कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گوگل ڈاکٹر — معلومات کا ذریعہ یا غلط تشخیص کا آغاز؟

تحریر: ڈاکٹر مرزا اطیب بیگ

’’کبھی بخار ہوتا تھا تو گھر کا کوئی بڑا کہتا تھا، "دو دن آرام کرو، ٹھیک ہوجاؤ گے۔‘‘
آج ذرا سا سر درد ہو تو موبائل ہاتھ میں آتا ہے، گوگل کھلتا ہے اور چند سیکنڈ میں بیماریوں کی ایک لمبی فہرست سامنے ہوتی ہے۔
سر درد سرچ کیا تو مائیگرین بھی ہے، بلڈ پریشر بھی، دماغی رسولی بھی۔
پیٹ میں درد سرچ کیا تو تیزابیت بھی ہے، پتھری بھی، السر بھی اور نہ جانے کیا کیا۔
مریض نے ابھی بیماری سمجھی بھی نہیں ہوتی کہ انٹرنیٹ اسے کئی بیماریوں کا مریض بنا چکا ہوتا ہے۔
یہی ہے آج کا نیا "گوگل ڈاکٹر”۔
مسئلہ معلومات نہیں، تشخیص ہے
انٹرنیٹ پر صحت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بذاتِ خود بری بات نہیں۔ بلکہ درست اور مستند معلومات انسان کو اپنی صحت کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان معلومات کو تشخیص سمجھ لیتا ہے۔
ایک ہی علامت کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔
مثلاً بخار کسی معمولی وائرل بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے اور کسی دوسرے انفیکشن کی وجہ سے بھی۔ سر درد نیند کی کمی سے بھی ہوسکتا ہے اور کسی دوسری طبی وجہ سے بھی۔
صرف علامت پڑھ کر بیماری کا فیصلہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے گاڑی کی آواز سن کر بغیر گاڑی دیکھے کہنا کہ خرابی کس پرزے میں ہے۔
پھر ڈاکٹر کیا کرتا ہے؟
ڈاکٹر صرف علامات کی فہرست نہیں دیکھتا۔
وہ مریض سے سوال کرتا ہے، بیماری کی مدت معلوم کرتا ہے، سابقہ طبی تاریخ دیکھتا ہے، جسمانی معائنہ کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق ٹیسٹ تجویز کرتا ہے۔
یعنی ڈاکٹر صرف یہ نہیں پوچھتا کہ "آپ کو کیا تکلیف ہے؟”
بلکہ یہ بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ "اس تکلیف کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟”
یہ فرق بہت اہم ہے۔
ایک اور خطرہ — خود سے دوا
گوگل پر بیماری تلاش کرنے کے بعد بعض لوگ اگلا قدم بھی خود ہی اٹھا لیتے ہیں۔
"یہ بیماری ہے، تو اس کی دوا بھی یہی ہوگی۔”
پھر کسی پرانی پرچی سے دوا شروع کردی جاتی ہے، کسی رشتہ دار کی دوا استعمال کرلی جاتی ہے یا فارمیسی سے مشورہ کرکے علاج شروع ہوجاتا ہے۔
یہاں مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے، کیونکہ ہر دوا ہر مریض کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔
خاص طور پر اینٹی بایوٹک، اسٹیرائڈ، درد کش ادویات اور بچوں کی دواؤں میں خود سے فیصلہ کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
انٹرنیٹ سے فائدہ کیسے اٹھائیں؟
گوگل کو ڈاکٹر کا متبادل بنانے کے بجائے اسے معلومات کا ذریعہ بنائیں۔
اپنی علامات کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کریں، لیکن حتمی تشخیص خود نہ کریں۔
اگر کوئی علامت مسلسل برقرار رہے، بار بار ہو، شدت اختیار کرے یا تشویش کا باعث بنے تو طبی مشورہ حاصل کریں۔
اور اگر سینے میں شدید درد، سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی، اچانک جسم کے کسی حصے میں کمزوری، شدید الرجی یا کسی اور ہنگامی کیفیت کی علامات ہوں تو انٹرنیٹ پر تلاش کرنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنا زیادہ ضروری ہے۔
آخر میں
آج ہمارے ہاتھ میں دنیا بھر کی طبی معلومات چند سیکنڈ میں موجود ہیں۔ یہ انسان کی بڑی سہولت ہے۔
لیکن معلومات اور تشخیص میں فرق ہے۔
گوگل آپ کو یہ بتا سکتا ہے کہ کسی علامت کی ممکنہ وجوہات کیا ہوسکتی ہیں، مگر وہ آپ کا معائنہ نہیں کرسکتا، آپ کی نبض نہیں دیکھ سکتا، آپ کی سانس نہیں سن سکتا اور آپ کی مکمل طبی کیفیت کو ایک انسان کی طرح سمجھ نہیں سکتا۔
اس لیے انٹرنیٹ سے معلومات لیجیے، مگر اپنی صحت کا فیصلہ صرف سرچ کے نتائج پر نہ کیجیے۔
گوگل معلومات دے سکتا ہے،
لیکن تشخیص کے لیے ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور یاد رکھیے:
صحت کے معاملے میں درست وقت پر درست ڈاکٹر سے مشورہ، غلط تشخیص کے بعد علاج کرنے سے کہیں بہتر ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے