कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جدید فکری تناظر اور عصری حقائق کا تجزاتی مطالعہ قانونِ فطرت اور حیاء کی معنوی حیثیت؟

تحریر:شیخ عامر شیخ امان اللہ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبہ اردو
شری بنکٹ سوامی مہاودلیہ،بیڑ مہاراشٹر

انسان اور کائنات کے باہمی تعلق پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت روشن ہوتی ہے کہ فطرت کا بنیادی قانون تحفظ، نظم اور وقار پر مبنی ہے۔ کائنات کی ہر قیمتی، نایاب اور قابلِ قدر شئے کو قدرت نے ایک مخصوص غلاف اور تحفظ کے نظام میں رکھا ہے۔ سونا اور ہیرے مٹی اور چٹانوں کے اندر پوشیدہ ہوتے ہیں، سمندر کا سب سے خوبصورت موتی صدف کے غلاف میں محفوط رہتا ہے، اور پھل کا بیج چھلکے کی حفاظت میں نمو پاتا ہے۔جب انسان اور بالخصوص عورت کے مقام و مرتبے کا سوال آتا ہے تو اسلام نے اسے نمائش کی شئے بنانے کے بجائے عزت، عفت اور وقار کا پیکر قرار دیا ہے۔ اسلامی شریعت میں پردہ اور حجاب کوئی قید، تذلیل یا فکری رکاوٹ نہیں بلکہ یہ عورت کی ذات، اس کی آزادی اور اس کی عفت کے تحفظ کا ایک مربوط سماجی اور اخلاقی نظام ہے۔
فطری و عقلی دلائل تحفظ بمقابلہ قیدجدید دور میں یہ اعتراض بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ پردہ عورت کو قید میں رکھنے کا نام ہے۔ حالانکہ عقلی اور فطری اعتبار سے تحفظ اور قید کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ قیمتی اشیاء کی حفاظت کا اصول انسانی معاشرے میں گاڑی، رقم، مکان اور دستاویزات کی حفاظت کے لیے مضبوط تالے، سیف اور حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اگر مال و اسباب کو محفوظ رکھنا عقل کے عین مطابق ہے تو انسانی عزت، عصمت اور وقار کو کھلے عام نمائش کے لیے چھوڑ دینا کیونکر عقلمندی کہلا سکتا ہے؟ حواسِ خمسہ اور عقلی صلاحیتیں انسانی ذہن اور اس کی عقلی صلاحیتیں (بینائی، سماعت، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کی حواس) پردے سے متاثر نہیں ہوتیں۔ حجاب لباس کا ایک حصہ ہے جو عورت کو بیرونی ہوس اور نامناسب نگاہوں سے بچاتا ہے، نہ کہ اس کے فکری، علمی یا عقلی ارتقاء کو روکتا ہے۔ ترقی اور پردے کا باہمی تعلق تاریخی اور سائنسی حقائق ثابت کرتے ہیں کہ انسان کی فکر اور علمی پیش رفت کا تعلق اس کے علم، محنت اور تدبر سے ہے، نہ کہ لباس کے سائز یا بے لباسی سے۔مغربی سیکولرازم اور دہرے معیارات کا تنقیدی جائزہمغرب نے ہمیشہ آزادی، شخصیات کے حقوق اور سیکولرازم کا نعرہ لگایا ہے، لیکن جب بات مسلم خواتین اور ان کے مذہبی حق (حجاب) کی آتی ہے تو وہاں آزادیِ اظہار کے تمام اصول دم توڑ دیتے ہیں۔ سیکولرازم کی متناقض تعبیر مغربی جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ ہے کہ ریاست ہر شہری کے شخصی انتخاب اور مذہبی آزادی کی ضامن ہے۔ تاہم، یورپ کے متعدد ممالک اور ماضی میں بعض نام نہاد روشن خیال مسلم ریاستوں میں اسمبلیوں، سکولوں اور دفاتر میں باحجاب خواتین پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ سیکولرازم کو بعض اوقات صرف مذہبی شعائر کو دبانے کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ تجارتی مقاصد اور عورت کا استحصال جدید سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) نے عورت کو آزادی کے نام پر فیشن، اشتہار بازی اور تجارتی مصنوعات کی فروخت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا سے لے کر تجارتی بورڈز تک، عورت کے وجود کو ایک ‘تجارتی شئے’ (Commercial Commodity) کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پردہ اس تجارتی استحصال کے خلاف ایک مضبوط ڈھال فراہم کرتا ہے اور عورت کو اس کے جسمانی نمائش کے بجائے اس کی شخصیت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر احترام دیتا ہے۔عصری حالات اور ڈیجیٹل دور کے نئے چیلنجزموجودہ اکیسویں صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت نے معلومات اور ارتباط کے نئے دروازے کھولے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی اخلاقی و سماجی خطرات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ سائبر سپیس اور پرائیویسی کا بحران آج کا ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (انسٹاگرام، ٹک ٹاک، فیس بک وغیرہ) پرائیویسی کے خاتمے کا سبب بن رہے ہیں۔ تصاویر کی بے جا نمائش، ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی، اور آن لائن ہراسانی کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ظاہری اور باطنی دونوں سطحوں پر ‘حجاب اور حیاء’ کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ آن لائن حیاء اور اخلاقی حدود اسلامی پردہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ رویوں، نگاہوں اور طرزِ زندگی کا حجاب ہے۔ موجودہ دور میں آن لائن میڈیا پر اپنی پرائیویٹ زندگی کو بے ہنگم طریقے سے عام کرنے کے رجحان نے عفت اور خود داری کے معیار کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ نفسیاتی اور سماجی اثرات بے حجابی اور مسلسل نمائش سے معاشرے میں عدم اطمینان، باہمی رقابت، اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ جبکہ حیاء پر مبنی معاشرتی نظام خاندانی وحدت کو مضبوط کرتا ہے اور رشتوں میں پائیداری لاتا ہے۔
اکبر الہ آبادی کا فکری پیغاماردو ادب کے معروف شاعر اکبر الہ آبادی نے مغربی تہذیب کی تقلید اور بے حجابی کے نتائج کو اپنے مخصوص انداز میں سمویا تھا
آئیں جو بے حجاب نظر چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
یہ اشعار محض طنز نہیں بلکہ اس سماجی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پردے کا ترک کرنا عقل و دانش کی علامت نہیں بلکہ فکری تنزلی اور اخلاقی قدروں سے انحراف ہے۔خاندانی استوار اور معاشرتی امن پر پردے کے اثراتمعاشرے کی بنیادی اکائی ‘خاندان’ ہے۔ اگر خاندان کا نظام محفوظ اور بااعتماد ہے تو پورا معاشرہ امن اور سکون کا گہوارہ بنتا ہے۔ نگاہوں کی حفاظت قرآنی تعلیمات کے مطابق پردے اور حیاء کا حکم صرف عورتوں کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ جب مرد اور عورت دونوں اخلاقی حدود کی پاسداری کرتے ہیں تو معاشرے میں ہوس، بدکاری اور اخلاقی انحطاط کے راستے بند ہوتے ہیں۔
عزتِ نفس کا قیام پردہ عورت کو یہ احساسِ تفاخر دیتا ہے کہ اس کا وجود کسی عام نگاہ کی تفریح کا سامان نہیں بلکہ وہ ایک محترم، باوقار اور مقدس ہستی ہے۔نتیجہ پردہ آزادی اور وقار کی علاماتحاصلِ کلام یہ ہے کہ اسلام کا نظامِ پردہ عورت پر ظلم، پابندی یا فکری قید کا نام نہیں ہے۔ یہ فطرت کے عین مطابق، انسانی عفت کی حفاظت، اور خواتین کی حقیقی آزادی کا ضامن ہے۔
موجودہ دور کی ترقی، تعلیم اور پیش رفت کا حجاب سے کوئی تصادم نہیں ہے۔ ایک مسلم خاتون حجاب کے دائرے میں رہ کر تعلیم بھی حاصل کر سکتی ہے، سائنس، طب اور تدریس کے میدان میں اعلیٰ خدمات بھی انجام دے سکتی ہے اور معاشرتی ترقی میں مؤثر کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔ پردہ عورت کو محدود نہیں کرتا بلکہ اسے بے جا استحصالی نظروں اور تجارتی ہوس سے آزاد کر کے حقیقی عزت اور رفعت کا مقام عطا کرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے