कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

برتن، آگ اور ابلتا ہوا پانی۔۔۔

طاقت، تحمل اور حدودِ اختیار کا دانشمندانہ استعمال ۔۔۔دینی و سائنسی نقطہ نظر سے

تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ عربی، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

’’ابلتا ہوا پانی یہ سوچتا ہوگا، اگر بیچ میں برتن نہ ہوتا تو آگ کو اس کی اوقات دکھا دیتا۔‘‘
بظاہر یہ ایک مختصر اور مزاحیہ جملہ ہے، لیکن اس کے اندر انسانی زندگی، معاشرتی تعلقات، طاقت، برداشت اور حدود کے بارے میں ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے۔ کبھی کبھی ایک معمولی سا منظر انسان کو زندگی کی بڑی حقیقت سمجھا دیتا ہے۔
سائنسی اعتبار سے پانی کا ابلنا آگ کی شکست یا پانی کی فتح نہیں۔ آگ پانی کو حرارت دیتی ہے، پانی کے سالمات کی حرکی توانائی بڑھتی ہے اور ایک خاص درجہ حرارت پر پانی ابلنے لگتا ہے۔ برتن اس پورے عمل کو ایک منظم شکل دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت میں کوئی قوت بے قید نہیں، ہر قوت ایک خاص نظام اور حدود کے تحت کام کرتی ہے۔
یہی اصول انسانی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ انسان کے اندر غصہ، خواہش، جذبات، طاقت اور انا فطری قوتیں ہیں، لیکن ان کے درمیان صبر، عقل، اخلاق، تقویٰ اور شریعت کا "برتن” نہ ہو تو یہی قوتیں انسان کے لیے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
برتن صرف پانی رکھنے والی چیز نہیں، بلکہ اس مثال میں یہ قانون، اخلاق، صبر، عقل اور حدود کی علامت ہے۔ اگر غصے کے سامنے صبر نہ ہو تو تعلقات ٹوٹ سکتے ہیں۔ اگر طاقت کے سامنے قانون نہ ہو تو ظلم پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر خواہش کے سامنے تقویٰ نہ ہو تو انسان حدود سے تجاوز کرسکتا ہے۔ اور اگر زبان کے سامنے عقل کا پہرہ نہ ہو تو ایک جملہ برسوں کے تعلقات کو ختم کرسکتا ہے۔
اسلام انسان کی فطری قوتوں کو ختم نہیں کرتا بلکہ انہیں صحیح سمت دیتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے:
وَتِلْكَ حُدُودُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا
یعنی یہ اللہ کی حدود ہیں، پس ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔
اسلام اعتدال اور توازن کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے:
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا
کھاؤ اور پیو، مگر اسراف نہ کرو۔
یہ اصول زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی دیتا ہے۔ محبت ہو تو اعتدال کے ساتھ، غصہ ہو تو قابو کے ساتھ، مال ہو تو ذمہ داری کے ساتھ اور اختیار ہو تو عدل کے ساتھ۔
انسانی زندگی میں "آگ” کی ایک بڑی مثال غصہ ہے۔ غصہ فطری کیفیت ہے، لیکن اگر عقل اور صبر کا برتن موجود نہ ہو تو یہی غصہ انسان کی زبان، فیصلوں اور تعلقات کو جلا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی طاقت دوسروں کو شکست دینے میں نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے میں ہے۔
زندگی میں مشکلات، اختلافات، ناقدری، ناکامی اور سخت حالات انسان کو اندر سے "ابلنے” پر مجبور کرتے ہیں۔ لیکن اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کو غصہ کبھی آئے ہی نہ، بلکہ یہ ہے کہ غصے کے وقت وہ اپنے ردِعمل کو قابو میں رکھے۔ زبان روک لے، فیصلہ مؤخر کردے، خاموشی اختیار کرے، وضو کرے، معاف کرے یا کسی سمجھدار شخص سے مشورہ لے۔
خاندان میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ شوہر اور بیوی، والدین اور اولاد اور دیگر رشتوں میں اختلاف فطری ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی بنانا ضروری نہیں۔ صبر، محبت، مشاورت، معافی اور حسنِ ظن کا وجود رشتوں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔
قرآن مجید میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں فرماتا ہے:
وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔
محبت رشتے کو جوڑتی ہے اور رحمت اسے نبھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔
اسی طرح انسان کو اپنی طاقت پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ عہدہ، دولت، علم، جوانی اور اقتدار سب عارضی ہیں۔ انسان جتنا بھی جان لے، اس کا علم محدود ہے اور وہ جتنا بھی طاقتور ہو، اس کی طاقت محدود ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
ہر علم والے کے اوپر ایک زیادہ علم والا موجود ہے۔
اس لیے اسلام طاقت کے ساتھ تواضع، علم کے ساتھ انکسار اور اختیار کے ساتھ عدل سکھاتا ہے۔
آج معاشرے میں بہت سے اختلافات اس لیے شدت اختیار کر جاتے ہیں کہ ہم ہر اختلاف کو جنگ سمجھنے لگتے ہیں۔ معمولی بات انا کا مسئلہ بن جاتی ہے، اختلاف نفرت میں بدل جاتا ہے اور غصہ تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ حالانکہ ہر اختلاف کا جواب تصادم نہیں ہوتا۔ حکمت، برداشت اور مکالمہ بہت سے مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔
اصل کامیابی دوسروں کو زیر کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے نفس، غصے، خواہش اور انا کو قابو میں رکھنے میں ہے۔ غصے کے سامنے صبر، خواہش کے سامنے تقویٰ، طاقت کے سامنے عدل، اختلاف کے سامنے حکمت اور کامیابی کے سامنے تواضع، یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو باوقار بناتے ہیں۔
آخرکار ابلتا ہوا پانی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ زندگی کی آگ ہمیشہ موجود رہے گی، لیکن انسان کو اپنے اندر ایسا مضبوط "برتن” پیدا کرنا چاہیے جو اسے حالات کی حرارت میں جلنے کے بجائے سنورنے کا موقع دے۔
لہٰذا زندگی کا اصل سبق یہ نہیں کہ "آگ کو اس کی اوقات دکھاؤ”، بلکہ یہ ہے کہ اپنی حدود پہچانو، اپنے نفس کو قابو میں رکھو اور ہر حال میں اپنے رب کی بڑائی کو یاد رکھو۔
جو انسان اپنی طاقت کو پہچانتا ہے وہ مضبوط ہوسکتا ہے، لیکن جو اپنی حدود کو پہچانتا ہے وہ دانا بنتا ہے؛ اور جو اپنی حدود کے ساتھ اپنے رب کی عظمت کو پہچان لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں کامیاب انسان ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے