پروفیسر آمنہ تحسین اور پروفیسر فضل اللہ مکرم کا خطاب

حیدرآباد 13 ستمبر( پریس نوٹ )حیدرآباد دکن کی تاریخ میں پروفیسر فاطمہ پروین کا نام نمایاں ہے اور نمایاں رہےگا سینکڑوں افراد کی شخصیت سازی میں انہوں نے جو نمایاں رول انجام دیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے وہ باحوصلہ اور ذہین استاد ہی نہیں بلکہ اپنے عہد کی قابل ترین شخصیت رہی ہیں فاطمہ پروین کی شخصیت حیدرآباد دکن کے انمول ہیرے جیسی تھی وہ بہترین استاد’ بہترین سپروائزر’ ملنسار’ خوش اخلاق’ با مروت خاتون تھیں ان کی شہرت میں فن خطابت کا پہلو نہایت نمایاں تھا ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ فن خطابت بچوں کا کھیل نہیں ہے فن خطابت میں محترمہ فاطمہ پروین کو اولین حیثیت حاصل رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز دانشوران علم و اردو ادب نے پروفیسر حمیرہ سعید کی حیات و خدمات پر مرتب کردہ کتاب "بلبل دکن پروفیسر فاطمہ پروین”( مضامین و مقالات) کی رسم اجرا کے موقع پر میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فاؤنڈری حیدرآباد میں کیا جس کا اہتمام میڈیا پلس فاؤنڈیشن اور انجمن ریختہ گویان حیدراباد کی جانب سے کیا گیا تھا تقریب کی صدارت پروفیسر مظفر علی شہہ میری سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول نے کی اور اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پروفیسر فاطمہ پروین کی یہ کتاب اوراق کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مخلص شاگردہ حمیرہ سعید کی کاوشوں اور محنت شاقہ کا نتیجہ ہے پروفیسر شہہ میری نے پروفیسر فاطمہ پروین سے اپنی دیرینہ ادبی رفاقت کا تذکرہ اور ادبی اسفار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دکنی زبان سے انہیں بے انتہا عشق تھا ادبی ذوق کے ساتھ ساتھ ایک خاص بات یہ محسوس کی گئی کہ وہ کبھی بھی خدا کی یاد سے غافل نہ تھیں مذہبی مقامات سے بھی انہیں کافی عقیدت رہی انہوں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں شاگرد چھوڑے ہیں جو ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں انہوں نے کتاب مرتب کرنے پر پروفیسر حمیرہ سعید کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر جاوید کمال اور ڈاکٹر فاضل حسین پرویز کو بھی مبارکباد پیش کی علامہ اعجاز فرخ کے ہاتھوں اس کتاب کی رسم اجرا عمل میں آئی بعد ازاں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ الفاظ کا استعمال اور ان کو ترتیب کے ساتھ برتنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں لفظوں کے بھی خاندان’ قبیلے’ فکری رشتہ سب کچھ ہوتا ہے ان سب سے پروفیسر فاطمہ پروین بہت اچھے انداز میں واقف تھیں خطابت کے فن میں انہیں خصوصی ملکہ حاصل تھا ان کے ظاہر و باطن میں یکسانیت تھی انہوں نے کہا کہ حمیرہ سعید استانی ہو گئی ہیں ان کو اس بہترین کتاب کے لکھنے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ تقریر اور تحریر میں بہت بڑا فرق ہے تقریر کرنا آسان ہے ‘تحریر کرنا بہت مشکل ہے حمیرہ نے کتاب تحریر کر کے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے انہوں نے پروفیسر فاطمہ پروین کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ان کی آواز کانوں میں گونجتی ہے میں ان کے تمام متعلقین کو ڈھیر ساری دعائیں دیتا ہوں پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیو رسٹی نے کہا کہ استاد کی پہچان اس کے شاگرد سے ہوتی ہے حمیرہ سعید نے اپنے استاد کی قدر و منزلت کو ان کی زندگی کے بعد بھی باقی رکھا اور بہترین کتاب ترتیب دیتے ہوئے عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی وبا نے ہم سے ہمارے بہت سے دوست احباب کو چھین لیا ان میں ایک پروفیسر فاطمہ پروین بھی ہیں وہ ایک ماہ علیل رہی اور پھر دنیا سے چلی گئیں ان کے انتقال سے اردو دنیا سوگوار ہو گئی اور اب یہ دنیا ایسی مخلص اور بے غرض شخصیتوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے پروفیسر فاطمہ بیگم ایک بہترین مقرر تھیں۔ پروفیسر آمنہ تحسین نے کہا کہ بلبل دکن پروفیسر فاطمہ پروین کی شخصیت’ اوصاف’ استادانہ مہارت سے وہ بے حد متاثر ہوئی ہیں اور ان سے جب میرا تعلق قائم ہوا تو ایک ماں جیسا تعلق قائم ہو گیا وہ نہیں رہی لیکن ان کی خوشگوار یادیں ہمارے ساتھ اب بھی باقی و برقرار ہیں انہوں نے حمیرہ سعید کو ان کی تصنیف پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پروفیسر فاطمہ پروین با حوصلہ و ذہین ہی نہیں بلکہ ایک ممتاز و معروف اور دلنواز شخصیت کی مالکہ رہی ہیں ۔
تقریب کی کاروائی ڈاکٹر جاوید کمال نےچلائی ڈاکٹر فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ نے اپنے تبصرہ میں پروفیسر فاطمہ پروین کو پراثر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ایسی ادبی اور مخلص شخصیات کا دنیا سے گزر جانا اردو والوں کے لیے عظیم سانحہ سے کم نہیں ڈاکٹر گل رعنانے بھی کتاب پر سیر حاصل تبصرہ پیش کیااور ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی ڈاکٹر محمد انور الدین نے بھی پروفیسر فاطمہ پروین کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ ابتدا میں پروفیسر فاطمہ پروین پر ایک ڈاکیومنٹری بھی انجینیئر سید خالد شہباز نےپیش کی پروفیسر فاطمہ پروین کی دختر ثمیرہ نوشین نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میں اپنی والدہ محترمہ مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کے والدہ میں صبر و تحمل بہت تھا جس کولفظوں میں میں بیان کرنا مشکل ہے انہوں نے کہا کہ پروفیسر فاطمہ پروین جس طرح سے اپنے شاگردوں اور دیگر ادبی احباب سے خندہ پیشانی سے ملاقات کیا کرتی تھیں اسی طرح گھر والوں سے بھی ان کا رویہ بے حد مشفقانہ تھااس موقع پر خانوادہ پروفیسر فاطمہ پروین کے ارکان کے علاوہ جناب احمد مدثر المعروف ڈاکٹر آصف’ محترمہ شہناز صدیقہ’ جناب محمدشجیع الدین’ ماسٹر محمد افنان الدین’ ماسٹر محمد زیان’ الدین ماسٹر محمد زہیر الدین پروفیسر مصطفی علی سروری مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی’ محترمہ بدر سلطانہ مانو’ محترمہ ریحانہ ریسرچ اسکالر ‘جناب عبدالغنی سنسکرت اسکالر ‘ڈاکٹر فریدہ بیگم ‘جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندرآباد کو آپریٹیو بینک’ ممتاز و معروف سینیئر صحافی جناب جےایس افتخار اور جناب کے این واصف ‘جناب ابو مسعود عبدالغنی ریٹائرڈ تحصیلدار محبوب نگر ،جناب لطیف الدین لطیف ڈاکٹر ناظم علی’ ڈاکٹرمعین امر بمبو ‘ڈاکٹر عتیق اقبال’ جناب افضل خان’ ممتاز ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض’ڈاکٹر محمدعبدالرشید جنید’ مجاہد محی الدین’ عبدالرحمن پاشاہ’ ممتاز و معروف ادیبہ محترمہ نفیسہ خان (ناگرجنا ساگر) ‘ممتاز افسانہ نگارمحترمہ ناہید طاہر’ ڈاکٹر عتیق فاطمہ’ ڈاکٹر ثمینہ بیگم ‘محترمہ آمنہ سحر ‘محترمہ الزبتھ کورین مونا’ ڈاکٹر غوثیہ بانو ‘حفیظ حکیم’ محترمہ نشاط محترمہ مجیب النساء ‘جناب مظفر احمد کے علاوہ ادیبوں اور شعرا و دیگر معززین کی کثیر تعداد موجود تھی ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ انجینیئر سید خالد شہباز کے شکریہ پر اس بار ونق ادبی محفل کا اختتام عمل میں آیا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے