कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بیماری سے بچنے کی فکر، جہنم سے بچنے کی فکر کیوں نہیں

تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ عربی، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

عبداللہ بن شبرمہ ضبیؒ فرماتے ہیں:

"عجبت للناس يحتمون من الطعام مخافة الداء، ولا يحتمون من الذنوب مخافة النار.”

"مجھے لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ بیماری کے خوف سے کھانے پینے میں پرہیز کرتے ہیں، لیکن جہنم کے خوف سے گناہوں سے پرہیز نہیں کرتے۔”

یہ مختصر مگر انتہائی گہرا قول انسانی زندگی کے ایک ایسے تضاد کی نشاندہی کرتا ہے جس پر ہر صاحبِ ایمان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ انسان اپنی جسمانی صحت کے بارے میں بے حد محتاط رہتا ہے، بیماری سے بچنے کے لیے اپنی پسندیدہ غذائیں تک ترک کردیتا ہے، لیکن گناہوں کے ان نتائج سے غافل ہوجاتا ہے جو اس کی آخرت کو برباد کرسکتے ہیں۔

عبداللہ بن شبرمہؒ کا یہ قول محض ایک نصیحت نہیں، بلکہ انسانی ترجیحات کا آئینہ ہے۔ ہم جس چیز کے نقصان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں، اس سے فوراً بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جس نقصان کو آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے، اس کے بارے میں ہماری حساسیت کم ہوجاتی ہے۔ جسمانی بیماری کا خوف ہمیں فوراً متحرک کردیتا ہے، جبکہ دل و روح کی بیماری اکثر ہماری غفلت کے پردوں میں چھپی رہتی ہے۔

آج اگر ڈاکٹر کسی شخص سے کہے کہ فلاں غذا آپ کے لیے نقصان دہ ہے، تو وہ فوراً اس سے پرہیز شروع کردیتا ہے۔ کوئی شکر سے بچتا ہے، کوئی چکنائی کم کرتا ہے، کوئی نمک چھوڑ دیتا ہے، کوئی وزن کم کرنے کے لیے اپنی خوراک محدود کرتا ہے۔ صحت کے لیے لوگ ورزش کرتے ہیں، دوائیں استعمال کرتے ہیں اور معمولات زندگی بدل دیتے ہیں۔

یہ احتیاط اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، کیونکہ اسلام بھی انسان کو اپنی جان اور صحت کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہمیں اپنے جسم کو لاحق ہونے والی ایک عارضی بیماری کا اتنا خوف ہے تو اس آگ کا خوف کتنا ہونا چاہیے جس کے بارے میں قرآن مجید بار بار انسان کو خبردار کرتا ہے؟

اگر ایک شخص یہ جان کر کہ فلاں غذا بیماری کا سبب بن سکتی ہے، اسے چھوڑ سکتا ہے تو ایک مؤمن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو اس یقین کے باوجود کیوں نہیں چھوڑ سکتا کہ گناہ آخرت میں وبال کا سبب بن سکتے ہیں؟

یہی وہ سوال ہے جو ابن شبرمہؒ کا قول ہمارے سامنے رکھتا ہے۔

جسم کی بیماری نظر آتی ہے، روح کی بیماری نظر نہیں آتی

انسان جسمانی بیماری کی علامات کو فوراً محسوس کرلیتا ہے۔ درد، بخار، کمزوری اور دیگر علامات اسے خبردار کرتی ہیں کہ جسم میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ لیکن روحانی بیماری کی علامات بظاہر اتنی نمایاں نہیں ہوتیں۔

گناہ انسان کے دل کو کمزور کرتا ہے، عبادت سے رغبت کم کرتا ہے، نیکی کو بوجھ بناتا ہے، گناہ کو معمول بناتا ہے اور بالآخر انسان کے اندر گناہ کے احساسِ قباحت کو بھی ختم کرسکتا ہے۔

قرآن مجید نے دل کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

"فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا”

"ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا۔”

یہ بیماری جسمانی بیماری سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ جسم کی بیماری انسان کو چند دن یا چند سال تک متاثر کرسکتی ہے، لیکن دل کی بیماری انسان کی دنیا بھی خراب کرسکتی ہے اور آخرت بھی۔

گناہ کا سب سے خطرناک مرحلہ

گناہ ہوجانا یقیناً خطرناک ہے، لیکن گناہ کے بعد ندامت کا ختم ہوجانا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

مؤمن سے لغزش ہوسکتی ہے۔ انسان کمزور ہے، خواہشات اس کے اندر موجود ہیں اور شیطان اسے بہکاتا ہے۔ لیکن مؤمن کی شان یہ ہے کہ گناہ کے بعد اس کا دل بے چین ہوجاتا ہے، اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے اور توبہ کرتا ہے۔

قرآن مجید فرماتا ہے:

"وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ”

"اے مؤمنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔”

اس آیت میں ہمارے لیے امید بھی ہے اور دعوتِ رجوع بھی۔ اگر انسان سے گناہ ہوگیا تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے کے بجائے فوراً توبہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔

ہم گناہ کے انجام سے کیوں غافل ہوجاتے ہیں؟

گناہ اور جسمانی بیماری کے درمیان ایک بڑا فرق یہ ہے کہ جسمانی بیماری کا نقصان اکثر جلد ظاہر ہوجاتا ہے۔

غلط غذا کھائی اور طبیعت خراب ہوگئی۔

غلط دوا استعمال کی اور نقصان سامنے آگیا۔

لیکن گناہ کا نقصان اکثر فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ انسان جھوٹ بولتا ہے، مگر اسی وقت کوئی جسمانی درد محسوس نہیں ہوتا۔ غیبت کرتا ہے، مگر زبان پر کوئی زخم نہیں آتا۔ حرام مال حاصل کرتا ہے، مگر بسا اوقات بظاہر اس کی دولت میں اضافہ ہی نظر آتا ہے۔ بدنگاہی کرتا ہے، مگر آنکھ ظاہری طور پر صحیح سلامت رہتی ہے۔

یہی وہ تاخیر ہے جو انسان کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔

وہ سمجھتا ہے کہ کچھ نہیں ہوا۔

حالانکہ گناہ دل پر اثر ڈالتا ہے، انسان کے اخلاق کو کمزور کرتا ہے، اللہ سے تعلق کو متاثر کرتا ہے اور آخرت میں جواب دہی کا سبب بن سکتا ہے۔

زبان کے گناہ اور ہماری بے احتیاطی

آج ہم جسم کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن زبان سے نکلنے والے زہریلے الفاظ کے بارے میں کتنے محتاط ہیں؟

جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان، طعنہ، تمسخر اور دل آزاری ایسے گناہ ہیں جنہیں معاشرے میں اکثر معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔

قرآن مجید نے غیبت کی قباحت کو انتہائی مؤثر مثال سے واضح فرمایا:

"أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ”

"کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اسے ناپسند کرتے ہو۔”

غور کیجیے، جس کام کی کراہت بیان کرنے کے لیے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کی مثال دی گئی، وہی غیبت ہماری محفلوں میں کبھی تفریح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت پر حملہ کیا جاتا ہے، کسی کے عیوب بیان کیے جاتے ہیں، کسی کی کمزوریوں کو مذاق بنایا جاتا ہے اور کبھی سوشل میڈیا کے ذریعے کسی کی تحقیر کو عام کردیا جاتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جس طرح ہر حرام غذا سے جسم کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اسی طرح ہر حرام کلام سے روح کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حرام کمائی سے احتیاط

ہم کھانے کے حلال ہونے کی تحقیق کرتے ہیں، لیکن کیا ہم اپنی آمدنی کے حلال ہونے کی بھی اسی قدر فکر کرتے ہیں؟

حلال کھانا ضروری ہے، مگر حلال کمانا اس سے کم اہم نہیں۔

اگر انسان کا مال رشوت، دھوکے، خیانت، ظلم یا کسی دوسرے انسان کا حق مار کر حاصل کیا گیا ہو تو محض اس مال سے خریدی ہوئی چیز کا ظاہری طور پر پاک ہونا کافی نہیں۔

اسلام نے صرف کھانے پینے کے معاملے میں حلال و حرام کی تعلیم نہیں دی، بلکہ پورے معاشی نظام کو حلال و حرام کے اصولوں سے جوڑا ہے۔

اس لیے ایک مسلمان کو اپنی صحت کے ساتھ اپنے رزق کی صحت کی بھی فکر کرنی چاہیے۔

نگاہ کی حفاظت بھی ضروری ہے

آج انسان اپنی آنکھوں کی صحت کے لیے اسکرین ٹائم کم کرنے کی فکر کرتا ہے، لیکن آنکھوں کے ذریعے دل میں داخل ہونے والی چیزوں کے بارے میں کتنی احتیاط کرتا ہے؟

قرآن مجید فرماتا ہے:

"قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ”

"مؤمن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔”

نگاہ کی حفاظت دراصل دل کی حفاظت ہے۔

حرام منظر چند لمحوں کے لیے آنکھ کے سامنے آتا ہے، لیکن اس کا اثر انسان کے ذہن اور دل پر طویل عرصے تک رہ سکتا ہے۔ اس لیے تقویٰ صرف یہ نہیں کہ انسان گناہ ہوجانے کے بعد توبہ کرے، بلکہ تقویٰ یہ بھی ہے کہ انسان گناہ کے دروازے تک جانے سے پہلے رک جائے۔

ہمیں اپنے دل کا بھی طبی معائنہ کرنا چاہیے

جس طرح انسان وقتاً فوقتاً اپنے جسم کا طبی معائنہ کراتا ہے، اسی طرح اسے اپنے دل کا بھی محاسبہ کرنا چاہیے۔

کیا میرے دل میں کسی کے لیے حسد ہے؟

کیا میں کسی سے بلاوجہ بغض رکھتا ہوں؟

کیا مجھے تکبر نے گھیر لیا ہے؟

کیا مجھے اپنی نیکیوں پر غرور ہونے لگا ہے؟

کیا میں دوسروں کے عیوب دیکھتا ہوں اور اپنے عیوب بھول جاتا ہوں؟

کیا نماز میرے لیے سکون کا ذریعہ ہے یا صرف ایک ذمہ داری؟

کیا قرآن سے میرا تعلق مضبوط ہے؟

کیا میں گناہ کے بعد نادم ہوتا ہوں یا اسے معمولی سمجھ کر آگے بڑھ جاتا ہوں؟

یہ سوالات دراصل روحانی صحت کا معائنہ ہیں۔

اصل عقل مندی کیا ہے؟

عقل مند وہ نہیں جو صرف دنیا کے نقصان سے بچنے کی تدبیر کرے، بلکہ حقیقی عقل مند وہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کے انجام کو سامنے رکھے۔

دنیا چند روزہ ہے۔ انسان اپنی صحت کی حفاظت کرے، علاج کرے، صاف ستھری غذا کھائے اور جسم کو نقصان سے بچائے، یہ سب ضروری ہے۔ لیکن جسم کی حفاظت کرتے ہوئے روح کو بھول جانا دانش مندی نہیں۔

انسان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس جسم کو وہ اتنی محنت سے صحت مند رکھنا چاہتا ہے، آخرکار اسے مٹی میں جانا ہے، جبکہ اس کے اعمال کا حساب باقی رہنا ہے۔

اسی لیے آخرت کی تیاری دنیا کی صحت سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

گناہ سے بچنے کے لیے عملی جدوجہد

گناہوں سے بچنے کے لیے صرف خواہش کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔

بری صحبت سے بچنا ہوگا۔

حرام چیزوں کے ذرائع سے دور رہنا ہوگا۔

نگاہ کی حفاظت کرنی ہوگی۔

زبان کو قابو میں رکھنا ہوگا۔

حلال رزق کی فکر کرنی ہوگی۔

سوشل میڈیا کے استعمال میں تقویٰ اختیار کرنا ہوگا۔

اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس دل میں پیدا کرنا ہوگا۔

جب انسان کو یہ یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر وقت دیکھ رہا ہے تو تنہائی میں بھی اس کا کردار محفوظ رہتا ہے۔

خوفِ جہنم اور امیدِ رحمت

عبداللہ بن شبرمہؒ کے قول میں جہنم کا خوف ہے، اور جہنم کا خوف مؤمن کو گناہوں سے روکنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ لیکن اسلام صرف خوف کا دین نہیں۔ خوف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی ہے۔

قرآن مجید فرماتا ہے:

"قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ”

"کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔”

اس لیے جس شخص کی زندگی گناہوں میں گزر رہی ہو، اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اسے آج ہی اپنے رب کی طرف لوٹ آنا چاہیے۔

توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔

رحمتِ الٰہی وسیع ہے۔

لیکن توبہ کو کل پر چھوڑ دینا عقل مندی نہیں، کیونکہ انسان کو اپنی زندگی کی مدت کا علم نہیں۔

آج کا انسان کس چیز سے پرہیز کرے؟

ہمیں چینی، نمک، چکنائی اور دیگر مضر غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی جھوٹ، غیبت، بدنگاہی، تکبر، حسد، حرام کمائی، ظلم، خیانت، فحاشی اور حقوق العباد کی پامالی سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔

جسم کی صحت چند دہائیوں کی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن روح کی پاکیزگی انسان کی آخرت سنوار سکتی ہے۔

دنیا کی بیماری کا علاج ڈاکٹر کے پاس ہوسکتا ہے، مگر آخرت کی نجات کا راستہ ایمان، تقویٰ، توبہ، نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وابستہ ہے۔

عبداللہ بن شبرمہؒ کا یہ قول دراصل ہمارے سامنے ایک آئینہ رکھتا ہے اور پوچھتا ہے:

ہم اپنے جسم کو بچانے کے لیے کتنے محتاط ہیں؟

اور اپنی روح کو بچانے کے لیے کتنے؟

ہم بیماری کے ایک احتمال سے ڈرتے ہیں، لیکن جہنم کی حقیقت سے کیوں غافل ہیں؟

ہم اپنی غذا کا روزانہ حساب رکھتے ہیں، لیکن اپنے اعمال کا حساب کب کرتے ہیں؟

ہم جسم میں داخل ہونے والی مضر چیز سے خوفزدہ ہوتے ہیں، لیکن دل میں داخل ہونے والے گناہ سے کیوں نہیں ڈرتے؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں۔ جس طرح ہم اپنے جسم کو نقصان پہنچانے والی چیزوں کی فہرست بناتے ہیں، اسی طرح اپنے گناہوں کی بھی فہرست بنائیں۔ جس طرح مضر غذاؤں کو اپنی زندگی سے نکالنے کا فیصلہ کرتے ہیں، اسی طرح مضر عادات کو ترک کرنے کا عزم کریں۔

ہر رات چند لمحوں کے لیے اپنے آپ سے پوچھیں:

آج میں نے کیا کمایا؟

کیا کھایا؟

کیا کہا؟

کیا دیکھا؟

کس کا حق ادا کیا؟

کس کا دل دکھایا؟

اور اگر آج ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا پڑ جائے تو کیا میں تیار ہوں؟

یہ سوال اگر انسان کے دل میں زندہ ہوجائے تو اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔

آخرکار یہی ابن شبرمہؒ کے قول کا اصل پیغام ہے کہ انسان کو صرف جسمانی موت سے نہیں، بلکہ روحانی موت سے بھی ڈرنا چاہیے۔ صرف بیماری سے بچنے کی کوشش نہ کرے بلکہ گناہ سے بچنے کی بھی کوشش کرے۔ صرف دنیا کی صحت کا نہیں، آخرت کی نجات کا بھی فکر مند ہو۔

کیونکہ جسم کی بیماری انسان کو دنیا کی زندگی سے کچھ عرصے کے لیے محروم کرسکتی ہے، لیکن گناہ کی بیماری انسان کو آخرت کی دائمی کامیابی سے محروم کرسکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے جسم کے ساتھ اپنی روح کی بھی حفاظت کرنے، گناہوں سے سچی توبہ کرنے، حلال و حرام میں امتیاز رکھنے، حقوق العباد ادا کرنے اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے